• شہبازشریف سمیت (ن) لیگ کے درجنوں رہنماؤں پر دہشت گردی کا مقدمہ درج

    لاہور: نواز شریف کے استقبال کے لیے ریلی نکالنے اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کے سیکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں پر دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر سنگین جرائم میں مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کےمختلف علاقوں میں مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت اور کارکنوں پر مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ لاہور میں نواز شریف کے استقبال کے لیے ریلی نکالنے پر لوہاری گیٹ پولیس اسٹیشن میں ایس ایچ او کی مدعیت میں شہباز شریف، حمزہ شہباز، جاوید ہاشمی، عظمٰی بخاری، سائرہ افضل تارڑ، مریم اورنگزیب، کامران مائیکل، کرنل (ر)مبشر، راجہ ظفرالحق اور مشاہد حسین سید سمیت درجنوں (ن) لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7، اقدام قتل اور دیگر سنگین جرائم کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ تھانہ نواب ٹاؤن میں اقدام قتل، دہشت گردی، توڑ پھوڑ اور دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کئے گئے مقدمے میں سیف الملوک کھوکھر، ملک شفیع کھوکھر، ملک افضل کھوکھر، ملک عرفان کھوکھراور شہباز ڈوگر کے علاوہ 500 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ شمالی کینٹ تھانے میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، شہباز شریف کے پولیٹیکل سیکرٹری طلحہ برکی اور سابق وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ گجرات میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف 4 مختلف تھانوں میں مقدمات درج کئے گئے ہیں، ان مقدمات میں 96 ملزمان نامزد جب کہ 655 افراد نامعلوم ظاہر کئے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی، اقدام قتل، فائرنگ، پولیس اہلکاروں کی وردی پھاڑنے اور کار سرکار میں مداخلت سمیت متعدد دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس نے ان مقدمات میں کئی لیگی رہنماؤں کو بھی حراست میں لے لیا ہے، جن میں سابق مشیر وزیراعلیٰ پنجاب نوابزادہ طاہر، سابق ارکان قومی و صوبائی اسمبلی عابد رضا، مبشرحسین، نوابزادہ حیدر مہدی، شبیر کوٹلہ اور معین نواز شامل ہیں۔ سرگودھا میں بلا اجازت ریلی نکالنے اور ہوائی فائرنگ کرنے کے الزام میں 22 (ن) لیگی کارکنان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف بلا اجازت ریلیاں نکالنے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • ملک میں کیا لت پڑی ہوئی ہے کہ ٹیکس کا پیسہ لٹایا جائے‘چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سےمتعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ اس ملک میں کیا لت پڑی ہوئی ہے کہ ٹیکس کا پیسہ لٹایا جائے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس سلسلے میں اٹارنی جنرل اور ایم ڈی پی ایس او عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے پیٹرولیم مصنوعات کی کوالٹی اور درآمد سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جب کہ سپریم کورٹ نے ایم ڈی پی ایس او کی تعیناتی اور مراعات کے معاملے میں نیب کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیب یہ بھی بتائے کہ ایل این جی پر ہونے والی تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟جسٹس ثاقب نثار نے ایم ڈی پی ایس او سے استفسار کیاکہ آپ کو کب اور کس کی سفارش پر تعینات کیا گیا؟ اس پر ایم ڈی نے بتایا کہ مجھے 2015 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے تعینات کیا، شاہد خاقان عباسی نےکمیٹی کی سفارش پر مجھے تعینات کیا، اشتہار کے ذریعے حکومت نے 6 نام فائنل کیے جن میں سے مجھے چنا گیا۔ایم ڈی پی ایس او نےبتایا کہ جب ادارے کا چارج سنبھالا تو منافع 6 ارب تھا جسے بڑھا کر 18 ارب کردیا ہے۔چیف جسٹس نے پاکستان اسٹیٹ آئل کے مینجنگ ڈائریکٹر سے مکالمہ کیا کہ آپ کا تو پٹرولیم کا تجربہ ہی نہیں ہے، حکومت کا یہ طریقہ کار ہے نجی کمپنیاں بناؤ، اپنے بندے لگاؤ اور ان کو فائدے پہنچاؤ، کیوں نا آپ کو معطل کر دیا جائے؟ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئےکہ کسی قومی ایجنسی ذریعے آپ کی تعیناتی سے متعلق تحقیقات کرالیتے ہیں، پی ایس او کا آڈٹ بھی آڈیٹر جنرل سے کرا لیتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس ملک میں کیا لت پڑی ہوئی ہے کہ ٹیکس کا پیسہ لٹایا جائے،2 سے ڈھائی لاکھ تنخواہ والے گریڈ 22 کے افسر کو 4 لاکھ دے کر ایم ڈی بنایا جاسکتا تھا۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت دن ڈیڑھ بجے تک ملتوی کردی۔ جبکہ دوسری جانب ایف آئی اے نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کرتےہوئے ان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کو درخواست دے دی۔ پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا جس میں انہیں مفرور قرار دیا جاچکا ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اسحاق ڈار کی وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیئے گئے ہیں، وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد ایف آئی اے نے ریڈ وارنٹ جاری کیے، ایف آئی اے نے وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد انٹرپول کو درخواست کردی ہے۔دوران سماعت وزارت داخلہ کی جانب سے اسحاق ڈار کی واپسی سے متعلق جواب بھی سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا۔جسٹس سردار طارق نے اٹارنی جنرل نے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار کی بیرون ملک جائیداد ضبط کرنے کے حوالے سے کیا کیا؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ جائیداد ضبطگی کی درخواست بھی ریڈ وارنٹ کے ساتھ لگا دی ہے۔ دوسری جانب وزارت داخلہ نے اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ کے اجراء کی منظوری دے دی جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ان کے ریڈ وارنٹ جاری کردیئے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کو درخواست دے دی گئی ہے اور انہیں انٹرپول کے ذریعے ہی وطن واپس لایا جائے گا۔ واضح رہےکہ اسحاق ڈار گزشتہ دور حکومت میں وفاقی وزیر خزانہ تھے، وہ پاناما کیس فیصلے کے کچھ عرصے بعد علاج کرانے کی غرض سے لندن چلے گئے تھے جس کے بعد وطن واپس نہیں آئے۔

  • اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری، گرفتاری کیلئے انٹرپول کو درخواست دیدی گئی

    اسلام آباد: ایف آئی اے نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کرتےہوئے ان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کو درخواست دے دی۔ پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا جس میں انہیں مفرور قرار دیا جاچکا ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اسحاق ڈار کی وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیئے گئے ہیں، وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد ایف آئی اے نے ریڈ وارنٹ جاری کیے، ایف آئی اے نے وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد انٹرپول کو درخواست کردی ہے۔ دوران سماعت وزارت داخلہ کی جانب سے اسحاق ڈار کی واپسی سے متعلق جواب بھی سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا۔ جسٹس سردار طارق نے اٹارنی جنرل نے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار کی بیرون ملک جائیداد ضبط کرنے کے حوالے سے کیا کیا؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ جائیداد ضبطگی کی درخواست بھی ریڈ وارنٹ کے ساتھ لگا دی ہے۔ دوسری جانب وزارت داخلہ نے اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ کے اجراء کی منظوری دے دی جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ان کے ریڈ وارنٹ جاری کردیئے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کو درخواست دے دی گئی ہے اور انہیں انٹرپول کے ذریعے ہی وطن واپس لایا جائے گا۔ واضح رہےکہ اسحاق ڈار گزشتہ دور حکومت میں وفاقی وزیر خزانہ تھے، وہ پاناما کیس فیصلے کے کچھ عرصے بعد علاج کرانے کی غرض سے لندن چلے گئے تھے جس کے بعد وطن واپس نہیں آئے۔

  • نواز شریف کے خلاف دیگر 2 نیب ریفرنسز کا ٹرائل اب جیل میں ہی ہوگا

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف جاری دیگر 2 نیب ریفرنسز کا ٹرائل اب جیل میں ہی ہوگا، جس کے احکامات وفاقی حکومت نے جاری کردیئے۔ وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 1، نواز شریف اور دیگر کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں کرے گی۔ اڈیالہ جیل میں ٹرائل کا حکم قومی احتساب آرڈیننس کی شق 16 کے تحت دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز گزشتہ روز لندن سے براستہ ابوظہبی لاہور پہنچے تھے، جہاں قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے انہیں ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرکے خصوصی طیارے میں اسلام آباد منتقل کیا اور بعدازاں انہیں اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔

  • سانحہ مستونگ کے بعد فضا سوگوار، بلوچستان میں قومی پرچم سونگوں، تحقیقات جاری

    کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع مستونگ میں خودکش حملے کے نتیجے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت 128 سے زائد افراد کی شہادت کے واقعے کے بعد صوبے کی فضا سوگوار ہے اور حکومت بلوچستان کی جانب سے سانحہ مستونگ پر 2 روزہ سوگ کے اعلان پر تمام سرکاری عمارات پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔ دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی سانحہ مستونگ پر 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ پارٹی کا کوئٹہ میں ہونے والا آج کا انتخابی جلسہ بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔ سانحہ مستونگ میں شہید ہونے والے قبائلی و سیاسی رہنما نوابزادہ سراج رئیسانی کی نماز جنازہ آج سہ پہر 3 بجے ساراوان ہاؤس کوئٹہ میں ادا کی جائے گی جبکہ ان کی تدفین کانک میں ہوگی۔ یاد رہے کہ نواب زادہ سراج رئیسانی بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار تھے اور حلقہ پی بی 35 مستونگ سے الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔ لیویز حکام کے مطابق مستونگ خودکش حملےکا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا جاسکا، تاہم ضروری کارروائی کے بعد مقدمہ لیویز تھانہ درینگڑھ میں درج کیا جائے گا۔ دوسری جانب لیویز حکام کے مطابق درینگڑھ میں خودکش حملے کے مقام کو محفوظ کرلیا گیا ہے اور جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے لیے پنجاب سے فرانزک لیبارٹری کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ پاکستان بار کونسل کی جانب سے سانحہ مستونگ اور بنوں کی مذمت کرتے ہوئے 2 دن کے سوگ اور ایک دن کی ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کامران مرتضیٰ کے مطابق آج ملک بھر میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ کامران مرتضی نے واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے ان واقعات کی شدید مذمت کی۔ علاوہ ازیں ملک کی دیگر بار کونسلز نے بھی مستونگ حملے کی مذمت کرتے ہوئے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

  • حج آپریشن: پہلی فلائٹ 300 سے زائد عازمین لیکر کراچی سے مدینہ چلی گئی

    پی آئی اے نے قبل از حج آپریشن کا فلائٹ شیڈول جاری کر دیا، پہلی فلائٹ 300 سے زائد عازمین لے کر کراچی سے مدینہ چلی گئی۔ ترجمان پی آئی اے مشہود تاجور کے مطابق جناح ٹرمینل سے پہلی خصوصی پرواز پی کے 7001 مدینہ روانہ ہوگئی جس کو پی آئی اے کے سی ای او مشرف رسول سیان سمیت دیگر افسران نے الوداع کیا۔ تیسری حج پرواز پی کے 7017 16 جولائی کو دوپہر ڈھائی بجے 300 سے زائد عازمین کو لے کر مدینہ روانہ ہوگی۔ چوتھی حج پرواز پی کے 0763 17 جولائی کو فیصل آباد سے دوپہر 2 بج کر 50 منٹ پر 300 کے قریب عازمین کو لے کر جدہ روانہ ہوگی۔ ترجمان کے مطابق 250 خصوصی اور شیڈولڈ پروازوں کے ذریعے 60 ہزار عازمین کو حجاز مقدس پہنچایا جائے گا، پی آئی اے اپنے طیاروں کے ذریعے حج آپریشن مکمل کرے گی۔ قومی ایئر لائن کے حج آپریشن کے دوران بوئنگ 777 اور ایئر بس 320 طیارے عازمین حج کو سفری سہولیات فراہم کریں گے۔ عازمین حج کی 14 جولائی کو شروع ہونے والی روانگی کا سلسلہ 15 اگست تک جاری رہے گا، جبکہ فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد حاجیوں کی واپسی کے لیے بعد از حج آپریشن 27 اگست سے شروع کیا جائے گا۔