• مولانا سمیع الحق کے قتل کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں: آئی جی پنجاب

    لاہور: پنجاب پولیس کے سربراہ امجد جاوید سلیمی کا کہناہے کہ مولانا سمیع الحق کے قتل کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں اور یہ صرف ایک قتل کی واردات ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس امجد جاوید سلیمی سے 45 ویں کامن سے تعلق رکھنے والے 22 اے ایس پیز نے ملاقات کی، اس دوران آئی جی پنجاب نے افسران سے خطاب کیا اور ان کے سوالات کے جواب دیئے۔ آئی جی پنجاب نے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل پر بات کرتے ہوئے کہاکہ مولانا کے قتل کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، یہ صرف ایک قتل کی واردات ہے، قتل کی تفتیش مکمل ہونے پر میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈولفن اہلکار کے ہاتھوں شہری کی مبینہ ہلاکت کی تفتیش بھی جاری ہے اس حوالے سے رپورٹ پر کارروائی کریں گے۔ آئی جی پنجاب کا کہنا تھاکہ پنجاب پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے، پہلی مرتبہ ٹرانسفر پوسٹنگ بغیر سیاسی دباؤکے آئی جی کےمشورے سے کی جارہی ہے۔ امجد جاوید سلیمی نے کہا کہ ضلعی سطح پر مقدمات سے پہلے معاملات حل کرنے کے لیے کمیٹیاں بنائی جائیں گی جن میں ریٹائرڈ جج، پروفیسر، علماء، وکلاء، سینئر صحافی اور عوامی نمائندے شامل ہوں گے۔ واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق کو 2 نومبر کو راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ پر چھریوں کے وار کرکے قتل کیا گیا۔ مولانا سمیع الحق کے ملازم نے ابتدائی بیان میں انکشاف کیا تھا کہ مولانا سے ملنے ان کے جاننے والے دو افراد آئے تھے جو ان سے پہلے بھی ملنے آتے رہے۔

  • رضا ربانی کے ای سی ایل میں ترمیم سے متعلق بل پر حکومت نے اعتراض اٹھا دیا

    اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) کے قانون میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کیا گیا جس پر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے اعتراضات اٹھادیے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے ای سی ایل میں ترمیم کا بل پیش کیا جسے چیئرمین نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ ترمیمی بل کے متن کے مطابق وفاقی حکومت کسی فرد کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی وجوہات بیان کرے گی اور جن افراد کا نام ای سی ایل میں شامل ہورہا ہے انہیں 24 گھنٹے کے اندر آگاہ کرنا لازم ہوگا۔ ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے خلاف نظرثانی کی اپیل حکومت کو بھیجی جائے گی جس پر وفاق کو 15 روز کے اندر فیصلہ دینا ہوگا، بصورت دیگر متعلقہ شخص کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا فیصلہ متروک ہوجائے گا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے ترمیمی بل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنے کا موجودہ طریقہ کار درست ہے، 15 روز میں ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے حوالے سے فیصلہ کرنا مناسب نہیں۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ جلد بازی میں غلط فیصلے ہوجاتے ہیں۔

  • نیب کالا قانون ہے اسے ختم ہونا چاہئے، شاہد خاقان عباسی

    =لاہور: لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آشیانہ کے بارے میں سب کو پتا اس میں جان نہیں ہے لیکن الزامات کے حوالے سے دے دیے ہیں۔ آئندہ سماعت پر قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر سماعت ہو گی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کالا قانون ہے اسے ختم ہونا چاہئے اور ڈی جی نیب کا دعوی ہے کہ وہ مرد مومن ہیں لیکن شہباز کو ایک کیس میں بلا کر دوسرے میں گرفتار کیا گیا۔ اب شہبازشریف کیخلاف رمضان شوگر ملز کا کیس بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مجھ پر اور میری کابینہ پر الزامات لگائیں لیکن باتیں کرنے اور پگڑی اچھالنے سے کام نہیں بنتا کرپشن ہے تو سامنے لائیں۔ عمران خان اپنی کابینہ میں دیکھیں کرپشن نظر آئے گی۔

  • 10 ممالک سے 700 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی معلومات مل گئیں: شہزاد اکبر

    =اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ 10 ممالک سے 700 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی تفصیلات حاصل کرلیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شہزاد اکبر نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے دوران 5 ہزار سے زائد جعلی اکاؤنٹس ملے جو عام شہریوں کے نام ہیں جن کے ذریعے پاکستان سے باہر منی لانڈرنگ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ تقریباً دس ممالک سے منی لانڈرنگ کی معلومات ملی ہیں جس کے مطابق پاکستان سے 5.3 ارب ڈالر باہر لے جائے گئے اور یہ 700 ارب روپے بنتے ہیں جو کل رقم کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ ملک سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے کے لیے سابق حکمرانوں نے اقامے بنوائے، ہم تمام اقامہ ہولڈرز کی تفصیلات دبئی انتظامیہ سے لے رہے ہیں اور جن لوگوں نے دبئی اور یورپی بینکوں میں پیسے چھپا رکھے ہیں وہ چھپ نہیں سکیں گے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور عدالتی حکم ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے میڈیا پر بات نہ کی جائے، ملزمان کی لسٹ جلد سامنے آجائے گی اور جب تک ریفرنس فائل کرنے کا فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک فہرست سامنے نہیں لاسکتے۔ پاکستان تیسرے نمبر پر ہے جس کے شہریوں کی دبئی میں سب سے زیادہ جائیدادیں ہیں، شہزاد اکبر شہزاد اکبر نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے ملک کی لوٹی گئی دولت چھپانے کے لیے اقامے بنوائے، اقامے دو طرح کے ہیں، ایک وہ جو یہاں سے مزدور و محنت کش لیتے ہیں اور دوسرا اقامہ ہولڈر وہ ہیں جو کوئی وزیر رکھتے ہیں جن کی تفصیلات حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کا کہنا تھا کہ سب سے مشکل درپیش اقامہ کے ذریعے اصل ملزم کی شناخت ہے کیوں کہ وہ اپنی شناخت چھپا لیتے ہیں، اگر کسی نے اپنے مالی ڈرائیور کے نام پر جائیداد بنا رکھی ہے، جب اس بندے کے پیچھے جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بہت بڑے شخص کا ڈرائیور ہے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ پاکستان تیسرے نمبر پر ہے جس کے شہریوں کی دبئی میں سب سے زیادہ جائیدادیں ہیں، لوگوں نے اپنے ڈرائیور، باورچی اور دیگر لوگوں کے نام پر جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں۔ وزیراعظم کے معاون نے بتایا کہ یہ 70 دنوں کی کارروائی کی تفصیلات ہیں جس کے دوران 10 ممالک پر توجہ رہی، منی لانڈرنگ نے پاکستان کا ستیاناس کر دیا ہے، اگر یہ نہ ہوتی تو ہم ایک معاشی مستحکم ملک ہوتے۔ افتخار درانی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ 15 ارب ڈالر کی صرف دبئی میں پراپرٹی بنائی گئی، نیب، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور دیگر ادارے اپنے دائرے میں رہ کر کام کر رہے ہیں، ہم نے کسی کے خلاف کیس نہیں کیا، اگر کسی کے خلاف مقدمہ درج کریں گے تو پہلے بتائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کچھ بھی کہتے رہیں احتساب جاری رہے گا، ایسیٹ ریکوری یونٹ بھی کام کر رہا ہے اور ابھی تک اس یونٹ نے کوئی کیس نہیں کیا۔

  • نوازشریف، مریم اور صفدر کی سزاؤں کیخلاف نیب اپیل سماعت کیلئے منظور، رہائی برقرار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نواز شریف، مریم اور صفدر کی سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل قابلِ سماعت قرار دے دی جب کہ عدالت نے تینوں کی رہائی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نوازشریف، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزاؤں کے خلاف نیب کی اپیل پر سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت پر فریقین کو جواب جمع کرانے کا کہا تھا جس پر نیب اور خواجہ حارث کی جانب سے جواب جمع کرایا گیا۔ سزا معطلی کے فیصلے کو کالعدم کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں: چیف جسٹس چیف جسٹس پاکستان نے خواجہ حارث سے کہا کہ آپ کا جواب کافی مفصل ہے، مختصر معروضات دیں، پھردیکھیں گے اس معاملے پر لارجر بینچ بنانا ہے کہ نہیں، یہ اصول دیکھنا ہے کہ اپیلوں کی سماعت سے پہلے سزا معطلی سے کیس کامیرٹ متاثر تو نہیں ہوا۔ آپ کی ضمانت والا فیصلہ قائم رکھتے ہیں: چیف جسٹس کا خواجہ حارث سے مکالمہ جسٹس ثاقب نثار نے خواجہ حارث سے مکالمہ کیا کہ آپ کی ضمانت والا فیصلہ قائم رکھتے ہیں۔ دوران سماعت خواجہ حارث نے اسفند یار ولی کیس کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سزا معطلی کا معاملہ دیکھنا ہے، میرٹ آف دی کیس تو متاثر نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ اپنے نکات لکھ کردیں، آپ کو گزشتہ سماعت پر بھی کہا تھا اپنے پوائنٹس تحریری طور پر دیں۔ ڈاکٹر نے بتایا جب بھی خواجہ حارث سامنے آتے ہیں میرے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے: چیف جسٹس کے دلچسپ ریمارکس سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے خواجہ حارث سے دلچسپ مکالمہ کیا کہ میرے ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ خواجہ حارث جب آپ کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو آپ کی دل کی دھڑکن بڑھ بڑھ جاتی ہے۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل، نوازشریف، مریم کو نوٹسز جاری چیف جسٹس کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگے۔ عدالت نے نیب اور خواجہ حارث کے جواب کے بعد نوازشریف، مریم اور صفدر کی سزا معطلی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقراررکھا اور نیب کی اپیل قابلِ سماعت قرار دے دی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نیب کی درخواست منظور کر رہے ہیں، مناسب ہوا تو لارجر بینچ تشکیل دیں گےجس میں فوجداری قانون کے بڑے جج صاحبان کو شامل ہونا چاہیے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کردی۔ نیب ریفرنسز کا پس منظر سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔ نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔ اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد نواز شریف، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر لاہور پہنچ گئے احتساب عدالت نے 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 11، مریم کو 8 اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔ تینوں ملزمان اڈیالہ جیل میں قید رہے جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 ستمبر کو احتساب عدالت کی جانب سے تینوں افراد کو دی گئی سزا معطل کی تھی جس کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

  • منی لانڈرنگ کیس: حتمی رپورٹ کیلیے جے آئی ٹی نے ایک ماہ کا وقت مانگ لیا

    اسلام آباد: جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں جے آئی ٹی سربراہ نے حتمی رپورٹ دینے کے لئے ایک ماہ کا وقت مانگ لیا۔ اومنی گروپ 3 ملیں اور ڈیفنس کی جائیدادیں قرضوں کے بدلے بینکوں کو دینے پر آمادہ، نیشنل بینک نے پیشکش مسترد کر دی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نمر مجید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو 154 ارب روپے گئے ہیں اس کا ہمیں پتہ ہے، جو پیسے ہنڈی کے ذریعے گئے اور جو آپ کے گھر میں گڑھا کھودا گیا اس کا بھی پتہ ہے، آپ کو بیوی اور والدہ کی وجہ سے گرفتار نہیں کیا، بینکوں سے معاملات طے کریں، عبدالغنی مجید فون پر پورے سندھ کو ڈکٹیشن دے رہا ہے، اسے اڈیالہ جیل منتقل کریں۔ سندھ بینک کے وکیل نے کہا اومنی گروپ کا 70 سے 80 فیصد سرمایہ بینکوں سے قرض ہے، بینکوں سے کہا جائے کہ ملوں کا کنٹرول لے لیں۔ چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئےکہا یہ بینکوں کا نہیں عوام کا پیسہ ہے، اومنی گروپ کے ہنڈی کے پیسے بھی مل گئے ہیں، جو پیسے لانچوں کے ذریعے بھیجے اور جو عوام کا پیسہ لیا ہے وہ واپس کریں ہم کیس ختم کر دیں گے۔