”کرکٹ کا سوال ہے! “

قومیں بھی لشکروں کی طرح ہوتی ہیں؛ جب حوصلہ بلند ہو تو مشکل راستے بھی آسان دکھائی دیتے ہیں، لیکن جب مورال گر جائے تو معمولی رکاوٹ بھی پہاڑ بن جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ شکست ہمیشہ میدان میں نہیں ہوتی، بعض اوقات شکست انسان کے دل اور ذہن میں پہلے واقع ہو جاتی ہے،،، یہی کچھ آج کل ہمارے کھیل کے میدانوں میں ہو رہا ہے،،، ہاکی لے لیں، کرکٹ کو دیکھ لیں یا کوئی بھی دوسرا تیسرا کھیل دیکھ لیں،،، ہم ہر طرف سے شکست خوردہ نظر آرہے ہیں،،، چلیں ! مان لیا کہ شکست بھی اُنہیں ہوتی ہے جو میدان میں اُترتے ہیں ، لیکن میدان میں جب ”پرچیاں“ اُتاری جائیں گی تو پھر مجموعی طور پر قوم کا مورال ڈاﺅن ہوگا،،، قوم کے دل شکست کھا جائیں گے،،، اور ہم جب میدان میں اُتریں گے تو قوم کے لیے نہیں بلکہ اُن کے لیے کھیلیں گے، جنہوں نے اُنہیں میدان تک پہنچایا ہے،،، ورنہ اگر مورال بلند ہوتو پھر آپ مقابلہ کرتے ہیں،،، نہیں یقین تو تاریخ اسلام ہی کو دیکھ لیں کہ جنگ اُحد کے موقع پر مسلمانوں کو ایک مشکل مرحلے کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی کامیابی کے بعد حالات اچانک بدل گئے، جس سے مسلمانوں میں پریشانی اور اضطراب پیدا ہوا۔ قرآن نے بھی اس موقع پر اہلِ ایمان کو کمزوری اور غم کے باوجود ثابت قدم رہنے کی تلقین کی۔یعنی جنگِ اُحد کے فوراً بعد مسلمان شدید آزمائش سے گزر چکے تھے۔ بہت سے صحابہؓ شہید ہوئے، کئی زخمی تھے اور دشمن کے دوبارہ حملے کا خدشہ موجود تھا۔ ایسے وقت میں نبی کریم نے مسلمانوں کو دوبارہ مقابلے کے لیے تیار ہونے کا حکم دیا۔ جو لوگ اُحد میں شریک ہوئے تھے، انہیں خاص طور پر ساتھ چلنے کے لیے کہا گیا۔ زخمی صحابہؓ بھی اس قافلے میں شامل ہوئے۔ اس اقدام نے یہ پیغام دیا کہ اُحد کے نقصان نے مسلمانوں کا حوصلہ ختم نہیں کیا۔اور بعد ازاں مسلمانوں نے بے شمار فتوحات حاصل کیں۔ بہرحال اگر موجودہ تناظر کی بات کی جائے تو اس وقت پاکستان کی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کا دورہ کر رہی ہے، اور تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیل رہی ہے،،، جن میں سے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میں پاکستان بری طرح ہار کر نویں نمبر پر چلا گیا ہے،،، حالانکہ وطن عزیز چند سال پہلے نمبر ون پوزیشن پر برقرار تھا،،، لیکن پھر موجودہ سیٹ اپ آگیا اور پھر سب کچھ برباد ہوگیا۔ خیر بات ہو رہی تھی کرکٹ ٹیم کے دورہ انگلینڈ کی تو جب ٹیم پہلا ٹیسٹ یک طرفہ ہاری تھی تو انہیں اُسی وقت اگلے مقابلے کے لیے تیار کرنا چاہیے تھا،،، لیکن اگلے ٹیسٹ میں کرکٹ کم اور سیاست زیادہ نظر آئی،،، آپ اوپنر بیٹسمین امام الحق کی حرکات کو چیک کرلیں کہ موصوف اس وقت پوری دنیا کے کرکٹ حلقوں میں موضوع بحث ہیں،،، ہوا کچھ یوں کہ امام نے پہلے دن میچ کے دوران کچھ وقت کے لیے گراو¿نڈ سے باہر جانے کی درخواست کی اور سلمان آغا کو فیلڈنگ کے لیے بھیجا گیا۔ جب وہ کافی دیر تک واپس نہیں آئے تو بابر کو بتایا گیا کہ وہ ٹوائلٹ گئے ہیں اور ٹیم ڈاکٹر کے ٹیسٹ کرنے کے باوجود کوئی وجہ سامنے نہیں آئی۔ کھانے کے وقفے کے بعد امپائر کو مطلع کیا گیا اور ٹیم ڈاکٹر کے مشورے پر امام کو قریبی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کے ایکس رے اور دیگر ٹیسٹ کیے گئے لیکن پھر بھی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی۔ جب پاکستان کی بیٹنگ شروع ہوئی تو امام نے بیٹنگ کے لیے جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اٹھنے کے قابل نہیں ہیں،جبکہ اگلی اننگز میں بھی موصوف بیٹنگ کرنے نہ آئے تو چوتھے دن اُنہیں گراﺅنڈ میں لمبی پٹی باندھ کر لنگڑاتے ہوئے دیکھا گیا،،، جس پر کمنٹیٹر کرس براڈ تو پھٹ پڑے کہ یہ صرف شائقین کو دکھانے کے لیے باہر آئے ہیں،،، اگر نیٹ پریکٹس کرنی تھی تو ”ان ڈور“ کرتے،،، وغیرہ وغیرہ ،،، اور پھر تب تو انتہا ہو گئی جب موصوف پاکستان میں تشریف لائے اور ائیر پورٹ پر بغیر لنگڑائے اور منہ چھپائے گھر تشریف لے گئے،،، مطلب! آپ قوم کے لیے اس قدر جھوٹ بول سکتے ہیں،،، کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا؟ کیا آپ کو حب الوطنی کا درس نہیں دیا گیا؟ یا بطور قوم ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں کہ ملک کے لیے کچھ کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔۔۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ہم بطور قوم اس قدر کرپٹ ہو چکے ہیں کہ ہمیں ملک کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے،،، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں،،، خیر پی سی بی اس پر ایکشن لے رہا ہے،،، اور خبر ہے کہ موصوف پر ایک دو سال کی پابندی بھی لگ سکتی ہے،،، لیکن کیا ان کھلاڑیوں کی تربیت میں حب الوطنی شامل نہیں ہونی چاہیے؟ چلیں حب الوطنی کو چھوڑیںآپ اپنے سینئر کرکٹرز کو ہی پڑھ لیتے کہ سلیم ملک جو ویسٹ انڈیز کے سامنے زخمی حالت میں نکل آیا تھا، 2009 کا وہ سڈنی میں آسٹریلیا جیسی بولنگ کے سامنے گریم اسمتھ والا سین یاد نہیں ،،،یا وہ ایشز میں لنگڑاتا ناتھن لیون جو بیساکھیوں کے سہارے پر تھا لیکن نمبر آنے پر لنگڑاتا ہوا سیدھا میدان میں آیا جس کا استقبال پورے لارڈز نے کھڑے ہو کر کیا تھا، ،،وہ ابھی پچھلے سال والا سین جب کرس ووکس ایک ہاتھ سے بلا پکڑ کر بھارت کے سامنے اترا تھا۔حقیقت میں وہ کرکٹرز تھے اور ہیں اور لگتا ہے موجودہ کرکٹرز کاروباری لوگ اور شخصیات ہیں، انہوں نے خود کو بنانا ہے ٹیم اور کام کی کوئی فکر نہیں۔بہرحال ہمیشہ قیادت قوم کو بحرانوں سے نکالتی ہے،،، لیکن وطن عزیز میں قیادت یا تو جیلوں میں قید ہے، یا پابندیوں کی نذر ہوچکی ہے،،، اور رہی بات پی سی بی کی تو اس وقت جز وقتی چیئرمین محسن نقوی پی سی بی کی قیادت کر رہے ہیں،،، اور جب سے موصوف آئے ہیں کرکٹ کو چار کیا چار سو چاند لگ چکے ہیں،،، حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے کہ اُن کے اختیار میں کچھ نہیں ہے،،، بلکہ میرے خیال میں پاکستان میں وہ دوسری یا تیسری طاقتور شخصیت مانے جاتے ہیں،،، لہٰذااُن سے گزارش ہے کہ اللہ کا واسطہ لے لیں، اور یہ عہدہ چھوڑ دیں۔ اور ایسے لوگوں کو لے آئیں جو کرکٹ کے بارے میں جانتے ہوں،،، دنیا میں کہیں وزیر داخلہ یاسیاسی لوگ کرکٹ کو نہیں چلا رہے،،، بلکہ یہ کام صرف پاکستان میں ہی ہو رہا ہے،،، یہ میں اپنے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے کہہ رہا ہوں جو ہاکی سے دور تو ہی چکے ہیں،،، لہٰذااب اُنہیں کرکٹ سے دور بھی نہ کریں،،، کیوں کہ عوام کا اس کھیل کے ساتھ جنون اور عشق جڑا ہے،،، اور اگر آپ کے تجربے مسلسل ناکام ہو رہے ہیں تو کم از کم ہمسایہ ملک بھارت سے ہی کچھ سیکھ لیں،،، جہاں ٹنڈولکر کا بیٹا صرف اسی لیے قومی ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکا کہ وہ معیار پر پورا نہیں اُتر رہا،،، اسی لیے وہ ٹیم ہر فارمیٹ میں دنیا کی نمبر ون ٹیم بن چکی ہے،،، یعنی بھارت کی کرکٹ 2007کے بعد سے آگے گئی ہے جب بھارتی کرکٹ بورڈ نے مہندر سنگھ دھونی کو کپتان بنایا جو ایک جارحانہ سوچ والے کپتان تھے، لیکن اُس کھلاڑی نے ہر فارمیٹ کا کپ بھارت کے نام کیا،،، اور بھارت آج بھی فتوحات اپنے نام کر رہا ہے،،، اور مسلسل کر رہا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ہم جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے دنیا میں 103نمبر پر ہیں۔ باقی کھیلیں تو بہت دور ہیں، ہمیںتوقومی کھیل ہاکی میں ورلڈ کپ یا چمپیئن شپ کھیلنے کے لیے کوالیفائی کرنا پڑتا ہے، اور اُس میں سے بھی ہم آخری نمبروں پر آتے ہیں،،،حالیہ ورلڈ کپ میں ہم نے 11ویں پوزیشن کا میچ کھیلا تھا،،، سکوائش میں ہم ورلڈ چمپئن تھے، آج ہمارا کہیں نام نہیں ہے، سنوکر میں ہم پیچھے جا چکے ہیں،،، کیوں کہ ہم نے اپنا تمام تر فوکس کرکٹ پر کر لیا تھا، لیکن افسوسناک خبر یہ ہے کہ ہم اس کھیل میں بھی ٹاپ رینکنگ سے آﺅٹ ہو چکے ہیں اور بنگلہ دیش جیسے ممالک جنہیں ہم نے بیٹ پکڑنا سکھایا اور ہم انٹرنیشنل کرکٹ میں لے کر آئے، وہ ہمیں کلین سویپ کر رہا ہے،،، اور پھر یہی نہیں بلکہ ہم لگاتار 6،7سیریز ہار چکے ہیں،،، اور پھر یہ حال صرف کرکٹ کا نہیں بلکہ ہر محکمے ، ہر وزارت ، اورہر ادارے کا یہی حال ہے،،، حالانکہ ہم نے بہت کوشش کی کہ تلاش کیا جائے کہ ہم شاید کسی ڈیپارٹمنٹ میں بہتری کی جانب گئے ہیں، لیکن کوئی ادارہ ہمیں ایسا نہ مل سکا جس پر فخر کیا جا سکتا، ،، ہر ہر محکمے میں تباہی کی ایک سے بڑھ کر ایک داستانیں رقم ہو رہی ہیں،،، بلکہ ہمارے کرکٹ بورڈ نے بڑی مہارت کے ساتھ،،، اپنے سے کمزور ترین ٹیموں کے ساتھ میچ رکھے ، تاکہ ہم جیت سکیں مگر خدا کی پناہ کہ ہم کامیاب ہو جاتے،،، اور کامیاب ہوتے بھی کیسے جب آپ کا پورا سسٹم ہی کرپٹ اور سیاست زدہ ہو،،، بہرکیف اگر سرکار عوام کے دکھوں کا مداوا کرنا چاہتی ہے ، اُنہیں دہشت گردی سے دور رکھنا چاہتی ہے، اُنہیں ایک اچھا شہری بنانا چاہتی ہے تو تو اُن کی انٹرٹینمنٹ کا بھی خیال رکھے،،، اس کے لیے جو قابل ترین لوگ ہیں اُنہیں اس کام میں لگانا چاہیے،،، یعنی ایک بندے سے وہی کام لینا چاہیے،، جس کا وہ ماہر ہے،،، یعنی پی سی بی کا چیئرمین ایسے بندے کو لگائیں جس کی کرکٹ کے ساتھ حد درجے کی واقفیت ہو، اُس نے کرکٹ کھیلی ہو، ساتھ اُس نے تربیت لی ہو، اس شعبے میں مار کھائی ہو، ،، یا کوئی ریسرچ کی ہو،،، لیکن اگرآپ کسی سیاستدان کو اس عہدے پر لگا دیں گے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ پی سی بی کو میرٹ پر چلائے گا،،، یہ ایسے ہی ہے جیسے گزشتہ سال جب بھارت کے ساتھ مقابلے میں کسی کھلاڑی یا اداکار کو آرمی چیف لگا دیتے تو کیا وہ ایسے مقابلہ کرتا جیسے ہمارے چیفس نے کیا،،، یا ہم جنگی طیارے اداکار فہد مصطفی کو دیے دیتے یا مصطفی قریشی صاحب کو دے دیتے تو کیا وہ بھارت کے طیارے گرا سکتے تھے؟ کبھی نہیں! کیوں کہ یہ اُن کا کام نہیں تھا،،، ان کا کام اداکاری کرنا ہے،،، جنگیں کرنا نہیںہے،،، لہٰذافیصلہ کرنے والوں کے آگے صرف کرکٹ کا سوال ہے بابا! .... یا تو معاف کردیں یا سسٹم بنادیں جو ”کولیپش“ نہ ہوسکے!