بلوچستان: آل پاکستان کانفرنس بلائی جائے!

بلوچستان ایک بار پھر سرخ بلوچستان بن گیا جہاں دہشت گرد حملوں میں سو سے زائد شہری و سکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوئے، ،، جبکہ حکومت کے مطابق 177دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ،،ویسے ہم تو سمجھے تھے کہ بلوچستان میں ماضی کی نسبت حالات بہتر ہو رہے ہیں،،، مگر اس کے برعکس وہاں جس انداز میں منظم حملے کئے وہ بلا شبہ باعثِ تشویش ہے ،،، دہشت گردوں کا ایک ہی دن میں 12مقامات اور الگ الگ شہروں پر حملہ کرنے سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے کس قدر سنگین اور بڑے پیمانے پر تھے۔سرکار کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی مکمل طور پر بھارتی سپانسرڈ ہے جبکہ دہشت گردوں کو افغانستان کی سر زمین کی پناہ گاہیں دستیاب ہیں۔ملکی سرحدوں کے اندر دہشت گردی کا ہر واقعہ شدت پسندی کے انہی عوامل سے جڑجاتا ہے۔ چلیں مان لیا کہ یہ سب کیا دھرا ہمارے دشمن ممالک خاص طور پر افغانستان اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے،،، لیکن ہم نے اس بات پر کب غور کیا کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ کیا ہم نے اس جانب توجہ دی کہ حکومت جتنی توجہ پرامن صوبوں یعنی پنجاب اور سندھ پر دے رہی ہے، اُس سے زیادہ توجہ شورش زدہ صوبوں پرہونی چاہیے،،، ویسے مذکورہ صوبوں میں تو سرکار کے اہم ترین اداروں خاص طور پر سکیورٹی فورسز کا ایک ایک شخص کے بارے میں علم ہوتا ہے کہ کس کے گھر کون گیا، اور کون آیا، کس نے کس کو فون کیا گیا اور کس کا آیا،،، لیکن بلوچستان، کے پی کے میں کسی کو علم نہیں کہ وہاں پر کس کس جگہ منظم دہشت گرد گروہ موجود ہیں،،، جنہیں ایک کال موصول ہونے پر وہ ایک ہی وقت میں 12،12شہروں پر ایک ساتھ حملے کر دیتے ہیں،،،کیا اس سے بڑا سانحہ کسی مہذب ملک میں ہوسکتا ہے؟ کیا کبھی بلوچستان میں ہی اس سے پہلے اتنے بڑے اور منظم انداز میں حملے ہوئے؟ یقینا اتنی بڑی تعداد میں ایک ساتھ حملے نہیں کیے گئے،،، اس لیے جتنی ایجنسیاں پنجاب اور سندھ میں کام کر رہی ہیں،،، اُن میں سے بیشتر سٹاف کو بھی وہاں شفٹ کیا جانا چاہیے جہاں ضرورت ہے، ،، اب سرکار کے بقول ہی 177کے قریب دہشت گردوں کو مار دیا گیاہے،، یہیں سے اندازہ لگائیں کہ آئے کتنے ہوں گے،،، اس لیے خدا کے لیے عام شہریوں ، سیاسی ورکروں، کارکنوں اور سیاسی لیڈروں کی جان چھوڑیں، اور جتنی توجہ آپ سوشل میڈیا پر لگاتے ہیں،،، خدارا اُتنی آپ ان صوبوں پر لگائیں جہاں ضرورت ہے،، ، اور جو آپ نے فائر وال نسبتا پرامن صوبوں میں لگائی ہے، وہی فائر وال وہاں پر لگائیں،،، اُن کے سوشل میڈیا کو ٹریس کریں، اُن کی کالز کو ٹریس کریں، آخر کوئی تو نظا م اُن کے پاس ہوگاکہ جس کے ذریعے اُنہوں نے منظم منصوبہ بندی کی،،، گھوڑوں پر تو انہوں نے پیغام رساں نہیں بھیجے ہوں گے،،، یقینا اس کے لیے کوئی ”میڈیم“ استعمال کیا گیا ہوگا،،، اُس میڈیم کو ٹریس کریں،، اور دہشت گردوں کے ٹھکانے تک پہنچے،،، اب کوئی یہ نہ کہے وہاں دشوار گزار پہاڑی راستے ہیں،،، اور غاروں میں دہشت گردوں نے پناہ لے رکھی ہے، تو میرے خیال میں اگر یہ ڈھونڈنے پر آئیں تو یہ بگٹی صاحب کو بھی انہی غاروں سے تلاش کرکے قتل کر دیتے ہیں،،، لیکن اگر کسی کو نہیں ڈھونڈنا ہوتا تو وہ سامنے بھی پھرتا رہے تو ان کی بلا سے! بہرحال ریاست کے پاس 100حل ہوتے ہیں کسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ،،، صرف ایک ”طاقت“ ہی حل نہیں ہوتا ،،، بلکہ طاقت تو آپ کو دکھانی ہی نہیں چاہیے،،، اُسے تو ڈرانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،،، اس لیے طاقت کو ایک طرف رکھیں اور ان وجوہات کو بھی تلاش کریں ،،، جس وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے،،، یعنی کیا آپ نے دیکھا کہ جو فوٹیجز ہمیں موصول ہوئی ہیں،،، اُن میں سے ایک نجی بینک کو دھماکے سے اُڑایا گیا ہے،،، جبکہ وہاں پر موجود عام آدمی بھی اس ”اقدام“ کو سراہ رہے ہیں،،، مطلب وہاں موجود عوام کے دل میں کہیں نہ کہیں تو ان دہشت گرد گروہوں کے لیے ہمدردی کا عنصر پایا جاتا ہے،،، لہٰذااس عنصر کو کم کرنے کے لیے کیا وہاں کی حکومت عوام کی ذہن سازی کر رہی ہے؟ اگر نہیں تو میرے خیال میں حکومت کا ہر قدم ہی رائیگاں جائے گا،،، کیوں کہ سرکار کو یہ ہی علم نہیں ہے کہ زمانہ بدل چکا ہے، ،، آپ کسی کو طاقت کے زور پر نہیں دبا سکتے،،، اگر دبانا مقصود ہوتا تو امریکا اپنی پوری طاقت کے باوجود ویت نام کو دبا دیتا،،، اسرائیل کو 80سال ہوگئے ہیں،،، اپنی پوری طاقت سے وہ فلسطینیوں کے خلاف بربریت کر رہا ہے،،، تو کیا وہ فلسطین پر قبضہ کر سکاہے؟ یا کیا وہاں پر امن ہوگیا ہے،،، بھارت کشمیر کو دبانے کے لیے کتنی کوششیں کر چکا ہے، کیا وہاں آزادی کی تحریکوں کا خاتمہ ہوسکا؟ اس لیے میرے خیال میں آپ کو اس وقت انہیں طاقت سے کچلنے کے بجائے ان سے ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے،،، لیکن شرط یہ بھی ہے کہ ڈائیلاگ کرنے کے لیے ”انا“ کو ختم کرنا ہوگا، اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہوگا،،، بلکہ جن کے جرائم کم ہیں، اُن کو معاف کریں، سرغناﺅں کو خواہ معاف نہ کریں،،، لیکن جو اُن کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں،، اُن کو تو کم از کم معاف کردیں،،، حالانکہ ماضی میں یہاں یہ روایت اُلٹی دیکھی گئی ہے کہ ہم بسا اوقات سرغناﺅں کو معاف کردیتے ہیں، اُنہیں خود چھوڑ دیتے ہیں، ،، اس کی مثال آپ طالبان رہنماﺅں کی لے لیں،،، ہم نے کتنے طالبان کو عام معافی کے نام پر چھوڑا ،،، اور بعد میں وہی پھر ہمارے لیے سردرد بن گئے،،، اور پھر آپ یہ بھی نہ سوچیں کہ ان کے تعلقات بلوچ دہشت گردوں کے ساتھ نہیں ہوں گے،،، یقینا یہ کالعدم تنظیمیں ”سسٹر تنظیمیں“ ہیں،،، اور ان کے آپس میں روابط بھی یقینا ہوں گے،،، کیوں کہ جو ملک یا دشمن عناصر ان کو فنڈنگ کر رہے ہیں، وہ ایک ہیں۔ بہرحال میں پھر وہی بات کروں گا کہ یہ سارے مسائل صرف اور صرف ڈائیلاگ نہ کرنے کی وجہ سے ہیں،،، اس حوالے سے میرے خیال میں آل پاکستان کانفرنس بلائی جائے جس میں اُن سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے جنہیں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، یا جنہیں باغی قرار دیا جا چکا ہے، ،، بلکہ اُن پر سے وقتی طور پر پابندی اُٹھا لیں،،، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اُن کے جائز مطالبات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی، کیوں کہ جب ہم کسی چیز کو ڈسکس کرتے ہیں تو اُس کا کوئی نہ کوئی حل نکل آتا ہے،، ، اور میرا یہ یقین ہے کہ پابندی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، پابندی کو ڈائیلاگ کے ساتھ ختم کریں، اُس میں بھی اپنی انا کو ایک سائیڈ پر رکھ دیں،،، یہ ڈائیلاگ ہی ہے جس نے پورے یورپ کو اکٹھا کیا ہوا ہے، ،، حالانکہ پورا یورپ ایک وقت میں ایک دوسرے کا جانی دشمن تھا، ،،دوسری جنگ عظیم میں جرمنی نے کتنی یورپین کا قتل عام کیا تھا،لیکن بعد میں ان کی صلح ہوگئی،،،اور اب یہ سب اکٹھے ہیں،،، اور ایک دوسرے کے مفادات کاخیال رکھتے ہیں،،، اگر وہ دو درجن سے زائد ممالک اکٹھے ہوسکتے ہیں تو یہ ایک ملک کے باسی اکٹھے کیوں نہیں ہوسکتے؟ لیکن اس کے برعکس یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے جو فیصلہ کرنے والے ہیں اُن کو ”نو سر“ کی عادت نہیں ہے، وہ مانتے ہی نہیں کسی اور کی، وہ بند کمروں میں فیصلے کرتے ہیں، جس سے بہت سارے مسائل جنم لیتے ہیں،،، آپ ثابت کردیں کہ دنیا میں کسی جگہ پر بھی فوجی آپریشن سے کامیابی ملی ہو، فوجی آپریشن تو محض ایک پی ٹی ماسٹر کی حیثیت رکھتا ہے، جیسے ایک کلاس میں پی ٹی ماسٹر جاتا تھا تو وہاں وقتی طور پر خاموشی ہو جاتی تھی، لیکن جیسے ہی وہ کلاس سے نکلتا تھا دوبارہ شور شروع ہو جاتا تھا،، لیکن آپ جس ٹیچر کی دل سے عزت کرتے تھے،،، جو کردار میں بہترین ہوتا تھا آپ اُس کی باتوں کا بھی اثر لیتے تھے اور اُس کی سختیوں کو بھی دل سے تسلیم کرتے تھے،،، لہٰذاجو ہیڈ ماسٹرز پی ٹی ماسٹرز کے ذریعے کلاس میں امن لانا چاہتا ہے وہاںنہ تو کلاس بہتر پرفارم کرتی ہے اور نہ ہی وہ سکول بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ بہرکیف بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ بلوچ عوام کے لیے ہم کچھ نہیں کر رہے،،، گزشتہ روز گوادر میں دہشت گردوں نے خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے 11افراد کو شہید کیا جن میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل تھے۔دہشت گردی کے ان واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انکے پیچھے مقاصد عام شہریوں کو ہدف بنا نا اور معاشرے میں انتشار پیدا کر کے اپنی قوت کا احساس دلانا ہے، یہ صورتحال ایک لمحہ فکریہ بھی ہے جو کئی سوال چھوڑ گیا ہے۔ دہشت گردوں کے درجن بھر شہروں میں بیک وقت سر اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تنظیمی ڈھانچہ بلوچستان میں موجود ہے ‘ ٹھکانے اور لاجسٹک سہولیات بھی ہیں۔ دہشت گردی کے یہ واقعات بلوچستان میں نئی حکمت عملی کے ساتھ فتنہ الہندوستان کا صفایا کرنے کی ضرورت کوواضح کرتے ہیں۔دہشت گردوں کے بیرونِ ملک ٹھکانے اگرچہ ایک حقیقت ہیں مگر بلوچستان کے دشوار گزار اور بے آب و گیاہ ویرانے بھی دہشت گردوں کیلئے چھپنے کے ٹھکانے مہیا کرتے ہیں۔ بلوچستان میں بیرونی مداخلت‘ تخریب کاری اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے موثر انتظامات اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتے جب تک شہری دفاعی حکمت عملی کے ساتھ پہاڑوں اور صحراﺅں کی نگرانی کے موثر انتظامات نہ کئے جائیں۔ حکومت کو عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور روزگار کے مواقع کے ساتھ بلوچ سماج میں سمانے کیلئے بھی زیادہ اقدامات کی ضرورت ہے۔پسماندہ اور محروم بلوچستان دہشت گردوں کے حق میں موافق ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ترقی کے منصوبے اور معاشی امکانات ا±ن کا ہدف ہیں۔ دہشت گردوں کوسماج سے الگ تھلگ کرنے کیلئے ریاست کو بلوچ شہریوں کے ساتھ تعلق کو اور مضبوط کرنا چاہیے۔تعلیم اور روزگار کے زیادہ مواقع کی اہمیت اپنی جگہ مگر انصاف کا فقدان معاشرے کو اندر سے کمزور کرتا ہے۔ بلوچستان کا سماج اس کیلئے بطور خاص قابلِ توجہ ہے کہ قبائلی نظام کی وجہ سے محرومی اور حق تلفی روایت بن چکی ہے۔ بلوچستان کو دہشت گردوں کے شکنجے سے چھڑانے کیلئے بلوچستان کیساتھ یکجہتی کو بڑھانا ہو گا اور وسیع پیمانے پر ڈائیلاگ کرنا ہوں گے،،، ورنہ کچھ ایسا ہو سکتا ہے، جو ہمارے لیے ناقابل برداشت بھی ہو!