”غزہ“ کو ”امن بورڈ“ نہیں ،انصاف چاہیے!

سنا ہے پاکستان ایک بار پھر عالمی شہ سرخیوں میں ہے،،، کیوں کہ وطن عزیز کا نام اس وقت اسرائیلی اخباروں میں ہیڈلائن بن رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی پیشکش کرنا کسی بڑے منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے،،، مقبوضہ یروشلم سے شائع ہونے والے ٹائمز آف اسرائیل نے اس پیش رفت کو نمایاں کوریج دیتے ہوئے پاکستان کے مشرق وسطیٰ خطے میں بڑھتے قائدانہ کردار کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ اگرچہ پاکستان صیہونی ریاست کو سفارتی طور پر تسلیم کرنے سے انکاری ہے لیکن اگر اسلام آباد ٹرمپ کی دعوت قبول کر لیتا ہے، تو وہ ایک بڑے عالمی علامتی بورڈ کا حصہ بن جائیگا جس میں اسرائیل کے کٹر ناقد ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت کئی دیگر یورپی اور مشرق وسطیٰ کے رہنما شامل ہونگے۔کچھ اخبارات لکھ رہے ہیں کہ پاکستان جب ایک ریاست کو تسلیم ہی نہیں کرتا تو وہ کیسے اس ملک کے اندر مداخلت کرنے والے بورڈ میں شامل ہو سکتا ہے،،، جبکہ ایک چینل نے تو واضح کیا ہے کہ اگر پاکستان امن بورڈ کو حصہ بن رہا ہے تو پھر وہ اسرائیل کو بھی بخوشی تسلیم کرلے،،، اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یہ ”منافقت“ ہوگی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ میں بارہا اس حقیقت کا اظہار کرچکا ہوں کہ ایسا مت کیجئے! کیوں کہ یہاں ہر دردمندپاکستانی کا دِل مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے، بلکہ قیامِ پاکستان سے بھی پہلے ہماری جذباتی وابستگی فلسطینیوں کے ساتھ قائم ہوچکی تھی، اس لیے میرے خیال میں پاکستان کو ہمہ وقت اپنے موقف”آزاد فلسطین“ پر ڈٹے رہنا چاہیے،، بلکہ یہ مہم شروع کرنی چاہیے کہ ”غزہ کو انصاف دو“ ۔ چہ جائے اس کے کہ کوئی اس صف میں شامل ہوتا ہے یا نہیں،،، لیکن اپنے موقف پر ڈٹے رہنا ہی منافقت سے دور رہنا ہوتا ہے،،، یہ ایسے ہی ہے جیسے آج کل لاہور پریس کلب کے الیکشن زوروں پر ہیں،،، تمام صحافی برادری دوست احباب پر مشتمل ہے،،، جنہیں آپ کسی صورت انکار کر ہی نہیں سکتے،،، وہاں میں ایک گروپ کی حمایت کر چکا ہوں،،، جبکہ دوسرا گروپ زور لگا رہا ہے، کہ اُن کی بھی تائید کی جائے،،،جبکہ میں دوسرے گروپ سے دوری اختیار کیے ہوئے ہوں ،،، کیوں کہ میں پہلے گروپ کی حمایت کر چکا ہوں،،، جبکہ اگر میں دونوں گروپوں کے لیے لوگوں سے ووٹ مانگنا شروع کروں گا تو یہ منافقت کے ضمرے میں آئے گا،،، اس سے آپ کی اپنی ورتھ خراب ہوگی،،، حالانکہ آپ کو منافقت نہ کرنے کی بسا اوقات قیمت بھی چکانا پڑتی ہے،،، خیر بالکل اسی طرح پاکستان کو بھی ایک موقف کی حمایت کرنی چاہیے،،، اور اُس پر ڈٹے رہنا چاہیے،،، کیوں کہ ہمیں اسرائیلی جارحیت کو بھی نہیں بھولنا چاہیے،،، اسرائیلی جارحیت، فلسطینی عوام کی بے بسی، اور عالمی طاقتوں کی دوغلی پالیسیوں نے اس خطے کو ایک کھلے زخم میں بدل دیا ہے۔اور پھر ”غزہ امن بورڈ“ جیسے فورمز کے قیام کی بات کی جا رہی ہے، جہاں بظاہر جنگ بندی، انسانی امداد اور مستقبل کے سیاسی حل کے لیے کردار ادا کریں گے جو کہ خوش آئند ہے،،، لیکن اندر کھاتے یہ فلسطینیوں کی جدوجہد کو ختم کرنے کی عالمی سازش لگتی ہے،،، اور پھر یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کا مو¿قف فلسطین کے معاملے پر ہمیشہ اصولی اور دوٹوک رہا ہے۔ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، نہ ہی اس کے قیام کو جائز مانا ہے۔ اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ غزہ امن بورڈ جیسے فورمز عموماً اقوامِ متحدہ، مغربی طاقتوں اور ان ممالک کی نگرانی میں بنتے ہیں جو یا تو اسرائیل کے حامی ہیں یا کم از کم اس کے جرائم پر خاموش رہتے ہیں۔ ایسے بورڈز میں شمولیت پاکستان کے اس تاریخی اور اخلاقی مو¿قف کو کمزور کر سکتی ہے، جس کی بنیاد فلسطینی حقِ خودارادیت پر ہے، نہ کہ طاقت کے توازن یا سفارتی مصلحتوں پر۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ماضی کا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس نوعیت کے امن فورمز اکثر نمائشی ثابت ہوتے ہیں۔ اوسلواکارڈ سے لے کر درجنوں جنگ بندی معاہدوں تک، فلسطینی عوام کو صرف وعدے ملے، انصاف نہیں۔ غزہ امن بورڈ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہو سکتا ہے، جس کا مقصد زمینی حقائق بدلنا نہیں بلکہ عالمی ضمیر کو وقتی طور پر مطمئن کرنا ہو۔ پاکستان اگر اس میں شامل ہوتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر ایک ایسے عمل کا حصہ بن جائے گا جو ظلم کو روکنے کے بجائے اسے ”مینج“ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پھر تیسری وجہ پاکستان کے اپنے داخلی اور علاقائی مسائل ہیں۔ پاکستان اس وقت شدید معاشی دباو¿، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں کسی متنازع اور پیچیدہ بین الاقوامی بورڈ میں شمولیت نہ صرف سفارتی وسائل پر بوجھ بنے گی بلکہ پاکستان کو غیر ضروری عالمی دباو¿ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر جب یہ بورڈ ایسے فیصلے کرے جن پر عملدرآمد ممکن نہ ہو، یا جو اسرائیلی مفادات کے قریب تر ہوں، تو پاکستان کے لیے وہاں اختلاف کرنا مشکل اور مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ غزہ امن بورڈ کی ساخت اور اختیارات خود مشکوک ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس بورڈ کے پاس اسرائیل کو جنگی جرائم سے روکنے کی طاقت ہوگی؟ کیا وہ محاصرہ ختم کروا سکے گا؟ کیا وہ فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دے گا؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے، تو پھر ایسے بورڈ میں شمولیت محض ایک علامتی عمل ہوگا۔ پاکستان کو علامتوں کے بجائے مو¿ثر اور بامعنی سفارت کاری کی ضرورت ہے۔پانچویں وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا اصل کردار اخلاقی قیادت میں ہے، نہ کہ کمزور عالمی سمجھوتوں میں۔ پاکستان او آئی سی، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی، اور دیگر آزاد فورمز پر فلسطینی کاز کی بھرپور اور بے لاگ حمایت کر سکتا ہے۔ پاکستان کی آواز تب زیادہ مضبوط ہوتی ہے جب وہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو، نہ کہ طاقتور اور کمزور کے درمیان ”غیر جانبداری“ کا لبادہ اوڑھے۔ غزہ امن بورڈ میں شمولیت اس اخلاقی برتری کو متاثر کر سکتی ہے۔ چھٹی اہم دلیل یہ ہے کہ ایسے بورڈز اکثر فلسطینی مزاحمت کو ”دہشت گردی“ اور اسرائیلی جارحیت کو ”دفاع“ کے فریم میں دیکھتے ہیں۔ پاکستان اگر اس فورم کا حصہ بنتا ہے تو اسے اس بیانیے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو اس کے اپنے قومی اور نظریاتی مو¿قف سے متصادم ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ مو¿قف اپنایا ہے کہ قابض قوت کے خلاف مزاحمت بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔ کسی ایسے بورڈ میں بیٹھنا جو اس اصول کو تسلیم نہ کرے، فکری تضاد کو جنم دے گا۔ساتویں وجہ عالمی سیاست کی حقیقت پسندی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اکثر امن کے نام پر ایسے فورمز بناتے ہیں جن کا اصل مقصد بحران کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، حل کرنا نہیں۔ پاکستان کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے چھوٹے اور اصولی ممالک کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ غزہ امن بورڈ میں شمولیت پاکستان کو ایک ایسے کھیل کا مہرہ بنا سکتی ہے، جس کے قواعد اس نے خود نہیں بنائے۔ بہرحال ہمارے حکمرانوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ایک ایسی خارجہ پالیسی بنائیں،،، جس میں ایک موقف اختیار کیا جائے،،، معذرت کے ساتھ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اگر چین نے بلایا ہے تو ہم اُس کی گود میں بیٹھ جائیں ،،، اگر امریکا بلائے تو وہاں گھٹنوں کے بل چلے جائیں،،، یا اگر روس بلا رہا ہے تو بغیر سوچے سمجھے چلے جائیں،،، اور اگر روس کے ہاں کوئی میزائل گرا ہے تو وہاں ہم آگے جا کر اپنا سینہ تان لیں،،، لہٰذامیرے خیال میں اگر پاکستان کسی بھی اسرائیل حامی قوت کی سرپرستی میں یا کسی ایسے عسکری اتحاد کا حصہ بنتا ہے جسے غزہ کے عوام مغربی ایجنڈا سمجھیں، تو اسکا فوری ردعمل فطری طور پر منفی ہوگا، ایسی صورت میں مشرقِ وسطیٰ بالخصوص فلسطینی عوام میں پاکستان مخالف جذبات بھڑکنے کا خدشہ ہے ،،، اور ویسے بھی پنجابی میں کہتے ہیں کہ ”اگے گھٹ مسئلے نیں!“ اور اگر یہ نفرت کا بیج بھی بو دیا گیا تو اس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھگتیں گی!لہٰذااس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی کاز کا علمبرداررہا ہے اور ہماری اس تاریخی ساکھ کو نقصان پہنچنا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔دوسری طرف اگر پاکستان غزہ میں کسی بھی قسم کا کردار ادا نہیں کرتا، امن دستوں کا حصہ نہیں بنتا اور خود کو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست سے الگ رکھتا ہے تو اس کے نتائج شاید اس سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہوں۔ آپ ایران کی مثال لے لیں،،، جوگزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم کردار سمجھا جاتا تھا، آج عملی طور پر علاقائی منظرنامے سے غائب ہوچکا ہے۔ اگر پاکستان نے بھی یہی راستہ اختیار کیا تو وہ خطے کی سیاست سے آﺅٹ ہو جائے گا، فرق صرف یہ ہوگا کہ ایران کو طاقت کے زور پر دیوار سے لگایا گیا، جبکہ پاکستان خود اپنی جگہ خالی کر دے گا۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی سفارتی اہمیت کم ہوگی بلکہ فلسطینی عوام کیلئے پاکستان کے دل میں جو نرم گوشہ ہے، وہ عملی سیاست میں غیر موثر ہو جائے گا، پاکستان کی عدم موجودگی میں خلا ایسی قوتیں پر کریں گی جو ممکنہ طور پر فلسطین کیلئے پاکستان جیسے نیک جذبات اور جذباتی ترجیحات نہ رکھتی ہوں۔ اس پس منظر میں سعودی عرب کا کردار بھی انتہائی اہمیت اختیار کرگیاہے، مجھے آج بھی وہ وقت یاد ہے جب سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازع شروع ہواتھا، اس وقت میں پاکستان کا واحد پارلیمنٹیرین تھا جس نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کو اپنی فوجیں حجاز کی مقدس سرزمین کے دفاع کیلئے ضرور بھیجنی چاہئیں ،لیکن کچھ ناگزیر وجوہات کی بناءپر پاکستان یہ قدم نہ اٹھا سکا، اور آج بھی ہم اس فیصلے کے اثرات دونوں برادر ممالک کے مابین سفارتی دراڑ کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک تھنک ٹینک بنائیں،،، جس میں فارم 45کے لوگ ہوں،،، 47والے لوگ شامل نہیں ہونے چاہیے،،، فارم 45سے مراد عوام کے پسندیدہ لوگ اس تھنک ٹینک میں آئیں،،، ایسے لوگ قطعاََ اس تھنک ٹینک میں شامل نہ ہوں جنہیں عوام پسند نہیں کرتے یا جو ملک کے لیے نقصان دہ ہوں،،،اور رہی بات غزہ کی توغزہ کو امن بورڈز نہیں، انصاف چاہیے۔ اور انصاف ہمیشہ واضح مو¿قف، اخلاقی جرات اور غیر مبہم سفارت کاری سے ہی ملتا ہے۔ پاکستان اگر واقعی فلسطین کے ساتھ کھڑا رہنا چاہتا ہے تو اسے ایسے بورڈز سے فاصلے پر رہ کر، مظلوم کی آواز بننا ہوگا، نہ کہ طاقتور کی میز پر خاموش شریک۔