فیصل کامران : ہارے ہوئے لشکر کا بہادر سپاہی !

گزشتہ ہفتے لاہور میں ایک ہائی پروفائل افسوسناک واقعہ ہوا جس میں دو غیر ملکی خواتین نے چند افراد پر اغوا برائے تاوان اور جبری جنسی زیادتی جیسے سنگین الزامات عائد کئے اور مقدمہ درج ہونے کے بعد جن ملزموں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا نواسہ بھی شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے بہنوئی اور مشیر علی ڈار اور انکے والد اسحاق ڈار کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بلاشبہ دونوں باپ ،بیٹا یعنی اسحاق ڈار اور علی ڈارکے حوالے سے کبھی اس قسم کے واقعات کے بارے میں نہیں سنا،،، لیکن جب انسان نے پھنسنا ہوتو کہتے ہیں ”کم بختی جو آوے، اونٹ چڑھے کو کتا کاٹے“ یعنی جب انسان کی قسمت خراب ہو یا برا وقت چل رہا ہو، تو وہ جتنی بھی احتیاط کر لے یا محفوظ جگہ پر چلا جائے مصیبت آکر ہی رہتی ہے،،، یہی کچھ ان کے ساتھ بھی ہوا، لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ اولاد آپ کی سرمایہ کاری ہوتی ہے ،آپ لاتعلقی کا اعلان کرکے بھی جان نہیں چھڑا سکتے۔اسکی وجہ یہ ہے کہ آپ کے اقتدار، اختیار اور سماجی حیثیت و مرتبے کی وجہ سے انہیں شہ ملتی ہے ،وہ طاقت میسر آتی ہے جس سے جرم سرزد ہوتا ہے۔کرپٹو کرنسی میں ڈالر ڈوبے تھے مگر رضا ڈار نے رقم نکلوانے کیلئے اپنے خاندان کی عزت ،شہرت اور ساکھ ڈبودی۔اب آپ جتنی مرضی توجیہات پیش کریں ،جتنی وضاحتیں اور صفائیاں دیتے رہیں، چیختے چلاتے رہیں کہ یہ کاروباری لین دین کا معاملہ تھا ،عوام آپ کو ہی قصور وار سمجھیں گے،،، ویسے تو رضا ڈار کی تو اُس کی عمر غالباََ 20، 22سال کی ہوگی، یا ہوسکتا ہے، اس سے تھوڑی زیادہ یا کم ہو،،، یقینا اس عمر میں وہ خود تو” باس“ نہیں ہوگا،،، بلکہ وہ کسی کے لیے کام کر رہا ہوگا،،،اور جس کے لیے کام کر رہا ہوگا،،، وہ بھی انہی میں سے کوئی سینئر ہوگا،،، کیوں کہ جب تک حقیقت سامنے نہیں آتی تب تک تو آپ کو بہت سی قیاس آرائیاں سننے کو ملیں گے،،، جیسے اس کیس میں یہ سننے کو بھی مل رہا ہے کہ اس میں کسی سکیورٹی افسرکا داماد بھی اس میں شامل ہے،،،اور اگر ایسا ہے تو کیا آپ میں ہمت ہے کہ آپ ان کو ہاتھ ڈالیں، یا ان کے نیفے میں بھی پستول چلائیں،،، یا صرف آپ کا رعب و دبدبہ صرف کمزوروں اور غریبوں پر چلتا ہے،،، سوال یہ بھی بنتا ہے کہ کیا آپ کی ایمانداری یہاں پر آکر ختم ہوجاتی ہے؟ اور پھر اس کیس میں نیا موڑ اُس وقت آیا، جب اتوار کے روز ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران سے لاہور کے کرائم رپورٹرز کے ساتھ پریس کانفرنس میں بدمزگی ہوگئی،،، فیصل کامران جو کہ صحافیوں کے سخت سوالات کے جوابات دینے سے قاصر تھے، پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر چلے گئے،،، ویسے میری ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران سے دو تین ملاقاتیں رہی ہیں، وہ نہایت قابل اور ایماندار آفیسر ہیں، لاہور میں بہت سے پولیس آفیسراُن کے بارے میں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ ایماندار ہیں، اور میرٹ پر یقین رکھتے ہیں،،، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس سیٹ پر یہ تعینات ہیں، کیا اکیلا ایماندار ہونا کافی ہوتا ہے؟ اور پھر جب آپ کے بارے میں مشہور ہو کہ موصوف ایک سیاسی پارٹی کے آشیر باد سے تعینات ہوئے ہیں،،، تو ایسی صورت میں کیا آپ کی کوئی ایمانداری پیچھے رہ جاتی ہے؟ یعنی آپ سفارش پر تعینات ہو کر جتنے مرضی میرٹ پر فیصلے کرلیں، لیکن آپ کی شناخت وہی رہے گی،،، یہ ایسے ہی کہ جب کوئی ڈکٹیٹر ملک پر قابض ہو جاتا ہے تو وہ اُس کے بعد جتنے مرضی اچھے کام کرلے، لوگ اُسے بطور ڈکٹیٹر ہی جانتے ہیں،،، یعنی آپ جنرل ایوب خان، جنرل یحیٰ خان، جنرل ضیاءالحق، جنرل مشرف ،،، سبھی کو دیکھ لیں، ان کے ادوار میں چند ایک اچھے کام بھی ہوئے ہوں گے، مگر عوام اُنہیں یاد کرنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں،،، اور رہی بات مذکورہ کیس کی تو اس کیس میںیقینا طاقتور لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے،،، آپ یہ نہیں سوچ رہے کہ اس کیس میں پاکستان کی کتنی بدنامی ہوئی ہے،،، بلکہ آپ اُن کے ساتھ وفاداری نبھار ہے ہیں ، جو آپ کو لے کر آئے ہیں،،، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اسی چکر میں آپ نے اپنے کیرئیر کا بیڑہ غرق کر لیا ہے،،، اور اس کیس میں اگر آپ مزید چیزیں چھپائیں گے تو مزید ایکسپوز ہوں گے،،، کیوں کہ اس مذکورہ کیس میں اتنے زیادہ خلا ہیں، کہ آپ یا تو حکمرانوں کو بچائیں گے، یا اپنی عزت بچائیں گے،،، لیکن اگر آپ کہیں کہ آپ دونوں چیزوں کو بچا لیں تو ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ اور پھر ایماندار ہونے کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ صحافیوں خواہ وہ بڑا صحافی ہے یا کسی چھوٹے ادارے سے تعلق رکھتا ہو، کے ساتھ بدسلوکی کریں،،، اس پوسٹ کی ڈیمانڈ یہ ہوتی ہے، کہ آپ کو بہت زیادہ وضع دار اور بردبارہونا پڑتا ہے،جو لوگ آپ کے ناپسندیدہوتے ہیں، اُن کو بھی ساتھ لے کر چلنا پڑتاہے، یعنی آپ یوں کہہ لیں کہ صحافیوں سے بگاڑ کر آپ جاب نہیں کر سکتے ،،، یہ اس لیے بھی ہے کہ صحافت باکسنگ نہیں ہے، اگر آپ نے مکا مارا اور صحافی بھی آپ کو اُسی وقت مکا مار دیں گے،،،، بلکہ صحافت یا صحافی لوگ اس بات پریقین رکھتے ہیںکہ ”دیکھو اور انتظار کرو“ ۔ یعنی اُس نے مکا کھا کر آپ کی غلطی کا انتظار کرنا ہے، اور جس پوسٹ پر آپ ہیں،اُس پوسٹ پر آپ غلطی بھی کریں گے، اور بسا اوقات آپ سے کروائی بھی جائے گی،،، اور جونہی آپ” لوز“ بال کروائیں گے،،، تو وہ فوراََ آپ کو چھکے ماریں گے،،، الغرض،، اتنا اچھا وقت گزار کر آپ نے یہاں پر لوز بال کررہے ہیں،،، اور صحافیوں کی گرفت میں آگئے ہیں،،،لہٰذاوہ آپکو کیسے چھوڑ دیں گے،،، اور ویسے بھی آپ کی ایمانداری، اپنی جگہ لیکن آپ کے اسٹائل میں غرور تو یقینا پایا جاتا ہے کہ مجھے یہاں سے کوئی ہٹا نہیں سکتا، اس وجہ سے آپ نے صحافیوں کو لفٹ ہی نہیں کروائی،،،تو جب آپ لفٹ نہیں کروائیں گے،،، تو پھر وہ آپ کو آپ کی غلطی پر سپیئر نہیں کریںگے،،، اس لیے میرے خیال میں ان اعلیٰ افسران کی پریس اور عوام کے ساتھ” ڈیلنگ“ کے سیشن رکھوانے چاہیےں،،، دوران تربیت ایک کورس پریس اور عوام کا سامنا کرنے کا بھی ہونا چاہیے،،، کہ اُنہوں نے کسی مسئلے پر عوام کو اور پریس کو کیسے اعتماد میں لینا ہے،،، انہیں اس بات کی بھی تربیت کی ضرورت ہے کہ انہیں ناپسندیدہ لوگوں کو ساتھ لے کر بھی چلنے کاحوصلہ ہونا چاہیے،،، اور ویسے بھی سیاستدان اور یہ اعلیٰ عہدیداران پریس اور عوام کے ساتھ فرینڈلی رویہ رکھتے ہیں،،، آپ اسے مجبوری سمجھ لیں یا کچھ اور لیکن ایسا ہوتا رہا ہے،،، آپ پرویز الٰہی کو دیکھ لیں، اُن کے خلاف کبھی کوئی خبر نہیں لگتی،،، اگر صحافیوں کے پاس اُن کے خلاف کوئی خبر آ بھی جاتی تو صحافی اُن کا ورژن بھی ساتھ شائع کرتے، جس سے خبر بیلنس ہو جاتی،،، پھر آپ پرویز رشید کو دیکھ لیں، شیخ رشید کو دیکھ لیں،محمد علی درانی کو دیکھ لیں، ان کے خلاف کبھی خبر نہیں لگتی، یہ اس لیے بھی ہے کہ یہ پریس کے ساتھ فرینڈلی رویہ رکھتے ہیں،،، لیکن جوافسران یا سیاستدان فرینڈلی رویہ نہیں رکھتے، یا صحافیوں کو یا عوام کو دھتکارتے ہیں،،، تو پھر اُن کے خلاف خبریں تلاش کی جاتی ہیں،،، اور اگر وہ سیاستدان میرٹ پر کام کرتا رہے تو ہر طرف خاموشی رہتی ہے،،، لیکن جیسے ہی وہ کوئی بلنڈر کرے جیسے حالیہ لاہور واقعے میں ہوا تو پھر ایسے میں کوئی نہیں چھوڑتا۔ الغرض یہ کہ اگر آپ کے پاس یونیفارم یا قانون کی طاقت ہے تو اُن کے پاس بھی قلم کی طاقت ہے،،، مطلب! ہر کوئی اپنے اپنے ڈیپارٹمنٹ کا بادشاہ ہے،،، آپ کسی سے بگاڑ کر نہیں رکھ سکتے،،، چلیں سب کچھ آپ چھوڑیں،،، کیا سی سی ڈی جو کچھ کر رہی ہے، کوئی مہذب معاشرہ اس چیز کو سپورٹ کر سکتا ہے؟ آپ اس حوالے سے نہ تو قانون دانوں کی سن رہے ہیں، نہ صحافیوں کی اور نہ عوام کی۔ آپ صرف اتنا بتا دیں کہ جب ماورائے عدالت سب کچھ ہوگا تو پھر عدالتوں کی کیا ضرورت رہ جائے گی؟ اور پھر ہمارے حکمران جب اقتدار میں نہیں ہوتے اور اُن پر ایک آدھ دن اضافی جیل میں رکھنا پڑ جائے تو پھر ان کے آنسو ہی ختم نہیں ہوتے،،، آپ وزیر اعلیٰ پنجاب کو دیکھ لیں کہ وہ کس طرح جیل کے دنوں کو اکثر یاد کرتی رہتی ہیں،،، لیکن اب خود کیا کر رہی ہیں؟ آپ سی سی ڈی کے ہاتھوں بندے مروا رہی ہیں،،، جن میں اگر ایک گناہ گار ہوتا ہے تو دو بے گناہ بھی مار دیے جاتے ہیں،، یعنی جو آپ پر ظلم کیا جا رہا ہے، وہ ظلم ہے اور جو دوسروں پر ظلم ہو رہا ہے وہ ظلم نہیں ہے،،، بہرحال میں فیصل کامران کی بطور پولیس آفیسر عزت کرتا ہے، بلکہ مجھ سمیت بہت سے صحافی اُن کی عزت کرتے ہیں اور اُن کے اپنے محکمے میں بھی اُن کی عزت ہے،،، لیکن اس سیٹ پر لگنے کے لیے آپ کی شخصیت میں جھکاﺅ کا جو پہلو ہے وہ صرف سیاستدانوں کے لیے نہیں ہونا چاہیے،،، بلکہ یہ سیٹ آپ سے ڈیمانڈ کرتی ہے کہ آپ صحافیوں کے ساتھ بھی میرٹ پر بات کریں ، اُن کی بات سُنیں، وہ بھی اس معاشرے کے اسٹیک ہولڈرز ہیں،،، آپ اُنہیں اپنے سے دور کرکے، یا Straight Forwardہوکر پولیس کو صحیح انداز میں اور میرٹ پر چلا ہی نہیں سکتے۔ لہٰذااس چیز کو ذہن میں رکھیں کہ یہ عہدہ ایسا ہے کہ کہیں آپ سے غلطی سرزد ہوگی، اور کہیں آپ سے غلطی کروائی جائے گی، ،، اور پھراگر آپ نے ایسے ہی چلنا ہے تو پھر یہ بات ذہن میں رکھیں اور اپنے آپ کو تیار رکھیں کہ پھر ہر طرف سے گولہ باری ہو سکتی ہے،،، اور بسا اوقات آپ ان مورچوں پر شکست بھی کھا سکتے ہیں،،، کیوں کہ اس عہدے پر بہت سے افسران نے اپنے آپ کو اسی رویے کی وجہ سے ضائع کیاہے،،، اور بہت سے افسران ایسے بھی گزرے ہیں جو فرض شناس بھی تھے اور رکھ رکھاﺅ والے بھی تھے،،، ہم نے اُن کے ادوار میں دیکھا کہ وہ بڑے سے بڑے مسئلے سے بھی آسانی سے گزر جاتے تھے،،، بہرکیف ہمارے افسران کو یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ن لیگ کی عادت ہے کہ وہ ہمیشہ بڑی سیٹ پر چھوٹے افسران کو لے آتے ہیں،،، تاکہ وہ اُن کے ماتحت کام کرتا رہے،،، ان کی تو عادت ہے کہ یہ اٹھارویں گریڈ کے آفیسر کو ڈی جی ایل ڈی اے لگوا دیتے ہیں، ،، ایک آفیسر قمر الزمان بھی گزرے ہیں، جن کے بارے میں مشہور تھا کہ اُن کی کوئی سروس نہیں ہے ، لیکن یہ اُنہیں کہاں تک لے گئے،،، ؟ احد چیمہ جب ڈی جی ایل ڈی اے لگے تو پتہ کریں وہ اس سے پہلے کیا تھے؟ پھر ایک بار تو انہوں نے حد ہی کر دی کہ جب لوکل گورنمنٹ سے لیا،،، اُسے سب سے پہلے یہ سی ایم ہاﺅس لے کر گئے، پھر انہوں نے اُسے ایڈیشنل ڈی جی پی آر لگا دیا، اور ڈی جی پی آر کو رخصت پر بھیج کر اُسے ڈی جی پی آر لگا دیا، اور پھر انتہا یہ ہوئی کہ سیکرٹری کو رُخصت پر بھیج کر اُسے سیکرٹری بنا دیا، ،، یعنی ن لیگ کو آپ اس حوالے سے چیمپئن بھی کہہ سکتے ہیں،،، کیوں کہ وہ چھوٹے گریڈ کے افسر کو بڑے گریڈ پر لگاتی ہے تو پھر وہ قربانی بھی مانگتی ہے،،، لہٰذااب موجودہ افسران بھی قربانی دیں،،، اور پھر یہ چھوٹے افسران کی ترقی اس لیے تھوڑی کرتے ہیں کہ یہ ایمانداری سے کام کریں گے، بلکہ وہ اس لیے لگاتے ہیں کہ وہ ان کے اچھے برے کام کریں گے،،، اُن کو ہمیشہ رانا مقبول ، نوید سعید، حاجی حبیب الرحمن جیسے لوگ اُنہیں مل جاتے ہیں،،، پھر اُن کو کئی فواد حسن فود مل، سہیل ظفر چٹھہ مل جاتے ہیں،،، لہٰذالب لباب یہ ہے کہ اس سیٹ کا تقاضا ہے کہ آپ ایمانداری ضرور دکھائیں، مگر سب کو ساتھ لے کر چلیں،،، سیاستدانوں کو بھی ، صحافیوں کو بھی اور عوام کو بھی ،،، ورنہ آپ کا لشکر جو پہلے ہی ہارا ہوا ہے، وہ آپ کو بھی ساتھ لے ڈوبے گا!