پاکستان ”ثالثی“ میں نمبرون : مگر عوام کی سسکیاں!

ہم تیسری دنیا کے عوام کے لیے اس سے بڑی ”خوشخبری“ ہو ہی نہیں سکتی کہ وقت کی سپر پاور (امریکا) کا سربراہ ایک اچھے مقصد کے لیے اُس کے ملک میں آرہا ہے،،، اور یہی نہیں بلکہ ایک تیسرے درجے کے غریب اور قرضوںمیں ڈوبے ہوئے ملک نے ممکنہ تیسری عالمی جنگ کو روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ویسے آپ اسے ہمارے لیے احساس کمتری سمجھ لیں، غلامی سمجھ لیں یا کچھ اور لیکن ہم تو بہت خوش ہیں بھئی! حالانکہ میں موجودہ سیٹ اپ کو بہت مخالف رہا ہوں،،، لیکن جہاں جو کام اچھا کرے اور خالصتاََ پاکستان کے لیے کرے ہمارے نزدیک اُس سے بہتر کوئی ہو ہی نہیں سکتا،،، لیکن ”وہ“ آرہے ہیں،،، ہمیں بس اسی خوشی میں جینے دیا جائے،،،اور اس خوشی میں بھی جینے دیا جائے کہ امریکا جیسا بدمست ہاتھی اور ایران جیسا سرپھرا ملک جس نے آج تک ”امریکا مردہ باد“ کا نعرہ ہی لگایا ہے،،، دونوں کا ناصرف ایک میز پر بٹھایا،،، بلکہ صلح بھی کروائی اور تادم تحریر ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان بھی کردیا،،، یہ کس قدر مشکل ہوا ہوگا، یہ یقینا آنے والے چند سالوں میں پتہ چلے گا، جب کسی بڑی شخصیت کی کوئی کتاب منظر عام پر آئے گی،،، لیکن اگر آپ کو اس حوالے سے اندازہ لگانا ہے کہ یہ کس قدر مشکل مرحلہ تھا تو آپ امریکی صدر جان ایف کینیڈی کی شہرہ آفاق کتاب (Profile in Courages) پڑھ لیں ، جسے پڑھ کر اندازہ ہو گا کہ لیڈرشپ کیا ہوتی ہے۔ وہ کتنے خطرات یا اپنے سیاسی کیریئر کو داﺅ پر لگا کر بھی وہی غیر مقبول فیصلے کرتی ہے جو اس کے خیال میں ملک یا اس کی قوم کیلئے ناگزیر ہوں۔ اس کتاب میں کینیڈی نے اُن آٹھ امریکی سینیٹرز کی سیاسی کہانیاں لکھی ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی جماعتوں، ڈونرز اور ووٹرز کے خلاف جا کر سینیٹ میں ووٹ ڈالا،،، جس سے ان کے سیاسی کیریئر تباہ ہو گئے۔ وہ دوبارہ کبھی سینیٹرز نہیں بن سکے، لیکن ان کا خیال تھا کہ انہیں اپنے سیاسی ووٹ بینک یا سیاسی وفاداری سے زیادہ یہ دیکھنا ہے کہ امریکہ کا مفاد کس میں ہے۔ انہیں موت کی دھمکیاں ملیں، ان پر حملے ہوئے‘ نفرت انگیز مہمات چلائی گئیں لیکن انہوں نے وہ کیا جو اُن کے خیال میں امریکہ کے لیے بہتر تھا۔ پھر کئی دہائیوں بعد وہ دن آیا جب کینیڈی جیسے امریکی صدر نے ان کی جرا¿ت اور سمجھداری کو سلام کیا۔ ایرانی اور امریکی قیادت نے بھی ان آٹھ سینیٹرز کی کہانیاں ضرور پڑھی ہوں گی، تبھی انہوں نے اپنے ملک اور عوام کو جنگوں سے نکالنے کے بارے میں سوچا۔ اور سوچا ہوگا کہ اس میں سبھی کا بھلا ہے،،، اور سب سے زیادہ تو ایرانی قیادت نے سوچا ہوگا کہ پہلے ہی اُن کا ملک تباہ شدہ حالت میں سب کے سامنے ہے،،، اور پھر یہی نہیں بلکہ وہ گزشتہ 47 سال سے ایک طرح سے عالمی قید کا سامنا کر رہا ہے۔ اور پھر ایرانیوں کو نارمل زندگی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔جبکہ اُمید یہی کی جا سکتی ہے، ان مذاکرات کی کامیابی کے بعد سب کچھ نارمل ہو جائے گا۔ خیر ہم دوبارہ اپنی حقیقی ”خوشیوں“ اور حیرانیوں کی طرف آتے ہیں کہ ہمیں حیرانی اُس وقت بھی ہوئی جب ہمارے فیلڈ مارشل تہران پہنچے ، یہ واقعی بہت بڑا کام تھا کہ ایک جنگ زدہ علاقے میں آپ چلے جائیں ،،، جہاں کی فضائیں بھی دشمن کے کنٹرول میں ہوں،،، لیکن پاکستان نے یہ کر دکھایا اور ایسا معرکہ کہ دشمن بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ اور پھر بادی النظر میں بین الاقوامی سیاست میں ایسے لمحات کم ہی آتے ہیں جب کوئی ملک نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے امن کا پیغامبر بن کر ابھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عالمی رہنما، بشمول ڈونلڈ ٹرمپ، پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے نظر آ رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں اہم عالمی شخصیات کی پاکستان آمد بھی متوقع ہے۔ویسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کئی اتار چڑھاو¿ سے گزری ہے،،، مگر حالیہ ثالثی نے یہ ثابت کیا کہ اگر نیت درست اور حکمت عملی متوازن ہو تو ایک ترقی پذیر ملک بھی عالمی سیاست میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنے علاقائی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی بلکہ بڑی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کیا۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان نے اپنی سفارتی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔دنیا بھر کے رہنماو¿ں نے پاکستان کی اس کاوش کو سراہا۔اسی طرح مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کے رہنماو¿ں نے بھی پاکستان کی تعریف کی۔ سعودی عرب کی قیادت نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو “دانشمندانہ اور بروقت اقدام” قرار دیا، جبکہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں استحکام کے لیے ایک مثبت مثال قائم کی ہے۔ ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ میں بھی ایک معتبر ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یورپی ممالک نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا۔ جرمنی اور فرانس کے سفارتی حلقوں نے پاکستان کی کوششوں کو عالمی امن کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق، پاکستان نے ایک ایسے وقت میں مثبت کردار ادا کیا جب دنیا کو مکالمے اور مفاہمت کی اشد ضرورت تھی۔ یہ تعریفیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب محض ردعمل تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک فعال اور تعمیری رخ اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان کی اس کامیابی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے اہم عنصر متوازن خارجہ پالیسی ہے، جس کے تحت پاکستان نے بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھا۔ نہ صرف امریکہ بلکہ چین، روس اور مسلم دنیا کے ساتھ بھی پاکستان نے اپنے روابط کو مضبوط کیا۔ یہی توازن اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث بناتا ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ہے۔ چاہے وہ افغانستان کا معاملہ ہو یا مشرق وسطیٰ کے تنازعات، پاکستان نے ہر موقع پر مذاکرات اور بات چیت کو ہی حل قرار دیا۔ اس اصولی موقف نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مضبوط کیا ہے۔عالمی شخصیات کی پاکستان آمد بھی اسی اعتماد کا مظہر ہے۔ جب بڑے رہنما کسی ملک کا دورہ کرتے ہیں تو یہ صرف سفارتی ملاقات نہیں ہوتی بلکہ اس ملک پر اعتماد کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی متوقع آمد اور دیگر عالمی رہنماو¿ں کے دورے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ پاکستان اب عالمی سیاست میں ایک اہم مقام حاصل کر چکا ہے۔تاہم، اس کامیابی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس مثبت رفتار کو برقرار رکھے اور اپنی خارجہ پالیسی کو مزید مضبوط بنائے۔ داخلی استحکام، معاشی بہتری اور سیاسی ہم آہنگی بھی اس عمل کے لیے ضروری ہیں۔ کیونکہ ایک مضبوط اندرونی نظام ہی مو¿ثر خارجی کردار کی بنیاد بنتا ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اپنی نوجوان نسل کو اس کامیابی سے آگاہ کرے اور انہیں یہ پیغام دے کہ ملک کا مثبت تشخص ہی اصل طاقت ہے۔ جب دنیا پاکستان کو ایک امن پسند اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھے گی تو اس کے معاشی اور سیاسی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ دعا ہے کہ یہ مرحلہ بھی خیر و عافیت سے گزر جائے تاکہ اس ملک پر چھائے اندھیرے ختم ہو سکیں،،، اور پاکستان ایک نئے سفر کی طرف اُڑان بھرے جس کی اشد ضرورت ہے،،، کیوں کہ پاکستان کے عوام اس وقت سخت ترین مشکل حالات سے گزر رہے ہیں،،،اُن کا جینا دوبھر ہو چکا ہے، میرے خیال میں یقینا اتنی محنت پاکستان کے عوام کے لیے بھی ہونی چاہیے، عوام کو بنیادی حقوق ملنے چاہیے، بجلی سستی ہونی چاہیے، گیس سستی ملنی چاہیے، پٹرول سستا ملنا چاہیے، رہنے کو چھت ملنی چاہیے، ٹیکسز کی شرح کو کم کیا جاناچا ہیے،،، اور تو اور کیوں کہ اب عوام کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔ اور حکمران کی غیرترقیاتی عیاشیاں بھی کم ہونی چاہیے،، میں تو کہتا ہوں کہ اللہ کرے مذاکرات کامیاب ہوں تو اُس کے بعد فیلڈ مارشل کا دھیان ادھر بھی آئے اور وہ حکومت کو کہہ سکیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ کیسے غریب عوام کے پیسوں سے اربوں روپے کے جہاز اور قیمتی گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔ اگر اس قسم کے شوق پورے کرنے ہیں تو لامحالہ حکومتی خاندان بذات خود بہت زیادہ امیر ہیں،،، تو اپنی نیک کمائی میں سے بھی یہ لے سکتے ہیں۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے اگر آپ کو عزت دی ہے تو میرے خیال میں اسے اپنی عوام کے لیے وقف کیا جانا چاہیے،،،لوگوں کی دعائیں لینی چاہیے،،، سیاسی کارکنان جو اس وقت جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں،،، اُنہیں رہا کر کے ملک کی عزت بحال کی جانی چاہیے،،، عوام کو سیاسی حقوق ملنے چاہیے،،، اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے، اس لیے ہم اُمید کرتے ہیں کہ اتنی شاندار کامیابی کے بعد ہم اُمید کرتے ہیں کہ اس کے ثمرات عوام تک بھی پہنچیں گے،،، ورنہ میری دعا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ یا کوئی عالمی شخصیت مذاکرات کے بعد ریڈ زون سے نکل کر اگر عوام میں آجائے اور ان کا حال پوچھے تو ویسے ہی حکمران کو اس وقت جو عزت ملی ہے وہ خاک میں مل جائے۔۔ کہ عوام کس حال میں ہیںاس لیے میرے خیال میں عوام کو کوئی تو ریلیف دیں، کہ جس سے لگے کہ واقعی اُن کا ملک کامیاب ہوا ہے، ورنہ بھوکے پیٹ تو خوشیاں بھی اچھی نہیں لگتیں۔ کیوں کہ دہائیاں گزر گئی ہیں یہ سنتے ہوئے کہ عوام قربانی کے لیے تیار رہے ،،، ملک نازک دور سے گزررہا ہے،،، اس لیے میرے خیال میں عوام کو ایسا ریلیف ملنا چاہیے کہ عوام صبح اُٹھے اور خوشی سے نہال ہوجائے کہ واقعی اُنہیں لگے کہ ان مذاکرات کے ثمرات پاکستان تک پہنچے ہیں۔ ورنہ بقول شاعر رگوں میں رقص کناں موجہِ طرب کیا ہے؟ اگر خوشی ہے تو کس بات کی، سبب کیا ہے؟