کیا پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترسنے والا ہے؟

کیا آپ کے علم میں ہے کہ اس وقت بھارت نے ہمارے پانیوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے، کبھی وہ سندھ طاس معاہدہ ختم کرتا ہے، تو کبھی ہمارے دریاﺅں کا رُخ موڑنے کی بات کرتا ہے تو کبھی وہ ایک دم اتنا پانی چھوڑ دیتا ہے کہ ہمیں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور پاکستان کا ایک بڑا حصہ پانی میں ڈوب جاتا ہے،،، شاید بھارت نے پاکستان کے لیے آبی جارحیت کو پہلی ترجیح دے رکھی ہے تاکہ ہم اور خاص طور پر ہمارے کسان پانی کی بوند بوند کو ترس جائیں،،، اور اسی سلسلے میں آج کل بھارت کے میڈیا پر ایک اشتہار بھرپور انداز میں چلایا جا رہا ہے ،جس میں ”چناب۔بیاس لنک ٹنل پراجیکٹ“ کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دریائے چناب سے تقریباً 19 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کا رُخ انڈیا کے بیاس نہری نظام کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔انڈیا نے اس منصوبے کے لیے کمپنیوں سے بولیاں بھی مانگی ہیں۔ انڈیا کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس منصوبے کی تشہیر کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ’انڈیا اب پرانے اصولوں کے تحت نہیں کھیلے گا۔‘خیر اس مذکورہ ٹنل کی لمبائی 8.7کلومیٹر ہوگی، اور اس پر 2620کروڑ بھارتی روپے لاگت آئے گی،،، جبکہ آج کل انڈین سیاستدان بھی اس منصوبے پر بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ پراجیکٹ انڈیا کے قومی مفاد میں ہے اور اس کے ذریعے ملک کو اس کے آبی وسائل پوری طرح سے استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔مزید کہہ رہے ہیں کہ انڈیا کے پانی کو پہلے اس کے لوگوں اور ریاستوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ لہٰذااب اس منصوبے کو لے کر پاکستان کے سیاستدان یا تو دھونس دھمکیوں سے کام لے رہے ہیں کہ ہم یہ کردیں گے، وہ کر دیں گے،،، یا کہا جا رہا ہے کہ بھارت اس منصوبے کو الیکشن اسٹنٹ کے طور پر استعمال کررہا ہے، ،، جس کی تکمیل وہ نہیں کر سکتا،،، لہٰذاسوال یہ ہے کہ 600ارب ڈالر کی دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کے لیے محض 262ارب روپے نکالنا کونسا مشکل ہے،،، اتنے پیسے تو ہم ایک سو ڈیڑھ سو کلومیٹر والی موٹروے پر خرچ کر دیتے ہیں،،، اور اگر یہ منصوبہ انہوں نے شروع کر دیا ، یا اندر کھاتے ٹنل کی کٹائی شروع کر دی تو ہم کیا کریں گے؟ یا ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کیا اس اشتہار کو لے کر یا اس منصوبے کو لے کر ہمارے لوگ بین الاقومی ادارے کے پاس گئے؟ یا کسی نے بین الاقوامی سطح پر احتجاج ریکارڈ کروایا؟ محض وزیر اطلاعات کے احتجاج ریکارڈ کروانے سے کیا ہوگا؟ کیا اس سے بھارت باز آجائے گا؟ ایسا یقینا کبھی نہیںہوگا،،، کیوں کہ اگر یہ بات وزیر اعظم نریندر مودی کے لیول پر کی جا رہی ہے کہ ”ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ پانی کا ایک قطرہ بھی وہاں (پاکستان) نہ جائے۔“ تو یہاں سے بھی اسی لیول کا جواب جانا چاہیے،،، لیکن ہمارے فیصلہ کرنے والے ”مصلحتاََ“ خاموش نظر آرہے ہیں،،، بلکہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کے پانی پر ہاتھ ڈالنے والے کا ہاتھ کاٹ دینگے، پاکستان کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی انحصار پانی اور زراعت پر ہے، اس لیے ملک اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کاسمجھوتہ نہیں کریگا، پاکستان بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے موقف کو موثر انداز میں اجاگر کر رہا ہے اور آئندہ عالمی کانفرنس میں انڈس واٹر ٹریٹی، بین الاقوامی قوانین اور زیریں علاقوں میں واقع ممالک کے آبی حقوق کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا جائیگا، ،، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ باتیں محض بیانات تک ہی محدود رہیں گی یا اس سے آگے بھی کچھ کیا جائے گا؟ کیوں کہ باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان بھارت کو چار مرتبہ لکھ چکا ہے کہ پانی کا مسئلہ حل کیا جائے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی دیکھیں کہ اُس نے ایک بار بھی جواب دینا مناسب نہیں سمجھا! اور پھر ابھی تک ہم نے بھارت کا کیا ہی کر لیا ہے کہ جس نے پچھلے سال ہی سندھ طاس معاہدے کو اپنے تئیں معطل کر دیا تھا،،، اور اسلام آباد میں خطرے کی گھنٹیاں بج اُٹھیں تھیں،،، پھر افغانستان نے بھی کنڑ دریا پر ایک بڑے ڈیم کی تیز رفتار تعمیر کے منصوبے کی تصدیق کر دی ہے، واضح رہے کہ یہ وہی دریا ہے جو کابل کا اہم معاون ہے اور جس کا بہاو¿ پاکستان میں سندھ کے نظام میں شامل ہوتا ہے۔ بہرحال یہ دونوں اقدامات جنوبی ایشیا میں ہائیڈرو پالیٹکس کے ایک نئے اور نہایت تشویشناک دور کی نشاندہی کرتے ہیں، ایک ایسا دور جس میں پانی اب صرف ایک مشترکہ وسیلہ نہیں رہا بلکہ اسے ممکنہ ہتھیار بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اب پاکستان، جس کی بقا کا دار و مدار سندھ بیسن پر ہے، ایک وجودی خطرے سے دوچار ہے۔ کیا وہ اپنا پانی بچا سکتا ہے قبل اس کے کہ اسے روکا جائے؟ اور ایسے خطے میں کس قسم کا دفاع معنی رکھتا ہے جو پہلے ہی تنازعات کی زد میں ہے؟ اگرچہ پاکستان، زیریں سطحی ریاست ہونے کے باوجود، 19 ستمبر 1960 کو عالمی بینک اور امریکہ کے مشورے پر سندھ طاس معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور ہوا، لیکن اس عمل میں اسے تین مشرقی دریاو¿ں راوی، بیاس اور ستلج کے اپنے قدرتی حقوق سے دستبردار ہونا پڑا۔دنیا نے اسے ”مثالی معاہدہ“ کہا، مگر حقیقت میں یہ پاکستان کی قدرتی ملکیت کا ایک اسٹریٹجک ترکِ دعویٰ تھا۔اس معاہدے نے مشرقی دریا بھارت اور مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کو دیے۔ یہ معاہدہ 1965، 1971 اور 1999 کی جنگوں سمیت بے شمار بحرانوں سے بچ نکلا۔ لیکن اپریل 2025 میں بھارت نے پہلگام میں ایک سیکیورٹی واقعے کے بعد اچانک اسے ”معطل“ قرار دے دیا۔ پاکستان نے اسے ”فالس فلیگ“ قرار دیا اور خبردار کیا کہ سندھ کے پانیوں سے چھیڑ چھاڑ ”جنگی اقدام“ تصور ہو گی۔ لیکن ہماری دھمکیاں کسی کام نہ آئیں اور بھارت نے ان پر سینکڑوںڈیم بنا لئے ہیں، جو بھارت کے لئے بجلی پیدا کر رہے ہیں۔حالانکہ پاکستان میں بھی ایسے کئی بڑے پراجیکٹس شروع کیے جا سکتے ہیں مگر ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ مافیا اور کرائے پر لیے گئے مہنگے بجلی گھروں کا ہے جن کے ہوتے ہوئے اس ملک میں کبھی آبی ذخائر پر کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔ اسی لیے اس سلسلے میںکوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ جب بھی اِس سلسلے میں کسی نے نشاندہی کی تو کالا باغ ڈیم کا شور مچ گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں کالاباغ ڈیم کے مخالفین نے قومی معیشت کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا نقصان کالا باغ ڈیم کے حامیوں نے پہنچایا ہے۔ کالاباغ ڈیم کو جواز بنا کر بجلی پیدا کرنے کا کوئی دوسرا بڑا منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ پانی ذخیرہ کرنے کے بہت سے دوسرے منصوبے بنائے جا سکتے تھے، مگرکالاباغ ڈیم کے نعرے لگا کر ان منصوبوں کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ پنجاب میں کوئی شخص کالاباغ ڈیم کے خلاف بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے اور دوسرے صوبوں میں اس کے حق میں آواز بلند نہیں ہوتی۔ اگر ہم کالاباغ ڈیم بنانا چاہتے ہیں اور جو یقیناًبنانا چاہئے تو اس کے لئے ہمیں دوسرے صوبوں کی بات سننا ہو گی۔اگر اہل سندھ یہ کہتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم سے دریائے سندھ کے بہاو¿ میں کمی واقع ہو گی اور ان کے کچے کے علاقوں کی زرعی معیشت متاثر ہو گی اور جب سمندر میں پانی نہیں گرے گا، تو بحیرہ عرب کا پانی دریائے سندھ میں داخل ہو جائے گا ،جس سے ٹھٹھہ اور بدین کے اضلاع کی زمینیں ناقابلِ کاشت ہو جائیں گی تو ان کی اس بات کو توجہ سے سننے کی ضرورت ہے۔بحیرہ عرب کی ایسی تباہ کاریوں کو روکنے کے لئے سمندر کے ساتھ ایک دیوار بنانے کا منصوبہ بھی زیربحث رہا ہے، مگر اس پر کوئی عملی اقدام نہیں ہوا۔ بہرحال کچھ عرصہ پہلے ارسا نے سینٹ کے پالیسی فورم کو بتایا تھا کہ د±نیا بھر میں دستیاب پانی کا 40 فیصد تک ذخیرہ کیا جاتا ہے، مگر ہماری یہ صلاحیت 10فیصد سے زائد نہیں ہے اور لمحہ فکریہ تو یہ بھی ہے کہ آبی ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ 21ارب ڈالر مالیت کا پانی سمندر کی نذر ہو جاتا ہے۔ ارسا کے حکام کے مطابق اس ضائع ہونے والے پانی کو روکنے کے لئے ہمیں منگلا ڈیم جیسے تین بڑے ڈیم بنانا ہوں گے۔ پانی کا مسئلہ پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ اس پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، لیکن کیا ہم کو واقعی اس مسئلے کی سنگینی کا ادراک ہے اور کیا ہم صرف الزامات کے کھیل کے ذریعے اس کے حل کے لئے کوشاں ہیں۔ اس وقت بھارت پاکستان کا پانی روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، لیکن اُس کے ٹنل پراجیکٹس دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں پاکستان کو یقینا ٹف ٹائم دے سکتا ہے،،، اس کے لیے وہ یقینا اربوں ڈالر خرچ کرنے میں بھی نہیں ہچکچائے گا۔ بہرکیف ہم خواہ ایٹمی قوت ہیں، ہم نے خواہ گزشتہ سال مئی کی جنگ جیتی ہے، ہم نے خواہ دنیا کی ثالثی کروائی ہے،،، لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ رومانوی تصورات سے حقیقت نہیں بدلتی۔ پاکستان پہلے ہی 50 فیصد سے زائد زرعی ضرورت اور 70 فیصد شہری ضرورت زیرِ زمین پانی سے پوری کرتا ہے اور یہ نظام تیزی سے دباو¿ میں ہے کیوں کہ پانی کی زیادہ مقدار پمپ ہو رہی ہے، سطح آب نیچے جا رہی ہے جس میں نمکین پانی داخل رہا ہے، آرسینک اور نائٹریٹ سے آلودگی بڑھ رہی ہے اور ری چارج بھی کم ہو رہا ہے۔ اگر ری چارج مینجمنٹ، ٹیوب ویلز کا کنٹرول، جدید آبپاشی، فلڈ اسپریڈنگ بیسنز، اور پانی کا سخت حساب کتاب نہ کیا گیا تو یہ ”چھپا ہوا سمندر“ جلد ہی سراب بن سکتا ہے۔اور پھر پاکستان اپنے سالانہ پانی کا صرف 10 فیصد ہی ذخیرہ کر پاتا ہے۔ نہری نظام میں 30 فیصد سے زائد پانی ضائع ہو جاتا ہے، لاہور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہر ہر سال مزید گہرے ایکویفر تک بور کر رہے ہیں، چاول اور گنے جیسی فصلیں اب بھی زیرِ آب پٹیوں میں اگائی جاتی ہیں، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ 1951میں فی کس پانی 5000 مکعب میٹر تھا، آج 900 مکعب میٹر سے بھی کم ”شدید قلت“ کی حد سے نیچے پہنچ چکا ہے۔ ایک آبی افسر کے مطابق ”ہمارا سب سے بڑا ڈیم ہماری نااہلی ہے اور یہ بھی رس رہا ہے۔“ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو جز وقتی نہیں بلکہ کل وقتی پالیسی اپنانی ہو گی۔ اس کے لیے سب سے پہلے سندھ طاس معاہدہ بحال کروانا ضروری ہے، دوسرا پاکستان کے اپنے حصے کے دریاﺅں پر بھارت کو ڈیم بنانے سے روکنا ہے،،، تیسرا ہمیں بارش کے پانی کو اسٹور کرنے کی حکمت عملی بنانی ہے،،، کیوں کہ جنوبی ایشیا میں ہائیڈرو پالیٹکس ایک سخت مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ پاکستان کے لیے نجات نہ تو زور دار بیانات میں ہے اور نہ ہی عجلت میں بننے والے میگا پراجیکٹس میں۔ نجات ہے تو نظم و ضبط پر مبنی پانی کے انتظام میں، دور اندیش سفارت کاری اور زیرِ زمین اور سطحی دونوں اقسام کے پانی میں اسٹرٹیجک سرمایہ کاری میں۔لہٰذااگر ایسا نہ کیا گیا تو بھارت ہمارے حصے کے پانی کو مزید گھیرے میں لے لے گا اور ہم منہ تکتے رہ جائےں گے!