جنگوں میں ”عید“ !

عید کا چاند جب افق پر نمودار ہوتا ہے تو یہ خوشیوں، امن اور بھائی چارے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مگر آج کی دنیا میں، جہاں جنگوں کی آگ مسلسل بھڑک رہی ہو، وہیں چاند کئی خطوں میں اداسی، خوف اور محرومی کی علامت بن جاتا ہے۔ خاص طور پر ایران، اسرائیل اور پاکستان و افغانستان کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں عید کا تصور ایک گہری تنقید کو جنم دیتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رکھا ہے۔ اگرچہ یہ جنگ براہِ راست میدان میں مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتی، مگر اس کے اثرات پراکسی جنگوں، حملوں اور خوف کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ایسے ماحول میں جب عید آتی ہے، تو وہاں کے عوام کے لیے خوشی کا تصور محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتا ہے۔ عید کی نماز کے دوران بھی یہ خوف موجود رہتا ہے کہ کہیں کوئی حملہ نہ ہو جائے۔بلکہ میں نے تو اپنے قریبی لوگوں سے بھی کہا ہے کہ کم سے کم باہر نکلیں،،، خاص طور پر شاپنگ کی غرض سے،، کیوں کہ فتنہ ابھی بھی باقی ہے، اور وہ کہیں نہ کہیں کارروائی کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے،،، اسی طرح جنوبی ایشیا میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات نے سرحدی علاقوں کو ایک مستقل بے چینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سرحد پار جھڑپیں، سیاسی بیانات اور عدم اعتماد کی فضا نے دونوں ممالک کے عوام کو ذہنی طور پر تقسیم کر دیا ہے۔ عید جیسے موقع پر، جب خاندانوں کو ملنا چاہیے، وہیں سرحدیں مزید سخت ہو جاتی ہیں، اور وہ لوگ جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے، دوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور پھر ان جنگوں اور کشیدگیوں کی ایک بڑی وجہ عالمی طاقتوں کے مفادات بھی ہیں۔ طاقت کا توازن قائم رکھنے کے نام پر چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک کو ایک ایسے کھیل کا حصہ بنا دیا جاتا ہے جس میں جیت کسی کی نہیں ہوتی، مگر نقصان ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے۔ عید جیسے تہوار اس نقصان کو مزید واضح کر دیتے ہیں، کیونکہ اس دن خوشیوں اور دکھ کا فرق سب سے زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایران میں ایک ماں اپنے بیٹے کے لیے دعا کر رہی ہوتی ہے جو محاذ پر ہے،خلیجی ممالک میں نماز عید مسجدوں میں ادا کی گئی ہے، کھلے میدانوں میں اجتماعات پر ڈرون حملوں کے خوف سے پابندی لگا رکھی تھی،،، جبکہ افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں لوگ خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں عید منانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی، بلکہ یہ انسانوں کے دلوں اور ذہنوں کو بھی زخمی کر دیتی ہے۔عید کا اصل فلسفہ خوشی، امن ، صبر اور ایثار ہے۔ مگر جب یہی عید جنگوں کے سائے میں منائی جائے، تو یہ فلسفہ ایک سوال بن جاتا ہے۔ کیا ہم واقعی ان اقدار پر عمل پیرا ہیں؟ یا ہم نے عید کو صرف ایک رسم بنا دیا ہے جس میں دوسروں کے دکھ کی کوئی جگہ نہیں؟ بہرحال اگر ہم عید کو پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو یہاں کے عوام تو ویسے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،،، آپ باہر کسی دوکان پر چلے جائیں ، ایک طبقہ آپ کی طرف لپکے گا،،، جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ مہنگائی نے کس طرح غریب لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے،، ،اگر کسی نے یہ معلوم کرنا ہو کہ اُس کے لیے ”عید“ کیا ہے؟ تو محض اس سے اس موضوع پر بات کر کے دیکھیں آپ کو ہر لمحہ اُس کے چہرے پر پریشانیوں کے آثار نمایاں ہوتے نظر آئیںگے؟ یہ اس معاشرے کا کوئی اور طبقہ نہیں بلکہ سفید پوش طبقہ ہے جس کے لیے عید کی خوشی ،خوشی نہیں بلکہ ”فکر عید“ ہے۔ وہ اپنے بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی فکر میں تگ و دو کرتا رہتا ہے کیوں کہ اس دور ہلاکت خیز میں عید آتی ہے تو مارے خوف کے بدن پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ عید آئی کہ قیامت آئی ہے۔جس معاشرے میں ذرائع دولت اور اقتدار و اختیار چند مخصوص ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جائیں، وہاں عمومی خوشیوں کا تصور اس حد تک ناپید ہوجاتا ہے کہ تہواروں کی خصوصی خوشیاں بھی (جو کہ اپنی اصل روح میں عمومی ہوتی ہیں) چند خاندانوں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔طبقاتی امتیازات کے ڈسے ہوئے اس معاشرے میں دینی تہوار کو بھی چھوٹے اوربڑے کے پیمانے سے ماپا جاتا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ چند سال پہلے عید صرف عید ہوا کرتی تھی، لیکن آج ہم بٹ گئے ہیں۔ ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے،،، جبکہ رہی سہی کسر ”سرکار“ نے نکال دی ہے،،، میں سوچ رہا ہوں کہ وہ خوش قسمت کون ہوںگے جو بھرپور انداز سے عید کی مسرتوں کو انجوائے کر رہے ہوں گے۔ میرے چاروں سمت تو دکھوں، فاقوں، زخموں اورآنسوﺅں کے گدلے پانیوں کی رات ہے۔ اس ”جھیل“ کی تہہ میں مجھے تو خوشی کا کوئی دمکتا موتی دکھائی نہیںدیتا۔ اس معاشرہ میں جہاں 98فیصد گھروں میں غربت، عسرت، تنگدستی، فاقہ مستی، خود سوزی اور خودکشی کی وارداتوں نے آج بھی صف ماتم بچھا رکھی ہے، حیران ہوں کہ ان تیرہ و تاریک گھروں کے 25 کروڑ مکین کیونکر عید منائیں گے؟ موجودہ حکومت کے دور کی یہ دوسری عید ہے، جب یہاں مہنگائی کا دور دورہ ہے، عوام تنگ دست ہو رہے ہیں، کہیں چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے،اگر کہیں ہے تو وہ محض محض دکھاوا ہے،،، بہرحال آج عید ہے لیکن عید کی حقیقی خوشی وقت کے ساتھ ساتھ ماند پڑتی جارہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عید کسی کیلئے خوشی بن کر آتی ہے تو کسی کیلئے حسرتوں کا پہاڑ بنا دی جاتی ہے۔ ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ عید کی خوشیاں ملک میںغربت، مہنگائی، بے روزگاری،، عدم تحفظ ، نا انصافی اور دیگر مسائل کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔ کہتے ہیں کہ حقیقی مسرتیں دھن، دولت کی محتاج نہیں ہوتیں۔ حقیقی خوشیاں انسان کے اندر سے پھوٹتی ہیں اور روشنی بن کر ہر طرف بکھر جاتی ہیں۔ تاہم مادّہ پرستی کے دور میں لوگ حقیقی م±سرّتوں کے لیے ترستے نظر آتے ہیں۔ رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے روحانی م±سرّتیں لے کر آتا ہے اور جاتے جاتے عیدالفطر کا تحفہ دے جاتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے عیدالفطر کا تہوارم±سرّت اور شادمانی کا پیغام بن کر آتا ہے، لیکن اسے کیا کہا جائے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظام کی وجہ سے طبقاتی تفریق اور معاشی ناہم واری ان خوشیوں کو مختلف خانوں میں تقسیم کرچکی ہے۔ اور پھر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں طبقاتی تفریق پہلے اس قدر زیادہ اور اتنی نچلی سطح تک نہیں تھی، جتنی آج نظر آتی ہے۔ امیر اور غریب کی عید میں پہلے کتنا اور کیسا فرق تھا اور آج کیا صورتِ حال ہے؟ اس بارے میں آپ بازاروں میں چلے جائیں آپ کو خود اندازہ ہوجائے گا کہ ہمارا معاشرہ کس قدر تقسیم کا شکار ہوچکا ہے۔ کل میں نے اور آپ نے تبدیلی کے خواب دیکھے تھے اور آج بھی ہم پھر اسی قسم کے خواب آنکھوں میں سجائے ”ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم“ کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔وہ دن کب آئے گا جب محروم طبقات کے جھونپڑوں میں روشنی ہوگی اور غاصب مقتدر طبقات کے محلات کو انقلاب کا سیل بے پناہ بلڈوز کر کے دھرتی کے ناسوروں کا خاتمہ کریگا اور جناح آبادیوں، لالو کھیتوں اور دھوپ سڑیوں کے مکین بارگاہ رب العزت میں فرط مسرت سے سجدہ شکرانہ ادا کرتے ہوئے کہیں کہ ”اے زمینوں اور آسمانوں کے مالک! تیرا شکریہ کہ تو نے اس پاک سرزمین کو ان ناسوروں سے پاک کر دیا، جنہوں نے اربوں ڈالر کے اثاثے بیرون ملک بنائے اور کھربوں کے قرضے بغیر سانس لئے ڈکار لئے۔ مختصر یہ کہ عید ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم دوسروں کو خوشیاں دیں، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ جب ہم یہ سوچ کر نیکی کریں گے کہ اس سے انسانیت کی فلاح ہوگی، تو یقین مانیں آپ کا ضمیر بھی پرسکون رہے گااور آپ بھی ہمیشہ پرسکون رہیںگے۔ اور اگر حکومتی سطح پر آپ دیکھیں کہ موجودہ حکومت جو بدلے کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، اُسے چاہیے کہ سب سے بڑا بدلا ہی یہی ہوتا ہے کہ آپ اس نظام کی بہتری کے لیے کام کریں۔ اگر کام ہوتا نظر آئے گا، اگر حکومت چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو بہتر بنا لے گی، اگر حکومت ناجائز منافع خوری پر کنٹرول حاصل کر لے گی تو یہی سب سے بڑا بدلا بھی ہوگا اور حکومت کا عوام پر احسان ہوگا۔ ورنہ حکومتی دور کا پتہ بھی نہیں چلنا اور برسراقتدار حکمرانوں نے ایک بار پھر ہاتھ ملتے رہ جانا ہے،،، اور انہوں نے اقتدار میں آنا ہے،،، جنہیں آپ نے جیلوں میں بند کر رکھا ہے،،، بہرکیف بات جنگوں سے شروع ہوئی تھی،،، ویسے تو اس بندہ ناچیز کے کہنے سے فرق نہیں پڑے گا،،، مگر موذن کا کام اذان دینا ہوتا ہے،،، اس لیے میں پھر یہی کہوں گا یہ وقت ہے کہ ہم ان جنگوں پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ہو یا پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ،،،ہر جگہ ایک بات مشترک ہے: عوام کی تکلیف۔ اگر عید ہمیں کچھ سکھاتی ہے، تو وہ یہی ہے کہ ہمیں نفرت کے بجائے محبت، جنگ کے بجائے امن، اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو ترجیح دینی چاہیے۔آخر میں، جنگوں میں عید ایک آئینہ ہے ، جو ہمیں ہماری اجتماعی ناکامی دکھاتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب تک دنیا کے کسی بھی کونے میں انسان خوف میں جی رہا ہے، ہماری خوشیاں مکمل نہیں ہو سکتیں۔ عید کا چاند تب ہی حقیقی خوشی لائے گا، جب اس کی روشنی سرحدوں، جنگوں اور نفرتوں سے آزاد ہو کر ہر دل تک پہنچے گی۔