حکومتیں قائم کیوں نہیں رہتیں؟

حکومتیں قائم کیوں نہیں رہتیں ، اس بارے میں تو آگے چل کر بتاﺅں گا ، مگر فی الوقت آپ ملک کے حالات کا بغور جائزہ لیں،،،تو آپ دیکھیں گے کہ سب اچھا نہیں ہے! آپ سب سے پہلے بلوچستان کو دیکھ لیں، جہاں گھمبیر صورتحال ہے، جہاں کسی اور نے نہیں بلکہ زیارت میں 30 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعے کے خلاف اُن کے لواحقین نے 9جولائی سے دھرنا دیا ہوا ہے، اس حملے نے پورے بلوچستان کو بلکہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کیوں کہ زیارت میں مانگی ڈیم کی فیز تھری کنسٹرکشن سائٹ پر نامعلوم مسلح افراد نے ایک بڑا حملہ کیا تھا جس میں دو ایس ایچ اوز سمیت نو پولیس اہلکار موقع پر مارے گئے تھے جبکہ 21 کو اغوا کیا گیاتھا، جنہیں بعد میں قتل کرکے لاشیں زرغون غرکے علاقے میں پھینک دی تھیں۔ اب دھرنے کے شرکاءنے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں،،، اور مطالبات کو ئی زیادہ مشکل والے نہیں ہیں، بلکہ وہ ان واقعات کی جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں،،، ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ اگر سکیورٹی کی صورتحال خراب تھی تو ایسی سائٹ پر اسلحے کے لیے ہمارے جوان سرکار کو کیوں پکارتے رہے؟ الغرض بقول شخصے صوبے میں امن و امان تباہ ہوچکا ہے اور کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں ہے، جس کی وجہ سے لوگ دھرنے اور احتجاج پر مجبور ہوچکے ہیں۔جبکہ سرکار نے دہشت گردوں کا قلعہ قمع کرنے کے لیے آپریشن شعبان شروع کیا ہے، جس میں اب تک 100سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں،، پھر آپ ہمارے والے آزاد کشمیر کی بات کر لیں جہاں حالات کنٹرول میں آنے کے بجائے ہر گزرتے دن خراب سے خراب ہوتے جا رہے ہیں،،، اور تادم تحریر تازہ جھڑپوں میں راولا کوٹ میں دو اہلکاروں سمیت 10افراد جاں بحق ہو چکے ہیں،،، جبکہ کالعدم عوام ایکشن کمیٹی نے راولاکوٹ سے مظفر آباد کے لیے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے اور حکام کے مطابق اس تناظر میں رینجرز، پولیس اور ایف سی کے چار ہزار اہلکار پہلے ہی کشمیر پہنچ چکے ہیں۔اور حکام کہہ رہے ہیں کہ اس مذکورہ لانگ مارچ کو راولاکوٹ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جبکہ شہر کو سِیل کر دیا گیا ہے اور رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار وہاں تعینات ہیں۔ویسے تو وہاں پر انٹرنیٹ بند کیا ہوا ہے، سیاحت بند ہے، اور تو اور کشمیر میں کسی کو جانے بھی نہیں دیا جا رہا ،،، لیکن اب وہاں موجود میڈیاکے نمائندوں کی وساطت سے جو خبریں موصول ہو رہی ہیں،،، اُس کے مطابق جاری دھرنے میں 40 ہزار کے قریب افراد پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ مزید لوگ بھی دھرنے کے مقام پر پہنچ رہے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ آپ دیکھ لیں کہ صوبہ کے پی کے میں بھی یہی صورتحال ہے، پھر یہی نہیں بلکہ ہم نے افغانستان اور بھارت کے ساتھ سرحدوں کو غیر محفوظ کر لیا ہے، ،، افغانستان ہمارا بھارت سے بڑا دشمن بن چکا ہے، بین الاقوامی میڈیا ہمارے بارے میں خبریں شائع کر رہا ہے کہ ہم نے اُن کے عام شہریوں پر بمباری کی ہے، جبکہ ہمارے ادارے کہہ رہے ہیں کہ ہم افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،،، پھر آپ بھارت کے ساتھ پانی کے مسئلے کو لے لیں،،، سب کچھ اُلٹ ہو رہا ہے،، وہ ہمارے پانیوں پر قبضہ جمائے بیٹھاہے، اُن کا رُخ موڑ رہا ہے، اور سب سے بڑھ کر وہ ملک میں دہشت گردی کروا رہا ہے ، اور ہم پوری طرح مقابلہ کرنے سے بھی قاصر ہیں،،، الغرض اس وقت پورے ملک میں مایوسی کا عالم ہے، عوام کا مورال ڈاﺅن ہے،،، اور یہی ہمیشہ تباہی کا باعث بنتا ہے،،، ورنہ آپ ترکی کو دیکھ لیں، وہاں کے عوام کا مورال بلند تھا تو آج ہی کے دن وہاں پر ہوئی فوجی بغاوت کو کچل دیا گیا تھا ،،، خیر اتفاق سے میں بھی آج کل سیرو سیاحت کی غرض سے فیملی کے ہمراہ ترکی میں ہوں،،، یہاں آج جمہوریت کا دن منایا جا رہا ہے،،، یعنی یہاں 15جولائی 2016کو آج ہی کے دن فوجی بغاوت کو کچلا گیا تھا،،، وہ رات ایک ایسے ملک کے لیے بھی غیر معمولی تھی جو اس سے قبل تین فوجی بغاوتوں اور فوجی مداخلت کے مزید دو ادوار دیکھ چکا تھا۔اس سے پہلے نہ کبھی ترکی کی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا اور نہ ہی استنبول کے باسفورس پل، جسے اب باضابطہ طور پر ’15 جولائی کے شہدا کا پل‘ کہا جاتا ہے، نے ایسا خونریزی کا منظر دیکھا تھا جب صدر رجب طیب اردوغان کی بغاوت کرنے والوں کے خلاف مزاحمت کی اپیل پر عام شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ نامعلوم مقام سے ایک موبائل فون ایپلی کیشن کے ذریعے براہِ راست ٹی وی نشریات میں شامل ہوتے ہوئے صدر اردوغان نے اپنے حامیوں سے اُس رات سڑکوں پر نکل آنے کی اپیل کی۔ ملک بھر کی مساجد سے لاو¿ڈ سپیکروں کے ذریعے بھی ان کا پیغام نشر کیا گیا تھا۔ صبح تک بغاوت کی یہ کوشش ناکام بنا دی گئی تھی۔ اس واقعے میں مجموعی طور پر 253 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 184 عام شہری اور مبینہ طور پر بغاوت میں ملوث 34 افراد بھی مارے گئے تھے۔15 جولائی 2016 کی بغاوت کی کوشش صرف چند گھنٹوں تک جاری رہی، لیکن اس کے نتائج نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران ترکی کی سیاست کو گہرے طور پر تبدیل کر دیا۔ اس واقعے نے نہ صرف ملک کے اندر طاقت کے توازن کو ازسرِ نو ترتیب دیا بلکہ خارجہ محاذ پر بھی ترکی کے تعلقات کی سمت بدل دی۔اب یہاں طیب اردوان نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے،،، بغاوت کرنے والے ہزاروں جرنیلوں کو سزائیں دے دی ہیں،،، معیشت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے طیب اردوان کی قیادت میں آئی ایم ایف کو خیر آباد کہہ دیا ہے۔ یہ سب اسی صورت ہوا کہ یہاں کے عوام حکومت سے مایوس نہیں تھے،،، اگر مایوس ہوتے تو یہ کبھی دس سال پہلے آج ہی کے دن ٹینکوں کے آگے لیٹ کر قربانیاں نہ دیتے۔ لیکن اس کے برعکس ہمارے ہاں اس وقت مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں،،، ہر شخص ملکی حالات کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہا ہے۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے حالات کب سدھریں گے؟ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام کا مورال ہی ڈاﺅن ہو چکا ہے، اور یہی حکومت کے زوال کی اصل وجہ بنتا ہے،،، اور اس زوال کی ابتدا وہاں سے ہوتی ہے جہاں حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔ جب لوگوں کو محسوس ہونے لگے کہ مہنگائی، بے روزگاری، کاروباری مشکلات اور معاشی غیر یقینی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہیں تو حکومتی بیانیہ بھی اپنی تاثیر کھونے لگتا ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہر دور کی اپنی الگ کہانی ہے۔ کبھی معاشی بحران نے منتخب حکومتوں کو شدید دباﺅ میں ڈالا،کبھی سیاسی محاذ آرائی نے حالات کو پیچیدہ بنایا ،کبھی پارلیمانی اکثریت کمزور ہوئی، کبھی عدالتی فیصلوں نے منظرنامہ بدل دیا اور کبھی عوامی احتجاج نے حکمرانوں کیلئے نئے چیلنج پیدا کیے۔ اگرچہ ہر دور مختلف تھا مگر ایک حقیقت تقریباً ہمیشہ مشترک رہی کہ جیسے ہی عوامی اعتماد کمزور ہوتاہے حکومت کا سیاسی سرمایہ بھی تیزی سے کم ہونے لگتاہے۔اور پھر پاکستان میں سیاسی غیر یقینی بھی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے۔ جب مسلسل یہ تاثر پیدا ہو کہ بدامنی ، معاشی صورتحال اور دہشت گردی کی وجہ سے شاید کوئی بڑا سیاسی موڑ آنے والا ہے تو اس کا اثر صرف سیاست تک محدود نہیں رہتا۔ سرمایہ کار انتظار کی پالیسی اختیار کرتے ہیں، کاروباری فیصلے موخر ہونے لگتے ہیں اور ریاستی اداروں پر بھی دباﺅ بڑھ جاتا ہے۔ اس غیر یقینی کی قیمت بالآخر معیشت اور عام شہری دونوں ادا کرتے ہیں۔ بہرحال وطن عزیز میں مختلف حالات میں مختلف بیانیے بنتے رہتے ہیں لیکن بلوچستان کے حوالے سے جس بیانیے کا چرچا کیا جاتا ہے اُس سے ہندوستان کے ہاتھ بہت لمبے لگنے لگتے ہیں کہ دور بیٹھے افغانستان‘ ایران اور بحیرہ عرب سے ہوتے ہوئے پاکستان کیلئے اتنا فتنہ پیدا کر رہا ہے۔ مشرق میں ہمارے پانیوں پر دباﺅ، مغرب میں اتنا بڑا فتنہ جس سے تباہی پھیل رہی ہو۔ کیاحکمت ہے اس بات میں کہ دور بیٹھے حریف کو یوں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے؟ ہماری ناقص رائے میں اس پر کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔البتہ یہ کہنا سراسر فضول ہے کہ داخلی سیاسی محاذ آرائی کم کی جائے۔ ایوانانِ اقتدار میں ایسی رائے کو پسندیدگی کی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ آبنائے ہرمز سے متعلقہ مصالحتی معاملات پر ضرور بات کی جائے ‘ اونچی آواز میں کی جائے‘ لیکن سیاسی معاملات پر گفتگو سے پرہیز ہی بہتر ہے‘ عوام کی صحت کیلئے اور دوسروں کے اطمینانِ قلب کیلئے۔ اس مسئلے پر یوں سمجھئے لکیر پھِر چکی ہے۔ بس پھر یہی ہے کہ تماشا دیکھتے جائیں کہ ہو کیا رہا ہے‘ حالات کیا ہیں‘ سرکاری ترجیحات کیا ہیں‘ سرکاری سوچ کے تقاضے کیا ہیں۔ بے چینی ہوگی ا±ن دوردراز علاقوں میں لیکن آسمانوں کی مہربانی ہے کہ پنجاب شانت ہے‘ اسلام آباد کو دیکھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کو درپیش کچھ مسئلہ ہے ہی نہیں۔ اسی پر خوش رہتے ہیں۔ لیکن ان خوش فہمیوں سے نکلیں اور دیکھیں کہ سب اچھا نہیں ہے، ایسی گردانیں پڑھنے والے آپکو بے خبر رکھے ہوئے ہیں، عوام کا بھرکس نکلا ہوا ہے،،، پٹرولیم مصنوعات پر ڈیڑھ ڈیڑھ سو روپے فی لیٹر ٹیکس لے کر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام آپ کے بارے میں اچھا تاثر قائم کریں تو یہ محض غلط فہی ہی نہیں بلکہ خوش فہمی بھی ہے،،، اسی لیے ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ جب عوام کا صبر جواب دے جاتا ہے، اور پھر حکومتیں ایک لمحہ نہیں ٹکتیں اور کسی نہ کسی طرح ختم ہو جاتی ہے،،، اس لیے معاملات کو سنبھالیں، ایسا نہ ہو کہ ان سارے خراب معاملات کا غصہ کسی دن بغاوت کی صورت میں نکلے اور پھر آپ کچھ نہ کر سکیں!