• سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شایان شان الوداع

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور وزرا سمیت اہم شخصیات نے معزز مہمان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ایوان صدر سے رخصت کیا۔ نور خان ایئربیس پر وزیراعظم اور آرمی چیف سمیت اہم شخصیات نے معزز مہمان کو الوداع کہا. سعودی ولی عہد شہزادہ محمد سلمان نے کابینہ ارکان سے الوداعی مصافحہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے خود گاڑی ڈرائیو کی اور معزز مہمان کو نور خان ایئربیس پہنچایا۔ ایوان صدر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کےاعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے شرکت کی۔ معزز مہمان کے اعزاز میں آرمی بینڈ کا خصوصی مظاہرہ کیا گیا۔ وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان خوشگوار غیر رسمی بات چیت ہوئی۔ اس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ایون صدر پہنچے۔ انھیں گھڑ سوار دستے کے ساتھ خصوصی بگھی میں لایا گیا۔ مخصوص لباس میں ملبوس گھڑ سوار مسلح افواج کا چاق وچوبند دستہ خصوصی بگھی میں معزز مہمان کو وزیراعظم ہاؤس سے لے کر روانہ ہوا۔ ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم عمران خان خوشگوار موڈ میں دکھائی دئیے، جہاں وزیراعظم عمران خان خوش نظر آئے وہیں ولی عہد محمد بن سلمان کے چہرے پر بھی مسرت و شادمانی جھلکتی نظر آئی۔ ایوان صدر پہنچنے پر صدر مملکت نے معزز مہان کو خوش آمدید کہا اور گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔ معزز مہمان کو خوش آمدید کہنے والوں میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری بھی شامل تھے۔ ادھر وزیراعظم ہاؤس میں آرمی چیف اور سعودی ولی عہد کی ملاقات کے دوران خطے کی سکیورٹی صورتحال اور باہمی دفاعی تعاون پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل اصف غفور اور سعودی شاہی خاندان کی اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ دوسری جانب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سعودی ولی عہد کو تحائف پیش کئے جن میں محمد بن سلمان کا پنسل سے بنایا پورٹریٹ اور گولڈ پلیٹڈ بندوق شامل ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے یہ بندوق خصوصی طور پر آرڈننس فیکٹریز واہ سے تیار کرائی ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کرنے والے 10 رکنی وفد میں سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی، وزیر مملکت علی محمد خان، حکومتی ارکان عامر ڈوگر، شبلی فراز، اعظم سواتی اور اورنگزیب اورکزئی شامل تھے۔ اپوزیشن کی نمائندگی مسلم لیگ ن کے راجہ ظفرالحق اور مشاہد اللہ خان نے کی، پیپلزپارٹی کی شیری رحمان خراب موسم کے باعث کراچی سے اسلام آباد نہ پہنچ سکیں۔ نور خان ایئربیس پر وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، خسرو بختیار، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور فواد چودھری سمیت اہم شخصیات نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو رخصت کیا۔ معزز مہمان نے فرداً فرداً تمام میزبانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے ساتھ پرجوش مصافحہ کیا۔ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کوروانگی سے قبل گلے لگایا۔

  • پاکستانی قیدیوں کی رہائی کو اپنا فرض سمجھتا ہوں، سعودی ولی عہد

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب میں قید پاکستانی قیدیوں کی رہائی کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں اپنے کامیاب دورے سے قبل نور خان ایئربیس پر وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ آپ کی قیادت میں پاکستان ترقی کررہا ہے۔ ہم آپ کی قیادت میں پاکستان کو بڑی معیشت دیکھ رہے ہیں۔ ترقی کے سفر میں ہم پاکستان کے ساتھ ہیں۔ پاکستان آئندہ سالوں میں بڑی معیشت بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستانی قیدیوں کی رہائی اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ خیال رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں قید 2107 پاکستانیوں کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ یہ حکم وزیراعظم خان کی درخواست پر جاری کیا گیا۔ گزشتہ رات عشائیے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے مسائل کا ذکر کیا تھا۔ جواب میں ولی عہد محمد بن سلمان نے 24 گھنٹے مکمل ہونے سے پہلے 2 ہزار 107 پاکستانیوں کی رہائی کا فرمان جاری کر دیا۔ رہائی کا حکم وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر دیا گیا۔ ولی عہد محمد بن سلمان اپنے آپ کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر قرار دے چکے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے امید ہے باقی ماندہ پاکستانیوں کے بارے بھی جلد فیصلہ کیا جائے گا، ہمارے لیے یہ بہت بڑی خبر ہے، بہت سے پاکستانی خاندانوں کی آج سنی گئی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا ولی عہد محمد بن سلمان کے بے حد شکرگزار ہیں، اس خیر سگالی اقدام سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہونگے۔ ادھر وزیراعظم نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے جملے نے پاکستانی عوام کے دل جیت لئے۔ عمران خان نے کہا گزشتہ رات عشائیے کے دوران میں نے معزز مہمان سے سعودی عرب میں موجود 25 لاکھ پاکستانیوں کے مسائل کا ذکر کیا تھا۔ جواب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ‘‘مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں’’ ہم پاکستان کے حالات کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں جو ممکن ہوا وہ کریں گے۔

  • سعودی ولی عہد کا خود کو پاکستان کا سفیر کہنا اعزاز ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے خود کو پاکستان کا سفیر قرار دینا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔ معزز مہمان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی روانگی سے قبل ان کے ہمراہ نور خان ایئربیس پر میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے، جب بھی پاکستان آئیں گے دوسرا گھر پائیں گے۔ آپ کے دورے سے بہت خوشی ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آپ کی طرف سے خود کو پاکستان کا سفیر کہنا اعزاز ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی آپ کے دورے کو بہت سراہا جا رہا ہے۔ سعودی ولی عہد کی جانب سے پاکستانی قیدیوں کو رہا کرنے پر شکر گزار ہوں۔

  • صدر مملکت عارف علوی نے سعودی ولی عہد کو نشان پاکستان سے نوازا

    صدرمملکت عارف علوی سے ملاقات کیلئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ایوان صدر پہنچے جہاں پروقار تقریب میں معزز مہمان کو پاکستان کا اعلی ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان عطا کیا گیا. پاکستان کے دورے پر آئے سعودی ولی عہد آج وزیراعظم کے ہمراہ ایوان صدر پہنچے، شاہی مہمان کو بھرپور پروٹوکول کے ساتھ خصوصی بگھی میں سوار کر کے منزل پر پہنچایا گیا۔ اس دوران سعودی ولی عہد اور وزیراعظم خوشگوار موڈ میں دکھائی دیئے۔ ایوان صدر پہنچنے پر صدر مملکت نے شہزادہ محمد بن سلمان کو خوش آمدید کہا اور گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات فواد چودھری سمیت کابینہ اراکین، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سروسز چیفس بھی موجود تھے۔ ایوان صدر آمد پر شہزادہ محمد بن سلمان کو نشان پاکستان دینے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید سے کیا گیا جس کے بعد صدر مملکت نے سعودی ولی عہد کو نشان پاکستان عطا کیا۔ تقریب کے دوران چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید، وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا سمیت اعلی سول و فوجی حکام بھی شریک ہوئے۔ تقریب کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔

  • سعودی ولی عہد سے آرمی چیف کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی زیر قیادت پارلیمانی وفد بھی معزز مہمان سے ملا۔ وزیراعظم ہاؤس میں آرمی چیف اور سعودی ولی عہد کی ملاقات کے دوران خطے کی سکیورٹی صورتحال اور باہمی دفاعی تعاون پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل اصف غفور اور سعودی شاہی خاندان کی اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ ادھر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سعودی ولی عہد کو تحائف پیش کئے جن میں محمد بن سلمان کا پنسل سے بنایا پورٹریٹ اور گولڈ پلیٹڈ بندوق شامل ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے یہ بندوق خصوصی طور پر آرڈننس فیکٹریز واہ سے تیار کرائی ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کرنے والے 10 رکنی وفد میں سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی، وزیر مملکت علی محمد خان، حکومتی ارکان عامر ڈوگر، شبلی فراز، اعظم سواتی اور اورنگزیب اورکزئی شامل تھے۔ اپوزیشن کی نمائندگی مسلم لیگ ن کے راجہ ظفرالحق اور مشاہد اللہ خان نے کی، پیپلزپارٹی کی شیری رحمان خراب موسم کے باعث کراچی سے اسلام آباد نہ پہنچ سکیں۔

  • سعودی عرب کی 21 ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری

    سعودی عرب پانچ سال کے دوران پاکستان میں 21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ 7 ارب ڈالر قلیل مدتی منصوبوں کے لئے جبکہ 12 ارب ڈالر کی طویل مدتی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ دستاویز کے مطابق سات ارب ڈالر ایک سے دو سال کے منصوبوں پر لگائے جائیں گے۔ سعودی عرب آر ایل این جی پلانٹس میں 4 ارب ڈالر لگائے گا۔ سعودی عرب کی ایکور پاور 2 ارب اور سعودی فنڈ فار پاکستان ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ سعودی عرب دو سے تین سال میں ایک ارب ڈالر سے پیٹروکیمیکل کمپلیکس قائم کرے گا۔ اس حوالے سے فزیبلٹی سٹڈی پر کام شروع ہو چکا ہے۔ دستاویز کے مطابق سعودی عرب کی آرمکو کمپنی آئندہ تین سے پانچ سال میں گوادر آئل ریفائنری کیلئے دس ارب ڈالر فراہم کرے گی۔ منرل ڈویلپمنٹ کے شعبے میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی۔