زرعی ٹیکس کا غیر منصفانہ نظام اور ملک احمد خان !

پنجاب کے کسانوں کے لیے اس ہفتے کا آغاز شاندار انداز میں ہوا، جب اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے ایگزیکٹیو آرڈرز کا استعمال کرتے ہوئے زرعی ٹیکس جمع کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔اس پر انہوں نے کہا کہ ٹیکس لگانے کا اختیار صرف اسمبلی کے پاس ہی ہے، پنجاب اسمبلی کایہ اختیار سرکاری افسر استعمال نہیں کر سکتا۔مزید کہا کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سمیت کوئی بھی ایگزیکٹیو اتھارٹی کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگا سکتی، ایسے نوٹی فکیشن سے پنجاب اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوا۔انہوں نے کہا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون سازی ایگزیکٹو اتھارٹی کے لگائے گئے ٹیکسز کا جائزہ لے جبکہ قانونی کمیٹی 15 دن میں اپنی رپورٹ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں پیش کرے۔اسپیکر پنجاب اسمبلی کے اس اقدام پر پورا حال تالیوں سے گونج اُٹھا اور اپوزیشن اراکین نے بھی ڈیسک بجا کر اس اقدام کی تعریف کی،،، اب سوال یہ ہے کہ 15دن کے بعد کیا ہوگا؟ کیا یہ ٹیکس ختم ہو جائے گا یا تھوڑی بہت کمی بیشی کے ساتھ دوبارہ نافذ کیا جائے گا،،، سوال یہ بھی ہے کہ پورا پنجاب اس ٹیکس کے خلاف کیوں ہے؟ کیوں کہ سب کو علم ہے کہ کسانوں کے ارد گرد مافیاز کی بھرمار ہے، جو ”جونکوں“ کی طرح ان کے ساتھ چمٹی ہوئی ہیں۔۔۔ پھر ہر سال ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کے حوالے سے کوئی آواز نہیں اُٹھاتا۔ کوئی اس حوالے سے نہیں بولتا کہ کسانوں کے ساتھ ان کی فصلوں کو لے کر کیا کیا جاتا ہے،،، گندم، گنے کی فصل کو لے کر کیا کیا جاتا ہے؟ بلکہ سبزیوں جیسے آلو وغیرہ کی فصل کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ اور پھر سرکار ان کے ساتھ کیا کرتی ہے؟ یعنی سرکار انہیں اُنہیں مہنگی بجلی فراہم کرتی ہے، مہنگا پٹرول و ڈیزل فراہم کر تی ہے، پھر اُن کی سیلاب میں آئی زمینوں کی ابھی تک شنوائی نہیں ہورہی ۔ آپ گنے کی فصل کے ساتھ دیکھ لیں کہ یہ کیا کرتے ہیں،،، جس ضلعے میں شوگر مل ہوتی ہے، کسان وہاں پر مجبور ہے کہ گنا شوگر مل کو ہی بیچے، ،، اگر کوئی کسان کہے کہ میں نے گنا نہیں بیچنا بلکہ اس کا گڑ بنا کر ہی بیچنا ہے تو ایسا کرنے سے کسان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے،،،اس لیے کسان مجبور ہوتا ہے ،شوگر مل کو ہی گنا بیچنے میں،،، اب جب گنا شوگر مل کو بیچنا مجبوری ہے تو پھر شوگر ملیں بھی اس کا بھرپور فائدہ اُٹھاتی ہیں،، یعنی جب کسان اپنا گنا لے کر شوگر مل میں جائے گا تو وہاں بھی ایک مافیا موجود ہے،،، جو کسان سے گنا خریدنے کے تاخیری حربے اپنائے گا،،، جیسے جب کسان اپنا گنا لے کر شوگر مل گیا ہے تو وہاں پر پہلے سے 2ڈھائی سو ٹرک کی لائن لگی ہوگی، کسان وہاں پر 2،3دن انتظار کرے گا،،، اس انتظار کا ایک فائدہ تو شوگر مل کو یہ ہوتا ہے کہ گنا ٹرک پر ہی پڑا پڑا منوں کے حساب سے سوکھ جاتا ہے،،،پھر جیسے تیسے کر کے کسان کی باری آتی ہے تو پھر اُسے عموماََ کہا جاتا ہے کہ اُس کا کانٹا خراب ہے،،، وہ پھر شوگر مل سے باہر جاتا ہے، اور اسی کام میں مزید دو دن لگ جاتے ہیں،،، اتنی دیر میں کسان اس مشقت سے تنگ آجاتا ہے اور شوگر مل کو اونے پونے میں گنا بیچ دیتا ہے،،،اور بسا اوقات تین تین ماہ یا چھ چھ ماہ کے چیک دیے جاتے ہیں،، اور کسان اکثر یہ چیک کسی ”درمیانی ایجنٹ“ کو دے کر نقد رقم وصول کرتے ہیں اور ایجنٹ اس میں سے بھی اچھی خاصی کمیشن کھاتا ہے،،، مطلب! یہاں بھی کسان ہی براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ پھر یہی نہیں بلکہ یہاں ایجنٹ مافیا بھی سرگرم ہوتا ہے،،، یعنی گنا خریدنے والے ایجنٹ یا” مڈل مین“ دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جنہیں مِل کی جانب سے گنا خریدنے کا کام دیا گیا ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو اپنے تئیں کسانوں سے گنا خریدتے ہیں اور پھر مِلوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ اب ان مڈل مینوں کو قانونی حیثیت بھی حاصل ہے کہ وہ گنے کی خریداری کے مراکز قائم کر سکتے ہیں،،، بشرطیکہ انہوں نے حکومتِ پنجاب اور مقامی شوگر ملوں سے اس کی اجازت لے رکھی ہو اور وہ تمام خرید و فروخت حکومتی قواعد و ضوابط کے مطابق کر رہے ہوں۔ لیکن یہ سب اندر کھاتے، حکومت اور شوگر مل مالکان کی ملی بھگت سے کسان کا ریٹ توڑنے کے لیے قائم ہوتے ہیں۔ آپ یقین مانیں کہ کسان ان ایجنٹوں کے ہاتھوں اتنے تنگ ہیں کہ بعض ایجنٹوں نے ایڈوانس بکنگ دے کر کسانوں کو اپنے ہاتھ میں کیا ہوتا ہے،،، جو ان کی مجبوریوں سے فائدہ اُٹھا کر مرضی کا ریٹ لگاتے ہیں۔ اور آگے ڈبل ریٹ پر گنا فروخت کرتے ہیں۔ اور پھر آپ کو یہاں مزے کی بات بتاتا چلوں کہ یہ دونوں قسم کے ”ایجنٹ“ اکثر مل کے اپنے ملازمین یا ان کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سرکار کو چاہیے کہ گنے کا ریٹ اوپن مارکیٹ میں Decideہونا چاہیے،،، اور منڈی میں تمام ٹرک آئیں اور یہاں سے مل مالکان گنا خرید کر اپنی اپنی ملوں میں لے جائیں،،، مطلب ! آپ کسان کو کیسے پابند کر سکتے ہیں؟ پھر آپ نے اگر گنے کے کسان کو پابند کرنا ہی ہے تو جس طرح گندم کا فکس ریٹ لگایا جاتا ہے، بالکل اسی طرح پھر سرکار ہی گنے کی خریداری کا انتظام بھی کرے،،، یہ تو ایک مثال ہے ،،، گندم کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جاتا ہے،،، یعنی گندم کا جو ریٹ مقرر کیا جاتا ہے، اُس کے مطابق سرکار گندم خریدتی نہیں ،، سرکار کہہ دیتی ہے کہ اُس کی خریداری کا کوٹہ پورا ہوگیا ہے، اس لیے وہ کسان سے گندم نہیں خرید رہے،،، لہٰذاکسان اونے پونے آڑھتیوں کو گندم فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے،،، کیوں کہ اُس کے پاس گندم کی سٹوریج کے مناسب اقدامات نہیں ہوتے اس لیے وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اپنی گندم سرکاری ریٹ سے کم میں فروخت کر کے جان چھڑائے۔ یہ سب زیادتیاں، ناانصافیاں اور استحصال ایک طرف ،،، مگر ان سب چیزوں کے بعد جب سرکار زعی ٹیکس لگا دے تو سوچیں غریب کسان کا کیا حال ہوگا؟ چلیں یہ بھی مان لیا کہ ٹیکس لگانا بہت ضروری ہے،،، لیکن یہ ٹیکس زمینوں کے رقبے پر کیوں لگایا جا رہا ہے؟ اسے آمدن پر لگادینا کافی نہیں تھا؟ یعنی جس طرح تاجر کا انکم ٹیکس اُس کے منافعے پر لگتا ہے، بالکل اسی طرح کسان کے بھی منافعے پر ٹیکس لگانے کی بات کی جانی چاہیے،،، لیکن فی الوقت زرعی ٹیکس یہ ہے کہ کھیتی باڑی، فصلوں، باغات یا زمین سے حاصل ہونے والی کمائی پر لگایا جاتا ہے۔یعنی اگر کوئی شخص زمین سے پیداوار حاصل کر کے کمائی کرتا ہے،جیسے گندم، چاول، کپاس یا سبزیاںتو اس آمدن پر حکومت جو ٹیکس لگائے، اسے زرعی ٹیکس کہتے ہیں۔ جبکہ زرعی ٹیکس کا ایک اور ظلم یہ بھی ہے کہ زمین پر ٹیکس بھی لگا دیا گیا ہے،،، جو زمین کے رقبے کے حساب سے لیا جاتا ہے ۔۔۔چاہے پیداوار زیادہ ہو یا کم، ٹیکس زمین کے سائز پر ہوتا ہے،،، اور یہ ٹیکس صوبائی حکومت کی جانب سے لگایا جاتا ہے،،، اورہر صوبے کا اپنا قانون اور شرح (rate) ہوتی ہے۔درحقیقت یہ ٹیکس ”پنجاب ایگریکلچر انکم ٹیکس ایکٹ 1997ء“ ہے جس میں 2024ءمیں ترمیم کی گئی تھی،،، اس نئی ترمیم کے مطابق رقبے میں ساڑھے 12 ایکڑ کی کم از کم حد ایسے ہی برقرار رہے گی ہے،،، جبکہ زعری انکم کے حوالے سے پرانے قانون میں چار لاکھ روپے آمدن تک کی چھوٹ تھی۔ چار لاکھ سے آٹھ لاکھ آمدن پر کل ایک ہزار روپے وصول کیے جاتے تھے، آٹھ سے 12 لاکھ پر دو ہزار اور 12 سے 24 لاکھ کے درمیان آمدنی پر 12 لاکھ سے اوپر والی آمدن کاپانچ فیصد انکم ٹیکس لاگو ہوتا تھا۔اب نئی ترمیم کے مطابق زرعی انکم ٹیکس میں صرف وہی کسان مستثنیٰ ہوں گے جن کی آمدن چھ لاکھ سے کم ہے۔ بہرحال اس کی تفصیل تو پنجاب حکومت کی ویب سائیٹ پر دستیاب ہی ہے مگر یہ کسانوں پر ایک طرح کا ظلم ہے،،، اور اس ظلم کی عادت سرکار کو تو پڑہی گئی تھی ، مگر اب یہ عادت آئی ایم ایف تک بھی پہنچ گئی ہے،،، مجھے یاد ہے کہ ایک ماضی میں ایک ڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی منظور موہل ہوا کرتے تھے،،، اُن کے زمانے میں زرعی ٹیکس آیا تو اُنہوں نے سخت مخالفت کی کہ ایک سو روپیہ ہی تو ہے،،، انہوں نے کہا کہ بات سو روپے کی نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے راستہ دیکھ لینا ہے،،، اور ہر گزرتے دن انہوں نے اس میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک شخص کے پیٹ کے اوپر سے ایک چیونٹی گزر گئی تو اُس نے رولا ڈال دیا، لوگوں نے کہا کہ یہ تو محض ایک چیونٹی ہے، اس پر اتنا شور کیوں؟ تو وہ شخص بولا کہ بات چیونٹی کی نہیں،،، مسئلہ یہ ہے کہ یہ راستہ بن گیا ہے، اب یہاں سے ہاتھی بھی گزرے گا! میرے خیال میں اب منظور موہل کی وہی بات سچ ثابت ہورہی ہے،،، اس لیے میرے خیال میں ملک احمد خان جیسے لوگ جو زمینی حقائق کو سمجھتے ہیں،،، اُن کے کسان کے حق میں ایسے اقدام واقعی قابل ستائش ہیں،،، ایسے قائدین کو واقعی اسمبلیوں میں کسان کی آواز بننا چاہیے، ،، کیوں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، کوئی انڈسٹریل اسٹیٹ نہیں ہے، لیکن تمام سہولتیں اس کے برعکس صنعت کار کو ملتی ہیں،،،سبسڈیز صنعت کار وںکو ملتی ہیں، سستی بجلی صنعت کار کو ملتی ہے، پابندی سے گیس صنعت کاروں کو ملتی ہے، ،، جبکہ کسان لاچار و بے بسی سے حکمرانوں کو دیکھتا رہتا ہے،،، اور اُسے ہر اسٹیج پر بے وقوف بنا دیا جاتا ہے،،، کبھی اُس کی محنت سے تیار کر دہ گندم باہر بیچ دیتے ہیں، کبھی مہنگے داموں آٹا بیچ دیتے ہیں، کبھی چینی امپورٹ کرکے کسان کو بلیک میل کیا جاتا ہے، کبھی گنا نہ خرید کراُس کا ریٹ توڑا جاتا ہے،،، بہرکیف کسانوں کو اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان سے بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں، اور ان کے لیے بھی کسانوں کا دل جیتنے کا سنہری موقع ہے، اس لیے میرے خیال میں ملک احمد خان کو کسانوں کے لیے اسٹینڈ لینا چاہیے، اور اُن کے مسائل پر اسمبلی میں بات کرنی چاہیے، زمینی حقائق پر مبنی ریسرچ کروانی چاہیے،،، اور اگر آئی ایم ایف زرعی ٹیکس کا نفاذ کروانے پر بضد ہے تو اُس کے پاس اسمبلی ممبران پر مشتمل ایک وفد بھیجنا چاہیے ،،، تاکہ وہ زمینی حقائق سے آگاہ کرسکیں ورنہ ،،، خودکشیاں تو عوام کر ہی رہے ہیں،،، ہوسکتا ہے آنے والے دنوں میں کسان بھی ان میں شامل ہو جائیں!