• ملک کی عزت اور سلامتی اولین ترجیح ہے، آرمی چیف کا واضح پیغام

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کامیابی سے لڑی، عسکری، معاشی اور سماجی شعبوں میں بھاری قیمت ادا کی، علاقائی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کیا، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں دنیا کو پاکستان کی خدمات تسلیم کرنی چاہئیں۔ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں دنیا کو پاکستان کی خدمات تسلیم کرنی چاہئیں، ملک کی عزت اور سلامتی اولین ترجیح ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے علاقائی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا، افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان نے کسی اور ملک سے زیادہ کردار ادا کیا ہے، پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں عسکری، معاشی اورسماجی شعبوں میں بھاری قیمت ادا کی، ہم افغانستان میں قیام امن کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے۔

  • علیمہ خان کو این آر او اس لیے دیا کہ ان کی چوری کے پیچھے عمران ہیں: مریم

    اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہےکہ علیمہ خان کو این آر او اس لیے دیا گیا کہ ان کی چوری کے پیچھے عمران ہیں لہٰذا بتایا جائے کن شرائط پر علیمہ خان کو این آر او دیا گیا؟ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‎دوسروں کو چور چور کہنا اور تضحیک کرنا، اپنےگھر بیٹھے چور کو این آر او دے دیا، علیمہ خان کو این آر او اس لیے دیا کہ ان کی چوری کے پیچھے عمران ہیں۔ مریم اورنگزیب نے سوالات کیے کہ ‎بتایا جائے کن شرائط پر علیمہ خان کو این آر او دیا گیا؟ ‎بتایا جائے کن ذرائع سے دبئی کی بے نامی پراپرٹی لی گئی؟ ‎بتاجائے پیسا پاکستان سے منی لانڈرنگ کے ذریعے دبئی کیسے گیا؟ ‎بتایا جائے علیمہ باجی نے پیسا ڈکلیئر کیوں نہیں کیا؟ ‎بتایا جائے نیب علیمہ کے معاملے پر ریفرنس کب بنائے گی؟ ‎بتایا جائے پراپرٹی کی مالیت کیا ہے اور جرمانہ ادا کرنے کی شرائط کیا ہیں؟ بتایا جائے پراپرٹی زکوٰۃ کے پیسے سےبنائی یا نمل یونیورسٹی میں خرد برد سے بنائی؟ ان کا کہنا تھا کہ جن کو چور چور کہہ رہے ہیں وہ پاکستان کی ہر عدالت میں حساب دے رہے ہیں، اپنی چوری اور نااہلی چھپانے کے لیے جان بوجھ کر دوسروں کو چور کہا جا رہا ہے، موجودہ حکومت اور عمران صاحب جھوٹ بولنے، پگڑیاں اچھالنے اور گالیاں دینےمیں مہارت رکھتے ہیں۔ (ن) لیگ کی ترجمان نے مزید کہا کہ عمران خان نے سی ڈی اے کو بنی گالا کا گھر ریگولرائز کرنے کے لیے درخواست دی، عمران خان بتائیں بنی گالا کا گھر کہاں سے آیا؟ آپ جرمانہ دے کر اپنے گھر کو ریگولرائز کراتے ہیں اور غریبوں کے گھر گراتے ہیں۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اپنے دور میں خود کو احتساب کے لیے پیش کیا، اب عمران خان آپ کو جواب دینا پڑے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور عمران خان کے بیانات کا جواب دینا بھی مضحکہ خیز ہے۔

  • بیرون ممالک سے لوٹی رقم کی واپسی کیلئے سینٹرل اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: لوٹی گئی دولت بیرون ملک سے پاکستان واپس لانے کیلئے نیا قانون اور سنٹرل اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ قانون سازی کے بعد بیرونی ممالک سے معاہدے کئے جا سکیں گے۔ پاکستان کی لوٹی گئی رقم بیرون ممالک سے واپس لانے کیلئے حکومت نے بڑا اقدام کر لیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ بیرونی ممالک کےساتھ رابطے کیلئے سنٹرل اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت قانون نے‘میوچل لیگل اسسٹنس’ کےقانون کا مسودہ وزیراعظم کو بھجوا دیا۔ وزارت قانون کے مطابق سنٹرل اتھارٹی میں ایف آئی اے، ایس ای سی پی، ایف بی آر اور نیب کے نمائندے شامل ہوں گے، سیکرٹری داخلہ یا گریڈ21 کا وفاقی افسر اتھارٹی کی سربراہی کرے گا، اتھارٹی بننے کے بعد بیرون ممالک کے ساتھ معاہدے ہو سکیں گے، نیا قانون بیرون ممالک سے رقم واپس لانے کے لئے معاون ثابت ہو گا۔

  • پاکستان مذہب کی ہتک کیخلاف بین الاقوامی قرارداد لے کرآئے گا: وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے دو روزہ بین الاقوامی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مذہب کی ہتک کے خلاف بین الاقوامی قرارداد لے کر آئے گا، آزادی اظہار کی آڑ لے کر دنیا کے سوا ارب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی جاسکتی۔ وفاقی حکومت کے زیر اہتمام کانفرنس میں سعودی عرب، عراق، ایران اور دیگر ممالک سے آنے والے مہمانوں کے علاوہ علما و مشائخ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیراعظم نے کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کے دوران کہا کہ اللہ نے انسان کو ایک مقصد کے لیے پیدا کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو رحمت للعالمین کا خطاب دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہر چند سالوں بعد مغربی ممالک میں نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں انہیں اس عمل سے روکنے کے لیے 'انٹرنیشنل کنونشن آن پریوینٹنگ دی ڈیفرمیشن آف رلیجنز' کنونشن لے کر آرہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مختلف ممالک سے اس کنونشن پر دستخط کرائیں گے کہ آزادی اظہار کے نام یا اس کی آڑ لے کر سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف نہیں پہنچائی جاسکتی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے ماہر قانون احمر بلال صوفی کو اپنا بین الاقوامی نمائندہ خصوصی مقرر کیا ہے اور انہیں ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ مختلف ممالک میں جاکر اس کنونشن پر دستخط کرائیں تاکہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کو قانونی حیثیت مل جائے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کے لوگوں کو نبی ﷺ کے بارے میں پتہ ہی نہیں، وہ ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں تو مسلمانوں کو غصہ آتا ہے اور لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں اور اپنے ہی ملک میں توڑ پھوڑ ہوجاتی ہے، اس عمل سے انہیں پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل جاتا ہے کہ اسلام انتشار پھیلاتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے اسکالرز عوام کو بتائیں کہ حضورﷺ نے سب سے پہلے انسانوں کے کردار بدلنے کی کوشش کی، پاکستان ایک عظیم ملک اس وقت بنے گا جب ہم خود کو تبدیل کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ ہماری نئی حکومت آئی تو ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا تاہم ہم نے ان کے منسٹر سے بات کی اور پہلی مرتبہ اس مقابلے کا انعقاد منسوخ کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اس معاملے کو او آئی سی میں بھی اٹھایا اور وہاں بات کی کہ سب کو ملکر مغرب کو یہ بات بتانی چاہیے کہ نبی ﷺ ہمارے نزدیک کتنے قابل احترام ہیں اور ہم نے اقوام متحدہ میں بھی یہ معاملہ اٹھایا جس کی تائید کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انڈونیشیا اور ملائشیا میں کوئی فوج نہیں گئی تھی بلکہ مسلمان تاجر گئے تھے جن کے کردار دیکھ کر وہاں کے لوگ مسلمان ہوئے، ہندوستان میں بزرگوں نے اسلام کا پیغام پھیلایا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آج بل گیٹس اور اسٹیو جابز پر لکھی گئی کتابیں پڑھی جاتی ہیں کہ وہ کیسے کامیاب ہوئے، حضورﷺ کی زندگی پر لکھی گئی کتابیں پڑھنی چاہیے جنہوں نے پوری دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔

  • دو طرفہ سیریز تنازع: آئی سی سی نے پاکستان کی بھارت پر ہرجانے کی درخواست مسترد کردی

    دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھارت کے خلاف دائر کردہ پاکستانی درخواست خارج کر دی۔ پاکستان نے سیریز کھیلنے کے معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر بھارتی بورڈ کو 70 ملین ڈالر ہرجانے کا نوٹس بھیجا تھا۔ آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے اپیل مسترد کر دی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین معاہدہ کے مطابق بھارت کو پاکستان کے ساتھ 8 سال میں 6 سیریز کھیلنا تھیں، جن میں 14 ٹیسٹ، 30 ون ڈے انٹر نیشنل اور 12 ٹی ٹوئنٹی شامل تھے لیکن بھارتی بورڈ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ پی سی بی نے معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر بھارتی بورڈ کو ہرجانے کا نوٹس بھیجا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی میں دائر کردہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سیریز نہ کھیلنے کے باعث پی سی بی کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارت پر 70 ملین ڈالر جرمانہ عائد کرنے کی درخواست کی تھی تاہم آئی سی سی نے پاکستان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اپیل مسترد کر دی۔

  • وزیراعظم ڈٹ گئے، آئی ایم ایف کی کڑی شرائط نا منظور

    اسلام آباد:بیل آؤٹ پیکج کیلئے پاکستان اور انٹرنیشل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف ) کے درمیان مذاکرات کا آخری دور آج بغیر کے نتیجے کے اختتام پذیر ہوا۔ وزیر خزانہ اسد عمر اور آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ہیرلڈ فنگر کی زیرصدارت اعلی سطح کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک اور سیکرٹری خزانہ نے بھی شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران پاکستان اور آئی ایم ایف اپنے اپنے نکات اور موقف پر ڈٹے رہے جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے گزشتہ روز رکھی جانے والی کڑی شرائط پر وزارت خزانہ نے تحفظات کااظہار کیا۔ ذرائے نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اس معاملے پر ڈٹ گئے ہیں اور انہوں نے اسد عمر کو کڑی شرائط نہ ماننے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ 6سے 8ارب ڈالر کے بیل آوٹ پیکج پر بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور ہیرالڈ فنگر کی سربراہی میں آئی ایم ایف وفد وزارت خزانہ سے روانہ ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق اپاکستان نے چین سے ہونے والی مالی معاونت کی تفصیلات دینے کا آئی ایم ایف کا مطالبہ ماننے سے صاف انکار کردیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ ڈالر کی قدر میں مذید اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ آئی ایم ایف وفد بائیس نومبر کو اپنی حتمی سفارشات پاکستان کے حوالے کرے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز عالمی مالیاتی ادارے نے بجلی اور اشیائے ضروریہ کے نرخ بڑھانے سمیت مطالبات کی لمبی فہرست پیش کی تھی۔ وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف چاہتا ہےکہ جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 18 فی صد تک بڑھائیں ، ڈالر 145روپے کا کریں اور بجلی کی سبسڈی مرحلہ وار ختم کر دیں، شرح سود میں بھی مزید ایک سے ڈیڑھ فیصد اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے ٹیکس چوروں کے خلاف مزید کارروائی، بجلی کے ترسیلی نقصانات ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور عالمی ادارہ اسٹیٹ بینک، نیپرا اور اوگرا کو خودمختار دیکھنا چاہتا ہے۔