ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر

اسلام آباد: سابق وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف پولیس پر تشدد کے کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف پروٹوکول توڑنے اور پولیس پر تشدد کے کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی، جس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔دوران سماعت وکیل ریاست علی آزاد اور زینب عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر پروٹوکول توڑنے اور پولیس پر تشدد کے کیس میں چالان کی نقول ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلا کو فراہم کر دی گئیں۔عدالت کے مطابق آئندہ سماعت پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کی جائے گی، جس کیلئے عدالت نے 6 اکتوبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے سماعت ملتوی تک کر دی ہے۔یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج ہے۔دریں اثناء انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف تھانہ کوہسار میں درج احتجاج کے کیس میں عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر نوٹس جاری کر دیئے۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس پر سماعت کی، جس میں عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 5 اکتوبر کو دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔دوران سماعت شیریں مزاری نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو رات کو عدالت کھول کر پیش کیا گیا، جس پر جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کہا کہ عدالت رات کو کھلی نہیں بلکہ پہلے سے اپنا کام کر رہی تھی، عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ریمانڈ آ رہا ہے تو میں بیٹھا رہا۔