• شوکت عزیز، لیاقت جتوئی، اسماعیل قریشی سمیت دیگر کیخلاف بدعنوانی ریفرنس دائر کرنیکی منظوری

    اسلام آباد:قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا جس میں مندرجہ ذیل فیصلے کئے گئے۔نیب اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہے کہ تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشن مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیں۔ نیب تمام متعلقہ افراد سے بھی قانو ن کے مطابق ان کا موقف معلوم کرے گا تاکہ قانو ن کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز ،لیاقت علی خان جتوئی سابق وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی اسماعیل قریشی ،سابق سیکرٹری وزارت پانی وبجلی محمد یوسف میمن ،سابق ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پانی وبجلی ،غلام نبی منگریو سابق جوائنٹ سیکرٹری وزارت پانی وبجلی،عمر فاروق سابق سیکشن افسروزارت پانی وبجلی،ائیر مارشل (ر) شاہد حامدسابق چئیرمین متبادل توانائی بورڈ،نسیم اختر خان سابق سیکرٹری اے ای ڈی بی ،عارف علاؤالدین سابق چیف ایگزیکٹو افسر اے ای ڈی بی اوربشارت حسن بشیر سابق کنسلٹنٹ اے ای ڈی بی کے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بشارت حسن بشیر کو غیرقانونی طورپر کنسلٹنٹ تعینات کرنے کاالزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو2کروڑ16لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سی ڈی اے کے افسران،میسرز پارک لائن اسٹیٹ کمپنی پرائیویٹ لمیٹیڈ اوردیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طورپر محکمہ جنگلات پنجاب کی زمین غیرقانونی طورپرپارک لائن اسٹیٹ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو الاٹ کرنے کاالزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ نے مینیجنگ ڈائریکٹر نیشنل فرٹیلائزرمارکیٹنگ لمیٹڈطارق شفیق خان،جنرل مینیجر فخر الزمان علی چیمہ اور دیگر کے خلاف عدم ثبوت کی بنیاد پر نکوائری بند کرنے کی منظوری دی اور فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ وزارت قواعد کے تحت مبینہ طور پر غیرقانونی تقرریوں کی محکمانہ جانچ پڑتال کرے۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی پاکستان لاہور سہیل عمر اوردیگر کے خلاف عدم ثبوت کی بنیاد پر انوسٹی گیشن بند کرنے کی منظوری دی۔ اور فیصلہ کیا گیا کہ معاملہ قانون کے مطابق کارروائی کیلئے متعلقہ وزارت کو بھیجا جائے۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے ای او بی آئی کی انتظامیہ اور بینک آف پنجاب لاہور کے افسران کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ای او بی آئی کی انتظامیہ پر مبینہ طور پر 3.8ارب روپے کے حصص بینک آف پنجاب لاہور میں غیرقانونی طور پرخریدنے کا الزام ہے۔ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سیٹھ نثار احمد ولد محمد لطیف کی 177.794ملین روپے کی پلی بارگین کی درخواست کی منظوری دی۔ جس کو حتمی منظوری کیلئے احتساب عدالت میں بھیجا جائے گا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق چئیرمین پنجاب کو آپریٹوبورڈ فار لیکویڈیشن مشتاق انجم اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پنجاب کو آپریٹوبورڈ فار لیکویڈیشن کی اراضی کی غیرقانونی منتقلی کاا لزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو 53.93ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے لیاری ایکسپریس وے ریسیٹلمنٹ پراجیکٹ کراچی کے افسران/ اہلکاران کیخلاف انکوائری کی منظوری دی۔ملزمان پرمبینہ طور پراراضی کی چائنہ کٹنگ ،کمرشل اور رہائشی پلاٹون پر قبضہ کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو 2792ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے محکمہ مال حکومت سندھ تالوکا سجاول کے افسران/ اہلکاران اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی۔ملزمان پرمبینہ طور پرغیرقانونی طور پر سرکاری زمین کی فروخت کاالزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو بھاری کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے میسرز فتح ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ حیدآباد کے ڈائیریکٹراسد ظہیرول ظہیرالحسن کی 11.9ملین روپے پلی بارگین کی درخواست کی منظوری دی۔جس کو حتمی منظوری کیلئے احتساب عدالت میں بھیجا جائے گا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے الائیڈ بینک لمیٹڈ کے اہلکاران کے خلاف عدم ثبوت کی بنیاد پر انکوائری بند کرنے کی منظوری دی اور فیصلہ کیا گیا کہ سٹیٹ بینک کو متعلقہ بینک کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کیلئے معاملہ بھیجا جائے۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے کوئٹہ سے سابق ایم این اے سید ناصر علی شاہ اور دیگر کے کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر سر کاری کاغذات میں رہائشی پلاٹس کو کمرشل پلاٹس میں تبدیل کرنے کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے نور احمد پیرکانی سابق ڈائریکٹر جنرل کوئٹہ ڈویلیپمنٹ اتھارٹی اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور بڑے پیمانے عوام کو دھوکہ دینے کاالزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو 66.150ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کو 270ملین روپے کا نقصان پہنچانے کاالزام ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے وزیر اعلٰی سندھ کے سابق معاون خصوصی پہلاج مل کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزم پر مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ نے مبینہ طور پر میٹرو بس پراجیکٹ ملتان کیلئے غیرقانونی طور پر زمین خریدنے اور ٹھیکہ دینے کے مبینہ الزام کی انوسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ایگزیکٹو بورڈ نے ملتان ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کے قائم مقام مینیجنگ ڈائریکٹر عمران نور اور مینیجر ایچ آر عامر مقبول اور دیگرکے خلا ف انکوائری کی منظوری دی۔ملزمان پر مبینہ طور اختیارات کا ناجائز استعمال اور عمران نورکی چیف فنانشل آفیسر کے طور پر غیرقانونی بھرتی کاالزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو 104ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے بھر پور کوششیں کررہا ہے ، بد عنوانی ایک کینسر ہے جسے جڑ سے اکھاڑنا انتہائی ضروری ہے۔ نیب کے افسران بدعنوانی کے خاتمے کو نہ صرف اپنی قومی زمہ داری سمجھتے ہیں بلکہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کرپشن فری پاکستان کے لیے بھر پور کاوشیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز کو قانون، میرٹ، شفافیت اور ٹھوس شوائد کی بنیا د پر منطقی انجام تک پہنچائی جائیں۔ نیب کسی سے انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا بلکہ نیب احتساب سب کے لیے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ نیب کی پہلی اور آخری وابستگی پاکستان اور پاکستان کی عوام سے ہے۔ نیب افسران اپنے فرائض پوری ایمانداری ، دیانت ، میرٹ، شفافیت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرانجام دیں اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • خورشید شاہ نے نگراں وزیراعظم کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جانے کا عندیہ دیدیا

    اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے نگراں وزیراعظم کے تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جانے کا عندیہ دے دیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے درمیان نگراں وزیراعظم کے لیے پانچ ملاقاتیں ہوچکی ہیں جو بے نتیجہ ثابت رہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم سےملاقات کے بعد خورشید شاہ کا کہناتھاکہ کوشش ہے معاملہ پارلیمنٹ کے ذریعے ہی حل کرلیا جائے تاہم اب اپوزیشن لیڈر نگراں وزیراعظم کے تقرر پر حکومت سے مایوس نظر آتے ہیں۔ پارلیمٹ ہاؤس میں اپنے چیمبر میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نےکہا کہ لگتا ہے نگراں وزیراعظم کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا کیونکہ حکومت نگراں وزیراعظم کے معاملے پر اپنی بات سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو ہمارے نام مسترد کرنے کا کوئی اختیار نہیں، اپوزیشن کے نام مسترد نہیں ہوسکتے بلکہ نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے۔

  • خیبرپختونخوا حکومت کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش نہ کرنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال 19-2018 کا بجٹ پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے تصدیق کی ہے کہ صوبائی حکومت آئندہ مالی کا بجٹ پیش نہیں کر رہی اور یہ فیصلہ اپوزیشن کے عدم تعاون کے باعث کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ایوان میں عددی اکثریت نہ ہونے کے باعث بجٹ پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اراکین کی تعداد 42 رہ گئی ہے اس لیے نگراں صوبائی حکومت 4 ماہ کا انتظامی بجٹ پیش کرے گی۔

  • عام انتخابات: نامزدگی فارمز کی چھپائی مکمل، اہم معلومات کے کالم غائب

    عام انتخابات کیلئے نامزدگی فارمز کی چھپائی مکمل کر کے چاروں صوبائی الیکشن کمیشن کے دفاتر میں پہنچا دیئے گئے، پہلی بار نامزدگی فارم الیکشن کمیشن کے بجائے ارکان پارلیمنٹ نے تیار کرایا۔ عام انتخابات کے لئے نامزدگی فارم سے قرضوں، مقدمات، دہری شہریت، 3 سالہ ٹیکس کی معلومات، تعلیم، پیشہ اور ڈیفالٹر کے کالم غائب کر دیئے گئے، نامزدگی فارم میں امیدوار صرف آرٹیکل 62، 63 پر پورا اترنے کا ڈیکلریشن دے گا۔ امیدوار ختم نبوت پر ایمان رکھنے کا حلف نامہ نامزدگی فارم میں دے گا۔ آئندہ الیکشن کے نامزدگی فارم سے امیدوار کے بیرون ملک دوروں کی تفصیلات بھی غائب کر دی گئیں، غیرملکی دوروں کی تفصیلات غائب ہونے سے امیدوار اقامہ ظاہر نہیں کریں گے۔

  • قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے وفاقی بجٹ کی توثیق کر دی

    اسلام آباد: قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے وفاقی بجٹ کی توثیق کر دی، قائم مقام صدر نے بجٹ کے مالیاتی بل 19-2018 پر دستخط کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق مالیاتی بل پارلیمنٹ نے منظوری کے لئے صدر مملکت کو ارسال کیا تھا جس پر قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے وفاقی بجٹ کی توثیق کرتے ہوئے مالیاتی بل پر دستخط کر دیئے۔ یاد رہے کہ صدر مملکت ممنون حسین ملک میں موجود نہیں ہے اور ان کی غیر حاضری کی صورت میں چیئرمین سینٹ قائم مقام صدر کا چارج سنبھالتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی جانب سے بجٹ 2018-2019 کی سخت مخالفت کی گئی تھی جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ سیشن میں سے واک آوٹ بھی کیا تھا۔

  • وفاقی وزیر دانیال عزیز کو تھپڑ مارنا افسوسناک عمل ہے، یہ تحریک انصاف کا کلچر ہے،نواز شریف

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر دانیال عزیز کو تھپڑ مارنا افسوسناک عمل ہے، یہ تحریک انصاف کا کلچر ہے جسے کے ذمہ داری عمران خان ہے۔احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران نواز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں، بھی تحریک انصاف کے ممبران گمتو گھتا ہوتے رہے، ایک ایک کر کے پی ٹی آئی کے سارے پول کھل رہے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں کیا کام کیا، وہ کوئی قابل ذکر کارنامہ بتادیں، سوائے دھرنوں اور امپائر کی انگلی کی طرف دیکھنے کے پی ٹی آئی نے کیا، کیا ہے۔صحافی نے سوال کیا ‘ تحریک انصاف نے سو دن کا پلان دیا ہے، کیا کہیں گے؟ اس پر نواز شریف نے کہا کہ وہ پہلے بھی دے چکے ہیں لیکن عمل کیا کیا، پی ٹی آئی نے کہا تھا 300 ڈیم بنائیں گے، کہاں ہیں ڈیم؟ اور کہاں ہیں وہ درخت جو کہے تھے لگائیں گے’۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا ’50 ہزار میگا واٹ بجلی کہاں ہے جو تحریک انصاف نے کہا تھا اور کہاں ہے نیا پاکستان، کہاں ہے نیا خیبرپختونخوا؟۔نواز شریف نے کہا کہ یو این ڈی پی کی رپورٹ کہہ رہی ہے کہ خیبرپختونخوا جنوبی پنجاب سے بھی پیچھے ہے، کے پی کا موازنہ جنوبی پنجاب سے کر کے دیکھ لیں۔صحافی کے سوال ‘اگلا الیکشن کس نعرے پر ہو گا؟ کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اگلا الیکشن “ووٹ کو عزت دو” کے نعرے پر ہوگا، اب تو لوگ مجھے کہتے ہیں ہم نعرہ لگائیں گے “ووٹ کو” اور تم کہنا “عزت دو”۔صحافی نے ایک اور سوال کیا کہ ‘آپ کی پارٹی آپ کے بیانیے سے متفق ہے؟ جس پر سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری قوم میرے بیانیے سے متفق ہے۔