مذاکرات امریکا کیلئے ایک ڈھونگ ہے!

ایران ، اسرائیل و امریکا جنگ کا آغاز ہوئے آج 38واں روز ہے، دنیا بھر میں اس جنگ کے معاشی اثرات دیکھے جا رہے ہیں،کہیں مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں تو کہیں دھونس دھمکیوں اور کہیں گالم گلوچ کی، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اس جنگ نے دنیا بھر کے عام آدمی کو جتنا متاثر کیا ہے، حالیہ تاریخ میں کبھی نہیں کیا،،، خاص طور پر تیسرے درجے کے ممالک اس جنگ سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں،،، جن میں پاکستان سرفہرست ہے، ویسے اگر پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو پاکستان ”خود ساختہ“ طور پر متاثر ہو رہا ہے،،، جس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے حکومت نے پٹرول کی قیمت میں تقریباً 43 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 90 فیصد اضافہ کیا ہے۔ حالانکہ عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمتیں پٹرول سے زیادہ بڑھی ہیں اور پاکستان میں ڈیزل کی قیمت تقریباً دو گنا بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 75 فیصد ڈیزل مقامی سطح پر بناتا ہے اور صرف 25 فیصد درآمد کرتا ہے۔ ڈیزل کے لیے ریفائنریز جو خام تیل درآمد کر رہی ہیں اس کا ریٹ تقریباً 120 سے 150 ڈالر فی بیرل ہے۔جبکہ پاکستان میں ڈیزل کا ریٹ 260ڈالر فی بیرل کے حساب سے چارج کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 110سے 140ڈالر فی بیرل منافع کمایا جا رہا ہے۔ اس حساب سے ریفائنریز ڈیزل پر کم از کم 190روپے فی لٹر منافع کما رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منافع جائز ہے؟ حکومت موجودہ حالات میں عوام پر بوجھ منتقل کرنے کی بجائے ریفائنریز کے ڈیزل منافع کو کم کر سکتی ہے۔لیکن نہ جانے ہر جگہ ان کے اپنے مفاد ختم کیوں نہیں ہوتے،،،بلکہ یہ لوگ ایسے مواقع تلاش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح عوام سے پیسہ اینٹھا جائے اور اپنی اور اپنے من پسند کاروباریوں سے شاید کمیشن وصول کیا جائے! خیر ہمارا آج کا موضوع یہ نہیں کہ حکومت کیا کر رہی ہے( وہ تو اب عوام کو پتہ چل ہی گیا ہے بتانے کی ضرورت نہیں رہی،،،)بلکہ ہمارا موضوع ایران جنگ پر مذاکرات ہیں،،، جس کا سب کو انتظار ہے،،، ویسے تو اس حوالے سے قومی میڈیا خبریں دینے سے گریز کر رہا ہے،،، مگر عالمی میڈیائی ادارے وقتاََ فوقتاََ اس حوالے سے آگاہ کر رہے ہیں،،، جیسے برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کو جنگ ختم کرنے کا منصوبہ بھی مل گیاہے۔جس کے مطابق مجوزہ منصوبے میں پہلے جنگ بندی اور پھر حتمی معاہدہ شامل ہے۔ منصوبے پر اتفاق ہوگیا تو 20 دن میں حتمی معاہدہ طے پانے کی راہ ہموار ہوگی۔ فوری طور پر جنگ بندی ہوگی اور آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔اس سلسلے میں ہمارے فیڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رات بھر رابطے کیے۔خبر یہ بھی ہے کہ امن منصوبے کا خاکہ پاکستان نے تیار کیا جو دو مرحلوں پر مشتمل ہے۔جس کا نام ”اسلام آباد اکارڈ“ ہے،،، جس پر حتمی مذاکرات اسلام آباد میں متوقع ہیں۔ رپورٹ کے مطابق معاہدہ طے ہونے کی صورت میں ایران ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہوکر اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرے گا۔ بدلے میں ایران پر عائد پابندیاں نرم کی جائیں گی اور منجمد اثاثے بحال ہونگے۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز کے لیے ایک علاقائی فریم ورک بھی شامل ہوگا۔ مذاکرات کی یہ کوششیں پاکستان، مصر اور ترکی کی جانب سے کی جا رہی ہیں،،، جو خوش آئند ہیں،،، لیکن بادی النظر میں امریکا دراصل مذاکرات کی آڑ میں تیاری کر رہا ہے، وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے اُسے سپورٹ مل جائے ، اور یہ سپورٹ خواہ فوجی سپورٹ نہ بھی ہو، مگر اُسے سیاسی سپورٹ ہی مل جائے تاکہ وہ دنیا کے سامنے یہ کہنے کے لیے حق بجانب ہو کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے، اُس پر اُسے تمام اتحادی ممالک کی سپورٹ حاصل ہے،،، ورنہ نیٹو اتحاد جو 32ممالک پر مشتمل ہے وہ کہہ چکا ہے کہ ہمارا ایران جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں،،، جبکہ امریکا بھی کہہ چکا ہے کہ اُسے اس اتحاد کی ضرورت بھی نہیں ہے،،، لیکن ضرورت تو ہوتی ہے ،، کیوں کہ امریکا کی خارجہ پالیسی کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ بیک وقت دو راستوں پر چلتا ہے: ایک طرف سفارتکاری اور دوسری طرف طاقت کا استعمال۔ یہی حکمت عملی اس نے عراق جنگ 2003 سے پہلے بھی اپنائی، جہاں مذاکرات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا سہارا لے کر عالمی حمایت حاصل کی گئی، اور پھر ایک بھرپور فوجی کارروائی کی گئی۔ آج ایران کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکا مذاکرات کو ایک سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتارہا ہے۔ اس کا مقصد صرف مسئلہ حل کرنا نہیں بلکہ عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنا بھی ہوتا ہے۔ یورپی ممالک اور خصوصاً NATO کے اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنا امریکا کے لیے اس لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ دنیا کے سامنے یہ مو¿قف پیش کر سکے کہ اس کے اقدامات یکطرفہ نہیں بلکہ اجتماعی ہیں۔ اگرچہ نیٹو کے تمام ممالک ہر معاملے میں یکساں مو¿قف نہیں رکھتے، جیسا کہ ایران کے حوالے سے بھی اختلافات موجود ہیں، مگر امریکا کے لیے سیاسی حمایت بھی کسی بڑی فوجی مدد سے کم نہیں ہوتی۔اور ویسے بھی امریکا کے پاس جتنے ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے، اُسے کسی تیسرے ملک کی ضرورت بھی نہیں ہے،،، اس لیے میرے خیال ایران کو چاہیے کہ مذاکرات کی طرف آئے کیوں کہ وہ کبھی بھی امریکا کا مقابلہ نہیں کر سکے گا،،، ہاں البتہ وہ اسرائیل کا مقابلہ ضرور کر سکتا ہے، مگر وہ امریکا کے سامنے کسی صورت بھی ٹک نہیں سکتا۔ اور نہ ہی ایران کے ہتھیار اتنے مضبوط ہیں کہ وہ براہ راست امریکا کو نشانہ بنا سکیں،،، اُس کے ہتھیار تو یورپین ممالک تک نہیں وار کر سکتے ،،، جبکہ امریکا تو اُس سے دس ہزار کلومیٹر دور ہے،،، اس لیے امریکا اور ایران کا کوئی مقابلہ نہیں ہے،،، ہاں! ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ ضرور بنا رہا ہے تاکہ وہ اپنے تعیں اس خوش فہمی میں رہ سکے کہ وہ امریکا کا مقابلہ کر رہا ہے۔ نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ گزشتہ روز امریکا کا ایک دستہ اپنے کرنل کو بچانے کے لیے ایران کی فضاﺅں میں 7گھنٹے آپریشن کرتا رہا،،، اور پھر وہ اُسے بچا کر بھی لے گیا،،، یعنی ایران نے امریکہ کے ایف 15 طیارے کو گرانے کا دعویٰ کیا جسے امریکہ نے تسلیم کیا او رپھر ریسکیو آپریشن کے دوران اپنے پائلٹ کو وہاں سے آنے والے چندگھنٹوں میں ریسکیو کر لیا۔ تاہم دوسرے پائلٹ کو 2 دن کی مسلسل تلاش کے بعد گزشتہ روز ریسکیو کیا گیا جس کی اطلاع ٹرمپ کی جانب سے خو دی گئی ، ٹرمپ کا کہناتھا کہ ہم نے اسے حاصل کر لیا! گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج نے تاریخ کے جرات مندانہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک انجام دیا اور ہمارے ایک اہم افسر، جو ایک معزز کرنل بھی ہیں، کو بحفاظت واپس لے آئے ہیں۔یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایران کی بڑی ناکامی ہے، اس سنسنی خیز ریسکیو پر یقینی طور پر ہالی ووڈ میں فلم بنائی جائے گی، اس سے پہلے آرگو جیسی فلم بن چکی ہے جسے آسکر ملا تھا۔ آرگو میں انقلاب ایران کے بعد تہران میں پھنسے امریکی سفارت کاروں کو نکالا گیا تھا، وہ بھی سچی کہانی تھی۔ چلیں! فرض کریں اب اگر ایران امریکا جنگ بڑھتی ہے، اور امریکا کسی طرح سے اپنے فوجیوں کو ایران میں داخل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، اور ایران کے ہمسایہ ممالک جہاں پہلے ہی اُس کے اثر و رسوخ موجود ہیں،،، جیسے عراق ، کویت یا کسی حد تک پاکستان کو وہ راضی کرلیتا ہے کہ یہاں سے زمینی افوج بھجوائی جائیں تو پھر بھی کسی نہ کسی حد تک ایران کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے،،، اور وہاں عراق طرز پر رجیم چینج ہو سکتا ہے۔ اور پھر اُس کے بعدآبنائے ہرمز پر امریکا و دیگر مغربی ملکوں کا قبضہ ہو جائے گا اور پھر ایرانی تیل پر بھی امریکی قبضہ ہوگا،،، اس لیے میرے خیال میںا یران کو چاہیے کہ وہ سمجھداری سے کام لے ،،، جتنی اُس نے طاقت دکھالی ہے، وہ بہت ہے ، اب اسرائیل جیسا دشمن جلدی اُس سے جنگ چھیڑنے والا نہیں ہے۔ عقلمندی یہی ہے کہ اس وقت ایران اپنے تیل کو کیسے بچاتا ہے۔ کیوں کہ اگر کل کلاں ایران کے پاس تیل ہی نہ رہا تو پھر وہ بیچے گا کیا؟ اس لیے یہ کہنا بجا ہو گا کہ جوں جوں وقت گزر رہا ہے ، یہ ایران کے لیے خطرناک ہوگا،،، ایران کی کرنسی پہلے ہی ایک ڈالر کے عوض 15لاکھ سے اوپر جا چکی ہے، اس لیے وہ ڈائیلاگ کر لے، تو یہ بہتر ہوگا،، کیوں کہ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے توسارا ملبہ ایران پر ڈال دیا جائے گا، ،، جس کے بعد دنیا کے سامنے امریکا کو ایک بہانہ مل جائے گا کہ دیکھو ہم نے اس کو مذاکرات کے لیے بہت وقت دیا، یہ نہیں مانا۔ اس لیے ہم نے اب آبنائے ہرمز کسی نہ کسی طرح سے کھلوانا ہے اس لیے ہمیں نہ روکا جائے، یا ہم پر تنقید نہ کی جائے! اور ویسے بھی یہ درست ہے کہ ایران کو اسرائیل اور امریکی جارحیت کے نتیجے میں بے پناہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پڑ رہا ہے، جہاں اس کے سٹریٹیجک اثاثے ، تیل کے ڈپو اور ذخائر، بحری جہاز، جنگی کشتیاں اور دوسرے اثاثے تباہی و بربادی کا شکار ہوئے ہیں وہاں اس کے ہاں بڑی تعداد میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا ہے۔ جس میں ا±س کے سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اس کی عسکری اور سویلین قیادت کے اعلیٰ ترین عہدیدار ، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کے سر براہ بھی شامل ہیں۔ایران نے ان انتہائی قیمتی جانوں کے ضیاع کو برداشت کیا ہے،،، اور مسلسل کر بھی رہے ہیں۔ بہرکیف اگر ایران مذاکرات سے انکار کرتا ہے تو یہ خدشہ موجود ہے کہ امریکا اس کو ایک جواز کے طور پر استعمال کرے گا۔ دنیا کے سامنے یہ بیانیہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ ایران نے سفارتی راستہ اختیار کرنے سے انکار کیا، لہٰذا اب سخت اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مذاکرات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، چاہے وہ مکمل طور پر مخلصانہ نہ بھی ہوں۔اور پھرعالمی سیاست میں طاقت، سفارتکاری اور معیشت تینوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور جو ریاست ان تینوں کو متوازن رکھتی ہے، وہی طویل مدت میں کامیاب ہوتی ہے۔اس لیے ایران کے لیے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ جذبات کے بجائے حکمت کو ترجیح دے، اور ایک ایسی پالیسی اختیار کرے جو نہ صرف اس کے قومی مفادات کا تحفظ کرے بلکہ اسے عالمی تنہائی سے بھی نکال سکے۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جنگیں وقتی فتح تو دے سکتی ہیں، مگر پائیدار کامیابی ہمیشہ مذاکرات اور حکمت عملی سے ہی حاصل ہوتی ہے۔