• خورشید شاہ کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات شروع

    کراچی: قومی احتساب بیورو نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کی تحقیقات شروع کردی۔ ذرائع کے مطابق نیب سکھر نے مختلف اداروں سے خورشید شاہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں جب کہ انکوائری میں ان کے صاحبزادے اور داماد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 سال میں نیب میں پیپلز پارٹی کے کئی وزرا کے خلاف انکوائری کا آغاز ہوا جو تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیر ضیاء لنجار، منظور وسان، اعجاز جاکھرانی، نواب وسان، رؤف کھوسو، سہراب سرکی، سہیل انور سیال اور ستار راجپر کے خلاف تحقیقات بھی 2 سال سے مکمل نہیں ہوسکی۔

  • بھارتی دھمکیوں کے خلاف ڈیرہ بگٹی اور آزادکشمیر میں ریلیاں، مظاہرے

    بھارتی فوج کے سربراہ کے دھمکی آمیز بیان کے خلاف آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں میں شدید رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، مظفرآباد سمیت مختلف شہروں میں بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ مظفرآباد میں نکالی جانے والی بھارت مخالف ریلی کے شرکاء نے علمدار چوک سے شاہراہ سرینگر تک مارچ کیا اور پاکستان کی مسلح افواج سے یکجہتی کے اظہار کے لئے نعرے لگائے، شرکاء ریلی کا کہنا تھا کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان خطے کے امن کو خراب کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ مقررین کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیری پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں، ملک کی سلامتی کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر بھارتی فوج کے سربراہ بپن راوت کی تصاویر کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ آزاد کشمیر کے دیگر شہروں ہٹیاں باغ راولاکوٹ اور حویلی میں بھی بھارت مخالف ریلیاں نکالی گئیں۔

  • بغاوت کیس: لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کو 8 اکتوبر کو طلب کر لیا

    لاہور ہائیکورٹ نے بغاوت کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو 8 اکتوبر کو طلب کر لیا۔ عدالت نے سرل المیڈا کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دئیے۔ لاہور ہائیکورٹ میں شاہد خاقان اور نواز شریف کیخلاف بغاوت کیس پر سماعت ہوئی۔ وکیل سرل المیڈا نے کہا سرل المیڈا کی ذمہ داری تھی کہ وہ عدالت میں پیش ہوں، جس پر جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا آپ بیان حلفی دیں کہ آئندہ سماعت پر سرل المیڈا عدالت میں پیش ہوں گے، ورنہ ہم قانون کے مطابق فیصلہ کر دیں گے، ہمارے سامنے جو بھی ہے ہم اس کی عزت کرتے ہیں جس پر وکیل نے کہا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر آئندہ سماعت پر سرل المیڈا پیش نہ ہوئے تو میں وکالت نامہ واپس لے لوں گا۔ وکیل نصیر بھٹہ نے کہا مجھے نواز شریف نے کہا کہ لوگ افسوس کے لیے آ رہے ہیں، اس لئے چالیسویں کے بعد کی تاریخ رکھ لی جائے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا ٹھیک ہے مقدمے کو 8 اکتوبر کو سن لیتے ہیں۔ یاد رہے درخواست شہری آمنہ ملک کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے متنازع بیان کو بنیاد بنا کر دائر کی گئی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا نواز شریف نے متنازعہ انٹرویو دیکر ملک و قوم سے غداری کی، ان کیخلاف بغاوت کے الزام کے تحت کارروائی کی جائے، شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی سابق وزیر اعظم کو بتا کر حلف کی پاسداری نہیں کی۔ عدالت سے استدعا ہے کہ شاہد خاقان اور نواز شریف کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔

  • صاف پانی کمپنی سکینڈل: 96 کروڑ سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

    پنجاب صاف پانی کمپنی اسکینڈل میں 96 کروڑ 93 لاکھ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، کنسلٹنسی فرم کو کام کئے بغیر 44 کروڑ سے نوازا گیا، ایکشن لینے والوں نے معاملات کی انکوائری ہی نہ کروائی۔ پنجاب صاف پانی کمپنی اسکینڈل میں آئے روز مزید انکشافات سامنے آنے لگے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے صاف پانی کمپنی 2016-17 کی آڈٹ رپورٹ جاری کر دی۔ آڈٹ رپورٹ میں 96 کروڑ 93 لاکھ 37 ہزار روپے کی بے ضابطگیوں، مبینہ کرپشن اور غیر قانونی اقدامات سے پردہ اٹھا دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ خزانہ کی پابندی کے باوجود وزرا، اراکین اسمبلی افسران کے دورہ سے 47 لاکھ 30 ہزار روپے کا خزانہ کو نقصان ہوا، سیاست دانوں، چہیتے افسران نے صاف پانی کی فراہمی کے نام پر چین، تھائی لینڈ اور دبئی کے دورے سرکاری خزانے سے کئے۔ کمپنی میں غیر قانونی طور پر سی ای او بھرتی کر کے قومی خزانے کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا، کمپنی میں قواعد وضوابط سے ہٹ کر 27 لاکھ 90 ہزار روپے کے اخراجات کئے۔ آفس فرنیچر کی خریداری میں غیر قانونی طریقہ کار اپناتے ہوئے خزانہ کو 36 لاکھ 20 ہزار کا نقصان پہنچایا گیا۔ تھرڈ پارٹی ویلڈیشن کیلئے کنسلنٹ رکھنے کی مد میں 5 کروڑ 89 لاکھ 90 ہزار روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔ افسران کیلئے کرائے کی گاڑیاں لینے سے کمپنی نے خزانہ کو 66 لاکھ 20 ہزار روپے کا نقصان پہنچایا۔ ای ایم سی نامی کمپنی کوکنٹریکٹ دیا لیکن کام نہ ہونے سے معاہدہ منسوخ کیا، کمپنی سے جرمانہ کا 77 لاکھ روپے وصول نہ کئے گئے۔ میسرز الفا کنسلٹنٹ کو 3 کروڑ 14 لاکھ روپے کی غیر ضروری ادائیگی کی گئیں۔ آر او اور یو ایف پلانٹ کی تنصیب اور آپریشن کیلئے کے یس بی پمپ کو ٹھیکہ دیاگیا، لاگت بڑھنے سے خزانہ کو 4 کروڑ 69 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، ای ایم سی کنسلٹنسی کمپنی کو کام مکمل کئے بغیر 44 کروڑ 64 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ میسرز پی ایس پی سی اور کے ایس بی کی جانب سے چھ ماہ میں کام مکمل نہ کرنے سے 9 کروڑ 89 لاکھ روپے کا مالی نقصان ہوا، آڈٹ رپورٹ میں مزید بھی کئی اہم انکشافات سے پردہ فاش کیا اور ان گھپلوں میں ملوث افراد اور افسران کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے۔

  • لاہور ہائیکورٹ: خواجہ آصف کی نااہلی کیلئے درخواست سماعت کیلئے منظور

    لاہور ہائیکورٹ نے خواجہ آصف کی نااہلی کے لیے درخواست سماعت منظور کرتے ہوئے لیگی رہنما اور الیکشن کمیشن کو نوٹسز جاری کر دئیے۔ لاہور ہائیکورٹ میں مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف کی نااہلی کے لیے درخواست پر سماعت جسٹس مامون الرشید نے کی۔ این اے 73 سے تحریک انصاف کے امیدوار عثمان ڈار نے الیکشن ٹربیونل میں انتخابی عذرداری دائر کی تھی۔ پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ خواجہ آصف نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ غیر تصدیق شدہ بیان حلفی جمع کروایا، انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپائے، الیکشن کمیشن کا عملہ الیکشن ایکٹ پر عملدرآمد میں ناکام رہا۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ این اے 73 سے خواجہ آصف کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

  • مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جعلی بینک اکاؤنٹس کے معاملے پر رپورٹ جمع

    جعلی بینک اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ معاملے کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی کے سربراہ نے پیشرفت رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ 29 اکاونٹس کے بارے میں تفتیش جاری ہے، 15 اکاونٹس ایف آئی اے نے مزید پتہ لگائے تھے، 33 مزید اکاونٹ ہم نے دریافت کیے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کن لوگوں نے پیسے جمع کروائے اور نکلوائے ؟ یہ چوری کا پیسہ ہے، اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی کوشش کی گئی۔ جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ 334 افراد مختلف ترسیلات زر میں ملوث ہیں، 47 کمپنیاں اومنی گروپ کی ہیں، گھوٹکی شوگر مل سمیت 16 شوگر ملز بھی اومنی گروپ کی ہیں۔ گھوٹکی مل سے ملنے والے ریکارڈ کا تجزیہ جاری ہے۔