گلوبل ٹیررازم انڈیکس : پاکستان نمبر 1ملک کیسے بنا؟

گلوبل ٹیررازم انڈیکس (GTI) 2026 کے مطابق پاکستان پہلی مرتبہ دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار پایا ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ سال پاکستان دوسرے نمبر پر تھا، اور چند سال قبل پاکستان کی پوزیشن بہتر تھی، یعنی یہ دسویں پوزیشن کے بعد آتاتھا،، ، اور 80کی دہائی سے پہلے وطن عزیز اس فہرست میں موجود ہی نہیں تھا،،، اس افسوسناک رپورٹ کے بعد پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بچی کچھی ساکھ کا بھی دیوالیہ نکل گیا ہے،،، کیوں کہ نائیجر، نائیجیریا، مالی، شام، صومالیہ، افغانستان وغیرہ جیسے ممالک بھی اس فہرست میں پاکستان سے بہتر دکھائی دے رہے ہیں،،، اور مذکورہ حالیہ رپورٹ ابھی گزشتہ سال کے دہشت گردی کے واقعات پر مشتمل ہے،،، جبکہ اگر رواں سال کے واقعات کو ملا لیے جائے، جن میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے تو ہمارا ”اسکور“ نمبر ون سے بھی اوپر نکل جائے گا! خیر رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے 1,045 واقعات اور 1,139 اموات ریکارڈ کی گئیں۔اور دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبے رہے، جہاں ملک کے 74 فیصد سے زیادہ دہشت گرد حملے اور تقریباً 67 فیصد اموات رپورٹ ہوئیں۔گلوبل ٹیررازم انڈیکس 163 ممالک کو دہشت گردی کے اثرات کی بنیاد پر درجہ بندی کرتا ہے۔ پاکستان کے بعد برکینا فاسو، نائجر، نائجیریا اور جمہوریہ کانگو ان ممالک میں شامل ہیں جہاں دہشت گردی سے ہونے والی بڑی تعداد میں اموات ریکارڈ کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مجموعی طور پر دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں کمی آئی، تاہم پاکستان سمیت چند ممالک میں دہشت گردی کا مسئلہ بدستور سنگین رہاہے۔ حالانکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ گزشتہ سال 2025ءمیں پاکستان دوسرے نمبر پر تھا ،،، اور 2024ءمیں چوتھے نمبر پر تھا اور جب موجودہ حکمرانوں نے اقتدار قبضے میں لیا تو اُس وقت پاکستان 8ویں نمبر پر تھا،،، اور اس انڈیکس میں شام اور عراق نے بہتر پوزیشن حاصل کی ہے اور اپنے دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملات کو 75فیصد تک حل کیا ہے،،، مگر وطن عزیز میں ان مسائل کو حل کرنا تو دور کی بات اس میں 110فیصد اضافہ ہوا ہے۔۔۔ اس کی بڑی وجوہات کچھ بھی ہوں مگر یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان میں گورننس کی کمی کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں اور لا اینڈ آرڈر ابھی تک کنٹرول نہیں ہورہا۔ جس کی وجہ سے یہاں مختلف گروہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ لیکن اس وقت سب سے زیادہ خطرہ جن دو گروپس سے ہے ان میں پہلے نمبر پر بی ایل اے اور دوسرے نمبر پر ٹی ٹی پی ہے۔ اور میرے خیال میں جب سے افغانستان کے ساتھ معاملات بگڑے ہیں، دہشت گرد کارروائیوں میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے،،،اور مبینہ طور پر افغانستان میں موجود عبوری حکومت نے وہاں موجود بہت سی دہشت گرد تنظیموں کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی بڑھی ہے۔ اور ہمارے فیصلہ کرنے والوں کی کنفیوز پالیسیوں کی وجہ سے بھی بے انتہا مسائل پیدا ہو چکے ہیں،،، کیوں کہ انتہا پسندی کے حوالے سے جو اقدامات اور کوششیں ہونی چاہیے وہ نہیں ہورہیں۔اور یقین مانیں افسوس اُس وقت زیادہ ہوتا ہے ، جب ہمارے جوان تواتر کے ساتھ شہید ہو رہے ہوتے ہیں،،، یعنی آئے روز پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کی شہادتوں کی خبریں سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اہم بات یہ نہیں کہ ہم جواباً فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے کتنے دہشتگردوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ایسے اقدامات اُٹھائے جائیں کہ ہماری فوج کو کم سے کم شہادتوں کا سامنا کرنا پڑے۔اگر ہم اپنے ایک شہید کے بدلے میں سو دہشتگرد بھی مار دیں تو ہمارا نقصان کبھی پورا نہیں ہو سکتا کیونکہ ہمارا ہرجوان اور افسر انمول ہے۔ہم سب نے دیکھا کہ حال ہی میں ایران میں اپنے جہاز سے ایجیکٹ کر جانے والے امریکی پائلٹ کی جان بچانے کے لئے امریکہ نے اپنا سارا جنگی ساز و سامان جنگ میں جھونک دیا اور اپنے پائلٹ کو ریسکیو کر لیا۔ اپنے فوجییوں کی جانیں بچانے کے لئے ہی امریکہ کی ایران کی سرزمین پر اپنے پیرا ٹروپرز کو اتارنے کی ہمت نہیں پڑی۔ لیکن اس کے برعکس ہمارے ہاں شہداءکی تعداد بھی دنیا بھر کے ممالک سے کم و بیش زیادہ ہی ہے،،، اب اگر پاکستان کے نقطہ نظر کی طرف دیکھیں تو ہم کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے اثرات تو جی ٹی آئی نے خود ریکارڈ کیے ہیں، لیکن اس کی جڑیں بیرونی ہیں۔ بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کا سب سے بڑا ملزم قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال کلبھوشن یادو کا کیس ہے۔ کل بھوشن یادو، جو بھارتی بحریہ کا سابق کمانڈر تھا، 2016 میں بلوچستان سے گرفتار ہوا۔ پاکستان کے مطابق وہ را (ریسرچ اینڈ اینالیسز ونگ) کا ایجنٹ تھا اور بلوچ علٰیحدگی پسند گروپ جیسے بی ایل اے اور بی آر اے کو فنڈنگ، ہتھیار اور تربیت فراہم کر رہا تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ کراچی اور گوادر بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائیاں کر رہا تھا۔ پاکستان نے اسے ریاست کی جانب سے اسپانسرڈ ٹیررازم قرار دیا۔ اسی طرح ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں افغانستان سے ہو رہی ہیں، جہاں افغان طالبان کی حکومت ہے، جو سنی انتہا پسندی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ رپورٹ بھی تسلیم کرتی ہے کہ ٹی ٹی پی کی ترقی افغان سرزمین سے منسلک ہے۔ ایران میں شیعہ انتہا پسند حکومت ہے، جہاں سے بی ایل اے جیسی تنظیمیں سرحد پار آپریشن کرتی ہیں۔ اور بھارت میں ہندو انتہا پسند حکومت ہے، جو پاکستان کے خلاف پراکسی وار کو فروغ دیتی ہے۔ یہ تینوں ممالک افغانستان، ایران اور بھارت اپنی اپنی انتہا پسندی کی بنیاد پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں ملوث ہیں۔ میرے خیال میں اب یہ باتیں بہت پرانی ہو چکی ہیں،،، اگر بھارت یا افغانستان پاکستان میں براہ راست دہشت گردی میں ملوث ہیں تو ،،، یا تو ان کا مکمل قلع قمع کیا جائے یا دشمن کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا جائے،،، کیونکہ دنیا بھر کی تجارت کا ایک واحد اصول یہی ہے کہ آپ کے حالات جس مرضی نہج پر پہنچ جائیں، تجارت نہیں رکنی چاہیے ۔ حالانکہ اسی خطے کے دو بڑے ہمسایہ ممالک بھارت اور چین کے حالات کس قدر بھی کشید ہ ہوں مگر وہاں تجارت نہیں رکتی۔ بلکہ گزشتہ سال انڈیا اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارت 100 ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکی ہے لیکن دونوں طرف سے اس پر زیادہ بات نہیں کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے، مشرقی لداخ میں سرحدی کشیدگی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں۔حالانکہ یہ دوطرفہ تجارت جو 2001 میں 1.83 ارب امریکی ڈالرز تھی وہ گزشتہ سال کے 11 ماہ میں بڑھ کر 100 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ دونوں ممالک کے کاروبار کے لیے ایک بڑا موقع ہے کیونکہ دونوں ممالک نے اپنی تجارت کے لیے تعلقات کو بہتر کیا ہے۔پھر چین اور امریکہ عالمی سیاست کے میدان میں کھلے حریف ہیں امریکہ چین کے عالمی افق کی طرف اٹھتے قدموں کو روکنا چاہتا ہے اس کی عالمی برتری کی راہیں کھوٹی کرنا چاہتا ہے لیکن اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے اسکا بہت بڑا تجارتی پارٹنر بھی ہے بڑی بڑی امریکی کمپنیاں چین میں قائم ہیں امریکہ نے کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے چین نے کھربوں ڈالر بطور قرض امریکہ کو دے رکھے ہیں مفادات بھی چل رہے ہیں اور دشمنی بھی نبھائی جا رہی ہے ۔ پھر امریکا میکسیکو کے تعلقات بھی کبھی نارمل نہیں رہے لیکن اُن کے درمیان تجارت کبھی معطل نہیں ہوئی، پھر جرمنی اور فرانس میں نوک جھونک چلتی رہتی ہے، اور یہ نوک جھونک 200سال پرانی ہے، لیکن حالیہ دہائیوں میں کبھی کسی نے نہیں سنا کہ ان دونوں ممالک کی تجارت کبھی معطل ہوئی ہو۔ الغرض سوسو سال تک آپس میں جنگیں لڑنے والے گوروں کو عقل آ گئی تو کیا اس خطہ کے لوگ اتنے ہی گئے گزرے ہیں کہ صدیوں ساتھ رہنے کے باوجود اپنے تنازعات مکالمہ سے طے کرکے ترقی پر فوکس نہ کر سکیں۔دونوں طرف غربت، جہالت، بیروزگاری عروج پر ہے تو کیا ان کروڑہا بدقسمت انسانوں کے نصیب میں یہی کچھ لکھا ہے ؟جدید دنیا کی کوئی جنگ ایسی نہیں جو میدان و آسمان سے نکل کر مذاکرات کی میز اور مکالمہ تک نہ آئی ہو اور یوں بھی محاورتاً نہیں حقیقتاً دنیا بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہے۔دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان محاذ آرائی کسی کے بھی وارے میں نہیں اس لئے اس طرح کے فیصلوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔کتنی احمقانہ بات ہے کہ واہگہ بارڈر کےساتھ پیدا ہونے والی اشیاءوہاں سے ممبئی جائیں،ممبئی سے یو اے ای پہنچیں تو قیمت میں اس خاطر خواہ اضافہ کے بعد ہم انہیں یو اے ای سے امپورٹ کریں۔ہاں ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ہم بھارتی اشیاءامپورٹ کر رہے ہیں، لیکن وہ براستہ دبئی ہمارے پاس آرہی ہیں۔ جس کی قیمت ہم دوگنا ، تین گناادا کر رہے ہیں۔ لہٰذا اس وقت حکومت کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرے ، کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ ٹیبل پر بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے جو مسائل حل ہوسکتے ہیں، وہ 50سا لہ جنگ سے بھی حاصل نہیں ہوسکتے جسکی مثال افغانستان ہے۔ آنیوالے وقت میں درپیش چیلنجز کو دیکھتے ہوئے میری وزیراعظم شہباز شریف ،فیلڈ مارشل عاصم منیر اور تمام اپوزیشن جماعتوں کے لیڈرز سے درخواست ہے کہ وہ قومی مفاد میں دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات کریں تاکہ ملک پر سے یہ دہشت گردی سے متاثرہ ترین ملک کی چھاپ اُتر سکے،،، کیوں کہ اگر یہ چھاپ رہے تو نہ ہی یہاں کوئی سیاح آئے گا، نہ سرمایہ کاری اور نہ ہی یہ بین الاقوامی منڈی بن سکے گا ، کیوں کہ ہم دنیا بھر کے ممالک میں سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک کے باشندے ہیں!