گلگت الیکشن: کبھی تاریخ سے بھی سبق سیکھ لیا کریں!

وطن عزیز کے سیاسی منظرنامے پر ایک بار پھر وہی فرسودہ کھیل کھیلا جارہا ہے جو ہم ماضی میں کئی بار دیکھ چکے ہیں ، اور اس بار اس کا نشانہ قومی انتخابات نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے انتخابات ہیں،،، جہاں 24نشستوں پر 600سے زائد اُمیدوار مد مقابل ہیں،،، یہاں کے انتخابات کے حوالے سے اس وقت تین جماعتیں ن لیگ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف (آزاد اُمیدواران) مدمقابل ہیں،،، اور کہا جا رہا ہے کہ اگر کسی نے الیکشن نہ چرایا تو نتائج 8فروری 2024ءوالے ہی ہوں گے،،، لیکن پنجاب سے پانچ ہزار پولیس اہلکاروں کی تعیناتی ، تحریک انصاف کے اُمیدواروں کو مہم نہ چلانے دینا، اُن کے قائدین کو اسلام آباد تک محدود کر دینا اور سابق حکمران جماعت کو انتخابی نشان الاٹ نہ کیے جانے کے بعد لگ یہی رہا ہے کہ ”مرکز“ یہاں بھی مرضی کے نتائج لینا چاہ رہا ہے،،، بہرحال گلگت کے الیکشن اور ماضی پر بعد میں نظر ڈالتے ہیں مگر فی الوقت افسوس اس بات ہے کہ جب انتخابات میں چند دن باقی ہیں تو ہر علاقے میں یہ تاثر پایا جارہا ہے کہ اس کے نتائج پہلے سے طے ہوچکے ہیں۔بلاشبہ پاکستان میں کبھی بھی انتخابات مکمل طور پر صاف اور شفاف نہیں ہوئے لیکن اب جو کچھ ہورہا ہے اس نے جمہوری نظام کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ الیکشن سے قبل جوڑ توڑ کی صورت میں ’سلیکشن‘ کا ایک اور عمل جاری ہے۔ یہ جمہوری طریقے سے اقتدار کی منتقلی کے عمل کی قانونی حیثیت کو مشکوک بناتا ہے۔ یقین مانیں گلگت میں الیکشن کے حوالے سے ایک دو دوست صحافیوں سے بات ہوئی تو موصوف کہنے لگے کہ آج اس خطے میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اس سے قبل فوجی حکومتوں میں بھی نہیں دیکھا گیا۔ یہاں ایک ناکام منصوبے کے خاتمے کو انتقام میں بدل دیا گیا ہے۔2024ءکے الیکشن کی طرح یہاں بھی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماو¿ں اور کارکنان کی بڑی تعداد یا تو جیل میں ہے یا پھر انہیں جبری طور پرمہم چلانے سے روک دیا گیا ہے،،، پھر میڈیا کی آزادی کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ نگران حکومت ان قوتوں کے لیے ایک دکھاوے کے علاوہ کچھ نہیں ہے جو اپنے مینڈیٹ سے باہر نکل چکی ہیں، ان کے پاس صرف انتخابات کی نگرانی اور ان کے منصفانہ اور آزاد ہونے کو یقینی بنانے تک کے اختیارات موجود تھے۔ درحقیقت انتخابات سے قبل جوڑ توڑ کرنے کے لیے نگران حکومت کو استعمال کیا جارہا ہے۔ جبکہ گزشتہ ہفتے اسد قیصر کو جس انداز میں اسلام آباد میں ہی روک لیا گیا تو اُس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ سرکار اب بھی تحریک انصاف سے خوفزدہ ہے،،، اس لیے پھر میرے خیال میں اسد قیصر کی یہ تجویز بہترین ہے کہ الیکشن کروانے کی زحمت نہ کریںبلکہ آپ ویسے ہی نتائج کا اعلان کر دیں۔ میرے خیال میں اس سے بہتر تجویز نہیں ہوسکتی ،،، اور پھر اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ نہ تو اُمیدواروں کا پیسہ ضائع ہوگا، نہ الیکشن کمیشن کا اور نہ ہی سکیورٹی اداروں کا۔ بلکہ نہ ہی کہیں جھگڑا و فساد ہو گا اور نہ ہی کہیں کوئی دھاندلی کا الزام لگے گا۔ الغرض اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے کہ یہ وہاں کیا کر رہے ہیں؟ بلکہ انہوں نے تو بے شرمی کی چادر پہن لی ہے، کہ ہم نے تو یہی کرنا ہے، آپ سے جو ہوتا ہے کر لو۔ مطلب !چار سال گزرنے کے بعد آج بھی حکمران خوفزدہ ہیں کہ نہ جانے اگر تحریک انصاف کو انتخابی نشان الاٹ کر دیا گیا اور اُسے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی گئی تو نہ جانے اُن کے ساتھ کیا ہوگا۔ سمجھ سے باہر ہے کہ فیصلہ کرنے والے نہ جانے ملک سے کیا کرنے والے ہیں،،، بلکہ کیا کرتے آئے ہیں،،، خود تو انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ملک میں نہیں رہنا ہوتا،،، بلکہ انہوں نے بھی اور بیوروکریٹس نے بھی اور سیاستدانوں نے بھی۔۔۔ اپنے ادوار کے دوران ہی بیرون ملک سیٹنگز کر لی ہوتی ہیں،،، یعنی جیسے ہی ان کی ریٹائرمنٹ ہوگی، یہ ملک سے باہر ہوں گے،،، اور کہیں گے کہ وہ چھٹیاں منانے جا رہے ہیں،،، اور پھر شاید ہی واپس آئیں گے،،، کیوں کہ ان لوگوں میں سے تقریباََ سب کی جائیدادیں باہر ہیں،،، اور یہ اُنہیں بھرپور انجوائے کر رہے ہیں،،، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ کونسا آرمی چیف یا کونسا چیف جسٹس یا کونسا چیف سیکرٹری وغیرہ ریٹائرمنٹ کے بعد خالصتاََ پاکستان میں رہ رہا ہے،،، کچھ مستقل بیرون ملک شفٹ ہوگئے ہیں جبکہ کچھ آتے جاتے رہتے ہیں۔ اور ابھی بھی جو اقتدار میں ہیں یہ بھی کل کو باہر ہوں گے،،، لیکن ان کے فیصلے چہ جائے اس کے کہ اچھے ہیں یا برے ہیں،،، ان کو عوام ہی بھگتیں گے،،، کیوں کہ اگر برے فیصلے ہیں تو بعد میں ان کو کس نے پوچھنا ہے؟ 1977ءمیں بھی جب بھٹو نے عام انتخابات میں دھاندلی کی تھی تو اُس وقت بھی بھٹو نے کہا تھا کہ اُس کی کرسی بڑی مضبوط ہے، لیکن کیا ہوا تھا؟ بھٹو اگلے دو سال کے اندر اگلے جہاں پہنچ گیا تھا،،، پھر جنرل ضیاءالحق نے کہا تھا کہ جب تک میں اقتدار میں ہوں تب تک ہمیشہ غیر جماعتی الیکشن ہی ہوں گے،،، اور کہا تھا کہ اُن کی کرسی کو کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔ لیکن اُن کے ساتھ جو ہوا، کیا اس کا کوئی تصور بھی کر سکتا ہے؟ بلکہ اُنہیں C130لے بیٹھا،،، پھر نواز شریف بھی 1997ءمیں دو تہائی اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، کیا ہوا اُن کے ساتھ،،، 1999ءمیں مارشل لاءلگا اور دس سال کے لیے جلاوطن کر دیے گئے،،، حالانکہ وہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے صدر فاروق لغاری کو فارغ کر دیا ہے اور چیف جسٹس سجاد شاہ پر حملہ کر دیا ہے تو اب وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں،،، پھر مشرف اقتدار میں آیا تو وہ بھی مکا لہرا لہرا کر کہتا تھا کہ اُس کے ساتھ کوئی مائی کا لال مقابلہ نہیں کرسکتا،،، لیکن اُن کے جاتے ہوئے پتہ بھی نہیں چلا تھا کہ وہ کیسے گئے،،، حالانکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ بھی آج کی طرح امریکا کے فرنٹ لائن اتحادی تھے،،، اور اُس وقت امریکا کے ساتھ وفاداری کے تمام ریکارڈ توڑ رہے تھے،،، بلکہ افغانوں و پاکستانیوں کی بڑی تعداد کو پکڑ پکڑ کر امریکا کے حوالے کر رہے تھے،،، الغرض ہم لوگ کبھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے۔۔۔ بلکہ آج بھی اُسی ڈگر پر چل رہے ہیں کہ اُس کو پکڑ لو، اُس کو مار دو، اُس کو سبق سکھاﺅ، وہ بندہ گلگت نہ پہنچ سکے،،، اُس کے گھر والوں کو اُٹھالو،،، اُس کی فائل نکال لو،،، اُس کے پیچھے نیب کو لگا دو،، اُس کو محکمانہ کارروائی میں پھنسا دو،،، اُس پر آرٹیکل فلاں کی سزا لگا دو،،، اُس کا نام ای سی ایل میں ڈال دو،،، یعنی آج بھی گلگت الیکشن میں یہی کچھ ہو رہا ہے،،، اور پھر نہ جانے یہ لوگ کب سمجھیں گے کہ اس سے سرا سر نقصان پاکستان ہی کا ہوتا ہے۔ خیر بات آگے نکل جائے گی،،، اس لیے واپس گلگت الیکشن کی طرف ہی آتے ہیں کہ یہاں 7جون بروز اتوار کو الیکشن ہو رہا ہے، جس میں 24 جنرل نشستوں کے لیے 664 امیدوار میدان میں ہیں۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی مجموعی طور پر 33 نشستیں ہیں جن میں 24 جنرل جبکہ 9 مخصوص نشستیں ہیں۔یہاں پہلی مرتبہ 2009 میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت منعقد ہوئے تھے اور پہلے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی جبکہ موجودہ گورنر مہدی شاہ پہلے وزیراعلیٰ بنے تھے۔ اس کے بعد 2015 میں مدت ختم ہونے پر دوسرے عام انتخابات ہوئے جن میں ن لیگ کو اکثریت ملی اور حافظ حفیظ الرحمان دوسرے وزیراعلیٰ بنے۔ن لیگ کی حکومت نے بھی مدت پوری کی اور سال 2020 میں تیسرے عام انتخابات ہوئے جن میں اس وقت وفاق میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت ملی اور خالد خورشید تیسرے وزیراعلیٰ بن گئے۔تاہم پی ٹی آئی حکومت اپنی مدت پوری نہ کر سکی اور 2023 میں خالد خورشید جعلی ڈگری کیس میں نااہل ہو گئے، جس کے بعد پی ٹی آئی حکومت ختم ہو گئی، بعد ازاں حاجی گلبر خان کی سربراہی میں نیا گروپ سامنے آیا اور مخلوط حکومت قائم ہوئی، جس میں حاجی گلبر خان وزیراعلیٰ بن گئے۔ ویسے تو یہاں اور آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ جس جماعت کی مرکز میں حکومت ہوتی ہے وہی ان انتظامی یونٹوں میں اپنی حکومت بناتے ہیں،،، اور آپ دیکھ لیں ایسا ہی ہوتا رہا ہے،،، تبھی ہم ان کو آزاد حکومت نہیں بلکہ مرکز کی کٹھ پتلی حکومت بھی کہتے ہیں جو میرٹ پر چلنے کے بجائے سیاسی آقاﺅں کے نقش قدم پر چلتی ہیں،،، تبھی یہاں آئینی حیثیت، صوبائی حقوق، سیاحت، ماحولیاتی تبدیلی، سی پیک منصوبے، معدنی وسائل، نوجوانوں کے روزگار اور انفرا اسٹرکچر جیسے مسائل اہم موضوعات بن چکے ہیں۔اور لگ یہی رہا ہے کہ یہاں بھی ایک طبقہ مکمل خاموش دکھائی دیتا ہے جو 7جون کو ہی فیصلہ کرے گا ،،، یہ بالکل ایسے ہی ہوگا جیسا 8فروری کو ہوا تھا،،، یعنی ’اس بار تحریک انصاف کو انتخابی نشان جاری نہیں ہوا اور ان کے امیدوار آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں، تحریک انصاف کے ووٹرز خاموش ہیں، وہ کس طرف جائیں گے، اس حوالے سے بھی معاملات ”زیر غور“ ہیں۔ بہرکیف جو بھی ہو، اس وقت ملک کسی بھی نئی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لیے گلگت کو وہاں کے عوام پر چھوڑ دیا جائے اور عوام جس جماعت کو منتخب کرتی ہے اُسے حکومت دے دی جائے،،، پھر دیکھیں کہ اُس علاقے میں ترقی ہوتی ہے یا نہیں! یقینا عوام کے نمائندے اپنے علاقوں کے لیے کام کریں گے،،، اور یہ نہیں کریں گے کہ وفاق سے احکامات آئیں اُنہیں کو پورا کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کریں ، ایسا کرنے سے صرف اور صرف تباہی ہے،،، اس کے سوا کچھ نہیں ۔ اگر نہیں یقین تو آپ یہاں بھی دھاندلی زدہ اور فارم 47والا الیکشن کروا کر دیکھ لیں،، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ یہاں کے لوگ پھر پنجاب پولیس سے بھی قانون میں نہیں آسکیں گے!