• ایفی ڈرین کیس، حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا

    راولپنڈی: مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا سنادی گئی۔ راولپنڈی کی انسداد منشیات کی عدالت کے جج کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد حنیف عباسی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ 363 کلو گرام ایفیڈرین کا درست استعمال کیا گیا جبکہ ملزم حنیف عباسی باقی ایفیڈرین کے استعمال کا ثبوت نہ دے سکے۔ عدالت نے ایفیڈرین کیس کے باقی ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کردیا۔ راولپنڈی کی انسداد منشیات کی عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی اور حنیف عباسی کے وکیل تنویر اقبال نے عدالت کی دی ہوئی 12 بجے کی ڈیڈ لائن میں اپنے حتمی دلائل مکمل کیے۔ حنیف عباسی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ جو دوائیں فروخت کی گئیں ان کی بینک ٹرانزکشن موجود ہیں، اے این ایف نے جو ریکارڈ دیا وہ ادھورا تھا، صرف لیبارٹری رپورٹ دی گئی،گولیوں کی پروڈکشن اور ان میں ایفیڈرین کی مقدار کا نہیں بتایا گیا۔ وکیل صفائی نےعدالت میں سیلز ریکارڈ اور بینک ٹرانزکشن کاریکارڈ بھی پیش کیا۔ وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا اور کہا کہ فیصلہ تین سے چار گھنٹے میں سنایا جائے گا۔ ساڑھے تین بجے عدالت کے جج فیصلہ سنانے کے لیے چیمبر میں آئے تو (ن) لیگی کارکنان کا رش لگ گیا جس پر جج نے چیمبر سے کمرہ عدالت میں آئے اور برہمی کا اظہار کیا۔ جج نے عدالت میں موجود افراد کو باہر جانے کی ہدایت کی اور عدالتی عملے کو پولیس بنانے کا حکم دیا۔ عدالت کے حکم پر انسداد منشیات کی عدالت کے عقبی راستے پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور عدالت کے عقبی راستے پر بکتر بند گاڑی بھی پہنچ گئی ہے، اے این ایف اور پولیس اہلکاروں نے کچہری سے باہر جانے والے راستے کو بھی بند کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے پہلے ہی انسداد منشیات کی عدالت کو حنیف عباسی کے خلاف ایفیڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کا حکم دے رکھا ہے۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف حنیف عباسی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تاہم اعلیٰ عدالت نے 17 جولائی کو فیصلہ سناتے ہوئے ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کےخلاف حنیف عباسی کی درخواست مسترد کی۔

  • اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کے لیے ریڈ نوٹس جاری

    سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کے لیے ریڈ نوٹس جاری کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کے لیے ریڈ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ نیب نے وزارت داخلہ کے ذریعے ایف آئی اے کو ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔

  • عوام شیر پر ٹھپا لگاکر عمران خان کی سیاست کو ٹھپ کردیں‘شہبازشریف

    سرگودھا: پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 25جولائی کو ووٹ کی طاقت سے میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی کو باہر لانا ہے۔ سرگودھا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف 13 جولائی کو بیٹی کے ساتھ بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر لندن سے پاکستان پہنچے، انہیں بیمار والدہ سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں دی گئی، دونوں باپ بیٹی کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے پورے پاکستان میں موٹرویز کے جال بچا دیے، اسے گرفتار کیا گیا جس نے ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو عظیم قوت بنایا۔ شہباز شریف نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹے خان، الزام خان اور بہتان خان روز ایک بات کرتا ہے اوریوٹرن لیتا ہے، جتنے پاکستان میں یو ٹرن کے نشان ہیں وہاں عمران خان کی تصویر لگائی جائے۔ شہبازشریف نے کہا کہ عمران خان نے پشاور میٹرو کا بیڑا غرق کردیا، پشاور میٹرو کا ٹھیکہ بلیک لسٹ کمپنی کو دیا گیا، پورا پشاور کھنڈر بن چکا ہے۔ انہوں نے جلسے کے حاضرین سے استفسار کیا کہ کیا آپ پشاور کی طرح پنجاب کو برباد ہوتا دیکھ سکتے ہیں؟ شہباز شریف نے کہا کہ سرگودھا میں جہاں بھی ہمارے نمائندوں سے کوتاہی ہوئی میں معذرت چاہتاہوں، حکومت ملی تو سرگودھا کو لاہور جیسا بناؤں گا۔ صدر مسلم لیگ ن نے مزید کہا کہ 25 جولائی کو شیر کو ووٹ دینا ہے، پشاور میٹرو میں 40 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، جس نے 40 ارب روپےکا فراڈ کیا، کیا اس فراڈیے کو آپ ووٹ دیں گے؟ شہباز شریف نے کہا کہ ’عمران خان کہتا ہے شہباز شریف بہت خطرناک آدمی ہے، عمران خان تمہیں بہت دیر بعد پتا چلا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک لمحے کہے گا کالج بناکردوں گا، اگلے منٹ میں کہے گا نہیں بناکردوں گا، 25 جولائی کو شیر پر ٹھپا لگاکر عمران خان کی سیاست کو ٹھپ کردیں۔

  • اڈیالہ جیل بڑے بڑے مگر مچھوں کا انتظار کر رہی ہے، عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل بڑے بڑے مگر مچھوں کا انتظار کر رہی ہے۔ کرک میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا مقابلہ نواز شریف اور ان کے پیچھے کھڑی بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ سے ہے کیونکہ عمران خان کو روکنا انٹرنیشنل ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ 300 ارب روپے چوری کر کے یہ لوگ مظلوم بنے ہوئے ہیں لیکن اڈیالہ جیل بڑے بڑے مگر مچھوں کا انتظار کر رہی ہے، شہباز شریف کے چہرے پر خوف دیکھ رہا ہوں، لگتا ہے خواب میں بھی شہباز شریف کو میں نظر آتا ہوں۔ عمران خان کا مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو پکارتے ہوئے کہنا تھا کہ میرا مقابلہ تم جیسے مافیا کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا مقابلہ نواز شریف کے پیچھے کھڑی انٹرنیشنل اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کہتا ہے کہ نیا معاہدہ عمرانی ہونا چاہیے، عمرانی معاہدہ کے نام سے نیا گیم کھیلا جا رہا ہے اور ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت میثاق جمہوریت کا ہی تحفہ ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ضلع بھر میں نیا بلدیاتی نظام متعارف کرائیں گے، ناظم کے براہ راست انتخابات کرائیں گے اور بلدیاتی نظام کے تحت عوام کو سہولیات دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لندن کا میئر بھی براہ راست منتخب ہوتا ہے، رکن صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کا کام ترقیاتی کام نہیں ہوتا بلکہ ان کا کام قانون سازی کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی کا کام قانون سازی ہوتا ہے اور کرپشن ہوتی ہی اس وقت ہے جب ترقیاتی فنڈ اراکین اسمبلی کو ملتا ہے، جو پیسہ عوام پر خرچ ہونا ہوتا ہے وہ لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ سب سے پہلے نیب کو مضبوط کریں گے اور نیب کی صلاحیت میں اضافہ کریں گے۔

  • کہاگیا ہماری مرضی کے فیصلے دیں آپ کو چیف جسٹس بنادیں گے‘جسٹس شوکت عزیزصدیقی

    راولپنڈی: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ خوف و جبر کی فضا کی ذمہ دار عدلیہ بھی ہے۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ خوف اور جبر کی فضا کا پچاس فیصد ذمہ دار عدلیہ کو سمجھتا ہوں، موجودہ ملکی حالات کی 50 فیصد ذمے داری عدلیہ اور باقی 50 فیصد دیگر اداروں پر عائد ہوتی ہے، پاکستان کا موازنہ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے کیا جا سکتا ہے، بھارت ہم سے اس لئے آگے ہے کیونکہ وہاں ایک دن بھی مارشل لا نہیں لگا اور نہ ہی سیاسی عمل رکا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ ہماری مرضی کے فیصلے دیں گے تو آپ کو چیف جسٹس بنا دیں گے، آج میڈیا والے بھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے، ان کی آزادی بندوق کی نوک پر سلب ہو چکی ہے، جب بھی کوئی فیصلہ آتا ہے میرے خلاف مہم شروع کر دی جاتی ہے، میں نے اپنے بڑوں سے کہا کہ میرا ان کیمرہ نہیں بلکہ میڈیا کے سامنے کھلی سماعت میں احتساب کریں، میرا بہتر احتساب میری بار ہی کر سکتی ہے، بار کے لوگ میرے گھر چلیں اگر کرپشن کے الزمات درست ہوں تو استعفی دینے کیلئے تیار ہوں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مزید کہا کہ وکلا جرائم میں کمی کی وجہ بنیں، جرائم میں اضافے کے سہولت کار نہ بنیں، ابھی تک قانون کے طلبا کو نہیں معلوم کہ جسٹس منیر نے کیا کردار ادا کیا تھا، جسٹس منیر کا کردار ہر کچھ عرصے بعد سامنے آتا ہے

  • سینیٹ: رضا ربانی کی الیکشن کمیشن اور نگران حکومت پر کڑی تنقید، انتخابات پر سوالات

    سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی الیکشن کمیشن اور نگران حکومت پر برس پڑے ۔ کہتے ہیں سیاسی ایجنڈا چلانے کے لیے احتساب کے ادارے استعمال ہورہے ہیں،دو بڑی سیاسی جماعتوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے،اس سے صاف شفاف الیکشن کی فضا کہاں جا رہی ہے؟ الیکشن کمیشن خاموش ہے اور اس کی یہ خاموشی مجرمانہ ہے، الیکشن کمیشن کو نظر نہیں آیا کہ مسلم لیگ ن کے کارکنان کو گرفتار کیا گیا ؟کیا انہوں نے حکومت سے سوال بھی پوچھا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ ۔ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے کہا میں سوالات اٹھا رہا ہوں اورچاہتا ہوں کہ الیکشن کمیشن اس کا جواب دے، کیایہ حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن نے بینک ملازمین کوپولنگ اسٹاف میں شامل کیا ہے؟اگر یہ درست ہے تو کیا الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی؟اگربینک ملازمین کو انتخابی عمل میں شامل کیا ہے تو اس کے انتخاب کی کیا بنیاد ہے؟۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈھائی سوقومی اسمبلی کے امیدوارکالعدم تنظیموں سے ہیں، کیا الیکشن کمیشن نے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کی تفصیلات لیں؟۔ جن کالعدم تنظیموں کے امیدواروں پرکیسزہیں کیا انکا ریکارڈ ای سی پی نے منگوایا تھا؟ الیکشن کمیشن جواب دے کہ رکارڈ کیوں نہیں منگوایا گیا ؟ قانون اورآئین کی کس شق کے تحت کالعدم تنظیموں کے امیدواروں کواجازت دی؟الیکشن کمیشن کواس کا جوابدہ ہونا ہے۔حیرانی ہوئی کہ نگراں وزیرداخلہ پنجاب نے کچھ کالعدم تنظیموں کے ارکان کے یساتھ میٹنگ کی، نگراں وزیر داخلہ نے کہا کہ میں یقینی بناؤں گا کہ، ان کے نام فورتھ شیڈیول سے نکالے جائیں،ہم کون سے صاف شفاف الیکشن کی طرف جا رہے ہیں ؟ پھر فورتھ شیڈول اور نیپ بنایا کیوں تھا؟۔رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سیاسی ایجنڈا چلانے کے لیے احتساب کے ادارے استعمال ہورہے ہیں،دو بڑی سیاسی جماعتوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے،اس سے صاف شفاف الیکشن کی فضا کہاں جا رہی ہے؟۔الیکشن کمیشن خاموش ہے اور اس کی یہ خاموشی مجرمانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہاں تھا جب چیئرمین پیپلز پارٹی کوپنجاب میں مختلف جگہوں پرروکا گیا ؟الیکشن کمیشن کہاں تھا جب بلاول بھٹو کوریلی کی اجازت نہیں دی گئی؟الیکشن کمیشن کو نظر نہیں آیا کہ مسلم لیگ ن کے کارکنان کو گرفتار کیا گیا ؟کیا انہوں نے حکومت سے سوال بھی پوچھا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ ۔سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی کارنرمیٹنگ پر بھی پتھراؤ ہوا ، حالیہ واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ نگران حکومت جانبداری دکھا رہی ہے جبکہ الیکشن کمیشن بھی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوچکا ہے ۔ تمام واقعات پر الیکشن کمیشن مکمل طور پر خاموش رہا، الیکشن کمیشن ایسے خاموش ہے جیسے اسے کسی نے کچھ کہا ہو، نگران حکومت ایک جبکہ الیکشن کمیشن دوسری بات کرتا ہے۔