• جنوبی پنجاب بھی صوبہ بنے گا اور اسے بھی سب ووٹ دیں گے: زرداری

    سابق صدر آصف علی زرداری نے فاٹا کے انضمام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب بھی صوبہ بنے گا اور اسے بھی سب ووٹ دیں گے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ جب میں صدر تھا تو فاٹا سے ایک جرگہ بلایا اور کہا کہ فاٹا کا انضمام ہونا چاہیے۔ فرحت اللہ بابر نے فاٹا کے انضمام کیلئے بہت کام کیا لیکن ہمارے دور میں یہ کام اس لئے نہ ہو سکا کیونکہ اس وقت نواز شریف کبھی ہاں اور کبھی ناں کی گیم کھیل رہے تھے۔ انہوں نے فاٹا کے انضمام پر پارلیمنٹ کو مبارکباد دی اور کہا کہ اس اقدام سے ترقی بڑھے گی۔ آصف علی زرداری نے دعویٰ کیا کہ جنوبی پنجاب بھی صوبہ بنے گا اور اسے بھی سب ووٹ دیں گے۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہم سٹیبلیشمنٹ کیساتھ نہیں مگر ہم پاکستان کیساتھ ہیں۔ سویلین فورسز میں صرف میاں صاحب کا تناؤ ہے، ہمارا نہیں ہے۔ میاں صاحب ملک وقوم کیساتھ لڑ رہے ہیں۔ میاں صاحب بتائیں وہ پاکستان کیساتھ ہیں یا نہیں یا وہ دنیا کی کسی اور فورس کیساتھ ہیں۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ امید ہے الیکشن کمیشن صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد کر کے قوم کی امیدوں پر پورا اترے گا، امید ہے یہ آر او الیکشن نہیں ہونگے۔ عالمی اور خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ بھارت کہاں جا رہا ہے؟ اس کی کیا سوچ ہے؟ ہم جانتے ہیں، ہمارا کوئی تناؤ نہیں ہے۔ ہمیں خطے کے مسائل نظر آ رہے ہیں لیکن میرے پاس جادو کا بال نہیں جس میں دیکھ سکوں کیا ہونے جا رہا ہے۔

  • سینیٹ سے بھی فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا بل منظور

    اسلام آباد: فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی آئینی ترمیمی بل منظور کر لیا۔ چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون و انصاف محمود بشیر ورک نے فاٹا کے انضمام سے متعلق آئینی بل پیش کیا۔ بل کی شق وار منظوری لی گئی جس کے بعد آئینی ترمیمی بل کی حمایت میں 71 اور مخالفت میں 5 ووٹ آئے۔ حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ سینیٹ سے فاٹا انضمام کے بل کی منظوری کے بعد اجلاس نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ جے یو آئی کے سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا نقطہ نظر ہے کہ فاٹا کا الگ اسٹیٹس تھا کیا اس ایوان میں دلیل کی آزادی ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے سوال اٹھایا کہ کیا فاٹا کا اسٹیٹس تبدیل کرتے وقت عوام کی رائے لینا گوارا نہیں، فاٹا کے عوام جو نہیں چاہتے تھے وہ ان پر مسلط کیا گیا۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں فاٹا اصلاحات پر کام شروع ہوا، فاٹا کے لوگ پوری شہریت اور صرف اپنا بنیادی حق مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے فاٹا سے فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کے خاتمے کی بات کی۔ شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اب فاٹا میں تعزیرات پاکستان نافذ ہوگی اور کوئی بے تاج بادشاہ ہو کر لوگوں کے فیصلے نہیں کرے گا۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے گزشتہ روز فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق 31ویں آئینی ترمیم منظور کی تھی جس کے لیے ایوان میں موجود 229 اراکین نے بل کی حمایت میں اور صرف ایک رکن نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

  • حیرت ہےدونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے سابق سربراہان کی کتاب کی رونمائی ہے: رضاربانی

    سابق چیئرمین سینٹ اور پیپلزپارٹی کے رہنماءرضاربانی نے کہاہے کہ حیرت ہے کہ ایک طرف بھارت اورپاکستان کے تعلقات خراب ترین سطح پر ہیں،دوسری طرف دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے سابق سربراہوں کی کتاب کی رونمائی ہے،یہ کتاب کسی سویلین یا سیاستدان نے بھارتی ہم منصب سے ملکرلکھی ہوتی تو آسمان سر پرہوتا،کتاب لکھنے والے سیاستدان پرغدار کے فتوے لگ رہے ہوتے۔ وہ چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہونیوالے سینیٹ کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کررہے تھے ۔ رضاربانی کاکہناتھاکہ پاکستان اوربھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے سابق سربراہوں کی کتاب شائع ہوئی ہے،یہ چھوٹامسئلہ نہیں ہے،دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کا ایک سلسلہ ہے ، کتاب سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور را کے سابق سربراہ نے مل کرلکھی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا جنرل درانی نے اپنے ادارے یا وفاقی حکومت سے کتاب لکھنے کی اجازت لی تھی؟اجازت نہیں مانگی تو کیاجنرل اسد درانی نے وفاقی حکومت یا وزیر دفاع کو آگاہ کیا تھا؟ ایوان کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا جانا چاہیے ۔

  • لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں: مریم نواز کا احتساب عدالت میں بیان

    احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس آخری مراحل میں داخل ہو گیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز آج بھی اپنا بیان جاری رکھیں گے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب ریفرنسز کی سماعت کر رہے ہیں۔ مریم نواز نے روسٹرم پر آکر اپنے بیان میں کہا لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں، نیلسن اور نیسکول کے بینیفشل مالک بھی حسین نواز تھے، ان دونوں کمپنیوں کا ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے ٹرسٹی بنایا گیا، یہ حقیقت ہے میرے دادا میاں شریف پورے خاندان کی کفالت کرتے تھے، دادا خاندان کے اخراجات اٹھاتے، سب کو ماہانہ جیب خرچ بھی دیتے تھے۔ مریم نواز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میں نے جے آئی ٹی میں دونوں ڈیکلیریشن پیش کیے، دونوں ڈیکلیریشن نوٹری پبلک سے تصدیق شُدہ تھے، واجد ضیا نے جان بوجھ کر بدنیتی پر مبنی اور من گھڑت بیان دیا۔ گزشتہ روز مریم نواز نے 128 میں سے 47 سوالوں کے جواب قلمبند کروائے تھے۔

  • 'سلامتی کونسل شہریوں کے تحفظ کی ضمانت، فرائض کی ادائیگی میں ناکام ہو چکی'

    نیو یارک: پاکستان نے ایک بار پھر عالمی فورم پر کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا سلامتی کونسل میں خطاب سے کہنا تھا کہ بدترین جرائم میں ملوث افراد کو فوجی کمانڈر اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ جنیوا کنونشن اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کی جا رہی ہیں۔ سلامتی کونسل شہریوں کے تحفظ کی ضمانت اور فرائض کی ادائیگی میں ناکام ہو چکی ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر کشمیر اور فلسطین سب سے پرانے تنازعات ہیں جسے آج تک حل نہ کیا جا سکا۔ مقبوضہ علاقوں میں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کیا جا رہا ہے۔

  • 'عمران خاں پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے رہے، آج اسی تھوک کو چاٹ رہے ہیں'

    اسلام آباد: نواز شریف نے عمران خان اور پرویز مشرف پر تنقید کے نشتر چلا دیئے۔ انہوں نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کے معاملے پر عمران خان کو تھوک کر چاٹنے کا طعنہ دیا اور کہا جس پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی اسکی مراعات کا پورا فائدہ لیتے رہے۔ احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے نہ ہوا تو معاملہ پارلیمنٹ میں جائیں گے، کافی عرصے بعد عمران خان کے پارلیمنٹ آنے پر نواز شریف نے کہا کہ وہ تو پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے رہے ہیں آج اسی تھوک کو چاٹ رہے ہیں، دیکھ لیں تھوک کر چاٹنا غیر پارلیمانی الفاظ تو نہیں ؟ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس سے متعلق ردعمل میں نواز شریف نے کہا کہ اس مقدمے کا ٹرائل ایک نہ ایک دن مکمل ہوگا، مشرف کی جان نہیں چھوٹے گی، کوئی قانون مشرف کیخلاف اس ٹرائل سے روک نہیں سکتا، ناں ہی کوئی یہ مقدمہ واپس لے سکتا ہے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا پرویز مشرف 12 مئی کو پارلیمنٹ کے باہر اور اندر خطاب کے بعد مکا لہرایا اب باہر جا کر بیٹھ گیا ہے، اب کہاں گیا وہ مکا ؟ نواز شریف نے کہا کہ پرویز مشرف کو وطن واپس تحریک انصاف میں لانے کے لئے لایا جا سکتا ہے ، نواز شریف فاٹا انضمام پر حکومتی اتحادیوں کے ناراض ہونے سے متعلق سوال کا جواب گول کر گئے اور کہا کہ بات ہو رہی ہے اسی کو جاری رکھتے ہیں۔