• جنگی مشقیں پاک چین دوستی کو مزید مضبوط کریں گی، آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا پاک چین فضائی مشقوں کا معائنہ، جنرل قمر جاوید باجوہ نے دونوں ممالک کی فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ پاک فوج کے شعہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایئر فورس کی آپریشنل ایئر بیس پر فضائیہ کی شاہین 7 مشقوں کا معائنہ کیا۔ ایئر بیس پہنچنے پر پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔ آرمی چیف نے مشقوں کے شرکا اور دونوں ممالک کی فضائیہ کی پیشہ ورانہ سلاحیتوں کو سراہا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ جنگی مشقیں پاک چین دوستی کو مزید مضبوط کریں گی، جنگی مشقوں سے دونوں ممالک کی مسلح افواج اور عوام کے تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک چین مشترکہ فضائی مشقیں ہر سال منعقد کی جاتی ہیں۔

  • گیس بحران: وزیراعظم کا سوئی سدرن اورسوئی نادرن کے ایم ڈیزکیخلاف انکوائری کا حکم

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ملک میں جاری گیس بحران پر سوئی سدرن اور سوئی نادرن کے ایم ڈیز کیخلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ملک میں جاری گیس بحران پر ہنگامی اجلاس ہوا جس میں خزانہ، پیٹرولیم، پاور ڈویژن کی وزراء اور دیگر اداروں کے سنیئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر اعظم کو ملک میں گیس کے بحرانی صورت حال، گیس کی پیداوار اور ضروریات سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دونوں کمپنیوں نے نااہلی کا مظاہرہ کیا اور گیس کی طلب و رسد کی معلومات چھپائیں۔ اجلاس میں وزیرِاعظم عمران خان نے سوئی سدرن اور سوئی نادرن کے ایم ڈیز کیخلاف انکوائری کا حکم دیا۔ وزیر اعظم نے سوئی سدرن اور سوئی نادرن کے ایم ڈیز کیخلاف تحقیقاتی کارروائی 72 گھنٹے میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر پیٹرولیم تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔ واضح رہےکہ سوئی سدرن گیس کمپنی نے ایک ہفتے سے گیس فیلڈز میں خرابی کا دعویٰ کیا ہے جس سے انڈسٹریز اور رہائشی علاقوں میں گیس کی سپلائی بری طرح متاثر ہے۔ ایک ہفتے کے دوران سندھ بھر میں 4 دن سی این جی اسٹیشنز بھی بند رہے اور سوئی سدرن نے غیرمعینہ مدت تک سی این جی اسٹیشنز کو گیس سپلائی بند کردی ہے۔ سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی سپلائی بند ہونے سے کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے بسیں نہ چلانے کا اعلان کیا ہے جس سے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے۔

  • عوام کے پیسے واپس نہ لے سکے تو ہمیں حکومت کا حق نہیں، فواد چوہدری

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم عوام کے پیسے واپس نہ لے سکے تو پھر تحریک انصاف کو حکومت کا حق نہیں۔ قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ سعد رفیق کی گرفتاری درخواست ضمانت منسوخ ہونے پر ہوئی، عدالت نے انہیں مکمل سنا پھر ضمانت منسوخ کی۔ پچھلے دس سال میں جس طرح ملک کوچلایا گیا وہ سب کے سامنے ہے، ملک سے چوری کیا گیا پیسا منی لانڈرنگ کرکے باہر بھیجا گیا اور منی لانڈرنگ میں ملوث لوگوں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا۔ وفاقی وزیرنے کہا کہ نیب آزاد ادارہ ہے اور ہمارے ماتحت نہیں ہے، نیب کا موجودہ موجودہ سیٹ اپ اسی وقت کا ہے جب یہ اقتدار میں تھے، چیئرمین نیب کا تقررکرنے والے بھی شاہد خاقان عباسی ہیں، جب تک معاملہ دوسروں کے لیے چل رہا تھا تو وہ درست تھا، اب جب وہ اقتدار سے باہر نکلے اور ہاتھ ان پر پڑا تو قانون میں خامیاں یاد آگئی ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ انوکھے لاڈلے کھیلنے کو چاند مانگ رہے ہیں، پہلے ہی دن فروغ نسیم کی قیادت میں کمیٹی بنائی جو اپوزیشن سے بات کررہی ہے، کالج کے باہر بسیں روک کر ٹکٹ دینے والے کے پاس ہاؤسنگ سوسائٹیاں کیسے بنیں،سائیکل چلانے والے سے پوچھیں پیسا کہاں سے آیا تو جمہوریت کو خطرہ ہوجاتا ہے۔ خزانہ کیسے خرچ ہوا ہے آپ کو حساب دینا ہوگا اور دینا بھی چاہیے، اگر ہم ان سے عوام کے پیسے واپس نہ لے سکے تو پھر تحریک انصاف کو حکومت کا حق نہیں۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کی خواہشات کی ترجمان ہے اور عوام احتساب چاہتے ہیں ، عوام چاہتے ہیں کہ 10سال میں لوٹ مار کا جو بازار گرم رہا اس کا حساب لیا جائے، چور کی داڑھی میں تنکا ہے، لگتا ہے ساری اپوزیشن کا اپنا خطرہ پڑا ہے، سب کو اپنے اپنے کرتوت یاد ہیں اس لیے گھبرائے ہوئے ہیں، اپوزیشن چاہتی ہے حکومت اس میں رکاوٹ ڈالے مگر ایسا نہیں ہوگا۔ پاکستان میں پہلی بار شفاف احتساب ہورہا ہے، وزیراعظم اس معاملے میں پرعزم ہیں، کوئی بھی کسی بھی پارٹی کا ہو اس کا حکومت پر کوئی کنٹرول نہیں۔

  • خواجہ برادران کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    لاہور: احتساب عدالت نے آشیانہ اور پیراگون سٹی سکینڈل میں گرفتار سعد رفیق اور سلمان رفیق کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے دونوں بھائیوں کو 22 دسمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ پیرا گون ہاؤسنگ سکینڈل کی احتساب عدالت میں سماعت ہوئی۔ تفتیشی افسر نے کہا ملزمان نے پیراگون کی ملکیت سے متعلق جھوٹ بولا اور سعد رفیق اہلیہ کے نام پر سوسائٹی بنانے جا رہے تھے۔ سوسائٹی کی زمین سعد رفیق نے فروخت کی اور پھلروان گاؤں کے قریب پیرا گوان سٹی کے نام سے سوسائٹی بنائی جبکہ پیراگوان سوسائٹی غیر قانونی ہے اور یہ ایل ڈی اے سے منظور نہیں۔ نیب نے ان کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے نیب ٹیم کا مؤقف سننے کے بعد خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو 10 روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر حوالے کر دیا۔ خواجہ سعد رفیق نے کمرہ عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہزارو‍ں پولیس اہلکار اور رینجرز لگائی ہوئی ہے اور عدالت میں لوگوں کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔ گھر کا کھانا بند کر دیا گیا ہے اور نیب میں واش روم کے اندر چٹخنی نہیں ہے جبکہ نیب نے گھر سے آیا ہوا کھانا واپس بھجوا دیا۔ انہوں نے کہا میرے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور میرے سیل میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں کیا ہم دونوں بھائی کوئی دہشتگرد نہیں ہیں۔ گزشتہ روز پیراگون ہاؤسنگ کرپشن سکینڈل میں مسلم لیگ ن کے ایم این اے خواجہ سعد رفیق اور انکے بھائی ایم پی اے سلمان رفیق کی درخواست ضمانت خارج ہونے پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے گرفتار کر کے انہیں نیب آفس منتقل کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے پیراگون سوسائٹی سے براہ راست روابط ہیں، پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ذریعے آشیانہ اسکیم لانچ کی گئی تھی۔ بعد ازاں خواجہ برادران سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے افسران نے ایک گھنٹہ تک پوچھ گچھ کی تھی۔ نیب کی 3 رکنی تحقیقاتی ٹیم نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق سے الگ الگ تحقیقات کی جس دوران وہ افسران کو مطمئن نہیں کرسکے تھے۔خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی نے ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی۔

  • امریکا نے پاکستان کو باعث تشویش ممالک پر عائد معاشی پابندیوں سے استثنیٰ دے دیا

    واشنگٹن: امریکا نے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی سے متعلق خصوصی تشویش والی فہرست میں شمولیت کے باجود پاکستان کو ممکنہ معاشی پابندیوں سے استثنی دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں اعلان کیا گیا تھا کہ بین الاقوامی ایکٹ برائے مذہبی آزادی 1998 کے تحت پاکستان سمیت ایران، سعودی عرب، چین، تاجکستان، ترکمانستان، سوڈان، برما، اریٹریا اور شمالی کوریا کے نام مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر خصوصی تشویش والی فہرست میں شامل کیے جارہے ہیں، جس کا مقصد اقلیتوں سے روا رکھے جانے والے سلوک پر دباؤ بڑھانا ہے۔ پاکستان مذہبی آزادیوں کی پامالی سے متعلق خصوصی تشویش والی فہرست میں شامل امریکی وزیر خارجہ کی اس فہرست کے تحت پاکستان پر معاشی پابندیاں لگ سکتی تھیں، تاہم عالمی مذہبی آزادی کے حوالے سے امریکی سفیر سیم براؤن بیک کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستان سے متعلق استثنیٰ جاری کردیا ہے، جس کے باعث پاکستان کو باعث تشویش ممالک پر عائد معاشی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔ ایک نیوز کانفرنس کے دوران سیم براؤن بیک کا کہنا تھا کہ پاکستان کو استثنیٰ دینا امریکا کے اہم قومی مفاد میں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور تاجکستان کے لیے بھی استثنیٰ جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ امریکی استثنی پانے والے ملکوں پر جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان نے مذہبی آزادی کی پامالی کے امریکی الزام پر مبنی رپورٹ مسترد کردی واضح رہے کہ پاکستان نے مذہبی آزادی کی پامالی کے امریکی الزام پر مبنی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے اسے 'یک طرفہ' اور 'سیاسی جانبداری' پر مشتمل قرار دیا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی ملک کے مشورے کی ضرورت نہیں، ایسے فیصلوں سے ’واضح امتیاز' ظاہر ہوتا ہے اور اس 'ناجائز عمل' میں شامل خودساختہ منصفین کی شفافیت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کثیر المذہبی ملک اور کثرت پسندانہ معاشرہ ہے، جہاں مختلف عقائد اور فرقوں کے حامل لوگ رہتے ہیں، پاکستان کی آبادی کا 4 فیصد مسیحی، ہندو، بدھ اور سکھ عقائد سے تعلق رکھتا ہے۔ ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکومتوں نے اقلیتی مذاہب کے افراد کو تحفظ فراہم کرنے کو فوقیت دی ہے جبکہ اعلیٰ عدلیہ نے بھی اقلتیوں کی عبادت گاہوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کئی اہم فیصلے دیئے ہیں۔

  • قومی اسمبلی: سعدرفیق کی گرفتاری، نیب اور احتساب پر حکومت اور ن لیگ آمنے سامنے

    اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے رہنما سعد رفیق کی گرفتاری، نیب قوانین اور احتساب کے معاملے پر قومی اسمبلی میں حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے اراکین آمنے سامنے آگئے۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ احتساب ہم سے شروع کریں اس کے مخالف نہیں لیکن اپوزیشن کو دبانے کا طریقہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے حق میں نہیں، آج نیب اپوزیشن ممبران پر الزامات لگاتا ہے جس سے لگتا ہے وہ واقعی مجرم ہیں، آج میڈیا ٹرائل ہوگیا تو کل انصاف کہاں ملے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے 7 اراکین نے این آر او کیلئے رابطہ کیا: مراد سعید کا دعویٰ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا گیا اور آج تک کیس نہیں بن سکا، اپوزیشن کو دبانے کے لیے احتساب کے ادارے استعمال کیے جا رہے ہیں، ہم احتساب سے نہیں گھبراتے لیکن انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو آج ہورہا ہے وہ پرویز مشرف کے دور میں ہونے والی چیزوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، لیکن وہ آمر کا دورہ تھا، ملک میں جمہوریت نہیں تھی لیکن آج اس کا کیا جواز ہے، کوئی جواب دینے والا ہے، اسپیکر اسمبلی احتساب سے نہیں انتقام سے اراکین اور پارلیمنٹ کو بچائیں۔ ملک نے وزیروں کو فیل کردیا لیکن وزیراعظم نے پاس کردیا: شاہد خاقان شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں جن کا نام ای سی ایل پر نہیں لیکن ایف آئی اے نے ایئرپورٹ پر روک لیا جب کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ہے لیکن وزیراعظم اپنے جہاز میں بٹھا کر انہیں عمرے پر لے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے وزیروں کو فیل کردیا لیکن وزیراعظم نے انہیں پاس کردیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا ہیلی کاپٹر کیس نیب میں چل رہا ہے، اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو قائد ایوان کو بھی کیس میں گرفتار کیا جا سکتا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور وزیر دفاع کے خلاف کیس چل رہا ہے انہیں بھی گرفتار کرلیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ کے پی کا احتساب بیورو بنا تھا، اربوں کاخرچہ ہوا کوئی پوچھنے والا نہیں، جہانگیر ترین کے بارے میں عدالتی حکم آیا وہ بھی آزاد پھر رہے ہیں۔ اہر ممبر بتائے جب سیاست میں آیا تھا تو اس کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے: شاہد خاقان عباسی پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل: خواجہ برادران 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کی سابقہ کارکردگی دیکھ کر ان کا تقرر کیا، اگر احتساب چاہتے ہیں تو مجھ سے شروع کریں اور ہر ممبر بتائے جب سیاست میں آیا تھا تو اس کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے، اس ہاؤس سے احتساب شروع کیا جائے اور یہ بھی بتائیں کہ اس ہاؤس کے ممبران کتنا ٹیکس دیتے ہیں، ادارے آپ کے پاس ہیں اور ریکارڈ آپ کے پاس ہیں، پتہ کریں کونسی کرپشن ہوئی ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ کونسی کرپشن ہماری حکومت میں ہوئی، جو معیار شہباز شریف، نواز شریف اور سعد رفیق کے لیے رکھا ہے اگر وہ حکومت پر لاگو ہوئی تو 70 فیصد کابینہ ممبر اندر نہ ہوئے تو ذمہ دار میں ہوں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جو نیب آج کر رہا ہے وہ احتساب نہیں ملک کی تباہی کا راستہ ہے، آج بیوروکریٹ کام نہیں کرتے، سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق پر ساڑے 4 سو ارب کا مقدمہ بنایا اور 7 سال گزر گئے لیکن کچھ نہیں ہوا۔ فواد چوہدری کے الفاظ پر (ن) لیگ کا ہنگامہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے اظہار خیال کے بعد جب وزیر اطلاعات فواد چوہدری جواب دینے کھڑے ہوئے تو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شور شرابا کیا گیا۔ (ن) لیگ کے شور شرابے پر فواد چوہدری نے کہا کہ ان کی سیاسی تربیت میں مسئلہ ہے، یہ پارٹی ضیاء نے بنائی تھی، ان کی تربیت اچھی نہیں ہوئی اس لیے دوسروں کی بات نہیں سنتے۔ وزیر اطلاعات کے جواب پر (ن) لیگی ارکان طیش میں آگئے اور فواد چوہدری پر جملے کسنا شروع کردیے، اس دوران ایوان میں شو شرابا بھی ہوا جب کہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف ایوان سے اٹھ کر چلے گئے۔ اپوزیشن کی جانب سے فواد چوہدری سے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا جس پر ڈپٹی اسپیکر نے وزیراطلاعات سے الفاظ واپس لینے کا کہا تو فواد چوہدری نے جواباً کہا کہ (ن) لیگ کی تربیت ٹھیک ہوئی۔ فواد چوہدری کے جواب پر ایک بار پھر (ن) لیگ نے شور شرابا کیا جس پر وزیراطلاعات نے کہا کہ تربیت ٹھیک نہ ہونے کا کہوں تو انہیں مسئلہ ہے اور ٹھیک ہونے کا کہوں تب بھی مسئلہ ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے وزیراطلاعات کے الفاظ حذف کرادیے اپوزیشن کے احتجاج پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراطلاعات کے تربیت سے متعلق الفاظ کارروائی سے حذف کردیے۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ سعد رفیق کی گرفتاری ضمانت منسوخ ہونے پر ہوئی، عدالت نے انہیں مکمل سنا پھر ضمانت منسوخ کی۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے پچھلے دس سالوں میں ملک چلایا گیا وہ سب کے سامنے ہے، شاہد خاقان عباسی کی بات درست ہےکہ احتساب کا عمل شفاف ہونا چاہیے لیکن انہوں نے ایک بات نظر انداز کردی کہ نیب کے موجودہ چیئرمین کی تقرری کی اتھارٹی وہ خود تھے، نیب کے موجودہ سیٹ اپ میں ایک چپڑاسی بھی ہمارا لگایا ہوا نہیں ہے۔ سب کو اپنے اپنے کرتوت یاد ہیں اس لیے گھبرائے ہوئے ہیں: وزیراطلاعات انہوں نے کہا کہ لگتا ہے ساری اپوزیشن کا اپنا خطرہ پڑا ہے، سب کو اپنے اپنے کرتوت یاد ہیں اس لیے گھبرائے ہوئے ہیں، ان کی حالت یہ ہےکہ جواب نہیں سننا چاہتے، چور کی داڑھی میں تنکا ہے اور بہت بڑا تنکا ہے، یہ لاڈلے کھلینے کو چاند مانگ رہے ہیں، یہ چاہتے ہیں ان سے باز پرس نہ ہو۔ فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ عوام احتساب چاہتی ہے، عوام چاہتی ہےکہ دس سالوں میں جو لوٹ مار کا بازار لگایا گیا اس کا حساب دیں، نیب اور ادارے جو احتساب کررہے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں، اپوزیشن چاہتی ہے حکومت اس میں رکاوٹ ڈالے مگر ایسا نہیں ہوگا، یہ حکومت عوام کی خواہشات کی ترجمان ہے۔ وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ نیب آزاد ادارہ ہے اور ہمارے ماتحت نہیں ہے، یہ وہ مقدمات ہیں جو نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی کے دور میں بنے، یہ موجودہ سیٹ اپ اسی وقت کا ہے جب یہ اقتدار میں تھے، اب جب آپ اقتدار سے باہر نکلے اور ہاتھ آپ پر پڑا تو قانون میں خامیاں یاد آگئی ہیں، جب معاملہ دوسروں کے لیے چل رہا تھا تو وہ درست تھا، دونوں جماعتیں پانچ، پانچ سال اقتدار میں تھیں ان کو بیٹھ کر خامیاں دور کرنا چاہیے تھیں، ہمیں تو پہلے ہی دن خامیوں کا کہا گیا، ہم نے پہلے دن ہی ٹاسک فورس بنائی اور اپوزیشن کی کمیٹی بھی بنادی۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ لگ رہا ہے اپوزیشن کی خواہش ہےکہ جو لوگ اسمبلی میں آئے انہیں کرپشن کا لائسنس مل گیا، عوام کے پیسے کا حساب دینا ہوگا۔ پاکستان میں پہلی بار شفاف احتساب ہورہا ہے: فواد چوہدری انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے چیئرمین سے لے کر تمام وہ لوگ جو منی لانڈرنگ میں ملوث تھے انہیں اہم عہدوں پر لگایا گیا، انہیں کیوں لگایا گیا؟ کس کا پیسہ باہر بھیج رہے تھے؟ یہاں سے پیسہ باہر بھیجا گیا، ان لوگوں نے جب سیاست شروع کی تو ان کے پاس موٹرسائیکل تھی اب ان کے پاس گاڑیاں ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں کہ پیسہ کہاں سے آیا، کوئی پوچھ لے تو ایوان کا تقدس خراب ہوجاتا ہے، ان کو سعد رفیق یا شہباز شریف کا دکھ نہیں بلکہ اپنی باری کا دکھ ہے اس لیے زیادہ اچھل رہے ہیں، یہ وہی ہیں جنہیں پتا ہے دس سالوں کا حساب دینا ہوگا، اگر ہم ان داغ دار لوگوں سے ملک کے عوام کے پیسے واپس نہ لے سکے تو پی ٹی آئی کو حکومت کرنے کا حق نہیں۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی بار شفاف احتساب ہورہا ہے، وزیراعظم اس معاملے میں پرعزم ہیں، کوئی بھی کسی بھی پارٹی کا ہو اس کا حکومت پر کوئی کنٹرول نہیں، ہم سمجھتے ہیں احتساب کے عمل کو جس طریقے سے متنازع بنارہے ہیں اس کا فائدہ نہیں ہوگا، نیب اور عدالتیں اپنا کام کررہے ہیں انہیں اپنا کام کرنے دیں، آپ لوگ اپنے گریبان میں جھانکیں، آپ لوگوں نے جو سلوک پاکستان کے ساتھ کیا اس پر لوگوں سے معافی مانگیں پھر آگے چلیں۔