پاک افغان جنگ جلد ختم ہونی چاہیے!

ترک کہاوت ہے کہ ”ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے، اس لیے تعلقات سنبھال کر رکھو۔“جبکہ یونانی کہاوت ہے کہ ”رشتہ دار دور ہو سکتے ہیں، مگر ہمسائے ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔“یقینا یہ کہاوتیں انسانی تہذیب کا صدیوں کا نچوڑ ہوتی ہیں،،، کیوں کہ انسان ہمیشہ اپنے تجربات کو لکھتا، سمیٹتا اور اُسے عملی جامہ پہناتا آیا ہے،،، اور تاریخ کے اوراق میں تو ویسے ہی ہمسایوں کے بارے میں ہر قوم و ہر مفکر نے لکھا ہے،،، لیکن یہ تجربات شاید ہمارے فیصلہ کرنے والوں کی نظر سے نہیں گزر سکے،،، کیوں کہ وطن عزیز کے پہلا ہمسایہ بھارت ہمارا صف اول کا دشمن ہے، دوسرا ہمسایہ افغانستان ہمارا دشمن بن چکا ہے، تیسرا ہمسایہ ایران جس کے ساتھ ہم نے امریکی دباﺅ کی وجہ سے آج تک تعلقات بہتر نہیں کیے،،، اور رہی بات چوتھے ہمسائے چین کی تو اُس کے ساتھ ویسے ہی ہمارے تجارتی تعلقات اس قدر زیادہ ہیں کہ چین ہمارے ساتھ چاہ کر بھی تعلقات خراب نہیں کر سکتا،،، اور ویسے ہم نے امریکا کے کہنے پر اُس کے ساتھ بھی تعلقات بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،،، لیکن بھلا ہو چین کا کہ اُس نے تعلقات خراب نہیں کیے،،، اُس کی بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ چین کی 60، 70ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ اس ملک میں اب تک ہو چکی ہے،،، خیر ہمارا آج کا موضوع افغانستان ہے ،،، جس کے ساتھ ہماری 2640کلومیٹر لمبی سرحد (ڈیورنڈ لائن) قائم ہے،،، آج دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک لمحہ فکریہ بن چکی ہے۔حالانکہ یہ دو ہمسایہ ممالک، صدیوں سے مذہبی، ثقافتی اور لسانی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں، لیکن آج یہ ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہر فیصلہ مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی دو پڑوسی ممالک آپس میں لڑتے ہیں تو نقصان دونوں کا ہوتا ہے، جبکہ فائدہ کسی تیسرے فریق کو ملتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ دونوں ممالک پہلے ہی اندرونی مسائل، معاشی دباو¿، اور سیکیورٹی چیلنجز کا شکار ہیں۔ ایسے میں ”جنگ“ نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے ، بلکہ خودکشی کے مترادف بھی ہے۔اور حد تو یہ ہے کہ اس ”جنگ“ میں سب سے بڑا نقصان عام عوام کا ہو رہا ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اس وقت بھی لاکھوں افراد بے گھر ہو رہے ہیں۔ تعلیم اور صحت کا نظام تباہ ہو رہا، اور غربت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے ۔لہٰذاسوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک اس بوجھ کو اٹھانے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ یقیناً نہیں!کیونکہ دونوں ممالک کو اس وقت اپنے عوام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو مغربی دنیا سے تعلیم، معیشت طرز زندگی، ٹیکنالوجی اور صحت کے میدان میں کئی دہائیاں پیچھے ہیں،،، سب جانتے ہیں کہ پاکستان اس وقت معاشی مشکلات سے دوچار ہے جبکہ افغانستان کی معیشت بھی عالمی پابندیوں اور اندرونی عدم استحکام کی وجہ سے کمزور ہے۔ اور پھر اب تجارت بھی مکمل طور پر رک چکی ہے، سرمایہ کاری ختم ہو چکی ہے، اور دونوں ممالک مزید قرضوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ ایسے میں ترقی کا خواب صرف ایک سراب بن کر رہ گیا ہے،،، لہٰذادونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہونے کے بجائے عقل کے ناخن لینے چاہییں،،، تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں،،، کیوں کہ عید آنے والی ہے،،، اور مسلمانوں کے لیے یہی عید کا تہوار خوشی کا پیغام لاتا ہے،،، لیکن ہمارے لیے جب بھی خوشیاں آتی ہیں،،، وہ غمی میں بدل جاتی ہیں،،، پہلے بسنت پر اسلام آباد میں بم بلاسٹ ہوا تھا،جس میں 100کے قریب لوگ شہید ہوئے اور اب عید آگئی ہے تو ہر طرف ہائی الرٹ جاری کر دیے گئے ہیں،،، کہیں رش والی جگہ پر جانا خطرے سے خالی نہیں ہے، کہیں مسلمان اجتماع نہیں کر سکتے، کوئی جگہ خاص طور پر سرحدی علاقے کسی طرح سے محفوظ نہیں ہیں،،، جبکہ دوسری جانب افغان حکومت بھی ہم پر الزام لگاتی ہے کہ جو مسائل پاکستان کو درپیش ہیں وہی افغانستان کو درپیش ہیں،،، بلکہ وہ الزام لگا رہے ہیں کہ پاکستان اُن کی شہری آبادیوں پر حملہ کر رہا ہے،،، جیسے ہماری زبان میں نشر ہونے والے برطانوی میڈیا کے مطابق پاکستان نے گزشتہ روز ایک نشہ کے عادی افراد کے لیے قائم ہسپتال پر فضائی حملہ کیا، جس میں کم از کم 2سو افراد جاں بحق ہوئے ہیں، ،، جبکہ اس حوالے سے ہمارے حکمران تردید کر رہے ہیں،،، لیکن عالمی میڈیا کی خبریں کچھ اور بتا رہی ہیں۔۔۔ لہٰذاحقیقت کچھ بھی ہو، میرے خیال میں ہم دونوں ممالک ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ ہمارا نا تو ایک دوسرے کے بغیر گزارا ہے اور نہ ہی ہم ایک دوسرے کے بغیر رہ سکتے ہیں،،، بلکہ نہ ہی ہم ایک دوسرے کو روک سکتے ہیں،،، اس لیے ہماری آپسی لڑائی بنتی ہی نہیں،،، اور پھر سب سے اہم بات ہے کہ ہم دونوں ملک مسلمان ہیں،،، اور ہم نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں لڑائی کا آغاز کیا اور اب دونوں ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں،،، حتیٰ کہ عید سر پر ہے۔ اور کیا ہمیں کسی ثالث کی بات نہیں مان لینی چاہیے،،، جیسے ہمارے درمیان صلح کروانے کے لیے چین اور ترکی سرگرم ہیں،،،تو کیا ہمیں ان کی بات نہیں ماننی چاہیے،،، جو صدق دل سے ہمارے خیر خواہ ہیں،،، یا اس کے برعکس افغانستان کو بھارت و اسرائیل کے گٹھ جوڑ میں شامل ہونا چاہیے،،، جن کا واضح ایجنڈا ہی پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے،،، اس لیے ہمیں جلد از جلد اس جنگ کو ختم کرنا چاہیے ، آپسی مسائل کو حل کرنا چاہیے،،، تجارت شروع کرنی چاہیے،، تاکہ دونوں طرف کے عوام اور خاص طور پر کسانوں کا فائدہ ہوسکے،،، اور ہلاکتوں کا سلسلہ بند ہو،،، کیوں کہ اگر کسی ایک خاندان کا فرد ہلاک یا زخمی ہوتا ہے تو اُس خاندان میں کئی رشتے دار بھی بدلا لینے والے پیدا ہو جاتے ہیں،،، اس طرح ہم ایک کو ختم کر تے کرتے اپنے کئی دشمن پیدا کر لیتے ہیں،،، لہٰذابتایا جائے کہ کیا کسی کو مارنے یا نسل کشی کرنے سے بھی کہیں پر امن قائم ہوا ہے؟ اور کیا افغانستان پر آپ اُتنی بمباری کر سکتے ہیں، جتنی امریکا و اُس کے اتحادیوں نے کی،،، لہٰذااگر وہ کچھ نہیں کر سکے تو کیا ہم کچھ کر سکتے ہیں؟ لیکن ہمیں تاریخ بتاتی ہے کہ افغانستان ہارتا بھی رہا ہے،،، اس لیے اس حوالے سے میں کبھی قائل نہیں ہو اکہ افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ہے،،، ہمارے ذہنوں میں ”سلطنتوں کا قبرستان“ بناکر بٹھادیا گیا ہے۔ ورنہ”مغل“ بھی ایک سلطنت ہی کا نام تھا۔ اس کا بانی ظہیر الدین بابر افغان نہیں بلکہ سمرقند وبخارا سے تعلق رکھتا تھا۔ ماضی کے ہندوستان میں اپنی سلطنت کے قیام کے بعد اس نے دہلی کے بجائے کابل میں دفن ہونے کو ترجیح دی۔ تختِ بابری آج بھی کابل کی سب سے مشہور اور تاریخی عمارت ہے۔بابر کے جانشین ہمایوں کو ایک افغان شیر شاہ سوری نے بھارت سے فرار ہوکر ایران میں پناہ لینے کو مجبور کردیا تھا۔ بابر کا دوسرا بیٹا کامران جس کے نام سے لاہور کے دریائے راوی میں ایک بارہ دری مشہور ہے ہمایوں کی جلاوطنی کے دوران بھی کابل میں برسراقتدار رہا۔ شیر شاہ سوری نے طورخم پارکرکے اس کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کی۔ افغانستان گویا کم از کم سلطنت مغلیہ کا قبرستان ثابت نہیں ہوا۔قبرستان والی داستان کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے فقط 1842ءکی اس جنگ کا ذکر ہوتا ہے جب شاہ شجاع کو تخت پر براجمان کرنے والی برطانوی فوج کو تاریخی شکست وہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس جنگ کے اختتام پر سولہ ہزار کے قریب برطانوی اور ہندوستانی فوجی مارے گئے تھے۔ اپنی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لئے برطانوی سامراج نے مگر جنرل جارج پولک کی کمانڈ میں افغانستان پر 1842ءکے مارچ اپریل ہی میں ایک بھرپور جنگ مسلط کردی تھی۔ اس جنگ میں عام شہریوں کا سفاکانہ قتل عام ہوا۔ کابل کے مرکزی بازار کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا گیا۔ بدلے کی اس جنگ اور اس کے دوران برتی سفاکی کا مگر ہمارے ہاں ذکرنہیں ہوتا۔پھر 1970ءکی دہائی میں ظاہر شاہ کی بادشاہت کا تختہ الٹنے کے بعد سے سردار داﺅد اور اس کے بعد آئے کمیونسٹ حکمرانوں نے انہیں مسلسل خانہ جنگی اور قحط سالی کا نشانہ بنائے رکھا۔ دسمبر1979ءمیں کمیونسٹ نظام کو بچانے کے لئے سوویت یونین کی افواج وہاں در آئیں۔ ویت نام کی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان کو ایک طویل جنگ میں دھکیل دیا۔ اس کے نتیجے میں 20لاکھ سے زیادہ افغان اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان اور ایران میں کئی دہائیوں تک دربدر ہوتے رہے۔لیکن روس کے بعد ا مریکہ کی بھی ذلت آمیز شکست کے نتیجے میں کابل میں فاتح بن کر لوٹے طالبان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام پر رحم کریں۔ انہیں پاکستان کے ساتھ جنگ میں الجھا کر ایک اور عذاب سے دوچار نہ کریں۔ سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ طالبان افغان عوام کی زندگی کو پرامن رکھنے کو آ مادہ ہیں یا نہیں۔ نیک دلی سے اس کے خواہش مندبھی ہوں تب بھی ان کی قیادت واقعتااپنے امیر کی ”اطاعت“ میں یکجا ہے یا نہیں۔ فاتح کی حیثیت میں کابل لوٹنے کے بعد طالبان مگر دھڑوں میں تقسیم ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گورننس کا جو بحران نمودار ہوا ہے وہ سفاک انتہا پسندوں کو ایک بار پھر افغانستان کو دہشت گردی کے مختلف ناموں اور حیلوں بہانوں سے خودمختار اور بے قابو ہوئے گروہوں کی آماجگاہ بنارہا ہے۔ لہٰذاہمیں اب بھی سمجھنا چاہیے کہ جنگ دونوں اطراف کے عوام کے لیے کسی مسئلے کا حل نہیں ہے،،، ہم سختی کرکے وقتی طور پر تو چھٹکارہ حاصل کر لیں گے،،، مگر کیا ہم دیرپا ایسا کر سکتے ہیں؟ کیا ہم دیر پا امن قائم کر سکتے ہیں؟ لہٰذادونوں اطراف کی حکومتیں عیدالفطر کے احترام اور مسلمانوں کی خوشیوں کی خاطر عید سے پہلے جنگ بند کرنے کا اعلان کر دیں۔اگر ہم صلح کی بات کریں تو یہ ایک مشکل لیکن ضروری راستہ ہے۔ صلح کا مطلب صرف جنگ نہ کرنا نہیں بلکہ باہمی اعتماد کو بحال کرنا، سرحدی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا، اور مشترکہ مفادات کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان اور افغانستان اگر چاہیں تو وہ نہ صرف اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مثال بھی قائم کر سکتے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان چینی اور ترکیہ کے بھائیوں کی بار بار کی اپیلوں پر لبیک کہتے ہوئے پاک افغان جنگ کے خاتمے کا اعلان عید سے پہلے کر دے اور دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔ پاکستان کے حکمران بھی عوام وخواص کو ہدیہ عید پیش کرتے ہوئے ملک کے اندر اپوزیشن کو سنجیدہ مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دیں۔ تاکہ جنگ کا جلد از جلد خاتمہ ممکن ہوسکے!