جنگ بندی : اور پھر پاکستان سرخروہوگیا!

بالآخر وہی ہوا جو ہم سب چاہتے تھے کہ ایران ، امریکا و اسرائیل جنگ ختم ہو، مذاکرات کامیاب ہوں،جنگ بندی ہو اور دنیا ایک بار پھر امن کی طرف بڑھے،،، فریقین کے درمیان 15روزہ جنگ یقینا ایک اچھی پیش رفت ہے،،، جس کے بعد کل(جمعہ) سے امریکا و ایران کے درمیان اسلام آباد میں باقاعدہ مذاکرات شروع ہوں گے،،، اور جلدہی کسی نہ کسی حتمی معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔ اس مذکورہ پھیلتی جنگ بندی میں کئی ملکوں نے حصہ لیا۔ خاص طور پر پاکستان ،چین، ترکی اور مصر جنہوں نے مذاکرات کا دامن پکڑے رکھا اورجنگ کے فریقین کو ایک میز پر لے آئے۔ یہاں اُن ملکوں کو بھی کریڈٹ دینا ہوگا،،، جو ایران اسرائیل جنگ میں فریق نہ بنے، یا جنہوں نے امریکا کو اپنے اڈے ایران پر حملہ کرنے کے لیے نہیں دیے،،، جن میں برطانیہ، فرانس ، جرمنی، اٹلی، اسپین، کینیڈا اور کسی حدتک آسٹریلیا وغیرہ سرفہرست ہیں۔ بلکہ آسٹریلیا نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ یہ اسرائیل کی جنگ ہے، ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے، اور آسٹریلیا براہ راست ایران جنگ میں شامل نہیںہوگا۔ الغرض نیٹو اتحاد کا شکریہ وہ براہ راست اس جنگ میں حصہ دار نہیں بنے ورنہ خاکم بدہن تیسری جنگ چھڑنے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ اور پھر یہ تمام حالات دیکھ کر تبھی ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی ٹیم مذاکرات پر آمادہ ہوئے،،، ورنہ آج تک کسی نے دیکھا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو ناراض کیا ہو؟ خیر قصہ مختصر کہ جو جنگ تیسری جنگ عظیم میں تبدیل ہوتی جارہی تھی اور جس کو روکنے کے لیے اقوامِ متحدہ بے بس نظر آیا،،، نیٹو نے ہاتھ کھینچ لیے،،، چین اور روس کسی حد تک مصلحتاََخاموش رہے،،، لیکن پاکستان دنیا کی سب سے ذمہ دار جوہری طاقت کے طور پر اس سب سے خطرناک جنگ کے دوران امن کے ایک قابلِ عمل منصوبے کیساتھ آگے بڑھا۔اب پوری دنیا اسلام آباد معاہدے کی جانب دیکھ رہی ہے۔اور یہ سب چیزیں ایک طرف مگر ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم اور اُن کی ٹیم نے واقعی اچھا کام کیا ہے،،، جس کے لیے دنیا بھر کے اخبارات و میڈیا چینل پاکستان کے کردار کی تعریف کر رہے ہیں اور پاکستان کی واہ واہ ہو رہی ہے۔ خیر آپ کچھ بھی کہیں لیکن یہ واقعی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے مشکل ٹاسک تھا، کیوں کہ اس میں ناکامی اُن کے لیے کسی مشکل کا سبب بن سکتی تھی، اور پاکستان کی کریڈیبلٹی میں بھی فرق آسکتا تھا، اور پھر ایک طرف سعودی عرب جیسا دوست ملک تھا، جبکہ دوسری طرف امریکا جیسا سپر پاور ملک ، تیسری طرف ایران جیسا ہمسایہ اور برادر ملک اور چوتھی طرف چین و روس کی اپنی حکمت عملیاں ۔ اگر ایسی صورت میں پاکستان واقعی ناکام ہو جاتا تو ہمیں انڈین میڈیا نے ہی نہیں چھوڑنا تھا،،، جہاں اس وقت صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ لیکن جو بھی ہے ہمارے فیصلے کرنے والے اس وقت مبارکباد کے مستحق ہیں،،، اور یہ کریڈٹ یقینا اُنہیں ملنا بھی چاہیے کیوں کہ ہمارے نزدیک جو پاکستان کے اچھا کام کرے گا، جو پاکستان کے لیے اچھا سوچے گا ، ہم اُس کے ساتھ ہیں، چہ جائے اس کے کہ اُس کی نیت کیا ہے؟ مگر وہ خلوص دل کے ساتھ پاکستان کے لیے کام کر رہا ہے تو وہ ہمارے لیے معزز ہے،،، پھر خواہ اُس کا تعلق پاکستان سے ہو یا کسی اور ملک سے ،،، وہ ہمارے لیے ”خاص “ بن جاتا ہے،،، بلکہ ہم نے ”عشق پاکستان “ میں بلکہ بقول شاعر مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے یعنی ہم نے تو مہاتما گاندھی جی کی بھی کئی بار تعریف کی ہے، کہ اُنہوں نے پاکستان کے لیے اپنی جان تک گنوا دی،،، اور اگرچہ وہ تقسیمِ ہند اور پاکستان کے قیام کے حامی نہیں تھے، مگر انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں اور ہندوو¿ں کے درمیان امن قائم رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ تقسیم کے وقت جب فسادات عروج پر تھے، گاندھی جی نے دہلی اور دیگر علاقوں میں امن کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور مسلمانوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی۔ انہوں نے یہ مو¿قف اختیار کیا کہ پاکستان کو اس کا جائز مالی حصہ دیا جائے، جس کے لیے انہوں نے سخت مو¿قف بھی اپنایا۔ ان کی یہی کوششیں بالواسطہ طور پر پاکستان کے استحکام اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں، جس کی وجہ سے انہیں قتل بھی کر دیا گیا۔ بلکہ راقم نے تو اس حوالے سے ”پاکستان کی روشن اقلیتیں“ کے نام سے کتاب بھی لکھ رکھی ہے،، جس میں ہر اُس غیر مسلم کا ذکر کیا گیا ہے، جس نے پاکستان کے لیے کچھ کیا ہے۔ لہٰذاہمارے لیے وہ تمام لوگ قابل ذکر ہیں جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنی سروسز دیں ۔ بہرحال واپس ”جنگ بندی “پر آتے ہیں تو میرے خیال میں جنگ بندی کا فیصلہ یقینا امریکا کے لیے بھی بہت مشکل تھاکیوں کہ امریکہ کے کچھ حلیف اور عسکری صنعتی کمپلیکس کے لوگ ٹرمپ سے بار بار مطالبہ کر رہے تھے کہ جنگ کو ہر صورت میں جیتا جائے ورنہ تزویراتی شہ مات ہو جائے گی۔ سب سے بڑا انعام ایران کی جھولی میں آ کر گرے گا۔ وہ زور دے رہے تھے کہ رجیم چینج کے اولین مقصد سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹے تو ایران کی طاقت کا” جن“ کسی کے قابو میں نہیں آئے گا۔ یہ اتنا آسان نہیں اور نہ ہی ایسے جنونیوں کو اس بات کا ادراک تھا کہ عالمی سطح پر خصوصاً غریب ممالک کی معیشتوں‘ خوراک کی کمی اور انسانی المیوں نے کتنی خوفناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ اگر یہ جنگ چند دن مزید جاری رہتی تو مزید خوفناک صورتحال پیدا ہو جاتی۔ اور پھر اگر ایران کی تیل پیدا کرنے اور ترسیل کی صلاحیت تباہ اور انرجی فراہم کرنے کے وسائل کو نشانہ بنایا جاتاتو یہ خطے کے لیے تباہ کن تھا،،، جس کو شاید پاکستان جیسے ممالک شاید برداشت بھی نہ کر سکتے۔ لیکن جوبھی ہے،پاکستان نے یقینا اچھا کام کیا ہے، اور اُنہیں سراہا جانا چاہیے ،،، اور ساتھ ہی میں دست بستہ یہ بھی کہوں گا کہ ملکی مفاد میں اب اندرون خانہ مسائل کو بھی ٹھیک کیا جانا چاہیے تاکہ ہم پر سیاسی سختیوں کی جو قدغن لگی ہے، اُسے دھویا جائے،،، میں پہلے بھی یہ کہتا رہا ہوں کہ ریاست ہمیشہ ماں کا کردار ادا کرتی ہے،،، اس لیے میرے خیال میں جن کارکنان، لیڈران اور خواتین سیاستدانوں پر سیاسی کیسز ہیں اُنہیں رہا کیا جانا چاہیے۔ تاکہ پاکستان کا مثبت امیج دنیا کے سامنے رکھا جائے۔ خاص طور سے اس معاملہ میں بانی تحریک انصاف عمران خان کی مسلسل حراست اور تحریک انصاف کا ان کی رہائی پر اصرار ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومت اسے انصاف کے تقاضے کے مطابق اور شفاف عدالتی کارروائی کہتی ہے جبکہ تحریک انصاف خاص طور سے عمران خان کی قید کو سیاسی تناظر میں دیکھتی ہے اور ہر معاملہ میں یہی مطالبہ سامنے لایا جاتا ہے کہ پارٹی کے بانی کو رہا کیا جائے۔لہٰذااب یہ فیصلہ ”حکمرانوں“ نے کرنا ہے وہ درگزر سے کام لیں،،، اور خاص طور پر عوامی نمائندوں پر ہاتھ ہولا رکھیں،،، اور سانحہ9مئی کے قیدیوں کو رہا کرے تاکہ ملک میں امن کی فضا قائم ہوسکے۔۔۔ کیوں کہ تحریک انصاف کے لیڈروں کو سزاﺅں کے ملکی سیاست پر دوررس اثرات مرتب ہورہے ہیں، اور ریاست ہارڈ اسٹیٹ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔اس لیے حکومت اور اپوزیشن اگر معاملات کو ہوشمندی سے طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے بہتری کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں لیکن حالات یونہی یک طرفہ چلتے رہے،،،تو اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے پاس جارحانہ احتجاج ہی واحد راستہ بچتا ہے،،، جس کی ہم نے گزشتہ روز ایک شکل بھی دیکھی ہے،،، اس لیے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ریاست فیصلے کرے،،، اگر سرکار مخلص ہے تو مفاہمت کے خالی نعرے لگانے کے بجائے عملی اقدامات کرے،،،بلکہ اب تو ان حکمرانوں کے پاس ایک اچھا موقع بھی ہے کہ وہ عام معافی کا اعلان کریں،،، بالکل اسی طرح جس طرح صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کرنے کے بعد بڑا دل رکھا اور عام معافی کا اعلان کیا تھا، جس کے دورس نتائج دیکھے گئے۔ الغرض نیلسن مینڈیلا کہا کرتے تھے کہ عظیم لوگ اعلیٰ مقصد کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے سے کبھی گھبرایا نہیں کرتے، اگر آپ اپنے دشمن کے ساتھ امن چاہتے ہیں تو اس کو اپنا شراکت کار بنا لیں۔یہی بات امریکہ کے سولہویں صدر ابراہام لنکن بھی کہا کرتے تھے کہ میں اپنے دشمن کو دوست بناکر دشمنی ختم کرنے کا قائل ہوں، لہٰذامیں پھر یہی کہوں گا، کہ آپ جیتے ہوئے ہیں،،، اور جیتا ہوا شخص کبھی صلح کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ بہرکیف دعا ہے کہ پاکستان آنے والے دنوں میں بھی سرخرو ہو تاکہ وطن عزیز اپنے مطالبات بھی منوا لے جیسے امریکا سے ایران گیس پائپ لائن کی اجازت طلب کرے تاکہ پاکستان میں توانائی بحران کا مستقل حل نکالا جاسکے،،، کیوں کہ ماضی کی طرح ایسا نہ ہو کہ اس سنہری موقع پر بھی پاکستان کے ہاتھ کچھ نہ آئے،،، کیوں کہ ماضی میں جب جب پاکستان نے عالمی سطح پر کوئی بڑا کام کیا ہے تو بدلے میں ہمارے حکمرانوں نے ذاتی فوائد لیے ،،، جس پر پھر کبھی روشنی ڈالیں گے،،، مگر ابھی کے لیے ہمارے فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ ”آر سی ڈی “کی تجدید کریں ، نیا ریلوے ٹریک جو پاکستان ، ایران اور ترکی کو ملائے اس پر کام کرنا چاہیے،،، تاکہ تجارت بہتر بنائی جا سکے،،، پھر ایران پاکستان گیس پائپ لائین منصوبے پر فوری طور پر پاکستان کو اپنے حصے کی پائپ لائیں بچھانا ہوگی تاکہ پاکستان میں سستی گیس آ سکے ،،، مزید یہ چند ملک آپس میں دفاعی معاہدے کریں تاکہ دوبارہ کوئی حملہ کرنے کی جرا¿ت نہ کرسکے۔ بلکہ ایران کے ساتھ انڈسٹریل تعاون کریں ،،، اور تجارت کو فروغ دیں تاکہ ملکی معیشت میں بہتری لائی جاسکے۔ لہٰذااگر یہ فوائد ہم نہ لے سکیں تو پھر یہ سب کچھ کسی کام کا نہیں!