اسلام آباد:اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے الزامات کی تردید کردی۔جیل سپرنٹنڈنٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں جیل میں دیگر قیدیوں کی طرح قانون کے مطابق سہولیات اور حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں کسی بھی قیدی، بشمول بشریٰ بی بی، کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا، جیل حکام کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قیدِ تنہائی کا نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے اور طویل عرصے سے عدالتیں بھی ایسی سزا نہیں دے رہی ہیں۔سپرنٹنڈنٹ نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی سابق وزیر اعظم کی اہلیہ ہونے کے باعث ان کی سکیورٹی کے پیشِ نظر اضافی انتظامات کیے گئے ہیں، تاہم ان کے ساتھ کوئی امتیازی یا غیر مساوی سلوک نہیں کیا جا رہا۔جیل حکام کے مطابق بشریٰ بی بی کی نگرانی خواتین افسران اور عملہ کرتا ہے، جو ان کی روزمرہ ضروریات کا خیال رکھتے ہیں، خاتون میڈیکل آفیسر روزانہ کم از کم دو مرتبہ ان کا طبی معائنہ کرتی ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر خصوصی طبی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں قدرتی روشنی، تازہ ہوا اور جیل مینوئل کے مطابق رازداری کی سہولیات حاصل ہیں۔رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کو ہر منگل اپنے شوہر، بانی پاکستان تحریک انصاف، سے ملاقات کی اجازت بھی حاصل ہے، جبکہ ان کی حراست کی جگہ کو محفوظ اور پُرامن قرار دیا گیا ہے۔سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے سے متعلق اعتراضات حقائق کے بجائے مفروضوں پر مبنی ہیں اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس حوالے سے دائر درخواست کو مسترد کیا جائے۔دوسری جانب اس معاملے کا حتمی فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ دونوں فریقین کے مؤقف اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کرے گی۔











