یمن جنگ : کیا پارلیمنٹ میں اب کبھی بات نہیں ہوگی ؟

ابھی ایران،امریکا و اسرائیل جنگ ختم نہ ہوئی تھی کہ خطے میں ایک اور مسئلہ آن پڑا کہ سعودی عرب اور یمن تنازع سر اُٹھانے لگا، ،، آگے بڑھنے سے پہلے بتاتا چلوں کہ اس مسئلے نے دوبارہ سر کیوں اُٹھایا،،، دراصل گزشتہ جمعرات کو جب حوثیوں نے ساحلِ بحیرہ احمر کے ساتھ جنوب کی طرف چڑھائی کی تو اُس دن ولی عہد سعودیہ نے صدر ٹرمپ کو دو مرتبہ ٹیلی فون کال کی۔ فوجی مدد مانگ رہے تھے کہ حوثیوں کی چڑھائی روکنے کیلئے اُن کے دستوں پر بمباری کی جائے۔ ویسے یہ دن بھی آنا تھا کہ امریکی صدر نے انکار کر دیا اور خبریں یہ ہیں کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ نشانوں کی نشاندہی کریں گے لیکن حملے آپ خود کرئیے‘ ساز و سامان اور لڑاکا جہاز آپ کے پاس ہیں‘ انہیں استعمال میں لائیے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ بین الاقوامی میڈیا یہ خبریں رپورٹ کر رہا ہے، یعنی سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ حوثی چڑھائی شروع ہوئی تو سعودیوں کے حمایتی یمنی فضائی حملوں کی درخواست کرتے رہے اور برادر ملک کی طرف سے ایک حملہ بھی نہ ہو سکا۔ حوثی فوج آگے آتی رہی اور سعودیہ کے حمایتی یمنی دستے پسپا ہوتے رہے اور بکھرتے گئے۔ بحیرہ احمر پر واقع م±خا کی بندرگاہ حوثی قبضے میں آئی‘ پھر جمعہ کے روز” جزیرہ پیرم“ جو کہ باب المندب کے عین درمیان میں واقع ہے، وہ بھی حوثیوں کے قبضے میں آ گیا۔ سعودی حمایتیوں کو امریکی مدد پہنچی نہ سعودیوں سے کچھ حاصل ہو سکا۔ تقریباً دو سو امریکی ایڈوائزر سعودیہ میں موجود ہیں لیکن جب یہ اہم لڑائی ہو رہی تھی وہ کسی کام نہ آئے۔بہرحال صورتحال یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں جو بھی ماحول بنتا ہے وہ تو سامنے آہی جائے گا مگر اس وقت پاکستان کے حوالے سے خبریں آرہی ہیں کہ وہ مکہ معاہدے کی وجہ سے حوثیوں (یمنی فورس)کے خلاف اقدامات پس پردہ اُٹھا رہا ہے،،، ویسے تو ابھی سرکاری طور اعلان نہیں کیاگیا اور وزارت خارجہ بھی مذمتی بیانات تک محدود ہے،،،بہرحال سعودیوں کے حوثیوں سے تعلقات تو پہلے سے خراب ہیں‘ لیکن 2022ءسے ایک جنگ بندی کی کیفیت چل رہی تھی۔ جولائی میں آیت اللہ خامنہ ای کے جنازہ کے موقع پر ایک ایرانی جہاز حوثیوں کے ایک وفد کو صنعا ائیر پورٹ واپس چھوڑنے آیا تو اُس کے بعد ایئر پورٹ اور رن وے پر سعودی ہوائی حملے کیے گئے۔ اس واقعہ سے جنگ کا یہ نیا راو?نڈ شروع ہوا۔ جس کے نتیجے میں برادر سعودیوں کو یہ ساری ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے۔ لیکن ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ پاکستان خود کو اس جنگ میں ملوث کر چکا ہے،،، اگر ایسا ہے تو ہم دوبارہ پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ کیوں نہیں اُٹھا سکتے؟ یعنی اگر ہم نے پارلیمنٹ یا سینیٹ سے پوچھنا ہی نہیں تو اسے بند کردینا چاہیے،،، کیوں کہ یہ تو ویسے بھی اربوں روپے کا بوجھ ہے پارلیمنٹ پر ،،، اس ایوان کے اراکین کی تنخواہیں، پروٹوکولز، اسٹاف کے اخراجات، وزیروں کے شاہانہ اخراجات، ان کے کیمپ آفسز کے اخراجات، پھر ان کے لیے اربوں روپے کے فنڈز ،،، کیا یہ مراعات صرف ان لوگوں کو خاموشی سے تماشا دیکھنے کے لیے مل رہی ہیں؟ یعنی چاروں صوبوں کی اسمبلیاں، بلکہ جی بی اور کشمیر کی اسمبلیاں بھی ملا لیں،،، پھر قومی اسمبلی و سینیٹ اور پھر ان کی کمیٹیاں اور ان کے اخراجات ۔ پھر فیڈرل منسٹرز کے ساتھ مشیران کی ایک لمبی فہرست ،،، الغرض کھربوں روپے کے اضافی فنڈز ان کے لیے جاری ہوتے ہیں۔ اور پھر ان کی مراعات یہی ختم نہیں ہوتیں،،، بلکہ انہیں ملنے والے فری یونٹس بھی عام آدمی پر بوجھ بن رہے ہیں،،، اور سرکار ”ایڈجسٹمنٹ“ کے لیے غریب آدمی پر بوجھ بڑھا دیتی ہے اور کہتی ہے کہ حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا،،، یعنی اگر چارہ نہیں ہے تو بھائی آپ اپنے اضافی اخراجات بند کردیں،،، غیر ترقیاتی اخراجات جو کھربوں روپے سالانہ بنتے ہیں،،، آپ اُنہیں تو ختم نہیں کر رہے ،، لیکن عوام سے ہی ٹیکس لے کر اُنہیں پر مزید سختیاں کی جا رہی ہیں۔ کبھی لیوی بڑھا دی جاتی ہے، تو کبھی ٹیکس کی شرح بڑھا دی جاتی ہے، تو کبھی ٹول ٹیکس بڑھا دیا جاتا ہے۔ غریب آدمی تو گھر سے اس ڈر کے مارے نہیں نکلتا کہ نہ جانے کس جرم میں اُس پر ڈھائی تین ہزار روپے کے چالان ٹھونک دیے جائیں گے،،، اور اُتنے وہ شاید اگلے دو تین دن میں نہ کما سکے۔ اور آپ خود بتائیں کہ ایک مڈل کلاس طبقے میں اتنی سکت رہ گئی ہے کہ وہ اتنے یوٹیلیٹی بلز کے ساتھ جرمانے بھی بھرے؟ اور ان کا جو اصل کام ہے وہ یہ کرتے ہی نہیں ہیں،،، کہ کوئی بھی قومی ایشو پارلیمنٹ میں آئے گا اُسے یہاں ڈسکس کیا جائے گا،،، اور ایک مشترکہ رائے کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا،،، حالانکہ موجودہ حکمرانوں کے پچھلے دور یعنی مارچ 2015ءمیں سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف یمن میں فوجی کارروائی شروع کی۔ سعودی عرب نے پاکستان سے بھی فوجی مدد مانگی۔اس پر پاکستان کی پارلیمنٹ کا 6 سے 10 اپریل 2015 تک مشترکہ اجلاس ہوا۔بالآخر 10 اپریل 2015 کو متفقہ قرارداد منظور ہوئی۔پارلیمنٹ نے بنیادی طور پر کہا:پاکستان یمن کے تنازع میں غیر جانب دار رہے۔لیکن ساتھ ہی سعودی عرب کے ساتھ واضح یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اگر سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہو یا حرمین شریفین کو خطرہ لاحق ہو تو پاکستان سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوگا۔قرارداد نے حکومت سے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کے ذریعے یمن میں فوری جنگ بندی کے لیے کوشش کی جائے۔اس کا مطلب کیا تھا؟یعنی 2015 کا فارمولا بہت واضح تھا:کہ یمن کی جنگ میں پاکستان فریق نہیں بنے گا، لیکن سعودی عرب پر براہِ راست حملہ یا حرمین شریفین کو خطرہ ہو تو پاکستان سعودی عرب کے دفاع میں کھڑا ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان نے سعودی اتحاد میں اپنی فوجیں یمن بھیجنے سے گریز کیا۔ لیکن اب چند روز پہلے ہم نے اور ترکی نے مکہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے مطابق ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا،،، چلیں یہ بھی مان لیا کہ اب سارے فیصلے ہائی کمان نے کرنے ہیں،،، اور عوام کو یا عوامی نمائندوں کو کسی خاطر میں نہیں لانا تو ٹھیک ہے،،، آپ کی مرضی ہے،،،جو جی میں آئے کرتے رہیں،،، بقول شاعر میری بربادی کا سامان بہر طور کریں جی میں جو آئی ہے شہ زوروں کی شہ زور کریں لیکن آپ عام آدمی کو ریلیف تو دیں،،، اُسے سانس تو آنے دیں،،،اُسے اس قابل تو چھوڑیں کہ وہ اس ملک میں ایک بہتر زندگی گزار سکے،،، کیا آپ نے اُس دیہاڑی دار مزدور کے گھر کے حالات دیکھے ہیں، جس کے پاس ایک وقت کا کھانا ہوتا تو دوسرے وقت کے لیے وہ پیٹ پر پتھر باندھ کر سو جاتا ہے،،، اگر وہ مکان کا کرایہ ادا کرتا ہے تو اُس کے پاس بجلی کے بل کے پیسے نہیں ہوتے اور اگر وہ بل ادا کرتا ہے تو اُس کے پاس کرایہ ادا کرنے کے پیسے نہیں ہوتے،،، بہرحال اتنے بڑے ایشو میں اپنے آپ کو پھنسانے کے بجائے اسے پارلیمنٹ میں لے کر آئیں،،، کیا ہمارے ایوان صرف کالے قوانین پاس کروانے کے لیے رہ گئے ہیں؟ میرے خیال میں تو وہ بھی ایک ایگزیکٹو آرڈر سے پاس کروا لیا کریں،،، جو بھی ترامیم کرنی ہیں،،، سب کچھ آپ کے ہاتھ میں ہے،،، ایک آرڈر سے سب کچھ پاس کروائیں،،، اللہ اللہ خیر صلہ ۔ ایویں ان ایوانوں کو عوام اور دنیا کے سامنے تقدس پامال کیا جارہا ہے،،، یعنی اس سے ہم آنے والی نسلوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سب کچھ فیصلہ کرنے والے ہی ہوتے ہیں،،، باقی سب ہیر پھیر ہے،،، اور پھر لگے ہاتھ عدلیہ پر بھی پابندی لگادیں کہ وہ بھی سیاسی معاملات میں نہ پڑے ،،، پھر تو یہ حساب ہوگا کہ گلیاں ہو جان سنجیاں، وچ مرزا یار پھرے بہرحال یہ بات سمجھی جائے کہ یہاں پر ایران اور یمن کے چاہنے والوں کی تعداد بھی اتنی ہی ہے جتنی ان کے مخالفین کی ہے،،، تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم یمن کے محاذ میں کسی بھی طرح حصے دار بن جائیں اور بھارت، افغانستان، کے بعد یمن کے ساتھ بھی تعلقات ”نازک“ موڑ پر لے آئیں اور خدانخواستہ وہ بھی پاکستان پر حملے کرنے کو شرعی طور پر جائز قرار دے دیں اور ہم اپنے ملک کو ایک نئے امتحان سے بالکل اُسی طرح گزاریں جس طرح جنرل ضیاءالحق نے گزارا تھا۔ اور رہی بات یمن سعودیہ جنگ کی تو یقینا یہ ایک جال ہے،،، جس میں جو بھی جائے گا، پھنسے گا،،، حوثی کامیابیوں سے چند روز پہلے ایران نے جو میزائل حملے اُردن میں الازرق فوجی اڈے پر کیے میزائلوں کی پوری ایک یلغار تھی جسے روکنے کیلئے امریکیوں نے 30سے 40پیٹریاٹ میزائل استعمال کیے۔ ایک پیٹریاٹ میزائل کی قیمت تقریباً اڑھائی ملین ڈالر ہے۔ 30‘ 40 میزائلوں کا خود اندازہ کیجئے کہ حساب کیا بنتا ہے۔ اس کے باوجود کئی ایرانی میزائل نشانوں پر لگے اور مغربی میڈیا میں خبریں ہیں کہ امریکی جہازوں کو نقصان پہنچا اور ایک A-10جہاز تو ناکارہ ہو گیا۔ چند دن پہلے ایرانی میزائل ایک امریکی بحری جہاز کے اوپر پھٹے۔ یعنی جان بوجھ کر رینج وہ رکھی گئی کہ جہاز تک نہ پہنچیں تاکہ بات پھر آگے نہ بڑھ جائے۔ لیکن اتنا تو امریکیوں کو باور کرا دیا کہ آپ کے بحری جہاز ہماری پہنچ میں ہیں۔ بہرکیف اس موقع پر مکہ دفاعی معاہدے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ معاہدہ کہاں گیا اور اُس کی شرائط کیا ہیں۔ جب معاہدے پر دستخط ہوئے تھے تو بڑا چرچا تھا کہ ایک بہت بڑا کارنامہ انجام پایا ہے۔ اب جب برادر ملک دباﺅ میں ہے تو معاہدے کے خدوخال کسی واضح شکل میں نظر نہیں آ رہے۔ لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہر چیز واضح ہو تو براہ کرم ہر مسئلہ کو پارلیمنٹ میں ڈسکس کیا کریں تاکہ دنیا بھر میں ہمارا بطور قوم تشخص برقرار رہے!