کشمیر: کیامہاجرین کی 12نشستیں اقتدار میں آنے کا ذریعہ ہیں؟

آزاد و جموں کشمیر کے عام انتخابات کا دوسرا مرحلہ اتوار کو ہوا ، جس میں 9عام نشستوں (مظفر آباد ڈویژن ) اور مہاجرین کی 12نشستوں پرالیکشن ہوئے،،، جن میں سے مرکز ی حکمران جماعت ن لیگ نے میدان مان مار لیا اور کل 14نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ 5نشستوں پر پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی،،اس پہلے یعنی پہلے مرحلے کے نتائج میں بھی ن لیگ نے 9سیٹیں جیتیں اور پیپلزپارٹی نے 4میں کامیابی حاصل کی،،، اس طرح ن لیگ کل 23نشستوں پر انتخابات جیت چکی ہے،،، اور خواتین کی خصوصی نشستیں حاصل کرکے یہ پارٹی اب حکومت بنانے کی مضبوط پوزیشن میں ہے،،، جبکہ انتخابات کا تیسرا مرحلہ پونچھ ڈویژن کا ہے جس میں 11عام نشستوں پر انتخابات ہوں گے،،، اور یہی حلقے اس وقت احتجاج کرنے والوں کے ہیں،،، یعنی اگر ان 11نشستوں میں سے ایک میں بھی ن لیگ کامیاب نہ ہوسکی تب بھی وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی،،، پھر بادی النظر میں احتجاج کرنے والوں کے خدشات درست ہیں کہ جو بھی پارٹی پاکستان میں مہاجرین کی ان 12 نشستوں پر جیت حاصل کرتی ہے، وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جاتی ہے۔تبھی کشمیری عوام کے احتجاج میں یہ مطالبہ اولین حیثیت اختیار کر چکا ہے کہ ان نشستوں کو ختم کیا جائے،،، آگے چلنے سے پہلے بتاتا چلوں کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں کل 53 نشستیں ہیں، جن میں سے 33 پر آزاد کشمیر کے اندر رہنے والے تقریباً ساڑھے 44 لاکھ مقامی لوگ ووٹ ڈالتے ہیں، آٹھ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور سمندر پار کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں،،، جبکہ 12 وہ نشستیں ہیں جو کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور راولپنڈی جیسے پاکستان کے مختلف شہروں میں پھیلی ہوئی ہیں ،، یعنی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 12 مہاجر نشستیں (LA-30تا LA-41) ہیں اگر میں تفصیل سے بات کروں تو آپ خود دیکھیں کہ ایک ایک حلقہ کتنے اضلاع پر محیط ہے،،، یعنی حلقہ ایل اے 30 جسے جموں 1بھی کہا جاتا ہے،،، اسے ووٹرز کی بنیاد پر سندھ، خصوصاً کراچی، حیدرآباد اور بلوچستان کے بعض علاقوں پر مشتمل ہے،،، یعنی اس حلقے میں کم و بیش 48اضلاع ہیں،،، ،پھر ایل اے 31(جموں-II) گوجرانوالہ اور حافظ آباد،LA-32 (جموں-III) سیالکوٹ اور نارووال، LA-33 (جموں-IV) گجرات، منڈی بہاو¿الدین اور وزیرآباد، LA-34 (جموں-V) لاہور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور قصور، جبکہ LA-35 (جموں-VI) راولپنڈی، اسلام آباد، جہلم، چکوال اور اٹک میں مقیم مہاجرین پر مشتمل ہے۔ اسی طرح LA-36 (وادی کشمیر-I) کے ووٹر کراچی اور سندھ، LA-37 (وادی کشمیر-II) لاہور ڈویژن، LA-38 (وادی کشمیر-III) فیصل آباد، ملتان، ساہیوال اور جنوبی پنجاب، LA-39 (وادی کشمیر-IV) راولپنڈی ڈویژن، LA-40 (وادی کشمیر-V) اسلام آباد، مری اور راولپنڈی کے بعض علاقوں، جبکہ LA-41 (وادی کشمیر-VI) خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع، جیسے پشاور، مردان، ایبٹ آباد، مانسہرہ، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں آباد مہاجرین پر مشتمل ہے۔ اسے یوں سمجھیں کہ ایک شخص جو کراچی میں پیدا ہوا اور اس نے کبھی کشمیر کی زمین پر قدم بھی نہیں رکھا، لیکن اس کے پاس ایک ایسا شناختی کارڈ موجود ہے جس کے ذریعے وہ یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ کشمیر کی حکومت کون چلائے گا۔خیر اس پرتو بعد میں بات کرتے ہیں مگر آپ خود دیکھیں کہ ان مہاجر نشستوں کے جیتنے والے بعض اُمیدواران کو کتنے ووٹ حاصل ہوئے ہیں،،، یعنی حلقہ ایل اے 40 1 کے تمام 47 پولنگ اسٹیشن میں عامر عبدالغفار 2914 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے،،، پھر حلقہ ایل اے 41کے تمام 19 پولنگ اسٹیشنز میں مسلم لیگ (ن) کے محمد عامر شاہ 1804 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے،، پھر ایل اے 42 کشمیر ویلی 3 کے تمام 43 پولنگ اسٹیشنز میں مسلم لیگ (ن) کے سید شوکت علی شاہ 1524 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے،، پھر ایل اے 43 کے تمام 10 پولنگ اسٹیشنز میں مسلم لیگ (ن) کے محمد یاسین لون 1276 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے،، پھر ایل اے 44 میں تمام 27 پولنگ اسٹیشنز میں مسلم لیگ (ن) کے محمد احمد رضا قادری 2308 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، پھر ایل اے 45 کے تمام 41 پولنگ اسٹیشنز میں پیپلز پارٹی کے عبدالماجد خان 3448 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے،،، یعنی اب ان دو تین ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہونے والوں کی اکثریت اب اُن پر وزیر لگے گی جو کم و بیش 30سے 50ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں،،، نہیں یقین تو آپ پچھلی مرتبہ دیکھ لیں کہ کیا ہوا،،، وزیر خزانہ آزاد کشمیر عبدالماجد خان کا تعلق پشاورسے ہے،،، وزیر ٹرانسپورٹ جاوید بٹ کا تعلق راولپنڈی سے ہے،،، اسی طرح محمد اکمل سرگلہ( وزیر جنگلات، نارووال)، محمد اکبر چوہدری (وزیر خوراک، گجرات)، محمد عاصم شریف (وزیر سپورٹس، ملتان)، محمد احمد رضا قادری( وزیر مذہبی امور، راولپنڈی)، راجہ محمد صدیق (وزیر صنعت و تجارت، اٹک)، عامر عبدالغفار لون (وزیر انوریمنٹ، شاہدرہ ٹاو¿ن)، غلام محی الدین دیوان (ممبر پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی، لاہور) وغیرہ ۔ یہی لوگ اربوں کے بجٹ کے اوپر بیٹھے ہوتے ہیں،،، جو عام کشمیریوں کی حق تلفی کرتے ہیں،،، تبھی وہاں کے عوام اپنے حقوق کی بار بار بات کرتے ہیں،،، اور پھر اسلام آباد والے تبھی مہاجر سیٹوں کے بارے میں بضد رہتے ہیں،،، کیوں کہ جہاں تھوڑے ووٹ ہوں، اور حلقے بہت بڑے بڑے ہوں تو پھر نتائج کو تبدیل کرنا بہت آسان ہو جاتی ہے،، مطلب! الیکشن میں شفافیت کا پھر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیوں کہ کشمیری کہتے ہیں کہ جو 12سیٹیں گھر سے لے کر جائے گا وہ وہاں پر جا کر حکومت بنا لے گا۔ یہاں تو پاکستان کی پارلیمنٹ میں کسی کو 12سیٹیں مل جائیں تو وہ اپنی حکومت بنانے کا دعویدار بن جاتا ہے،،، یہ تو پھر کشمیر کا علاقہ ہے جس کا رقبہ محض 13ہزار مربع کلومیٹر ہے،، اب بھی ہزاردو ہزار ووٹ والے آگے آئیں گے، اُنہیں وزارتیں ملیں گے،، اور سرکاری فنڈز کا بھی بے دریغ استعمال وہی کریں گے،،، ایک اور بات کہ وہ جو کشمیر مہاجرین تھے،،، اُن کی اب یہاں تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے،،، وہ یہاں بھی ووٹ ڈالتے ہیں اور کشمیر میں بھی اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ حق اوور سیز پاکستانیوں کے لیے نہیں ہے،،، کہ وہ بھی پاکستان کے لیے ووٹ کاسٹ کر سکیں،،، لیکن یہ حق ہم نے کشمیر یوں کو صرف اس لیے دیا ہوا ہے تا کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کی جا سکے۔ یعنی اوورسیز پاکستانیوں پر یہ قدغن لگائی جاتی ہے کہ اُنہیں پاکستان سے باہر بیٹھے پاکستان کے حالات کا علم نہیں ہے جبکہ یہاں پر اس کا اُلٹ ہے،،، یعنی کہا جاتا ہے کہ کراچی میں یا ملتان میں بیٹھے ہوئے کشمیری کو وہاں کے حالات کا سب کچھ علم ہے۔ حالانکہ اوورسیز کو پاکستان کے حالات کا زیادہ علم ہے، کیوں کہ اُن کی فیملیز یہاں ہیں،،، جبکہ کثیر تعداد میں کشمیریوں کی تو وہاں فیملیز ہی نہیں ہیں،،، آپ سعد رفیق کو دیکھ لیں، وہ کشمیری ہیں، نواز شریف خود بھی کشمیری ہیں، خواجہ آصف بھی کشمیری ہیں،،، لیکن ان کے تمام خاندان کشمیر سے ہجرت کر چکے ہیں،،، لیکن کشمیر پر سیاست کرنے کو یہ ترجیح دیتے ہیں۔ اگر ہم اس حوالے سے تاریخ پرکھیں تو اس کی بھی قانونی حیثیت ہے،،، اس معاملے کو آسانی سے سمجھنے کے لیے 1947 کی تاریخ میں جانا پڑے گا،،، برصغیر پاک و ہند کی تقسیم اور 1947 کی جنگ کے بعد آزاد جموں و کشمیر وجود میں آیا، جس کا ایک نیم خودمختار نظام اور اسمبلی ہے۔جب 1947 اور 1965 کی جنگوں میں لاکھوں کشمیری ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے، تو اس وقت ان مہاجرین کو بھی آزاد کشمیر اسمبلی میں نمائندگی دی گئی۔ مقصد یہ تھا کہ مظفرآباد کی حکومت صرف اس آزاد پٹی کی نہیں، بلکہ پورے جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت کہلائے۔آج کے دور میں یہ مہاجرین کوئی کیمپوں میں رہنے والے بے وطن لوگ نہیں ہیں، بلکہ پاکستان کے وہ باقاعدہ شہری ہیں جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں، جو یہیں ٹیکس دیتے ہیں، اوران رجسٹرڈ مہاجر ووٹرز کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ ہے۔ اب جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں کہ بڑا مسئلہ ان حلقوں کا جغرافیہ ہے۔ یہ ووٹرز کسی ایک جگہ نہیں بلکہ پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بہرحال اس بحران کا سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ اسلام آباد میں جو بھی پارٹی برسرِاقتدار ہوتی ہے، وہ ان 12 نشستوں کو آزاد کشمیر میں اپنی من پسند حکومت بنانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔اس حوالے سے خود آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی اس تشویش کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ نشستیں ہیر پھیر کے لیے بنائی گئی ہیں کیونکہ ان کے انتخابات صوبائی حکومتوں کے اثر و رسوخ کے تحت ہوتے ہیں۔اس سے بھی بڑھ کر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناءاللہ نے ایک پریس کانفرنس میں مبینہ طور پر کھلے عام یہ مانا تھا کہ ان کی پارٹی انتظامی اقدامات کے ذریعے پنجاب کی دس مہاجر نشستیں حاصل کر کے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس تحریک کو اس وقت بہت زیادہ طاقت ملی جب گزشتہ سال جولائی میں آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کے اگلے ہی دن ایک بڑا بیان دیا۔سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے کہا تھا کہ یہ نشستیں سو فیصد غیر قانونی ہیں اور انہیں اسلام آباد سے اس لیے تیار کیا گیا تھا تاکہ آزاد کشمیر میں رہنے والے 45 لاکھ لوگوں کے ووٹ کی طاقت کو کم کیا جا سکے۔ ان کے اس بیان کے بعد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی عوامی تنظیم نے ان نشستوں کو ختم کرنے کے لیے ہڑتالوں کا اعلان کر دیا۔جس کے بارے میں آپ جانتے ہی ہیں کہ وہ درجنوں ہلاکتوں کے بعد آج بھی وہاں حالات نارمل نہیں ہیں،،، لہٰذااب بھی وقت ہے کہ برسر اقتدار حکمران اس بات کو سمجھیں اور عوام کو اُن کے حقوق دیں، یہ 12سیٹیں ختم کریں،ورنہ بات دور تلک نکل جائے گی اور آپ کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا!