11اگست : اقلیتوں کا عالمی دن اور پاکستا ن !

آج یعنی 11 اگست کا دن اقلیتوں کے لیے عالمی دن ہے،،، ایک تو ہم اس دن کو اقلیتوں کے قومی دن کے طور پر مناتے ہیں اور دوسرا 1947 میں آج ہی کے دن پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا تھا۔ جی ہاں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس ، قیام پاکستا ن سے کچھ روز قبل گیارہ اگست کے دن کراچی میں ہوا تھا اور اسی اجلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کا قائد (صدر) چنا گیا تھا۔ قیام پاکستان سے تین روز قبل ہونے والے اس اجلاس میں قائد اعظم کو اسمبلی کا قائد چننے کے علاوہ بھی اہم ترین فیصلے ہوئے۔ ہمارا قومی پرچم منظور کیا گیا۔ قانون ساز اسمبلی کا سب سے بڑا مقصد تو آئین پاکستان کی تیاری تھا، جس کا آغاز اس پہلے اجلاس میں کر دیا گیا۔ویسے تو ہم اس دن کو اقلیتوں کے دن کے طور پر مناتے ہیں، لیکن ان کے لیے وہ مقاصد آج تک ہم حاصل نہیں کر پائے جس کا ہمیشہ سے اعادہ کیا جاتا ہے،،، اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کے بارے میں جاننا ہوتو صرف اتنا جان لیں کہ جب پاکستان بنا تو 23فیصد غیر مسلم یہاں بستے تھے،،، جو کم ہوتے ہوتے محض 3.5فیصد رہ گئے ہیں،،، اسی دن کی مناسبت سے قائداعظم محمد علی جناح ؒنے پہلی دستور ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ: ”آپ آزاد ہیں، آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو اس کا ریاستی امور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ ایک اور موقع پر بانی پاکستان نے فرمایاتھا :”اقلیتوں کو بلاامتیاز ذات پات، رنگ، مذہب یا عقیدہ ہر لحاظ سے پاکستان کا شہری سمجھا جائے گااور انہیں ان کے تمام حقوق ،مراعات اور شہریت کے حقوق حاصل ہوں گے“۔ یہ تقاریر اُنہوں نے ایسے ہی نہیں کردی تھیں، بلکہ اُنہوں نے پاکستان بننے کے فوراََ بعد اقلیتوں کے ساتھ رکھے گئے ناروا سلوک کی نشاندہی کر دی تھی۔ مطلب! حالات تب بھی اقلیتوں کے لیے مثالی نہیں تھے اور آج بھی مثالی نہیں ہیں،،، ہمیں پاکستان میں رہتے ہوئے شاید یہ بات زیادہ عجیب نہیں لگتی مگر دنیا ہمیں جس زاویے سے دیکھتی ہے وہ بہت خطرناک ہے۔ وہ ہمیں شدت پسند، انتہا پسند، دقیق نظریے کے حامل لوگ، تنگ نظر لوگ، معتصب افراد، کم ہمت و کم حوصلے والے افراد، بیزار لوگ اور ناجانے کن کن القابات سے پکارتے ہیں۔ اور پھر تب انتہا ہو جاتی ہے جب ہمارے ہاں سے کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے کہ فلاں مذہب کے افراد کی پوری بستی کو آگ لگا دی گئی، فلاں غیر مسلم شخص کو جلا دیا گیا، فلاںخاتون کو مذہب کے فلاں مقدمے کے تحت گرفتار کر لیا گیا وغیرہ ۔ اور پھر ان افراد پر بغیر کسی سنجیدہ تفتیش کے عوامی دباﺅ کو مدنظر رکھ کر سخت سے سخت سزا کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ یقین مانیں میرے ذاتی تجربے کی روشنی میں بیرون ملک پاکستانی اس سے جتنا متاثر ہوتے ہیں اُس کا اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ وہاں اُن پر جملے کسے جاتے ہیں ،،، میرا بیٹا جو امریکا میں زیر تعلیم رہا ہے ، وہ اچھا Debater ہے، بہترین نیوز سینس رکھتا ہے، اور مسائل کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتا ہے۔وہ بھی بسا اوقات اپنے دیگر ساتھیوں کے سامنے اس حوالے سے کئی بار خاموش رہا ہے کہ ہم بطور پاکستانی سب کو آزادی سے کیوں نہیں جینے دیتے؟ اُنہیں اُن کے حقوق سے محروم کیوں کرتے ہیں وغیرہ ۔اگر کسی گلی محلے میں کسی نے نفرت پھیلانے کے لیے یا کسی سے ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے کوئی سازش رچائی ہے تو ہم اُس کی تحقیق نہیں کرتے۔ حالانکہ قرآن پاک کی آیت مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو اگر کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کوئی نقصان پہنچا بیٹھو کسی قوم کوبے علمی (ونادانی)کی بناءپر تو پھر اس کے نتیجے میں تمہیں خود اپنے کیے پر شرمندگی اٹھانی پڑے۔ لہٰذااگر قرآن پاک میں درج ہے کہ ہمیں خبر پھیلنے سے پہلے تحقیق کر لینی چاہیے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے، اس پر عوام کو ایجوکیٹ کرنے کی ضرورت ہے، اُنہیں سینس اور کامن سینس کا مطلب سمجھانے کی ضرورت ہے، ہمارے فیصلہ کرنے والوں کو اگر فرصت ملے تو اس پر ضرور سوچیں ، بلکہ یہ بھی سوچیں کہ دنیا میں ہم ایسے واقعات سے جہاں بدنام ہو رہے ہیں،وہی اقلتیں بھی ہم سے متنفر ہو رہی ہیں۔ تبھی کوئی ہمارے ملک میں انویسٹمنٹ کرنے کو تیار نہیں ۔ کوئی معاشی ادارہ لوگوں کو ہمارے ملک میں آنے کی ترغیب نہیں دے رہا۔ جو ملٹی نیشنل کمپنیاں یہاں کا م کر رہی ہیں ۔ وہ بھی یہاں سے بھاگ رہی ہیں۔ لہٰذااقلیتوں کے حوالے سے ہم کشادہ ذہن کے ساتھ کام کرکے یہ داغ دھو سکتے ہیں۔ لیکن فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ اس وقت کم و بیش 2کروڑ پاکستانی ملک سے باہر رہ رہے ہیں اور 22لاکھ پاکستانی ہر سال ملک چھوڑ رہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اُنہیں یہ مسائل فیس نہیں کرنا پڑتے ہوں گے ۔ اور یہ وہی پاکستانی ہیں جو ملک میں ہر سال اربوں ڈالر بھیجتے ہیں ۔ لہٰذاہمیں اُن کا ہی خیال کر لینا چاہیے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اقلیتوں کے مسائل کو ٹرانسپیرنٹ کریں،اُنہیں وہ حقوق دیں جس کی ڈیمانڈ ہم دوسرے ملکوں سے کرتے ہیں، ہم اُنہیں وہ حقوق دیں جن کی ہم مسلمانوں کے لیے دوسرے ملکوں سے ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے پاکستان کا یقینا مثبت چہرہ سامنے آئے گا۔ ہمیں اس سکڑے ہوئے بازو میں جان ڈالنی ہے، یہی ہمارا مشن ہونا چاہیے اور یہی ہماری پہچان ہونی چاہیے تبھی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ورنہ دنیا حقیقت میں ہمیں تنگ نظر کا تنگ نظر ہی سمجھے گی اور ہم کبھی بھی نہیں اُٹھ سکیں گے۔ اور یونہی رسوا ہوتے رہیں گے! بہرحال 11 اگست یوم اقلیت حکومتی پارٹی کے ورکروں کا مخصوص روٹ پر حکومتی ٹرانسپورٹ پر چکر لگانے، چند این جی اوز کے پروگراموں میں مخصوص افراد اور وزرا کی حاضری کا نام یوم اقلیت نہیں ہے، بلکہ انہیں تحفظ دینے کے لیے عملی اقدامات کرنے کا عالمی دن ہے،،، پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کہتی ہیںکہ ”اقلیتیں میرے سر کا تاج ہیں“ لیکن اُن سے بھی یہ سوال بنتا ہے کہ کیا راولپنڈی ڈولفن فورس کی 9 گولیاں کا شکار ہونے والا علیان جانسن بھی سر کا تاج تھا۔ کیا پتوکی میں کولر سے پانی پینے کی سزا گلا کاٹ کر قتل ہونے والا غریب مسیحی بھٹہ مزدور بھی سر کا تاج تھا؟ کیا پسرور میں دکاندار کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والا غریب سینٹری ورکر نعمان مسیح بھی سر کا تاج تھا؟ کیا چرچ کی بیٹری چور ہونے کی شکایت کرنے کی وجہ سے گھر کو آگ لگوانے والا غریب ارشد مسیح بھی سر کا تاج تھا؟ الغرض آج تک اقلیتوں کو مساوی حقوق تو درکنار ان کے لیے مخصوص 5 فیصد جاب کوٹہ، تعلیمی کوٹہ پر عملدرآمد ہی نہیں ہو رہا اور ساتھ ہی ان کے سروں پر مخصوص سیٹوں والے نمائندگان ٹھونس دیے گئے جو صرف حکومتی بیانیہ پر کام کرتے اور جن کی نمائندگی کرنی ہے ان سے ملاقات کے لیے کتراتے ہیں، جبکہ 2024 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو الیکشن کمیشن نے پارٹی علامت سے محروم کر دیا، اس لیے وہ آزاد امیدوار کے طور پر لڑے اور بڑی تعداد میں نشستیں جیتیں۔ مخصوص نشستیں (خواتین اور اقلیتوں کی) صرف سیاسی جماعتوں کو ان کی عمومی نشستوں کے تناسب سے ملتی ہیں۔ پی ٹی آئی نے ان آزاد ممبران کو سنی اتحاد کونسل (SIC) میں شامل کر کے مخصوص نشستیں لینے کی کوشش کی۔ الیکشن کمیشن نے ابتدا میں انہیں مسترد کر دیا اور نشستیں دیگر جماعتوں (پی ایم ایل این، پی پی پی، جے یو آئی ایف وغیرہ) کو دے دیں۔ جولائی 2024 میں سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے پی ٹی آئی/SIC کے حق میں فیصلہ دیا۔ بعد میں 2025 میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے اس فیصلے کا جائزہ لیا اور اسے الٹ دیا، جس کے نتیجے میں مخصوص نشستیں دوبارہ دیگر جماعتوں کو دے دی گئیں۔موجودہ صورتحال میں اقلیتی مخصوص نشستوں پر بھی وہی تنازعہ چلتا رہا جو خواتین کی نشستوں پر تھا۔ کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت کے باوجود مخصوص نشستوں سے محرومی نے بہت سے لوگوں میں یہ تاثر پیدا کیا کہ نظام منتخب اکثریت کے بجائے دیگر عوامل سے متاثر ہو رہا ہے۔ یہ معاملہ اب بھی سیاسی اور قانونی بحث کا حصہ ہے، اور اقلیتی برادریوں کے لیے بھی اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی نمائندگی پارٹی کے داخلی فیصلوں اور عدالتی نتائج پر منحصر رہتی ہے، نہ کہ براہ راست ان کے ووٹوں پر۔ اگست کو یومِ اقلیت قرار دینے کی تحریک میں شہباز بھٹی کا مرکزی کردار تھا۔ انہوں نے قائداعظم کی 11 اگست 1947 کی تقریر کو بنیاد بنا کر اس دن کو اقلیتوں کے حقوق کی یاد میں منانے کی تجویز دی۔ 2009 میں پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت (صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی) نے اسے سرکاری طور پر منظور کیا۔ اس وقت پیپلز پارٹی وفاق میں مضبوط قوت تھی۔آج پیپلز پارٹی زیادہ تر سندھ تک محدود ہے، جبکہ قومی سطح پر سیاسی منظر نامہ بدل چکا ہے۔ لہٰذا قومی اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان کی قرارداد کے ذریعہ 11 اگست یوم اقلیت کو ختم کر کے 14 اگست کا دن ہی قومی یکجہتی، آزادی اور مشاعروں، مباحثوں کا دن مقرر کیا جائے۔ حکومتیں بار بار اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، 5 فیصد جاب کوٹے کے نفاذ، اور عبادت گاہوں کی حفاظت کا وعدہ کرتی ہیں۔ تاہم کوٹے پر عملدرآمد کمزور ہے۔ ہزاروں آسامیاں خالی پڑی رہتی ہیں اور اقلیتی ملازمین زیادہ تر نچلے گریڈز تک محدود ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے سپیشل کورٹس کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ تاکہ جو اقلیتیں تین ساڑھے تین فیصد رہ گئی ہیں،،، اُن پر رحم کھایا جائے،،، اُن کو بچایا جائے۔ اور اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو پھر مہربانی فرما کہ پاکستانی پرچم میں سے سفید رنگ جو اقلیتوں کی نشاندہی کرتا ہے، اُسے نکال دینا چاہیے، اور اُس کی جگہ کالا رنگ یا لال رنگ شامل کرنا چاہیے جس کا مطلب کہ یہاں پر خطرات ہیں۔ لہٰذایہ ملک صرف مسلمانوں کا ہے،،، یہاں غیر مسلموں کو رہنے کا کوئی حق نہیں ہے!