سرحدیں بند، معیشت بند،،، ملک کیسے چلے گا؟

پاکستان اس وقت جس قدر مشکلات سے دوچار ہے،،، ماضی میں ایسا کبھی نہیں تھا،،، خاص طور پر تجارت کے حوالے سے پاکستان اس قدر مشکلات کا شکار کبھی نہیں ہوا،،، جتنا آج ہے،،، کیوں کہ بھارت کے ساتھ ہماری تجارت تو پہلے ہی ایک عرصے سے بند ہے،،، افغانستان کو ہم ایک آنکھ نہیں بھاتے،،، اس لیے وہ سرحد بھی اکتوبر2025ءسے بند ہے،،، چین کے ساتھ یک طرفہ تجارت جاری ہے، یعنی وہاں سے 90فیصد چیزیں درآمد کی جا رہی ہیں،، اور اکا دکا پراڈکٹ اُسے فروخت کی جارہی ہے،،، اور پھر ایران کے ساتھ تجارت رہ گئی تھی،،، وہ بھی ہم نے مشکل بنا دی ہے،،،یعنی تازہ صورت حال کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت 17 اکتوبر 2026ءکو گبد۔ریمدان اور تفتان کے اہم راستوں پر معطل کر دی گئی۔جس کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران کے دوران سرحد کھلوانے سے متعلق کوششوں کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ اور26 اکتوبر کو بعض پاکستانی برآمدات کی محدود نقل و حرکت بحال ہونے کی اطلاعات تھیں، لیکن تجارت کی مکمل بحالی کے بارے میں ابہام برقرار ہے۔ اور اگر معاشی طور پر ہم دیکھیں تو اس وقت پاکستان ایک ایسے معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت کو تجارت، صنعت اور خوش حالی میں تبدیل کرے گا یا سرحدوں کی بندش، سفارتی کشیدگی اور باہمی بداعتمادی کے باعث اپنے لیے مزید مشکلات پیدا کرتا رہے گا۔ ایک طرف حکومت معاشی استحکام، برآمدات میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے دعوے کرتی ہے، دوسری طرف ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی راستے بند یا محدود ہونے کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان اپنی معیشت کو وسعت کیسے دے گا، اگر اس کے قریب ترین بازاروں تک رسائی ہی مشکل بنا دی جائے؟کیوں کہ دنیا کی معاشی تاریخ بتاتی ہے کہ تجارت نے قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لانے، شہروں کو آباد کرنے، روزگار پیدا کرنے اور ریاستوں کو خوش حال بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ آج کی ترقی یافتہ دنیا میں معاشی طاقت صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ کوئی ملک کتنی اشیا خود تیار کرتا ہے، بلکہ اس سے بھی کہ وہ کتنی کامیابی سے عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرتا، اپنی مصنوعات برآمد کرتا اور دوسرے ممالک کے ساتھ پیداواری تعلقات قائم کرتا ہے۔ یورپ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانس اور جرمنی کے درمیان تاریخی دشمنی موجود تھی، لیکن دونوں ممالک نے کوئلے اور فولاد کی مشترکہ پیداوار کے ذریعے تعاون کی بنیاد رکھی۔ 1951ءمیں یورپی کوئلہ و فولاد برادری کے قیام نے بعد میں یورپی اقتصادی اور سیاسی اتحاد کی راہ ہموار کی۔ اس تجربے کا بنیادی سبق یہ تھا کہ سابقہ دشمنیاں ہمیشہ کے لیے معاشی تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں۔ جب مشترکہ مفادات مضبوط ہوتے ہیں تو تنازعات کے حل کے امکانات بھی بڑھتے ہیں۔اسی طرح جنوب مشرقی ایشیا میں آسیان (ASEAN) ممالک نے علاقائی تعاون، سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کے ذریعے اپنی معاشی حیثیت مضبوط کی۔ عالمی بینک کے مطابق، جنوب مشرقی ایشیا میں علاقائی تجارت کا حصہ تقریباً 25 فیصد ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں یہ تناسب محض 5 فیصد کے لگ بھگ رہا ہے۔ عالمی بینک جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور روابط بہتر بنانے پر زور دیتا ہے۔ یہ فرق ہمیں بتاتا ہے کہ خطے میں تجارت کے دروازے کھولنے سے کتنے معاشی امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے،،،ا ور کوئی سمجھدار اور عوام دوست حکومت آئے تو پاکستان کا جغرافیہ ہی اُس کے لیے تحفہ ہوگا،،، کیوں کہ ہمارے مشرق میں بھارت، مغرب میں ایران اور افغانستان، شمال میں چین اور اس سے آگے وسطی ایشیا کی ریاستیں واقع ہیں، جبکہ جنوب میں بحیرہ عرب موجود ہے۔ یہ محل وقوع پاکستان کو ایک ایسے تجارتی پل میں تبدیل کر سکتا ہے جو جنوبی ایشیا کو مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا سے ملائے۔اور اس سے بھی بڑھ کر تاریخ پر نظر ڈالیں تو آج کے پاکستان کے اہم شہر، خصوصاً لاہور، ملتان اور پشاور، صدیوں تک علاقائی تجارت کے اہم مراکز رہے۔ قدیم زمینی راستے برصغیر کو ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا سے ملاتے تھے۔ مغل دور میں شاہراہوں، سراو¿ں، منڈیوں اور تجارتی مراکز کی ترقی نے آمدورفت اور کاروبار کو فروغ دیا۔ سولہویں صدی میں شیر شاہ سوری کی جانب سے شاہراہوں اور مسافروں کی سہولتوں کو بہتر بنانے کی کوششیں بھی اسی تاریخی روایت کا حصہ تھیں۔پشاور سے وسطی ایشیا کی سمت جانے والے راستے ہوں یا لاہور اور ملتان کی تاریخی منڈیاں، ان علاقوں کی اہمیت صرف زراعت یا مقامی پیداوار تک محدود نہیں تھی۔ یہ شہر مختلف خطوں کے درمیان اشیا، ثقافت اور خیالات کے تبادلے کے مراکز تھے۔ جب راستے آباد ہوتے تھے تو منڈیاں ترقی کرتی تھیں، تاجروں کو روزگار ملتا تھا اور ریاست کو محصولات حاصل ہوتے تھے۔آج پاکستان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ جب ہمارے پاس یہی جغرافیائی فائدہ موجود ہے تو ہم اسے معاشی طاقت میں تبدیل کرنے میں کیوں ناکام ہیں؟ خیر بات ہو رہی تھی ایران کے ساتھ بارڈر کی حالیہ بندش کی تو میرے خیال میں ایران سے تجارت ہمارا ہمیشہ سے ہی خاصہ رہا ہے،،، ایل پی جی کی درآمد اور پاکستان سے چاول، پھلوں اور دیگر مصنوعات کی برآمد اس باہمی تعلق کی اہم مثالیں ہیں۔لیکن اکتوبر 2026ءمیں سرحدی تجارت کی معطلی کے دوران سینکڑوں مال بردار گاڑیوں کے پھنسنے اور ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ اس صورت حال سے صرف بڑے درآمد کنندگان یا برآمد کنندگان متاثر نہیں ہوتے، بلکہ ٹرانسپورٹر، مزدور، کلیئرنگ ایجنٹ، چھوٹے دکاندار اور عام صارف بھی اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ اور پاکستان تو پہلے ہی مہنگائی، بیرونی ادائیگیوں کے دباو¿، برآمدات بڑھانے کی ضرورت اور روزگار کے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں تجارت کے راستے بند کرنا معاشی مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ سرحدی سلامتی کے مسائل حقیقی ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا حل یہ ہونا چاہیے کہ نگرانی اور تجارتی نظام کو بہتر بنایا جائے، نہ کہ ہر مسئلے کا مستقل جواب سرحد بند کرنے میں تلاش کیا جائے۔بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ ہمیں افغانستان کے ساتھ حالات کو بھی کسی طرح نارمل کرنا چاہیے،،، کیوں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی اہمیت صرف دو ملکوں کی باہمی خرید و فروخت تک محدود نہیں۔ افغانستان پاکستان کے لیے وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی کا ایک اہم راستہ بھی ہے۔ ازبکستان، تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے زمینی رابطوں، بہتر ٹرانسپورٹ اور مو¿ثر کسٹمز نظام کی ضرورت ہے۔ بہرکیف پاکستان کو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو محض ہنگامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے طویل مدتی معاشی حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔ اسی طرح افغانستان، چین، بھارت اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی امکانات کا جائزہ لینا چاہیے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میں سیاسی اور سکیورٹی اختلافات اپنی جگہ، لیکن جہاں تک ممکن ہو، قانونی اور باہمی مفاد پر مبنی تجارتی روابط کے امکانات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔پاکستان کو سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سرحدوں کی حفاظت اور تجارت کا فروغ ایک دوسرے کے مخالف مقاصد نہیں ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل کسٹمز، سامان کی الیکٹرانک نگرانی، سرحدی منڈیوں کی رجسٹریشن اور مشترکہ رابطہ مراکز کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پاتے ہوئے قانونی تجارت کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔دوسرا، سرحد بند کرنے کے فیصلوں کے لیے واضح قواعد، محدود مدت، کاروباری برادری سے مشاورت اور بروقت نظرثانی کا نظام ہونا چاہیے۔ اگر سکیورٹی کی وجہ سے کسی راستے کو بند کرنا ناگزیر ہو تو متبادل راستے اور پھنسے ہوئے سامان کی محفوظ ترسیل کا انتظام کیا جائے۔تیسرا، پاکستان کو علاقائی تجارت کے لیے بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ بلوچستان میں سڑکوں، گوداموں، کسٹمز سہولتوں اور مقامی کاروبار کی ترقی کے بغیر سرحدی تجارت کے فوائد عوام تک پوری طرح نہیں پہنچ سکتے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو بھی پائیدار تجارتی پالیسی کی ضرورت ہے۔ چوتھا، حکومت کو کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل مشاورت کرنی چاہیے۔ تجارت کے فیصلے صرف سرکاری دفاتر میں نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ ان لوگوں کی رائے بھی شامل ہونی چاہیے جن کا سرمایہ، روزگار اور کاروبار ان فیصلوں سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ اور سب سے اہم یہ کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی ترقی کا راستہ اُلٹے سیدھے ٹیکس لگا کر اور عوام پر بوجھ ڈال کر نکلے گا تو وہ غلط ہے،،، کیوں کہ پائیدار ترقی کے لیے پیداوار، برآمدات، سرمایہ کاری، روزگار اور علاقائی تجارت کو بڑھانا ہوگا۔ کوئی بھی ملک اپنے جغرافیے سے فائدہ اسی وقت اٹھا سکتا ہے جب وہ اپنے راستوں کو منڈیوں سے، اپنی صنعت کو خریداروں سے اور اپنے تاجروں کو کاروباری مواقع سے جوڑتا ہے۔ہمسایوں کے ساتھ تجارت اختلافات کو ختم کرنے کی ضمانت نہیں، لیکن یہ اختلافات کے باوجود تعاون جاری رکھنے کا ایک مو¿ثر ذریعہ ضرور ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تجارتی راستے شہروں کو آباد کرتے، صنعتوں کو زندگی دیتے اور قوموں کو معاشی طاقت فراہم کرتے ہیں۔پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ صرف سرحدی تنازعات کی زبان میں بات کرے گا یا معاشی تعاون کے نئے راستے بھی تلاش کرے گا۔ اگر ہر اختلاف کا نتیجہ تجارت کی بندش، ہر بحران کا جواب راستوں کی بندش اور ہر مسئلے کا حل مزید پابندیاں ہوگا تو ترقی کے دعوے محض الفاظ بن کر رہ جائیں گے۔لہٰذاہوش کے ناخن لیے جائیں، اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ حالات کو نارملائز کیاجائے،،، ورنہ ہم اپنی انا میں گرفتار رہیں گے اور اپنا نقصان کرتے رہیں گے! ہمیں انڈیا ، افغانستان کے ساتھ بھی تجارت کرنی چاہیے،،، اختلافات خواہ چلتے رہیں،،، لیکن تجارت ہر گز نہیں رکنی چاہیے!