نشے میں چُور بدمست حکمران اور جھوٹے کیسز!

کہتے ہیں نشوں میں سب سے مست اور بد مست نشہ” اقتدار“ کا ہے۔ جب تک یہ نشہ حاصل نہ ہو، بندہ تلاش میں ہاتھ پاﺅں مارتا رہتا ہے، ،،اور جب حاصل ہو جائے تو بد مست ہو جاتا ہے۔ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا بھی یہی حال ہے، کہ وہ اپنے حریفوں کو دبانے کے لیے اکثر و بیشتر ایسے ایسے جھوٹے مقدمات قائم کرتے ہیں کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے،،،ایسا ہی ایک مقدمہ گزشتہ روز ملتان میں سینئر سیاست دان جاوید ہاشمی اور اُن کے 2 دامادوں کے خلاف بجلی چوری کے مقدمات درج کیے گئے ۔ حالات یہ ہیں کہ یہ مقدمات کسی اہلکار کی مدعیت میں نہیں بلکہ ایس ڈی او میپکو کی مدعیت میں درج کیے گئے ہیں۔جبکہ ان مقد مات سے دو دن پہلے اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات کی تائید کرتے ہیں،،، ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انتخابات کے نتائج کا فیصلہ بہت پہلے ہی کہیں اور ہو چکا تھا اور اسمبلی کی نشستوں کی خرید و فروخت میں اربوں روپے کا کالا دھن استعمال ہوا وغیرہ۔ اب ایک سادہ سی بات ہے کہ آپ مولانا کو اس لیے گرفتار نہیں کر رہے ، کہ اُنہیں ایک مخصوص طبقے کی حمایت حاصل ہے، اور حالات بگڑ سکتے ہیں،،، یا شاید اس میں بھی کوئی ”حکمت“ ہوگی کہ اُن پر اب تک کوئی مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا؟یا شاید عوام میں اسٹیبلشمنٹ کی مقبولیت چیک کرنے کے لیے بھی ایسے اقدامات اُٹھایا گیا ہے، جو کہ واقعی خطرناک حد تک شاید کم ہو گئی ہے،،، اس کا اندازہ آپ اسی سے لگا لیں کہ سوشل میڈیا پر فضل الرحمن کے بیان کو سپورٹ کیا جا رہا ہے،،، ویسے مولانا صاحب اتنے بھی برے نہیں ہیںجتنا اُنہیں بنایا جا رہا ہے، کیوں کہ وہ ہر مشکل وقت میں ان کے ”ساتھی“ رہے ہیں،،، مجھے یادہے جنہیں آج ہم خوارج اور فتنہ الہندوستان کہتے ہیں ،جب ان دہشتگردوں نے پاکستان میں خودکش حملوں کاآغاز کیا تو سب سے پہلے مولانا نے انہیں حرام قرار دیا اور اس کے جواب میں ان پر دو خودکش حملے ہوئے۔جہاد کے نام پر فساد پھیلانے والے ان دہشتگردوں کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کرنے کی پاداش میں مولانا حسن جان،مولانا نور محمد اور مولانا معراج الدین سمیت ان کے کئی ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیا۔مولانا خان محمد شیرانی پر حملہ ہوا۔اگر مولانا اپنے ہم مسلک دہشتگردوں اور ریاست پاکستان کے درمیان بفر زون نہ بنتے تو سب کچھ تباہ و برباد ہوجاتا۔اب اُنہوں نے ہمارے جوانوں کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیوں کیے اس حوالے سے تو فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا ، مگر یہ بات ضرور کہوں گا کہ اس میں بھی ضرور کوئی نہ کوئی ”حکمت“ چھپی ہوگی جسے آنے والے چند روز میں مولانا خود آشکار کریں گے۔ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ جہاں ان کا زور چلتا ہے، وہ یہ ایسے ایسے جھوٹے مقدمے درج کرتے ہیں کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے، ایسا شاید اس لیے بھی ہے کہ یہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا حساب ہے،،، یہاں سی سی ڈی کا دور دورا ہے، ،، یہاں ماورائے عدالت قتل ہو رہے ہیں،،، اور کچھ نا سمجھ اس پر واہ واہ کر رہے ہیں،،، جبکہ سنجیدہ لوگ پشیمان ہیں کہ ہمارا راستہ سرے سے ہی غلط ہے،،، اور ایسے جھوٹے مقدمات درج کرنے سے تو واقعی دلوں میں نفرتیں بڑھتی ہیں،،، عوام کا مورال ڈاﺅن ہوتا ہے،،، اور یہ سب کچھ ابھی نہیں ہو رہا ہے ، بلکہ ہمارے فیصلہ کرنے والے یہ سب کچھ ماضی سے سیکھ رہے ہیں،،، جیسے آپ اس سے پہلے کے مقدمات بھی دیکھ لیں جو سیاستدان ایک دوسرے پر دائر کرتے رہے ، مثلاََپاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الٰہی کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھینس چوری کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا۔ یہ نامعلوم بلکہ گمنام بھینس پاکستان کی تاریخ کی سب سے مشہور بھینس بن گئی بلکہ اس کی مبینہ چوری کا مقدمہ بھی سیاسی گرفتاریوں کی علامت بن گیا اور آج بھی اگر کسی رہنما کو کسی مشکوک مقدمے میں گرفتار کیا جاتا ہے تو اس بھینس کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے۔ پھر 90 کی دہائی پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کے خلاف کلاشنکوف لہرانے پر درج ہوا تھا۔ شیخ رشید کئی ٹی وی انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں کہ وہ کھلونا کلاشنکوف تھی لیکن 10 فروری 1995کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کلاشنکوف برآمد ہونے پر شیخ رشید احمد کو سات سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔پھر سیاسی مخالفت کی بنیاد پر مختلف ادوار میں سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر اور سابق صدر فاروق لغاری کے بیٹے اویس لغاری پر پانی چوری کے مقدمات بنائے گئے اور انہیں گرفتار بھی کیا گیا۔پھر غلام مصطفی کھر کا نام ایک اور انوکھے کیس میں بھی آتا ہے اور وہ یوں کہ 2016 میں ان کی اہلیہ کو اس الزام میں گرفتار کر لیا گیا کہ ان کے پاس دو شناختی کارڈ کیوں ہیں۔ پھر جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان سے راہیں الگ کیں تو 1968 میں ان پر ایک کیس بنایا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے سرکاری ٹریکٹر اپنی ذاتی زمینوں پر استعمال کر کے قومی خزانے کو دو لاکھ 13 ہزار روپے کا نقصان پہنچایا۔ یہ مقدمہ ’ٹریکٹر کیس‘ کے نام سے مشہور ہوا۔پھر بھٹو کا مصطفی کھر کے جلسے میں سانپ چھوڑنے کا واقعہ کسے یاد نہیں، ، یعنی غلام مصطفیٰ کھر کی تقریر سے قبل مگر جلسہ گاہ میں سانپ ”نمودار“ہوگئے۔ان کی موجودگی نے مجمع میں سراسیمگی پھیلادی۔دیں اثناءایک مردہ سانپ سٹیج پر موجود غلا م مصطفیٰ کھر کو پہنچادیا گیا۔موصوف اسے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے مائیک کی جانب لپکے۔سانپ کو غصے سے مزید دبوچتے ہوئے انہوںنے بڑھک لگائی کہ وہ بھٹو کو بھی اسی طرح ”کچل دیں گے“۔ مجمع میں بھگدڑ مگر مچ چکی تھی۔ اسی طرح غلام مصطفی کھر پر کپاس چوری کا مقدمہ کچھ یوں درج کیا گیا کہ موصوف 35من کپاس سر پر اٹھا کر چر±ا لے گئے۔ ضیا الحق کے دور میں نظامِ مصطفی کے نام پر اقتدار کو طول اور استحکام دینے کیلئے جھانسوں کے علاوہ آواز اٹھانے والوں کو کوڑوں اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی بھی ضیا الحق کی ضد اور خوف کا شاخسانہ تھا۔ اس کے علاوہ سیاستدان اور نامور کالم نگار عرفان صدیقی کو گذشتہ سالوں میں اپنے بیٹے کے مکان کا کرایہ نامہ تھانے میں جمع نہ کرانے پر کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ جبکہ عمران خان دور میں بھی رانا ثنا ءاللہ پر بھی اسی قسم کا منشیات کا جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا۔ اس موقع پر اینٹی نارکوٹکس فورس کے ڈائریکٹر ریاض سومرو نے کہا کہ ان کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئی ہے۔گرفتاری کے دوران رانا ثنا اللہ کی مونچھیں اور بھنویں بھی منڈوا دی گئی تھیں، اُس وقت اے این ایف لاہور ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ ایک حاضر سروس بریگیڈیئر تھے۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے ورکرز اور قائدین پر ہزاروں اس طرح کے جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں ، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے،،،جیسے ایک جلسے میں شعیب شاہین پر مقدمہ قائم ہوا، جس میں اُن پر پستول رکھنے کا مقدمہ قائم ہوا، حالانکہ اُن سے برآمد ایک ڈنڈا ہوا تھا، جس پر جج صاحب خود بھی ہنس پڑے۔ اور ضمانت دے دی۔ الغرض حکومت ایسے ہتھکنڈے کیوں استعمال کرتی ہے، جس سے جگ ہنسائی ہو، ،، کیا یہ فیصلے کرنے والوں کی طرف سے ایسا کیا جاتا ہے، یا خود حکمران اس قسم کے فیصلے لیتے ہیں،،، لیکن جو بھی ہے، ایسی حرکات کرنے والوں کی ”منصوبہ بندی “ سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت ملک کن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ جن سے صحیح منصوبہ بندی بھی نہیں ہورہی۔ اور میرے خیال میں سیاستدان تو صرف مہرے ہوتے ہیں، جو قطعاََ اس قسم کے کیسز کی منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ بلکہ انہیں بطور مہرا استعمال کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اس وقت اگر عمران خان جیل میں ہے، تو کیا یہ حکومت کا کمال ہے، نہیں! آپ بالکل غلط سوچ رہے ہیں۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ رانا ثناءاللہ پر منشیات کا کیس عمران خان حکومت نے بنایا تھا تو آپ تب بھی غلط سوچ رہے تھے، اور اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ظہور الٰہی پر بھینس چوری کا مقدمہ سیاستدانوں نے بنایا تھا تو تب بھی آپ غلط سوچ رہے تھے۔ درحقیقت یہ تو محض مہرے ہوتے ہیں۔ حقیقت ان سے بہت دور کہیں سانسیں لے رہی ہوتی ہے۔ ان کی توجرا¿ت ہی نہیں ہوتی کہ وہ عمران خان یا نواز شریف کو جیل میں ڈال دیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ فیصلہ کرنے والے کیس بناتے وقت اگلے بندے کا معیار بھی نہیں دیکھتے اور نہ ہی یہ سوچتے ہیں کہ ایسے مقدمات قائم کرنے کے بارے میں عوام کیا سوچے گی؟ آدھے سے زیادہ محکموں میں تو اس وقت سویلین کام ہی نہیں کررہے، بلکہ یہی تعداد عمران خان کے دور میں بھی پائی جاتی تھی۔ اُس وقت کیا اینٹی نارکوٹکس دیپارٹمنٹ عمران خان کے انڈر تھا، یا نیب تحریک انصاف کے انڈر تھی؟ خیر بات ہو رہی ہے مضحکہ خیز مقدمات کی تو ایک اور مقدمے کی روداد سن لیں کہ گزشتہ سال سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے ڈرائیور اور گن مین کو گرفتار کر کے” شراب کی بوتلیں“ برآمد کی گئیںاور زیر حراست ملزمان سے چوہدری پرویز الٰہی کے فرنٹ مین کے بارے” انکشافات“ بھی کروائے گئے ۔یہ آخری مقدمہ اس لیے بتارہا ہوں کہ کس قدر شریف آدمی پر ایسا الزام لگا کر یہ لوگ خود بھی محظوظ ہوتے ہوں گے،،، اور دوسروں کو بھی Entertainکرتے ہوں گے،،، بہرکیف حکومتوں کا بھی عجیب مائنڈ سیٹ ہوتا ہے‘ نہ کچھ شایانِ شان دیکھتی ہیں‘ نہ کوئی تال میل دیکھتی ہیں اور نہ ہی کچھ قابلِ فہم دیکھتی ہیں‘ یہ بھی نہیں سوچتیں کہ ایسی بھونڈی حرکات کو عوام سنجیدہ لینے کی بجائے ان پر ہنستے ہیں۔ عوام کو ہنسنے ہنسانے کا موقع فراہم کرنا ہے تو یہ اور بات ہے۔ ویسے بھی اس مایوسی اور نااُمیدی کے دور میں حکومت اگر عوام کو ہنسنے کا موقع فراہم کر رہی ہے تو عوام کو اس موقع سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے ضرور ہنس لینا چاہیے۔ حکومت نے ان کی زندگی میں ہنسنے ہنسانے کے سبھی مواقع تو ویسے ہی ختم کر ڈالے ہیں۔ ایسے حکومتی اقدامات عوام کے لیے یقینا کسی نعمت اور غنیمت سے کم نہیں۔ اس لیے جہاں موقع ملے ہنس لیا کریں! شاید یہی زندگی ہے!