ہانیہ عدیل ،،، ہم شرمندہ ہیں!

میری آخری حد تک کوشش تھی کہ میں چکوال میں ہوئے سی سی ڈی کے ہاتھوں 9سالہ ہانیہ کے قتل پر نہ لکھوں، لیکن دل بجھا بجھا سا تھا،،، اور اس سوچ میں تھا کہ آخر ہمارے اداروں کے اکثر نوجوان درجنوں قسم کی ٹریننگز کے بعد بھی نااہل کے نااہل ہی ہیں،،،کہ جنہیں ہاتھ میں بندوق تو تھما دی گئی ہے، مگر اُنہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کب، کیسے، کیوں اور کہاں چلانا ہے،،، لیکن فی الوقت حد تو یہ ہے کہ کسی بے گناہ کو جان سے مارنا اُن کے لیے ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے،،، سانحہ ساہیوال کے درد کو ابھی تک بھلا نہیں پائے تھے کہ ایک اور سانحہ چکوال کر ڈالا،،، آگے چلنے سے پہلے مذکورہ واقعہ کے بارے میں بتاتا چلوں کہ نو برس کی ہانیہ اپنے ماں باپ کیساتھ آسٹریلیا سے پاکستان آئی تھی، اُسکے والدین کا ارادہ تھا کہ بچوں کو اُنکے دادا کے پاس چھوڑیں گے اور خود وہ حج کرنے چلے جائیں گے۔ حج سے واپسی پر جب وہ پاکستان آئے تو اُن کے ساتھ جو ہوا قابل بیان ہی نہیں ہے،،، مگر یہاں مختصر تفصیل بتاتا چلوں کہ ہانیہ کے والد عدیل احمد کو اُنکے سسرال نے دعوت پر اپنے گھر چکوال بلایا، انہوں نے گاڑی کرائے پر لی اور بیوی بچوں کیساتھ چکوال پہنچ گئے۔ سسرال والوں کے گھر کے قریب گاڑی پارک کی تو اچانک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد آئے اور اُن سے پستول کے زور پر نقدی اور زیورات کا مطالبہ کیا۔ قریب ہی کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے تھانے کی دیوار تھی۔ نہ جانے تھانے والوں کو کیسے پتا چلا کہ باہر ڈکیتی ہو رہی ہے۔ آناً فاناً سی سی ڈی کے اہلکاروں نے ڈاکوﺅں پر فائرنگ شروع کر دی، انہوں نے بھی جوابی فائرنگ کی، گاڑی میں عدیل احمد کا بیٹا اور بیٹی ہانیہ بھی تھی، اُن معصوموں کوعلم ہی نہیں تھا کہ ہمارے ہاں پولیس اندھا دھند فائرنگ (مقابلہ) کرتی ہے، پھر اُس میں جو بھی آئے وہ رگڑا جاتا ہے،،، یہی کچھ یہاں پر بھی ہوا،،، کہ بیٹا فائرنگ سے زخمی ہو گیا اورگولیوں نے ہانیہ کے چیتھڑے اڑا دیے۔اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ہانیہ عدیل کے جسم پر گولیوں اور زخموں کے مجموعی طور پر 11 نشانات پائے گئے، بچی کے جسم سے گولی کا دھاتی ٹکڑا بھی برآمد ہوا، فائرنگ کے نتیجے میں بچی کی دائیں ران کی ہڈی بری طرح ٹوٹ گئی اور دایاں پھیپھڑا چھلنی ہوگیا،، اور چھاتی میں خون جمع ہو گیا، فائرنگ کے باعث بچی کا جگر، بڑی اور چھوٹی آنتیں بھی شدید زخمی ہوئیں۔ ہانیہ کا واقعہ بھی شاید روایتی ایف آئی آر کہ ”ملزمان کو نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ ڈاکوﺅوں کے ساتھیوں نے ملزمان کو چھڑانے کی کوشش کی اور ساتھ ہی فائرنگ کے تبادلے میں پوری ”ڈکیت“ فیملی ہلاک ہوگئی وغیرہ“ کی بھینٹ چڑھ جاتا ،،،لیکن ہانیہ اور اُس کا خاندان آسٹریلوی شہری بھی ہیں،،، اور دوسری قومیں اپنے شہریوںکے تحفظ کے لیے ہر جوکھن بھی اُٹھاتی ہیں،،، اس لیے آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے پاکستان میں حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک آسٹریلوی لڑکی کی ہلاکت کی تحقیقات کریں، جو اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنی۔آسٹریلوی وزیراعظم کا یہ بیان آنا تھا کہ پاکستان کے سیاسی و عسکری ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی،،، سی سی ڈی کے سربراہ متاثرہ خاندان کے گھر بھی جا پہنچے اور ساتھ پریس کانفرنس میں ”جوابدہ “ بھی ہوگئے۔ ۔۔ لیکن یہ ساری چیزیں ایک طرف ، مگر آپ یقین مانیں کہ ایسے واقعات کے بعد باہر کی دنیا میں ہمارا امیج کیا رہ جاتا ہے؟ کیا کوئی ہمارے ملک کی طرف ”سیاحت“ کے لیے سفر کرے گا؟ یا یہ سوچیں کہ بھئی وہاں موجود پاکستانی کمیونٹیز میں ہمارا کیا امیج رہ جاتا ہے؟ ابھی پچھلے دنوں پاکستانی نژاد نعمان قیصر کی سی سی ڈی کے ہاتھوں دنیا بھر میں ہماری بدنامی ہوئی تھی ،،، اور اب یہ واقعہ سرزد ہوگیا ،،، سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ آخر ہم کر کیا رہے ہیں؟ آسٹریلیا سے ہی ایک دوست کا فون آیا جس پر اُس نے کہا کہ ڈھلوں صاحب کیا واقعی پاکستان میں حالات اس قدر گھناﺅنی صورت اختیار کر چکے ہیں،،، میں یا مجھ جیسا کوئی بھی پاکستانی لاکھ صفائیاں پیش کرے مگر کیا ہم اُن کے ذہن صاف کر سکتے ہیں؟ اور کیا ہمارے اداروں کے سربراہان کی وضاحتیں اُنہیں مطمئن کر سکتی ہیں؟ جیسے اس مذکورہ واقعے پر سی سی ڈی سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا ہے کہ ڈاکو کار کے پیچھے چھپ کر پولیس پر فائرنگ کر رہے تھے، اس دوران وہ ایک گلی میں فرار ہو گئے جس کا سی سی ڈی افسر کو پتہ نہیں چلا اور وہ غلط اندازے سے گاڑی پر بے تحاشہ فائرنگ کرتا رہا جس سے ایک معصوم ننھی بچی کی جان چلی گئی جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ پچھلے ایک سال کے دوران سی سی ڈی نے بہترین کام کیا، لہٰذا ایک شخص کی بھیانک غلطی کو پورے محکمے کی غلطی قرار دینا ناانصافی ہے۔ چلیں مان لیا کہ سی سی ڈی نے بہترین کام کیے،،، لیکن کیا کرائم کنٹرول ہوگئے؟ ان کی شرح تو پہلے سے بھی بڑھ چکی ہے، ہر شخص خود کو موت کی وادی میں لے جا نے کی تاک میں بیٹھا ہے،،، ظاہر ہے جس کا بندہ آپ ماورائے عدالت مار دیں گے، تو بدلے کی آگ اُس کے سینے میں تب تک جلتی رہے گی جب تک وہ اسے کسی کے خون سے نہ بجھا دے،،، اورویسے بھی اعدادو شمار چیک کر لیں کہ ایک سال میں جرائم 11فیصد بڑھ گئے ہیں ناکہ کم ہوئے ہیں،،، اس کی وجہ بے روزگاری یا مہنگائی ،،، کچھ بھی ہوسکتی ہے،، لیکن بقول شخصے یہ ادارے محض سیاسی اشرافیہ کے تحفظ کے لیے قائم ہیں،،، جس سے ایک مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے،،، اور پھر قصور ہماری عوام کا بھی ہے کہ وہ ہر اُس ماورائے عدالت قتل پر واہ واہ کرتے اور تالیاں بجاتے ہیں جو اداروں کے ہاتھوں ہوتا ہے،،، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے نانا پاٹیکر کی ایک فلم آئی تھی، اب تک چھپّن، جس میں نانا پاٹیکر نے ایک ایسے پولیس افسر کا کردار ادا کیا تھا جو انڈر ورلڈ کے خاتمے کیلئے قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے اور مجرموں کو چن چن کر جعلی مقابلوں میں مارتا ہے۔ فلم میں پولیس مقابلوں کی گنتی کسی کرکٹ میچ کے اسکور کارڈ کی طرح دکھائی جاتی ہے کہ ’اب تک چھپن ہو گئے، اب ستاون ہونے والے ہیں‘۔ عوام سینما ہالز میں ایسی فلموں پر تالیاں بجاتے ہیں، سیٹیاں مارتے ہیں اور اپنے ذہنوں میں یہ بٹھا لیتے ہیں کہ اصل ہیرو وہی ہے جو عدالت جانے کی زحمت کیے بغیر ملزم کے ماتھے کے بیچوں بیچ گولی مار دے۔جب ہم سب کے ذہن ایسے بن گئے ہوں تو پھر اس قسم کی وارداتیں ہمیں اچھی ہی لگیں گی،،، لیکن دنیا بھر میں اسے بڑا معیوب سمجھا جاتا ہے،،، لہٰذا جب تک پولیس مقابلوں کا یہ ماڈل چلے گا، کبھی سانحہ ساہیوال ہوگا تو کبھی سانحہ چکوال۔ یہ پورا ماڈل اِس مفروضے پر کھڑا ہے کہ موقع پر موجود پولیس والا انصاف اور ہوشمندی کے تمام تقاضے پورے کرکے اصل مجرم کو کم سے کم طاقت استعمال کرکے فوری طور پر کیفرکردار تک پہنچائے گا۔ بہرحال میرے وطن عزیز میں اس وقت کوئی بھی محفوظ نہیں ہے،،،ایک عام شہری جائے تو جائے کہاں؟ عدالتیں کہاں ہیں؟ ان کی کیا اہمیت رہ گئی ہے؟ کیا ادارے اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ وہ اس قدر ظلم ڈھائیں اورعدالت عالیہ منہ تکتی رہ جائے؟ اور رہی بات ملزمان کے لواحقین کی تو وہ اس وقت سراپا احتجاج ہیں کہ اُن کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیسے ہوگیا؟ لواحقین کہہ رہے ہیں کہ یہاں انصاف ملنا تقریباََ ناممکن ہو چکا ہے،،،بہرحال میں پریشان اس بات پر ہوں کہ سی سی ڈی کی طاقت کے سامنے اس وقت قانون بھی بے بس ہوگیا ہے،یا اسے یوں کہہ لیں کہ انہیں بندے مارنے کی عادت پڑ گئی ہے،،، کیوں کہ ایک سال میں ۱یک ہزار سے زائد ”پولیس مقابلے“ کم نہیں ہوتے،،، اس لیے سوچیں کہ جنہیں عادت پڑ گئی ہے وہ آپ کے ساتھ کیا کریں گے؟ یعنی جب آپ اُن پر سے ہاتھ اُٹھا لیں گے،،، یا اُن کے چیف تبدیل ہو جائیں گے،،، تو جو اُن کو ”عادت“ پڑ گئی ہے،،، وہ کیسے جائے گی؟ پھر ہو گا یہ کہ ایک تو یہ لوگ سیاسی لوگوں کے ہتھے چڑھیں گے،،، اور سیاسی لوگ انہیں اپنے مخالفین کو مارنے ، ڈرانے ، دھمکانے یا بھتہ لینے کے لیے استعمال کریں گے،،، یا یہ لوگ راﺅ انوار یا کوئی اور بن کر خود سے بھی اکا دکا مقابلے کرکے ہاتھ صاف کریں گے،،، اور پھر جب ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے فلاں بے گناہ شخص کو کیوں مارا تو یہ کہیں گے کہ جہاں اتنے لوگ آپ کے کہنے پر مارے،،، وہاں ایک دو کو مارنا تو اُن کا بھی حق بنتا ہے۔ اور پھر سی سی ڈی تو پنجاب کی حد تک بنایا گیا ادارہ ہے،،، کیا ملزمان اب تک پنجاب کی حدود میں بیٹھے ہوں گے،،، کیا وہ سندھ ، بلوچستان یا کے پی کے میں فرار نہیں ہو جائیں گے،،، اور پھر جب یہ لوگ واپس آئیں گے تو کیا یہ مزید جرائم پیشہ نہیں ہوں گے؟ کیا یہ بین الصوبائی ملزمان نہیں بن جائیں گے۔۔۔ بہرکیف پولیس کے پاس موجود بندوق کا مقصد انتہائی ضرورت کے وقت اس کا استعمال ہونا چاہیے، نا کہ رات کے اندھیرے میں ”پولیس مقابلوں“ کے ذریعے کوئی ”اسکور“ پورا کیا جائے ،آپ ہانیہ کے معاملے کو ہی دیکھ لیں،،،کیا عدالتوں کے پاس اتنا اختیار نہیں رہا کہ وہ اس حوالے سے پیشگی اقدامات کرسکیں،،،یا ایک آدھ سوموٹو ہی لے لیں،،، جسے 27ویں ترمیم میں شاید ختم ہی کردیا گیا ہے،،، لیکن عدالتوں کے پاس بے تحاشہ اختیارات ہوتے ہیں،،، جنہیں وہ استعمال کر سکتی ہے،،، کیوں کہ جس ’اصول‘ پر جعلی پولیس مقابلہ کام کرتا ہے وہ یہ ہے کہ قانون کا روایتی نظام فرسودہ اور ناکارہ ہو چکا ہے لہٰذا عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے پولیس اگر مجرموں کو جعلی مقابلوں میں مار بھی دے تو کوئی حرج نہیں۔ تبھی توایک پولیس والا اٹھتا ہے اور نو سال کی بچی کو اندھا دھند فائرنگ کرکے ہلاک کر دیتا ہے، حالانکہ اِس سے کہیں بہتر تھا کہ وہ ڈکیتی کی واردات ہونے دیتا اور بعد ازاں ڈاکوﺅں کا تعاقب کرکے انہیں گرفتار کرتا۔لیکن کیا کریں گولیاں چلانے کا شوق جو پڑگیا ہے،،، اور بقول شاعر عادتیں موت تک ساتھ رہتی ہیں! عادتوں کا ہے عجب انسان کی فطرت سے ربط ساتھ جیتی ہیں یہ اکثر، ساتھ مرتی ہیں یہ بھی