• کوئٹہ ‘ پولیس کے ٹرک کے قریب خودکش دھماکہ، 6اہلکار شہید ،8زخمی

    کوئٹہ : صوبائی درالحکومت کوئٹہ کے اےئر پورٹ روڈ پر پولیس کے ٹرک کے قریب خودکش دھماکہ 6اہلکار شہید 8زخمی ، ایک گھنٹے میں شہر تین دھما کوں سے لرز اٹھا ،سکیورٹی فورسز ذرائع کے مطابق منگل کو کوئٹہ کے اےئر پورٹ روڈ پربلوچستان کا نسٹیبلر ی کے ٹرک کے قریب موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور نے خود دھما کے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں 6اہلکار شہیدجبکہ8زخمی ہوگئے شہید ہونے والے اہلکاروں میں سے پانچ کی شناخت کریم بخش،علی نواز،رشید احمد،عبدالحمیدکے ناموں سے ہوئی جبکہ زخمیوں میں نثار احمد،جمال خان،شاہ نواز،احمد علی،عاشق علی،ظہور احمد ،عید خان اور ایک نامعلوم شامل ہیں ، سکیورٹی فورسز کے مطابق وزیرا عظم آزاد کشمیر کی کوئٹہ آمد کے موقع پر اےئر پورٹ روڈ پر وی آئی پی روٹ لگا ہوا تھا اسی اثناء میں ڈیوٹی پر ما مور اہلکاروں کو لے کر جانے والے بی سی کے ٹرک قریب خودکش دھما کہ ہوا، سکیورٹی فورسز اور محکمہ سول ڈیفنس کی ٹیموں نے علاقے کو گھیرے میں لیکر جائے وقوع سے شواہد اکھٹے کر لئے دھما کے میں زخمی اور شہید اہلکاروں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا جہا ں ایم ایس سول ہسپتال اور سیکر ٹری صحت نے علاج معالجے کی سہولیات کی خود نگرانی کی ،واضع رہے کوئٹہ شہر میں ایک گھنٹے میں یہ تیسرا دھما کا تھا،اس سے قبل مستونگ کے علاقے دشت میں ایف سی کے کیمپ پر دو خود کش حملے ہوئے تھے ۔

  • این آر او سے متعلق کیس، زرداری اور مشرف کو نوٹس جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے این آر او قانون سے متعلق درخواست پر پرویز مشرف اور آصف زرداری سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان نے این آر او قانون سے متعلق دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ این آر او کی وجہ سے ملک کا اربوں کا نقصان ہوا جبکہ این آر او قانون بنانے والوں سے نقصان کی رقم وصول کی جائے۔ چیف جسٹس نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ نے فریق کس کو بنایا ہے اس پر درخواست گزار نے بتایا کہ میں نے پرویز مشرف ، آصف زرداری ، ملک قیوم اور نیب کو فریق بنایا ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کا مقدمہ دائر کرنے کا بنیادی حق کیا ہے؟۔ عدالت این آر او قانون کالعدم قرار دے چکی ہے۔ چیف جسٹس نے درخواست گزار کا مؤقف سننے کے بعد سابق صدور پرویز مشرف ، آصف زرداری سمیت ملک قیوم اور نیب کو نوٹسز جاری کر دیئے۔ عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

  • ٹرمپ جیسے لوگوں کا مقصد صرف پیسا بنانا ہوتا ہے‘عمران خان

    لاہور: تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک روحانی اور مادی ہے جبکہ کچھ لوگ اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں صرف سوچتے ہیں تاہم اللہ تعالی نے انسان کو کسی مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور پیغمبر دنیا میں زندگی سے متعلق پیغام لیکر آتے ہیں۔ صرف اپنے لیے سوچنے والوں کی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا جبکہ ٹرمپ جیسے لوگوں کا مقصد صرف پیسا بنانا ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا اللہ تعالی کسی کی زندگی بدلنے کیلئے جھٹکا ضرور دیتا ہے کرکٹ کھیلتا تھا تو فنکاروں کی زندگی سے بہت متاثر تھا تاہم والدہ کو کینسر ہوا تو پتہ چلا کہ پاکستان میں کینسر کے علاج کیلئے اسپتال نہیں ہے اور کسی نے نہیں سوچا غریب اپنا علاج کیسے کرائے اور تب سوچا ایسا اسپتال پاکستان میں بناؤں کہ کسی کو پاکستان سے باہر نہ جانا پڑے ۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا میری کوشش تھی کے شوت خانم میں 75 فیصد لوگوں کا مفت علاج ہو۔ ایک کینسر کے مریض کا علاج کیلئے تقریا 10 لاکھ روپے خرچ آتا ہے تاہم آج ملک کے اسپتالوں کی حالت زار دیکھ کر دکھ ہوتا تھا ۔

  • سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کا میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کردیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے سابق وزیرِخزانہ اسحاق ڈار کا میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ اتنے عرصے تک وہ بیمار نہیں ہوسکتے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں سابق وزیرِخزانہ اسحاق ڈار کی سینیٹ اہلیت کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے اسحاق ڈار کے وکیل سلمان بٹ سے استفسار کیا کہ آپ نے ہمارا آخری حکم نامہ پڑھا ہے؟ اسحاق ڈار کہاں ہیں؟ انہیں لے کر آئیں۔ وکیل سلمان بٹ نے اسحاق ڈار کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کراتے ہوئے جواب دیا کہ میرے مؤکل بیمار ہیں۔ چیف جسٹس نے میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار اتنے عرصے سے بیمار نہیں ہوسکتے، عدالتی حکم میں انہیں ذاتی طور پر پیش ہونے کا کہا گیا تھا اور یہ حکم خلاف ورزی کے لئے جاری نہیں کیا گیا تھا، وہ آجائیں عدالت سابق وزیرِخزانہ کو حفاظتی ضمانت دے گی، ہم 8 بجے رات تک بیٹھیں ہیں اسحاق ڈار سے پوچھ کر بتائیں وہ کب آئیں گے۔ عدالت نے کیس کی سماعت میں رات 8 بجے تک وقفہ کردیا۔

  • اکیسویں صدی ہے اب آزادی اظہار کو دبایا نہیں جا سکتا‘نوازشریف

    اسلام آباد: اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ یہ اکیسویں صدی ہے اب آزادی اظہار کو دبایا نہیں جا سکتا اور کسی کی زبان بندی نہیں کی جا سکتی۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے تو یہ ایسا ہی ہے کہ کبوتر اپنی آنکھوں کو بند کر لے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ گاؤں گاؤں پھیل چکا ہے اب یہ معاملہ نہیں رکے گا‘۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس طرح سے معاملہ نہیں چلے گا کیونکہ قوم حساب مانگ رہی ہے اور مانگے گی آپ جو مرضی کر لیں اور کہہ دیں پھر یہ توقع کریں کہ دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آئے گا۔ جواب آئے گا صرف نواز شریف سے نہیں آئے گا بلکہ ملک کے 22 کروڑ عوام کی طرف سے آئے گا،جو اب کسی طور پر اس قسم کی پابندیوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کہ بیوروکریسی، سیاستدانوں، وزیراعلیٰ اور کابینہ کا کام انہیں کرنے دیں اور ان کے کاموں میں دخل دینے کی بجائے اپنا کام کریں۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ کیا پاکستان کے محروم لوگوں کو انصاف مل رہا ہے کس طرح سے لوگ مقدمات کا سامنا کرتے ہیں ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے وہ مقدمہ لڑنے کے لیے جائیدادیں بیچ دیتے ہیں کیا ان کی داد رسی ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کے پاس کوئی شکایت آتی ہے تو اس کا نوٹس لیں اگر کوئی فریاد لے کر آتا ہے اس کا نوٹس لیں لیکن آپ خود کیسے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علم تھا کہ نیب مارشل لا کا قانون ہے ، ہم سے غلطی ہوئی ہم اسے ختم نہیں کر سکے،ہم نے اگر کرپشن کے مال سے اثاثے بنائے ہیں تو اس کو ثابت کیا جائے۔کرپشن کا الزام تو لگایا گیا لیکن آج تک کوئی ایک چیز بھی ثابت نہیں کر سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تمام الزامات سے سرخرو کرتا جا رہا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ نیب اس بات کی بھی تحقیقات کرے کہ چیف جسٹس لا سیکرٹری سے جج کیسے بن گئے ؟ عدالت میں ہی میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ میڈیا میں شور کیا جا رہا تھا ظاہرشاہ کوئی نئے ثبوت لے کر آئے ہیں۔ نئے ثبوتوں کے مطابق بلوں اور لینڈ رجسٹری میں نہ میرا نام ہے اور نہ ہی میرے بھائیوں کا۔کہا گیا کہ نواز شریف سے سکیورٹی واپس لینے کا نہیں کہا۔ اس کے باوجود ہمارے گھر سے کیمرے ، بیرئیرز اور سکیورٹی واپس لے لی گئی۔

  • بھرتیوں پر پابندی کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ منتقل، ایک ہفتے میں فیصلہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد : سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں پر پابندی کا از خود نوٹس کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کو منتقل کرتے ہوئے ایک ہفتے میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے سرکاری اداروں میں بھرتیوں پرپابندی کے کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں سیکریٹری الیکشن کمیشن عدالت میں پیش ہوئے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے پری پول دھاندلی روکنے کے لیے بھرتیوں پر پابندی لگائی۔ وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشن کے تحت بھرتیوں پر پابندی نہیں لگائی اور حلقے میں ترقیاتی کاموں کے لیے بھی رقم مختص کرنے پرپابندی لگائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات واضح کرے اور تعین کرے کس قسم کی بھرتیوں پر پابندی لگائی ہے۔ الیکشن کمیشن کے تعین کرنے سے آسانی ہو جائے گی۔ عدالت نے کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کو متنقل کرتے ہوئے جسٹس عامر فاروق کو 2 رکنی بینچ کا سربراہ مقرر کر دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہو گی اور بینچ ایک ہفتے میں فیصلہ کرے گا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کی پابندی کے خلاف رٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر کی جائے۔ الیکشن کمیشن کا بھرتیوں پر پابندی کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک برقرار رہے گا جو صوبہ پابندی چیلنج کرنا چاہے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ دائرکرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں سپریم کورٹ نے براہ راست فیصلہ دیا تو حتمی ہو گا۔ ہائیکورٹ فیصلہ کرے گی تو ہمارے پاس ہائیکورٹ کا فیصلہ ہو گا اور ہائیکورٹ کو صوبائی حکومتوں کی درخواستوں پر جلد فیصلے کا کہیں گے۔ جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 218 کے تحت شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔