1979:بھٹو کی شہادت کے بعد پہلے بار فیصلہ کرنے والے ناکام ہوئے!

اگر کسی کو کچھ یاد نہیں تو میں یاددہانی کے لیے بتاتا چلوں کہ گزشتہ سال انہی دنوں کی بات ہے جب ریاست پوری طاقت، اغوا کاری، چھینا جھپٹی، چھاپے، کریک ڈاﺅن، گرفتاریاں، جان کے لالے اور جان کنی کے ساتھ الیکشن کروا رہی تھی، صرف یہی نہیں ،اس کے ساتھ ساتھ نہ پارٹی، نہ بلا، نہ بلّے باز۔ نہ جلسہ، نہ جلوس، نہ ریلی۔ نہ انتخابی تقریریں نہ کوریج۔ نہ نام، نہ اذنِ کلام۔ شاعر ساغر صدیقی نے سچ کہا تھا: یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں ان میں کچھ صاحبِ اَسرار نظر آتے ہیں جس کے ہاتھ میں PTI کاجھنڈا نظر آیا، اُس کی ایسی تیسی کر دی۔ بزرگوں کو سرِعام پھینٹیاں، تھپڑ، دھکے۔ ایک اکیلی عورت کو ضیا رجیم کے جانشینوں نے ضیا کی طرز پر تین، چار مردانہ ہاتھوں سے درّے برسوائے مگر اُس نے پولنگ ایجنٹ والا بوتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا، جس کی وڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے ساری دنیا میں وائرل ہوئی۔ وہ صنفِ آہن پوری قوت کے ساتھ لوہے کے ستون سے چپکی رہی۔ سیلولر نظام، موبائل فون، انٹرنیٹ اور مہذب دنیا میں معلومات تک رسائی کے سارے جدید ترین کنکشن کاٹ ڈالے گئے۔ ذرا سوچئے! پاکستان کی تاریخ کا واحد ایسا الیکشن جس میں بارہ کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز تھے‘ الیکشن 2024ءمیں ووٹ کاسٹ کرنے والوں کا تناسب پاکستان کی انتخابی تاریخ کے سارے پچھلے ریکارڈ بریک کر گیا۔ بالکل ویسے ہی، جس طرح طاقت،جبر و استبداد نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑے، صرف اس لیے کہ لوگوں کو ووٹ سے مایوس کیا جائے۔ویسے مجھے تو پورا یقین تھا کہ پہلے کبھی ووٹوں کی گنتی درست طریقے سے ہوئی ہے؟ جو اب ہوگی،،، لیکن پھر بھی ایک اُمید لگا لی، کہ شاید یہ عوامی مینڈیٹ کے آگے اپنے آپ کو سرنڈر کردیں،،،مگر ایسا نہ ہو سکا۔ الیکشن 2024ءکسی اور کا تھا اور کسی اور کو دے دیا گیا، اور پھر اس ہٹ دھرمی پرایک سال گزرنے کے بعد آج بھی یہ قائم و دائم ہیں ۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ ایک بندے کو روکنے کے چکر میں ہم نے پورا ایک سال ضائع کر دیا ۔آپ امریکیوں کو لاکھ برا کہیں،آپ اُنہیں لاکھ کہیں کہ وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھی کی طرح سب کچھ روند رہے ہیں،،، مگر وہاں عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں فیصلہ کیا کہ اُسے اقتدار میں آنا چاہیے،، تو وہاں کی اسٹیبلشمنٹ نے بھی عوام کے فیصلے کو قبول کیا۔ اور ٹرمپ جیسا بھی ہے، اُسے قبول کیا گیا۔ حالانکہ اُس کے فیصلوں سے جلد یا بدیر معاشی و زمینی جنگ چھڑ سکتی ہے، مگر اُسے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا،،، کیوں کہ اُسے عوام نے منتخب کیا ہے۔ لیکن یہاں فیصلہ کرنے والے انا اور ضد کی جنگ لڑے رہے ہیں،،، نہ وہ جھک رہا ہے اور نہ ان کی ہٹ دھرمی ختم ہو رہی ہے۔ تبھی بانی تحریک انصاف کریڈٹ کے مستحق ہیں جو ڈیڑھ سال سے پابند سلاسل ہیں، اور ان کے آگے جھکا نہیں ہے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ یہاں کی اسٹیبلشمنٹ کا بھی پہلی بار کسی ٹکر کے بندے سے پالا پڑا ہے، ورنہ یہ تو سب کو جھکا لیتے تھے،ہم یہ نہیں کہتے کہ بانی تحریک انصاف سو فیصد ٹھیک ہوں گے، ظاہر وہ انسان ہے، اُن سے غلطیاں بھی ہوئی ہوں گے، مجھے بھی اُس کے کئی سیاسی فیصلوں سے اختلاف رہا ہے،،، لیکن جس طرح بھٹو میں بھی ہزار غلطیاں تھیں اور اُس نے شہادت کا لبادہ اوڑھ کر ساری غلطیوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا بالکل اسی طرح بانی تحریک انصاف نے بھی اپنی ساری غلطیوں کا مداوا کردیا کہ وہ اپنی بات پر قائم رہا اوراُس نے اصول کی سیاست کی۔ کیوں کہ اُسے یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی نہیں بنا۔ نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد فیصلہ کرنے والوں کو اتنا ٹف ٹائم کسی سیاستدان نے دیا؟ انہوں نے جسے چاہا حکومت سے نکال دیا، جسے چاہا حکومت میں لے آئے، جسے چاہا Tenureکو کم کر دیا جسے چاہا اقتدار کو طوالت بخشی، مگر ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ گزشتہ ڈھائی تین سال سے ایک بندے کو ہینڈل کیا جا رہا ہے، مگر مجال ہے وہ ان کی جھمیلوں میں آیا ہو، یا جھکا ہو۔ آپ اُس سے لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں، مگر یہ بات بھی اُس کی ماننا ہوگی کہ اُس نے عدلیہ کے سیاسی فیصلوں کو بھی سرخم من و عن بخوشی تسلیم کیا ہے۔ لہٰذااب بھی جب کبھی الیکشن ہوتے ہیں تو اگر فارم 47کا سہارا نہ لیا گیا تو جیت خان کی پکی ہے، اور شاید یہ دوبارہ اقتدار میں کبھی آبھی نہ سکیں۔ لیکن اس کے برعکس میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر آج بھی الیکشن ہوئے تو الیکشن میں ووٹ ڈالنے والے الیکشن ہار جائیں گے اور ووٹ ”گنتی کرنے والے“ انتخاب جیت لیں گے، اس لیے ہمیں آج کے دن کی مناسبت سے یہ سبق سیکھنا ہوگا کہ سب سے پہلے ووٹروں کی اوقات کو بڑھانا ہوگا۔ یعنی اُنہیں عزت دینا ہوگی،،، پھر آزاد اُمیدواروں کے لیے مناسب فیصلے کرنا ہوں گے،،، کیوں کہ جب آزاد اُمیدوار یہاں جیت جاتا ہے،،، تو پھر خلق خدا کے بجائے یہاں زمینی خداﺅں کا راج ہوتا ہے،،، بلین روپوں کے سودے ہورہے ہوتے ہیں،، اگر کوئی تب بھی نہ مانے تو اُس کو فیملی سمیت اُٹھا لیا جاتا ہے۔ اور جو سیاستدان یہاں منظور نظر ہوں،، انہیں وقت سے پہلے وزیر اعظم کا پروٹوکول دے دیا جاتا ہے،،، مفت کے ہوائی جہازوں میں دورے کروائے جاتے ہیں،،، ہیلی کاپٹر، لگژری کاریں،بلٹ پروف، گاڑیاں، سینکڑوں باوردی اور بے وردی اہلکار سب کچھ دے دیا جاتا ہے۔ بہرحال اس ”فیئر اینڈ فری“ اور ”ٹرانسپیرنٹ “مقابلے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ آج الیکشن کو گزرے ایک سال ہوگیا ہے، ووٹ ڈالنے والوں کی چوائس کو ووٹ گنتی کرنے والوں کی چوائس میں بدلنے کے لیے آپریشن ردّ و بدل اس وقت بھی جاری و ساری ہے۔ آپریشن ردّ و بدل کی سب سے بڑی مثال پنجاب کے سب سے بڑے شہر‘ زندہ دلان کے لاہور سے سامنے آئی۔ جہاں نواز شریف کے مقابل ڈاکٹر یاسمین راشد نے 8 فروری کے الیکشن میں 60 ہزار سے زائد ووٹوں سے برتری حاصل کی۔ ایک صحافی جو کئی سالوں سے بانی پی ٹی آئی اور PTI کے ناقد ہیں، اُنہوں نے اس کامیابی کا اندرونی سفر کیمرے کے سامنے بیٹھ کر بیان کیا ۔ بلکہ اُس وقت محکمہ ایریگیشن کا ایک ایڈیشنل سیکرٹری جسے نتیجہ دینے سے انکار کیا گیا، اُسے زدو کوب کرکے اُس سے مرضی کا نتیجہ لیا گیا، ،، آپ چیک کر لیں،، اس طرح کے بہت سے کیسز بہت سے حلقوں سے ملے۔ اسی طرح ایک اور صحافی نے بھی آپریشن ردّ و بدل کا خوب تر پوسٹ مارٹم کیا۔ اور پھر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مانسہرہ کا حلقہ نواز شریف ہار بیٹھے تھے کیونکہ مانسہرہ کے عالمِ دین مفتی کفایت اللہ‘ جو PDM کی سربراہ پارٹی جے یو آئی ایف سے تعلق رکھتے ہیں، اُنہوں نے خواجہ سعد رفیق کی طرح بہادری سے خود PTI کے شہزادہ گستاسپ کے ہاتھوں شکست کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ نواز شریف کو باعزت طریقے سے شکست قبول کر کے لوگوں کا فیصلہ تسلیم کرنے کا مشورہ بھی دیا اور ساتھ ہی کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ 1970ءکے انتخابات کا ری پلے ہے، جن میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کی 160 سیٹیں بھاری اکثریت سے جیت لیں لیکن اقتدار اُنہیں ملا جن کے پاس صرف 86+5 سیٹیں تھیں۔ مفتی کفایت اللہ صاحب نے بڑی جواں مردی سے خاکم بدہن کا رائیڈر بھی لگایا۔ بہرکیف ہم نے اس ایک سال میں ملک کے 65فیصد عوام یعنی نوجوانوں کو سخت مایوس کر دیا ہے، اُنہیں اتنا باغی کر دیا ہے، کہ پڑھا لکھا طبقہ بھی آج ملک سے بھاگ رہا ہے۔ حالانکہ یہی بچے تو اصل میں امیدِ پاکستان ہیں، جن کے پاس پچھلی نسلوں سے ماورا صلاحیت، زیادہ اہلیت اور وقت، تینوں بڑھ چڑھ کر ہیں۔لیکن ھل من مزید اور کثرت کی ہوس رکھنے والوں کے سارے خواب انہی نوجوانوں نے بکھیر ڈالے۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ یہ ساری ایکسرسائز صرف ووٹ کو عزت دینے کے لیے کی گئی ہے یا ووٹر کو بھی؟ فرض کریں کہ کوئی پی ٹی آئی سے تمام سیٹیں چھین لے۔ کیا اس کے ذریعے ملک میں سیاسی استحکام آسکتا ہے۔ اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ سب کہتے ہیں میں سیاسی استحکام لاﺅں گا، لیکن جن 25کروڑ لوگوں کو سیاسی استحکام چاہیے، ان کا فیصلہ کیوں مسترد کیا جا رہا ہے۔ ایک اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ مانگے تانگے، چھینے جھپٹے، لوٹے اور ڈرائے ہوئے لوگ، کیا قوم کو لیڈ کرنے کے قابل ہوتے ہیں؟ وہ بھی بدترین بحران میں؟کبھی نہیں ! ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ہمیشہ پہاڑی علاقوں میں جو بس سب سے جلدی لڑھکتی ہے، اسے 1984ءماڈل پرانے بیڈ فورڈ ٹرک کے چیسیز پر بنایا جاتا ہے جس کے ماتھے پہ ماڈل 2024ءلکھا ہوتا ہے۔ مستری جانتا ہے، بنانے والی کمپنی جانتی ہے، ڈرائیور کو چھوڑیں،انگریزی کا کنڈیکٹر‘ جسے اچھی اُردو میں سہولت کار کہتے ہیں، اسے بھی سب پتا ہوتا ہے کہ اس بس میں کچھ نیا نہیں،جس کے پائیدان پہ جلی لفظوں میں یہ نوٹس لکھتے ہیں: ”چلنے سے پہلے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے‘ شاید یہ تیری زندگی کا آخری سفر ہو۔“ اور پھر اللہ نہ کرے ”سفر آخرت“ ہو بھی جایا کرتا ہے،،، اس لیے فیصلہ کرنے والوں کو پھر ہوش کے ناخن لینے چاہیے، اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے سب کچھ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے،،، ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔ اور جب کچھ نہیں بچتا تو پھر ملک سفر کرتاہے،،، ہم پہلے ہی دنیا سے کم از کم 40سال پیچھے ہیں تو کیا ایسے فیصلے کرنے سے ہم مزید پیچھے نہیں رہ جائیں گے؟