”سیاسی نظام“ ننگا اور بے بس کیوں ہے؟

آج کل ملک میں سیاست برائے نام رہ گئی ہے،،، ہر فیصلہ یا تو بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مسلط کیا جاتا ہے یا آئی ایم ایف کی طرف سے یا ملکی فیصلہ کرنے والوں کی طرف سے۔ حالات یہ ہیں کہ اس وقت تحریک انصاف کی بات کوئی نہیں سن رہا، اُس کے قائدین اور کارکن جیلوں میں ہیں، ،، اُن سے ملاقات تو دور کی بات اُنہیں علاج کی بنیادی سہولیات بھی نہیں دی جارہیں۔ اور یہ ظلم کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے سیاستدان ہی ایک دوسرے پر کر رہے ہیں۔۔۔ جبکہ تحریک انصاف کی بچی کھچی قیادت اپنے اپنے مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کر رہی ہے،،، تب بھی اُس کی بات کوئی نہیں سن رہا،،، اور پھر اب وہ مجبوراََکے پی کے سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنا چاہ رہے ہیں،،، مگر ایسا کرنے سے کے پی کے والوں کو ”سبق“ سکھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ کبھی اُنہیں ایمرجنسی سے ڈرایا جا رہا ہے،،، کبھی وہاں کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو 9مئی کے کیس میں گرفتار کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں تو کبھی سیدھے فائر کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں،،، یعنی بقول شاعر آپ ہی اپنی اداو¿ں پہ ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی افسوس اس بات کا نہیں ہے کہ فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں،،، بلکہ صدافسوس اس بات پر ہے کہ ہمارے سیاستدان آپس میں ہی شدید لڑائیوں کا شکار ہوگئے ہیں،،، جس کا سب سے بڑا نقصان وطن عزیز کو ہو رہا ہے،،، ہمارے سیاستدانوں کا حال تو یہ ہے کہ کسی نے ایک فراڈیے سے پوچھا تھا کہ تم لوگوں کا دھندا کیسے چلتا ہے؟ اس نے کہا جب تک دنیا میں لالچی لوگ موجود ہیں ہم فراڈیوں کا دھندا کبھی مندا نہیں ہوگا۔ یہی حال ہمارے سیاستدانوں کا ہے کہ جب تک وہ اقتدار کی لالچ میں غیر سیاسی لوگوں کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے،،، نئے نعروں ، سیاسی چالوں اور اپنے بھونڈے فیصلوں سے عوام کو پھسلاتے اور پھنساتے رہیں گے،اس ملک کا کچھ نہیں ہوسکتا،،، اور جب تک ہمارے عوام پھنستے رہیں گے، ہمارے سیاستدان اور ہر قیمت پر حاکم بننے کے خواہشمند چالاک، مکار اور ذہین سیاستدانوں کے ان پر حکمرانی کرنے کے خواب کبھی کم نہیں ہوں گے۔ ویسے بھی ذہین، چالاک اور مکار لوگ سیاست کے نام پر اپنے اپنے حصے کے بیوقوف ڈھونڈ ہی لیتے ہیں اور پاکستان میں یہ کون سا مشکل کام ہے۔یقین جانیں گزشتہ چند سالوں سے سیاست کا جو برا حال ہوا ہے، اُس سے سیاست پر سے دل ہی اُٹھ گیا ہے،،، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ”فرنٹ اینڈ“ کچھ اور ،اور بیک اینڈ کچھ اور دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ سیاسی مخالفت آج کی نہیں بلکہ شروع دن سے ہی ہمیں تحفے میں ملی ہے،،،جسے آج تک ہمارے سیاستدانوں نے ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یعنی دیکھا جائے تو بھٹو دور سے یہی کچھ چل رہا ہے۔ خود بھٹو صاحب کا اپنا دور دیکھیں تو اُس وقت بھی اپوزیشن حکومت کو نہیں چلنے دے رہی تھی۔ بلوچستان اور سرحد میں حکومتیں توڑ کر وہاں بھٹو صاحب نے گورنر راج لگا دیا تھا اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ عطا اللہ مینگل مری جیل میں ڈال دیے گئے تھے۔ پھر وہی اپوزیشن والے اُس وقت فوج کو بھٹو حکومت کیخلاف خط لکھ رہے تھے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے پورا ملک ہڑتالوں اور احتجاج سے جام کر دیا تھا۔نو ستاروں کا الائنس بنا‘ گولیاں چلیں‘ لوگ مارے گئے اور پھر مارشل لاءلگ گیا۔ بھٹو صاحب کا تختہ الٹ گیا‘ وہ گرفتار ہو گئے اور پھر پھانسی چڑھ گئے۔ ویسے دیکھا جائے تو سیاسی مخالفین کیلئے گنجائش بھٹو نے بھی نہیں چھوڑی تھی اور اپوزیشن کے ساتھ جو بدترین سلوک کیا گیا وہ اپنی جگہ بہت افسوسناک تھا۔ بھٹو صاحب پڑھے لکھے انسان تھے۔ انہیں علم ہونا چاہیے تھا کہ جمہوریت اپوزیشن کے بغیر کمزور رہے گی اور وہ اس کھائی میں خود بھی گریں گے۔ اگر اپوزیشن کو ہی ختم کر دیا تو حکومت کو بھی ختم کرنا آسان ہو گا۔ آپ جمہوریت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے سیاسی مفاد شامل کرتے ہیں تاکہ سب کو جمہوریت میں اپنے فوائد نظر آئیں اور وہ خود آگے بڑھ کر اس سسٹم کی حفاظت کریں۔ پھر یہی نہیں بلکہ آپ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے مابین 1988ءسے 1999ءتک سیاسی دشمنی چلی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گرانے اور جیلوں میں ڈالنے کا سلسلہ شروع کیا اور جب مارشل لاءلگا تو بینظیر بھٹو پرویز مشرف کو پیغام بھیج رہی تھیں کہ وہ ان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ بینظیر بھٹو کو بھی دو سال کے بعد احساس ہوا کہ ان کی نواز شریف سے لڑائی کا فائدہ مشرف اور ان کے حواریوں کو ہوا ہے۔ اس کے بعد وہ دونوں سیاستدان جمہوریت کی بحالی کیلئے اکٹھے ہو گئے‘ جو کبھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ دونوں نے 2006ءمیں لندن میں میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے اور ماضی سے سبق سیکھنے کا اعلان کیا۔لیکن بعد میں بینظیر بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی نے نواز شریف کیساتھ مل کر حکومت بنائی اور مشرف سے چھٹکارا پایا۔ مگر جونہی مشرف منظر سے ہٹے‘ نواز شریف اور آصف زرداری کا وہی پرانا کھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔ شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان کی جنرل کیانی اور جنرل پاشا سے خفیہ ملاقاتیں شروع ہو گئیں۔ ساتھ ہی میمو گیٹ اور پھر میثاقِ جمہوریت سائن کرنے والے نواز شریف اور شہباز شریف کالا کوٹ پہن کر چیف جسٹس افتخار چودھری کے عدالت میں پیپلز پارٹی حکومت کو غدار ڈکلیئر کرانے کیلئے دلائل دے رہے تھے۔پھر اسی طرح 2013ءمیں نواز شریف کی حکومت آئی تو (ن) لیگ کی حکومت میں 2014ءمیں عمران خان اسلام آباد دھرنے کیلئے پہنچ گئے۔ یہ سب دیکھ کر نواز شریف اور زرداری پھر سے اکٹھے ہو گئے اور الائنس بنا لیا۔ وہی پرانا سکرپٹ اور وہی پرانے کھلاڑی‘ بس اب کی دفعہ نئی انٹری عمران خان کی تھی۔ عمران خان جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے بھی بھٹو اور نواز شریف والا روٹ لیا اور پوری اپوزیشن کو جیل میں ڈال دیا۔ اُس وقت مولانا فضل الرحمن عمران خان کی حکومت گرانے میں پیش پیش تھے۔ کوئٹہ سے لانگ مارچ لے کر چلے‘ تحریک عدم اعتماد سے خان کی حکومت گرائی اور پی ڈی ایم حکومت میں اپنی پارٹی کے لوگ وزیر بنوائے۔ آصف زرداری اور شہباز شریف‘ جو کل عمران خان حکومت میں قید میں تھے‘ آج انکی حکومت میں عمران خان جیل میں ہیں اور وہی مولانا فضل الرحمن جنہوں نے خان کی حکومت گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا‘ وہ تحریک انصاف کیساتھ الائنس کر کے عمران خان کو رہا کرانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ یہ ہے 1971ءسے 2026ءتک کی ہماری سیاست اور ہمارے سیاستدان‘ جو خود بھی فیصلہ کرنے والوں کے اشاروں پر ناچتے رہے اور عوام کو بھی بے وقوف بناتے رہے۔ اور رہی بات مقتدرہ کی تو اُنہیں آپ خود ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں تو وہ انہیں مناسب وقت کے لیے رکھ لیتے ہیں۔ جیسے ہم نے تو وہ بھی وقت دیکھا ہے کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید حاملہ تھیں تو جنرل ضیاءالحق نے فوری طور پر الیکشن کا اعلان کر دیا۔لندن میں مقیم اور آکسفورڈ میں بینظیر کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے والے صحافی شیام بھاٹیہ کے مطابق جنرل ضیا کو یہ اطلاع بھی مل چکی تھی کہ بےنظیر اب ’حاملہ‘ ہیں اور یہی سوچ کر انتخابات نومبر 1988 میں منعقد کروانے کا اعلان کیا گیا کہ اس وقت بےنظیر بھٹّو حمل کے بالکل آخری دنوں میں ہوں گی اور ان انتخابات میں زیادہ متحرک نہیں رہ سکیں گی۔جنرل ضیا نہیں چاہتے تھے کہ بےنظیر انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچیں مگر خود جنرل ضیا 17 اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے اور اس حادثے کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ نومبر کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔21 ستمبر 1988 کو بے نظیر بھٹو کی اولین اولاد اور پارٹی کے موجودہ شریک چیئرمین بلاول بھٹّو زرداری کی ولادت سے پہلے کئی مہینوں کی حاملہ بےنظیر کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے بھرپور انتخابی مہم چلائی جو بلاول بھٹّو کی ولادت کے بعد بھی جاری رہی۔خیر ہماری تاریخ انہی گھٹیا حرکتوں سے بھری پڑی ہے،اور اس کے ذمہ داران کوئی اور نہیں بلکہ خود سیاستدان ہوتے ہیں،،، جو اپنے آپ کو صرف اور صرف اقتدار کی خاطر ”پیش“ کردیتے ہیں! بہرکیف قارئین ! اس وقت حالات یہ ہیں کہ پورے کا پورا سسٹم (سیاسی و معاشی نظام) ننگا ہو چکا ہے،،، ہر کوئی Survivalکی جنگ لڑ رہا ہے،،، بلکہ وزارت خزانہ نے ملک چلانے کے لیے اگلے تین سال کے لیے 7 ہزار 20 ارب روپے قرض لینے کا منصوبہ بنا پیش کر دیا ہے،،، یعنی مقامی ذرائع سے 6 ہزار 46 ارب اور بیرونی ذرائع سے 813 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے، لہٰذاانہیں کیا لگے کہ پاکستان کی معیشت کیوں ہچکولے کھا رہی ہے، انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد بے دریغ سرکاری خزانہ استعمال کیا ہے، بلکہ انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد کئی چلتے ہوئے پراجیکٹس کو بھی روک دیا ہے، صحت کارڈ کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد فیصل آباد کی انڈسٹری سمیت پاکستان بھر کی انڈسٹری کا پہیہ جام کر دیا ہے، بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے یہاں اپنی پراڈکشنز بند کر دی ہیں، عام تاجر سڑک پر آگیا ہے، اور پھر انہوں نے اقتدار میں آکر 36فیصد سے زائد مہنگائی کرکے دنیا کے ریکارڈ توڑ دیے ، بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ کیا، گیس لوڈ شیڈنگ میں اضافہ کیا۔یہ کٹورا لے کر پوری دنیا میں گھوم رہے ہیں، مگر کہیں پروڈکشن اور پاکستان کی مارکیٹ بڑھانے کی کوئی بات نہیں کر رہا ۔ یقین مانیں کہ دنیا بھر میں لیڈرز اپنی پراڈکٹ لے کر دنیا میں گھومتے ہیں کہ ہم نے یہ چیز تیار کی ہے، آپ اگر ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں تو اسے خرید لیں بدلے میں ہم آپ کی یہ چیزیں خریدیں گے۔ جبکہ یہاں ہر آنے والی حکومت کشکول کے پیالے کا نیا ڈیزائن پیش کرتی ہے۔ کسی کے پاس باتوں کے منجن بیچنے کے علاوہ کچھ نہیں جو برائے فروخت ہو۔اس لیے میرے خیال میں سسٹم ننگا ہو چکا ہے،،، اور یہ صرف اسی وجہ سے ہے کہ سیاسی ادارے کمزور ہیں،،، ورنہ کسی کی کیا جرا¿ت کہ وہ عوامی لیڈروں کو Dictateکرے!