”بد امنی“ کا حل ، الیکشن ہیں؟

جوں جوں 27ستمبر قریب آرہا ہے، حکومت اور عوام کے ہاتھ پاﺅں پھولتے جا رہے ہیں،،، حکومت کے اس لیے کہ اُسے سمجھ نہیں آرہی کہ کس حد تک اسلام آباد اور گردو نواح کے علاقوں میں کنٹینروں کی دیواریں کھڑی کرنی ہیں،،، جبکہ عوام کے اس لیے کہ ایک تو اُس کے پیسوں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے،،،اور دوسرا اُنہیں خود بھی علم نہیں کہ آنے والے دنوں میں اُن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے،،، یعنی وہ اس بے ترتیب حکومت کے بارے میں سوچ رہے ہیں کہ اگر عوام کو اچھی حکومت مل رہی ہو،انصاف اورامن ہو،روزگار ہو،بجلی اور پٹرول سستے ہوں،ریاست شہری کو عزت اور تحفظ دے رہی ہو۔تو کیا پھر بھی عوام سڑکوں پر نکلیں گے؟ پی ٹی آئی کے احتجاج سے ریاست اتنی ہی خوفزدہ ہوگی؟کیا پھربھی ہزاروں کنٹینرز سڑکوں پر کھڑے کرنا پڑیں گے؟اصل سوال پی ٹی آئی کااحتجاج کا اعلان نہیں۔سوال یہ ہے کہ ریاست جتنی طاقت احتجاج روکنے پرخرچ کرتی ہے۔اتنی عوام کوسہولت دینے پر خرچ کیوں نہیں کرتی؟ کیا انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ طاقت سے سڑکیں تو بند کی جاسکتی ہیں،عوام کے ذہن نہیں ۔ اور پھر اب تو پورے ملک کو کنٹینروں کے ذریعے بند کرنے کا رواج ہی قائم ہوگیا ہے،،، اور یہ ”عادت“ تو ہم نے حالیہ سالوں ہی میں دیکھی ہے،،، کہ میں حیران اس بات پر ہوں کہ ہمارے دوست احباب نے ان کنٹینروں سے بھی کروڑوں روپے کی دیہاڑیاں لگانے اور خزانے کو چونا لگانے کا بندوبست کر رکھا ہے،،، اور خاص طور پر اسلام آباد میں تو سب سے پہلے کنٹینروں کی دیواریں کھڑی کرنے کا رواج پیدا ہو چکا ہے،،، اس شہر نے پہلی دفعہ کنٹینرز اس وقت دیکھے تھے جب رحمن ملک وزیر داخلہ تھے اور طاہرالقادری اپنے ساتھ ہزاروں فالوورز کے ساتھ چڑھائی کرنے آئے تھے۔ جب طاہر القادری کے قافلے کی اسلام آباد آمد ہوئی تھی،،، ا±ن کو روکنے کے نام پر شہر کو کنٹینرز سے ڈھانپنے کا کام رحمن ملک نے شروع کیا تھا‘ جو اَب اتنا عام ہو چکا کہ پی ٹی آئی نے ادھر کا ر±خ 27ستمبر کو کرنا ہے لیکن کنٹینرز دس دن پہلے سڑکوں پر لا کر کھڑے کر دیے گئے ۔ یہ وہ کنٹینرز ہیں جو ملک کی امپورٹ ایکسپورٹ کیلئے کام آتے ہے۔ لیکن اس وقت یہ اسلام آباد کو محاصرے سے بچانے کے کام آ رہے ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے‘ یہ کنٹینرز شہر کو بچانے کیلئے ہیں یا پھر اس پورے کھیل میں بڑا پیسہ بنانے کیلئے؟ یہ کنٹینرز کرائے پر لائے جاتے ہیں اور روزانہ کے حساب سے مالکان کو ان کا کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔ یوں چودہ سالوں میں ملکی معیشت نے ترقی کی یا نہیں‘ لیکن ان کنٹینرز کے مالکان کا کاروبار خوب چمک رہا ہے۔ اب پتا چلا ہے کہ مبینہ طور پر اس کمائی میں بڑے بڑے لوگ بشمول کئی افسران شامل ہیں‘ جو کنٹینرز کی روزانہ کی کمائی میں باقاعدہ حصہ دار ہیں۔ لہٰذا یہ کنٹینرز کئی لوگوں کی جیبوں میں پیسہ لے جانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ پی ٹی آئی نے مئی 2022ءمیں اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ کیا تھا، اس دوران امن و امان کو برقرار رکھنے پر وفاقی حکومت نے 33 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کیے۔ کنٹینرز اور گاڑیوں کے کرائے پر 21کروڑ 70لاکھ‘ آنسو گیس وغیرہ پر تین کروڑ 17لاکھ‘ کھانے پینے پر چار کروڑ 78لاکھ اور دیگر مدات میں چار کروڑ پانچ لاکھ روپے سے زائد اخراجات ہوئے۔ یہ سب پیسہ آپ لوگوں کی جیبوں سے‘ پٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر ادا کیا گیا۔ وہ سب جو اسلام آباد پر چڑھائی کرنے آتے ہیں‘ وہ دراصل ان افسران‘ کنٹینر مالکان اور دیگر کی روزی روٹی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ ان کنٹینرز کے کھیل میں جو پیسہ کمایا جا رہا ہے اس کی تفصیل سن کر میرے ہوش اڑ گئے ہیں کہ کیسے اب کنٹینرز لگانا بھی نفع بخش کام بن چکا ہے۔ پھر حالیہ سالوں میں بھی یہی کام شروع ہوا، اور کبھی احتجاج کو روکنے کے لیے کنٹینر لائے گئے تو کبھی حفظ ماتقدم کے طور پر کنٹینروں کی دیواریں کھڑی کی گئیں،، جس سے کئی گھر وں کی خوشحالی وجود میں آئی۔ بہرحال بات کہیں کی کہیں نکل گئی،،، لیکن اس بدامنی کا حل میرے خیال میں صرف اور صرف شفاف الیکشن ہیں،،، کیوں کہ اگر آپ ڈنڈے کے زور پر بغیر دوسرے فریق کی بات سنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے تو مسائل حل نہیں بلکہ مزید خراب ہوں گے،،، اس کی مثال آپ وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان سے لے لیں کہ انہوں نے گزشتہ سال کہا تھا کہ بلوچستان میں جو لوگ خرابی پیدا کر رہے ہیں وہ ایک ایس ایچ او کی مار ہیں،،، آپ بتائیں اس بیان کے بعد کیا مسائل حل ہوگئے؟ اور وہ کہاں ہے ”ناڈو خان “ ایس ایچ او ؟ جس نے مسائل حل کرنا تھے؟ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے چکر میں بلوچستان کے حالات مزید بگڑ گئے ہیں،،، اس پیرائے میں جنرل مشرف بھی یاد آتے ہیں۔ نواب اکبر خان بگٹی سے گڑبڑ شروع ہوئی اور نواب صاحب نے اونٹ پر بیٹھے پہاڑوں کا رخ کیا تو جنرل مشرف نے ایک تاریخی جملہ ادا کیا کہ اُسے پتا نہیں چلے گا اُسے کس چیز نے ہِٹ کیا ہے۔ ایک غار میں پناہ لیے جب نواب بگٹی پر ہوائی حملہ ہوا تو یقینا ا±نہیں پتا نہ چل سکا ہوگا کہ اُنہیں کس چیز نے ہِٹ کیا ہے۔ لیکن اس واقعہ کے بعد بلوچستان میں جو صورتحال بنی وہ بیس سال بعد اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ پور ی قوم کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کون سی نظرِ بد بلوچستان کو لگی ہے۔ ایس ایچ او والی بڑھک اور ہِٹ کرنے والی دھمکی ایک ہی انداز کی دو کڑیاں ہیں‘ فرق صرف اتنا کہ ان میں بیس پچیس سال کا فاصلہ ہے۔ یعنی سرکاری رویے جو تب کے تھے آج بھی وہی ہیں۔ کیا ماجرا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے اشخاص تو آتے جاتے ہیں لیکن سوچ وہی پرانی ہے۔ بلکہ مخالف گروپ آج اتنے منظم ہو چکے ہیں کہ کتنے ہی ضلعی مقام ہیں جہاں موٹر سائیکل سوار جتھوں نے حملہ کیا اور پھر نہایت اطمینان سے واپس چلے گئے۔ اور ہم ہیں کہ ہارڈ اسٹیٹ کا راگ الاپتے جا رہے ہیں۔ لہٰذافیصلہ کرنے والے ہوش کے ناخن لیں اور احتجاج کرنے والوں کے مطالبات سنیں،،، ورنہ بہت دیر ہو جائے گی،،، اور پھر بھی حکومت کو جانا الیکشن کی طرف ہی پڑے گا چاہے آج نہیں تو کل ....ورنہ ہم عدم استحکام کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے۔ اور آپ دیکھ لیں کہ پہلے ہی اس ملک کی کیا صورتحال ہے اور سوچیں کہ کیا یہ ملک مزید عدم استحکام کا متحمل ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں تو خدارا ہوش کے ناخن لیں اور الیکشن کی طرف بڑھیں ورنہ بقول شاعر رہے نہ ساتھ پچھتاوے بھی تو رنج ہوا کہ حاصل سفر عمر رائیگاں بھی گیا لہٰذامیرے خیال میں کنٹینروں سے نہیں، عوام کے مسائل حل کرنے سے راستے کھلتے ہیں، احتجاج جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ پاکستان کا آئین بھی شہریوں کو پرامن اجتماع کا حق دیتا ہے، اگرچہ یہ حق قانون کے تحت معقول پابندیوں کے تابع ہے۔لہٰذا ریاست کی ذمہ داری دو طرفہ ہے۔ ایک طرف شہریوں، سرکاری عمارتوں، کاروبار، مریضوں، طلبہ اور عام مسافروں کے حقوق اور سلامتی کا تحفظ ضروری ہے، دوسری طرف پرامن سیاسی اختلاف کے لیے آئینی اور قانونی راستہ بھی برقرار رہنا چاہیے۔ اور پھر اگر ہر احتجاج کا جواب کنٹینر، گرفتاری، موبائل سروس کی بندش، سڑکوں کی بندش اور طویل سکیورٹی آپریشن سے دیا جائے گا تو اس کا ایک معاشی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔چند سال قبل ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد میں احتجاجی دھرنوں اور لاک ڈاو¿نز کے باعث 2012 سے 2018 کے دوران قومی معیشت کو تقریباً 1.5 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔ اسی رپورٹ کے مطابق 2018 میں قومی اسمبلی میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ سات برس میں اسلام آباد کے دھرنوں اور لاک ڈاو¿نز سے معیشت کو ایک ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سیاسی کشمکش کی قیمت صرف حکومت یا احتجاج کرنے والی جماعت نہیں، بلکہ عام شہری اور کاروباری طبقہ بھی ادا کرتے ہیں۔آج صورتحال یہ ہے کہ کنٹینرز کے مالکان بھی شکایت کر رہے ہیں کہ ان کی گاڑیاں سیاسی احتجاج کی تیاریوں میں استعمال کرنے کے لیے روکی جارہی ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کا مو¿قف ہے کہ ان کے کنٹینرز تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ہیں اور انہیں سیاسی مقاصد کے لیے سڑکوں پر کھڑا کرنے سے ان کے کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔ایک طرف حکومت معیشت کو دستاویزی بنانے، برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری لانے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی بات کرتی ہے، دوسری طرف سیاسی کشیدگی کے موقع پر وہی شاہراہیں بند ہوجاتی ہیں جن سے مال بردار گاڑیاں، مزدور، ملازمین، طلبہ اور مریض سفر کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ حکومت احتجاج کے دوران امن و امان قائم کیوں کرتی ہے۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امن و امان قائم رکھنے کا واحد طریقہ راستے بند کرنا ہے؟ دنیا کے جمہوری نظاموں میں احتجاج کے لیے مخصوص مقامات، پیشگی اجازت، متبادل ٹریفک پلان، مذاکراتی نظام اور واضح قانونی حدود مقرر کی جاتی ہیں۔ اگر مظاہرین پرامن رہیں تو ان کے مطالبات سنے جاتے ہیں، اور اگر کوئی قانون توڑے تو قانون کے مطابق کارروائی ہوتی ہے۔ یوں پورا شہر یرغمال بننے سے بھی بچ سکتا ہے اور شہریوں کے احتجاج کا حق بھی برقرار رہ سکتا ہے۔ بہرکیف پاکستان کو بھی اسی قسم کے ایک مستقل نظام کی ضرورت ہے۔حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کو سیاسی فریق سمجھیں۔ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات میں سے جو آئینی اور قانونی ہیں، ان پر مذاکرات ہوں۔ جو مطالبات ناقابلِ عمل ہیں، ان کے بارے میں عوام کو دلیل کے ساتھ بتایا جائے۔ جو معاملات عدالتوں سے متعلق ہیں، انہیں عدالتوں میں جانے دیا جائے۔ اور جہاں حکومت کے اختیار میں مسئلہ حل کرنا ممکن ہے، وہاں فیصلے کیے جائیں۔