چلے ہوئے کارتوس، ہارے ہوئے جواری اور کرپٹ حکمرانوں سے ملک نہیں چلتے !

اس وقت وطن عزیز نہ تو ترقی کر رہا ہے، نہ صحیح انداز میں اسے چلایا جا رہا ہے، نہ معیشت کنٹرول ہو رہی ہے، نہ قرض اُتر رہا ہے،،، نہ امن و امان کی مثالی صورتحال ہے، بلکہ آدھا ملک اس وقت سڑکوں پر ہے،،، اور ملکی اداروں کی صورتحال تو اتنی خراب ہے کہ عوام زندگی مجبوری سے گزار رہے ہیں،،، بلکہ وہ یہاں سے نکل جانا چاہتے ہیں اور ویسے بھی جس کو اچھی opportunityملتی ہے وہ بوریا بستر گول کر کے یہاں سے نکل جانے کو ترجیح دیتا ہے،،، اگر نہیں یقین تو آپ عوام میں جائیں،،، وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ ملک کا کوئی بھی ادارہ عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہے،،، جس کی جہاں دیہاڑی لگتی ہے، وہ لگا رہا ہے،،، تبھی کہیں لانگ مارچ نکل رہے ہیں، کہیں عوام دھرنے دیے بیٹھے ہیں اور کوئی ملک کے اندر رہ کر آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں،،، اس کی وجہ کچھ بھی ہو مگر اصل وجہ یہ ہے کہ قابل افراد کو پیچھے کیا جاتا ہے اور نالائق اور سفارشی طبقات کو اوپر لایا جا رہا ہے،،، آپ اسے یوں کہہ لیں کہ یہاں Right person for right job پرسرے سے ہی عمل نہیں کیا جا رہا ،،، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی نے مالک سے گاڑی تو چھین لی ہے، مگر وہ اس پر صحیح ڈرائیور نہیں بٹھا رہے،،، جس کی وجہ سے وہ بار بار ایکسیڈنٹ بھی کر رہا ہے اور بار بار اُسے گاڑی کی Repairبھی کروانا پڑ رہی ہے۔ آپ موجودہ حکومت کو دیکھ لیں،،، یہ لوگ صحیح سیٹ پر صحیح ڈرائیور نہیںبٹھا رہے،،، جس کی وجہ سے گاڑی صحیح نہیں چل رہی۔ تبھی یہ بار بار کہتے ہیں کہ سسٹم کولیپس کر گیا ہے۔ اندازہ کریں کہ وزیر داخلہ جو اس وقت پاکستان میں سب سے مضبوط پوزیشن پر ہیں،،، کہتے ہیں کہ اگر مجھے بھی سی ڈی اے میں کوئی کام پڑ جائے تو اُس کے لیے مجھے بھی 10لاکھ روپے رشوت دینا پڑتی ہے،، ، یقینا وہ درست فرما رہے ہوں گے،،، کیوں کہ آپ سرکاری افسران کو ”انعام“ ”چائے پانی “وغیرہ نہ دیں تو آپ کا جائز کام بھی وہ نہیں ہونے دیں گے،،، اور حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ جب وزیر داخلہ بے بس نظرآئے تو پھر عام بندہ تو حقیقتاََ اس سسٹم سے نالاں ہوگا،،، اور پھر نالائقی چیک کریں کہ جو چیئرمین سی ڈی اے تھا،،، اُس کو اس بے ڈھڑک کرپشن پر سزا نہیں دی گئی،،، بلکہ اُسے ڈی جی پاسپورٹ لگا دیا گیا،،، اور لگایا کس نے؟ انہوں نے خود ہی۔ مطلب! یہ دو سال بعد بھی یہی بات کر رہے ہوں گے ،،، کہ وہ پاسپورٹ بنوانے گئے اور اُس کے لیے بھی انہیں رشوت دینا پڑی ۔ یعنی بندہ یہ خود ٹھیک نہیں بٹھاتے،،، اور شکوہ سسٹم سے کرتے ہیں۔۔۔ اب بتایا جائے کہ اس میں سسٹم کا کیا قصور ہے؟ اور یہ پالیسی صرف بیوروکریسی کے لیے نہیں ہے، بلکہ عدلیہ، پولیس وغیرہ ہر جگہ یہی حال ہے۔ اور ان نام نہاد پالیسیوں کی وجہ سے جونیئر افسر سینئر کی جگہ لے لیتا ہے،،، یا رشوت خور آفیسر ، ایماندار اور قابل افسر کی جگہ لے لیتا ہے،،، الغرض قصہ مختصر کہ حکومتوں کے زوال کی وجہ ہی یہی ہوتی ہے کہ آپ سینئر اور قابل افسران کی جگہ من پسند اور سفارشی افراد اہم عہدوں پرتعینات کریں اور پھر بیٹھ کر سسٹم کے کولیپس کرنے کا تماشا دیکھتے رہیں۔ آپ مغلوں کے زوال کی داستانیں پڑھ لیں،،، آپ عثمانی سلطنت کے زوال کی کہانیاں پڑھ لیں، آخر میں یہی ہوتا تھا کہ صحیح سیٹ پر صحیح ڈرائیور ہی نہیں ہوتا تھا،،، تبھی حکومتیں ختم ہو جاتی تھیں،،، اور آپ بھی اُسی ڈگر پر چل رہے ہیں تو یقینا گاڑی کا ایکسیڈنٹ تو یقینی سمجھا جا سکتا ہے،،، بہرحال ہمیں فیصلہ کرنے والوں کی نیت پر ہر گز شک نہیں ہے،،، لیکن اکیلی نیک نیتی کا ہم سے کیا سروکار ہوگا؟ کیا ٹیپو سلطان نیک نیت نہیں تھا؟ کیا سراج الدولہ نیک نیت نہیں تھا؟ کیا بخت خان نے 1657کی جنگ آزادی نیت نیتی سے نہیں لڑی تھی؟ لیکن یہ سارے ہی اپنے حواریوں کی وجہ سے ہار گئے تھے ۔ لہٰذاآپ کبھی اکیلے جنگ نہیں جیت سکتے جب تک آپ کے ساتھ حواری نہ ہوں،،، اس لیے حواریوں کا ٹھیک ہونامعنی رکھتا ہے،،، اگر وہ ایماندا ر ہوں گے تو آپ بھی ترقی کریں گے، ریاست بھی ترقی کرے گی اور عوام بھی ترقی کریں گے۔ آپ خود دیکھیں کہ کوئی اہل بندہ کسی بھی سیٹ پر موجود ہی نہیں ہے۔ جب ٹرین کا ڈرائیور ہی نہیں ٹھیک ہو گا، تو ٹرین کیسے منزل مقصود تک پہنچے گی؟ اس لیے حکمران جتنے مرضی ترقی کے نعرے لگا لیں شک کی گنجائش ہمیشہ رہے گی۔ کیوں کہ ان حکمرانوں سے ہمیں صرف یہ مسئلہ ہی نہیں ہے کہ انہوں نے ملک میں صرف کرپشن کرنی ہے،،، بلکہ انہوں نے ہر محکمے میں جو اپنی مرضی کے لوگ بٹھائے ہوئے ہیں، وہ بھی اپنی سیٹوں کے اہل نہیں ہیں،،، انہوں نے ہر جگہ اپنے بندے بٹھا دیے ہیں تاکہ انہیں کوئی کچھ نہ کہے،،، عدلیہ کیا، بیوروکریسی کیا، فوج کیا ، پی سی بی کیا، واپڈا کیا، حتیٰ کہ واسا ، ایل ڈی اے تک میں سیاسی پوسٹنگ کی گئی ہے۔ اور یہ سب کچھ فیصلے کرنے والوں کی منشاءاور اُن کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ ہماری مرضی کے بندے لگائیں، اگر آپ اپنی مرضی کے بھی لگا رہے ہیں تو کیا آپ کی فہرست میں کوئی لائق یا قابل افسر نہیں ہے؟ اگر انجینئر کی سیٹ ہے تو اُس پر کسی قابل انجینئر کو تو لگائیں،،، اُس پر کسی ڈاکٹر کو تو نہ لگا دیں،،، اور پھر اگر کہیں ڈاکٹر کی سیٹ پرُکرنی ہے تو اُس پر کسی سیاستدان یا وکیل کو نہ لگا دیں،،، اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے آپ نے پی سی بی کا چیئرمین لگانا تھا، تو کیا آپ کے دوستوں میں سے صرف محسن نقوی ہی بچا تھا؟ جس کے پاس پہلے ہی کئی فل ٹائم جابز ہیں جس میں وزارت داخلہ سر فہرست ہے۔ اس لیے میں پھر یہی کہتا ہوں کہ جناب آپ اپنی مرضی کا ہی سربراہ منتخب کریں ،،، مگر وہ قابلیت میں اپنے احباب میں تو کم از کم پہچانا یا مانا جائے۔ محض ہوائی سفر کے شوقین کو اگر آپ کسی ادارے کا چیئرمین بنا دیں گے تو وہ سب کچھ روند ڈالے گا۔اور پھرایسا کرنے سے کیا ملک کے بچے کھچے ادارے مزید تباہ نہیں ہو جائیں گے؟ میں پھر یہی کہوں گا کہ ہمیں ہر گز ہر گز فیصلہ کرنے والوں کی نیت پر شک نہیں ہے، لیکن انسان اپنے حواریوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ اور ان حواریوں یعنی جن کے سپرد آپ نے ملک کیا ہوا ہے، ان سے تو آپ ایک دھیلے کی اُمید نہیں کر سکتے کہ یہ ملک کی بہتری کے لیے کام کر سکتے ہیں، نہیں یقین تو آپ ان کے ریکارڈز چیک کر لیں،ان ہزاروں کے حساب سے کرپشن کیسز چیک کر لیں، ان کے کام کرنے کے انداز چیک کرلیں، ان کے دور کی آڈٹ رپورٹس پڑھ لیں، ان پر کرپشن کے چارجز چیک کر لیں، انہوں نے بینکوں سے جو قرضے معاف کروائے وہ دیکھ لیں، انہوں نے جو کرپشن کیسز کے حوالے سے این آر او ز لیے وہ دیکھ لیں۔ حتیٰ کہ آپ کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے جس نے چاروں صوبوں کو فائدہ دینا تھا ، یہ وہ نہیں بنوا سکے تو باقی کیا کریں گے؟ ہمارے مسائل تو یہ ہیں کہ کبھی ہم بلوچیوں پر بندوق تانے کھڑے ہو جاتے ہیں اور مسئلے کو بندوق کی نالی سے نکلنے والی گولی سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی ہم افغانستان کے ساتھ جنگ چھیڑنے کا عندیہ دیتے ہیں، کبھی ہم بھارت کے ساتھ اور کبھی ایران کے ساتھ تعلقات خراب کر بیٹھتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان نااہل لوگوں کی وجہ سے اس وقت ملک کنگال ہو رہا ہے، ہم یواے ای، سعودی عرب، چین سے رہن کے لیے پیسے ایک سال کی تاریخ بڑھنے پر خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں، ہم دوسروں کی جنگ میں اپنے آپ کو پھنسا کر کہہ رہے ہیں کہ ہم نے بہت اچھا کام کیا،،، ہم اپنے اصل سرمایہ داروں کو یہاں ٹکنے نہیں دیتے،،، کیوں کہ حکمران طبقہ اپنے آپ کو خود بہت بڑا سرمایہ دار سمجھتا ہے، حالانکہ اُسکا کل سرمایہ بیرون ملک پڑا ہے۔ نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں، موجودہ وزیر اعظم، موجودہ صدر پاکستان، موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب ، سابقہ وزیر اعظم نواز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر درجنوں حکمران سیاستدانوں کے کھربوں روپے بیرون ملک پڑے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ کسی کاروباری کو ملک میں ٹکنے دیں گے؟ انہوں نے تو ملک ریاض کا وہ حال کیا ہے کہ آئندہ کوئی بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے بارے میں سوچے گا بھی نہیں۔ کمی و کوتاہیاں سب میں ہی ہوتی ہیں، مگر ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ لوگ ملک کا اثاثہ بھی ہوتے ہیں،،، اور پھر کیا کبھی آپ نے یہ سنا ہے کہ بھارت میں سرکار نے مکیش امبانی، گوتم ایڈانی، شونادر، جندال گروپ، ٹاٹا گروپ، سنیل متل یا کسی دوسرے سرمایہ دار گروپ کو تنگ کیا ہو، بلیک میل کیا ہو، سیاست میں ملوث کیا ہے، یا یہ کہا ہو کہ آپ فلاں شخصیت کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں،،، آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ بلکہ وہاں کی سرکار گوگل ہو،ایپل ہو، مائیکروسافٹ ہو، ایمازون ہو، علی بابا ہو یا کوئی بھی ملٹی نیشنل چین ہواُس کے ساتھ معاہدے ہی ایسے پیرائے میں کرتی ہے کہ وہ بھارت کی ذیلی کمپنیوں کے ساتھ مل کر جوائنٹ وینچر کریں گے،،، اگر کوئی اُن کی شرائط نہیں مانتا تو وہ کبھی اُسے اپنے ملک میں کاروبار نہیں کرنے دیتے۔ لہٰذاعقل کے ناخن لیے جائیں،،، ہمارے پاس ملک بچا ہی کتنا ہے؟ 55سال پہلے ہم نے آدھا ملک کھو دیا، اب بلوچستان میں ہم نہیں جا سکتے، کے پی کے والوں کے حالات اور لانگ مارچ آپ کے سامنے ہیں،بہرکیف اس وقت تو ویسے ملک میں سسٹم ہے ہی نہیں،،، بس جو کہہ دیا وہی قانون بن جاتا ہے،،، لیکن خدارا اہل لوگ تو ان سیٹوں پر لگائیں، تاکہ آپ کی سوچ کو مکمل کیا جاسکے۔ ،، آپ خود چونکہ اہل ہیں،،، اور اس منصب تک ظاہر ہے،ایک سسٹم سے گزر کر پہنچے ہیں۔لہٰذااگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ چلے ہوئے کارتوس، ہارے ہوئے جواریوں، کرپٹ حکمرانوں اور دیگر افراد کے ذریعے ملک چلا لیں گے تو یقینا آپ غلطی پر ہیں۔ جسے درست کرنا کافی ہے۔!