اقوام متحدہ اجلاس:جنگوں، انتشار اور اقتصادی مسائل کی شکار دنیا!

آج کل امریکا میں دنیا کے تمام ممالک کے سربراہان اکٹھے ہیں، جو اقوام متحدہ کے 81ویں سالانہ اجلاس میں شریک ہیں،،، یہ اجلاس ہر سال ستمبر میں شروع ہو تا ہے جس میں لیڈران اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور زیادہ تر الزامات لگاتے نظر آتے ہیں۔ یہ اجلاس بھی ایسے وقت میں شروع ہو ا ہے جب دنیا کو مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں جنگوں کا سامنا ہے، بین الاقوامی سیاست انتشار کا شکار ہے اور عالمی معیشت کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔بلکہ اس اجلاس کی خاص بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سفارتی اجتماع سمجھا جانے والا یہ اجتماع اس سال ایسے وقت پر ہو رہا ہے، جب فروری میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ کا پورا خطہ ابھی تک بحران کا شکار ہے۔اس کے علاوہ 2022ءمیں روسی فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی یوکرین جنگ بھی ایک ایسا طویل یورپی جنگی تنازعہ بن چکی ہے، جو تاحال ختم نہیں ہو سکا، بلکہ اس میں گزشتہ کئی ہفتوں سے ہلاکت خیز شدت آ چکی ہے۔اسی طرح افریقہ میں سوڈان کی کئی سالہ خانہ جنگی بھی اب تک ہزارہا انسانوں کی موت اور لاکھوں کے بے گھر ہونے کا سبب بن چکی ہے۔یعنی مجموعی طور پر عالمی سیاسی نظام بھی اس وقت وسیع تر انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جبکہ عالمی معیشت کو بھی ایران جنگ کے باعث توانائی کے بحران سمیت کئی طرح کے بحرانوں کا سامنا ہے۔ان حالات میں عالمی برادری کی نظریں اب اس لیے نیو یارک کی طرف لگی ہوئی ہیں کہجنرل اسمبلی کے اجلاس میں بین الاقوامی رہنما ان جنگوں، بحرانوں اور مسائل کے کیا حل تجویز کرتے ہیں اور آیا ان کی طرف سے آئندہ کئی دنوں کے دوران اپنی تقریروں میں کیے جانے والے وعدے اور امید پسندی کا اظہار مستقبل قریب میں دنیا کو موجودہ کے مقابلے میں واقعی زیادہ محفوظ، مستحکم، پرامن اور بہتر بنا سکیں گے۔ ویسے تو اقوام متحدہ کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اس تنظیم نے آج تک کسی بڑی جنگ کو رکوانے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا، ماسوائے مذمتی بیانات کے۔ حالانکہ 1945 میں سان فرانسسکو میں جس ادارے کا قیام ہی دنیا کو جنگوں کی ہولناکی سے بچانے کے وعدے کے ساتھ کیا گیا تھا، وہ آج عالمی امن کے معاملے میں بے بس کھڑا نظر آتا ہے۔ آپ گزشتہ سال ہی کو دیکھ لیں،،، یعنی 2025 میں دنیا نے دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلح تنازعات کی سب سے زیادہ تعداد دیکھی۔ دوسری جانب کالینن گراڈ سے آنے والی خبروں نے روس اور نیٹو کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات کو بھی بڑھا یا ہے، جو ایک نئی عالمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔دنیا میں کروڑوں انسان مشکلات اور تنگ دستی کا شکار ہیں، مگر اسی دنیا میں ہتھیاروں پر ہونے والا سالانہ خرچ بڑھ کر 2.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یعنی اس کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو ایک وعدہ بار بار سوال بن کر سامنے آتا ہے: کیا سلامتی کونسل واقعی دنیا کو جنگوں سے بچانے میں کامیاب ہوئی ہے؟ میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ ”ویٹو پاور“ ہے،،، جودنیا کے صرف پانچ ممالک کو یہ خصوصی اختیار حاصل ہے، جبکہ باقی تمام ممالک اس اختیار سے محروم ہیں۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا منشور بنانے والوں نے خود بھی مستقبل میں اس میں تبدیلی کا راستہ کھلا رکھا تھا۔منشور کی شق 109 میں واضح طور پر یہ گنجائش رکھی گئی تھی کہ دس سال کے اندر ایک ایسی عالمی کانفرنس بلائی جا سکتی ہے جس میں منشور کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔اس شق کے تحت اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی دو تہائی اکثریت اور سلامتی کونسل کے نو ارکان کی منظوری سے ایک عمومی کانفرنس منعقد کی جا سکتی ہے، جس میں ہر رکن ملک کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا۔ بہرحال اگر حالیہ اجلاس کی بات کریں تو اس میں سب سے اہم پیش رفت امریکیوں اور ایرانی وفد کی براہ راست تین گھنٹے کی ملاقات ہے جس میں ایرانی صدر کی شرکت اور امریکی صدر کی جانب سے ان سے ممکنہ ملاقات کے اشاروں نے امید پیدا کی ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے کشیدگی اور گزشتہ کچھ مہینوں سے بالواسطہ تصادم کے بعد یہ اجلاس فریقین کو اختلافات پر گفتگو کرنے اور بحران کے پ±رامن حل کی سمت پیش رفت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مذاکرات میں تعطل آنے کے بعد متحارب گروہ اور متعلقہ فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے گریزاں رہے ہیں‘ جس کی وجہ سے خطے میں فوجی تصادم اور عدم استحکام کا دائرہ مسلسل پھیلتا چلا گیا۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ کا یہ فورم تمام بااثر عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو ایک ایسا تاریخی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ تمام متحارب گروہوں کو لچک دکھانے اور گفت و شنید کا راستہ اختیار کرنے پر قائل کر سکیں۔ اگر اس موقع پر سفارتی لچک نہ دکھائی گئی اور یہ سنہری موقع ضائع کر دیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے بے حد ہولناک ہو سکتے ہیں۔ امریکی قیادت کی جانب سے ایران کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے‘ یہ صورتحال پورے خطے کے امن کیلئے خوفناک ہے۔ امریکی صدر نے کہاہے کہ مکمل تباہی کا راستہ‘ شدید ترین اقتصادی تنہائی یا پھر جامع و حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے براہِ راست مذاکرات۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بحران کی سنگینی اب انتہائی نکتے پر پہنچ چکی ہے۔ امریکی قیادت کی طرف سے دھمکیوں کے باوجود سفارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی مذاکراتی میکانزم کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مزید کسی بڑے ملٹری ایڈونچر یا ہمہ گیر جنگ کی نوبت نہیں آئے گی اور اقوام متحدہ کے اجلاس کے اختتام سے قبل دنیا کو امن کی بحالی کا پیغام مل سکے گا۔ اس سلسلے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا تہران سے نیویارک روانگی کے دوران دوحہ میں مختصر قیام اور قطری حکام سے مشاورت ایک اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ قطر امریکہ اور ایران کے مابین جاری شدید ترین تناﺅ میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان بھی خطے میں امن کیلئے کوشاں ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے خاتمے سے متعلق شرائط کا تبادلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران بھی معاشی و فوجی توازن برقرار رکھتے ہوئے کسی تصفیے کا خواہشمند ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشیدگی اور جنگ کا خاتمہ محض امریکہ یا ایران کی سیاسی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ پوری دنیا بالخصوص توانائی برآمد کرنے والے خلیجی ممالک کی اشد معاشی ضرورت بن چکا ہے۔ سعودی عرب اور قطر جیسے تیل اور قدرتی گیس پیدا کرنے والے اہم ترین ممالک فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل آزادی کے خواہشمند ہیں کیونکہ توانائی کی سپلائی چین متاثر ہونے کے باعث ان کی معیشتیں شدید دباﺅ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکی ہیں۔ بہرکیف مسئلے کا حل تو نکالنا پڑے گا، کیوں کہ امریکا بھی اب اس جنگ سے خاصی حد تک تھک چکا ہے، لیکن اگر اب بھی امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے عمل کے ساتھ دھمکیوں اور اقتصادی دباﺅ کا سلسلہ جاری رہا تو پرامن حل کی تمام تر کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں۔ اب چونکہ یہ بحران محض دو ممالک کا دو طرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ قطر اور سعودی عرب جیسے اہم امریکی اتحادی بھی اعلانیہ طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس بحران کا طول پکڑنا ان کی معیشتوں کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے‘ اس لیے عالمی برادری پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اس اجلاس کو بہترین موقع کے طور پر استعمال کرے۔ نیویارک میں ہونے والی یہ ممکنہ ملاقاتیں اور سفارتی کوششیں اگر درست سمت میں آگے بڑھتی ہیں تو مشرق وسطیٰ کو ممکنہ تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکتا ہے۔ ورنہ اس کا نتیجہ عالمی نظام میں طاقت کے استعمال کے رجحان میں اضافے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ مزید جنگیں شروع ہوسکتی ہیں، علاقائی تنازعات پھیل سکتے ہیں اور ایک جنگ کے اثرات دوسرے خطوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جائے گا، کیونکہ ممالک اپنے دفاع کے لیے زیادہ اسلحہ حاصل کرنے اور فوجی اتحاد مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس صورتحال میں جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں کے درمیان کشیدگی خاص طور پر خطرناک ہوسکتی ہے۔ جنگوں کا ایک اور بڑا نتیجہ انسانی بحران ہوگا۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوسکتے ہیں، پناہ گزینوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہوسکتے ہیں اور خوراک، صحت اور تعلیم کے نظام شدید دباو¿ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کرتی ہے؛ تیل، گیس، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، عالمی تجارت اور سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہیں اور ترقی پذیر ممالک پر معاشی دباو¿ مزید بڑھ سکتا ہے۔ تاریخ میں پہلی اور دوسری عالمی جنگوں نے دنیا کو دکھایا کہ جب تنازعات سفارت کاری سے حل نہ ہوں تو ان کے اثرات کئی نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ اسی تجربے کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی تاکہ دنیا دوبارہ اسی پیمانے کی تباہی سے بچ سکے۔ اگر آج یہ ادارہ بڑے تنازعات میں مو¿ثر کردار ادا نہ کرسکے تو مسئلہ صرف اقوام متحدہ کی ناکامی نہیں ہوگا بلکہ عالمی امن کے پورے تصور کو نقصان پہنچے گا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اقوام متحدہ فوری طور پر غیر مو¿ثر یا ختم ہوجائے گی؛ اس کے باوجود انسانی امداد، پناہ گزینوں، صحت، خوراک، ترقی اور بین الاقوامی سفارت کاری میں اس کا کردار برقرار رہ سکتا ہے۔ اصل چیلنج یہ ہوگا کہ بڑی طاقتیں عالمی اداروں کو مو¿ثر بنانے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں۔ دنیا کو ایسی اقوام متحدہ کی ضرورت ہے جو جنگ ختم ہونے کے بعد امداد فراہم کرنے کے بجائے جنگ شروع ہونے سے پہلے مذاکرات، ثالثی اور سفارت کاری کے ذریعے بحران کو روکنے کی زیادہ مو¿ثر صلاحیت رکھتی ہو۔ کیونکہ اگر جنگیں عالمی قانون، سفارت کاری اور بین الاقوامی اداروں سے نہیں رکیں گی تو پھر دنیا کو طاقت کے قانون کے خطرناک دور کا سامنا ہوسکتا ہے!