ووٹر کی عمر : جگ ہنسائی نہ کروائیں!

اس وقت ملک میں ایک نئی ترمیم (اٹھائیسویں )کی باتیں ہو رہی ہیں،،، جس کے بارے میں کسی کو بھی علم نہیں ، کیوں کہ باوثوق ذرائع یہی بتا رہے ہیں کہ اس کے مسودے کی تیاری کہیں اور ہو رہی ہے،،،بلکہ ملک بھر میں افواہوں کا بازار بھی گرم ہے،،، جہاں بھی دو، چار اہلِ سیاست یا صحافت اکٹھے ہوتے ہیں، یہ معاملہ زیر بحث آجاتا ہے۔ ہر شخص پوچھتا ہے کہ آئین میں جو اٹھائیسویں ترمیم ہونے جا رہی ہے، اس کی ضرورت اور افادیت کیا ہے، اس سے بڑھ کر یہ کہ اس کا مسودہ کہاں تیار ہو رہا ہے، اور زمین ہموار کرنے کے لیے کیا کچھ کیا جا رہا ہے۔ویسے جو چیزیں ڈسکس ہو رہی ہیں، اُن کے مطابق نئے صوبوں کی تقسیم، ووٹر کی عمر اور سیاسی حکومت کے ادوار کی مدت کے علاوہ کئی ایک اہم ترین موضوعات زیر بحث ہیں،،،یقینا یہ موضوعات خاصے حساس ہیں، جن سے چھیڑ چھاڑ بھی حکومت کو مہنگی پڑ سکتی ہے،،، جیسے ووٹر کی عمر جو 18سال مقرر ہے، اُسے بڑھا کر 25سال کرنے لگے ہیں تو پھر اس حوالے سے بنگلہ دیش میں ہونے والا Gen-Zاحتجاج بھی یاد ہونا چاہیے،،، جو اسی عمر کے نوجوانوں نے برپا کیا تھا،،، پھر جب آپ اپنے معاشرے میں نوجوانوں کو18سال کی عمر میں نوجوانوں کو شادی کی اجازت دے رہے ہیں، ڈرائیونگ لائسنس کی اجازت دے رہے ہیں،،، فوج کو جوائن کرنے کی اجازت دے رہے ہیں،،، بلکہ آپ قانونی طور پر یہ ڈکلیئر کر رہے ہیں کہ 18سال کا نوجوان بالغ ہو چکا ہے، تو پھر آپ اُسے ووٹ ڈالنے کی اجازت کیوں نہیں دے رہے؟ اور پھر پیپلزپارٹی جیسی پارٹی کیسے اس کے حق میں ووٹ ڈالے گی،،، کہ جب اُن کا اپنا چیئرمین بلاول زرداری 19سال کی عمر میں پارٹی چیئرمین بنا دیا گیا۔ اور پھر کیا آپ کو اس بات کا ادراک ہے کہ ہمارے نوجوان کے پاس ڈگریاں ہیں مگر روز گار نہیں ہے،،، نوجوان مہنگائی کا سب سے شدید بوجھ اٹھاتا ہے، تعلیم اور صحت کی ناکام پالیسیوں کے نتائج بھگتتا ہے، لیکن جب یہی نوجوان ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرے تو اسے ”نادان“ اور”جذباتی“ قرار دے دیا جاتا ہے۔ لہٰذاسمجھ سے باہر ہے کہ حکمرانوں کو کون اس قسم کے مشوروں سے نوازتا ہے،،، یا میرے خیال میں یہ لوگ ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ عوام کا دھیان دیگر چیزوں سے ہٹا رہے ،،، پھر تبھی اصل مسئلہ ووٹر کی عمر کا نہیں بلکہ سرکار کو غریبوں سے مسئلہ ہے،،،جبکہ عوام کو پٹرول کی قیمتوں کا مسئلہ ہے، مہنگائی سے مسئلہ ہے،،، لیکن سرکار کو کسی چیز سے فرق نہیں پڑتا، ،،بلکہ سرکار کی تو صرف چاندی ہونی چاہیے،،، وہ کہتے ہیں جتنا لوٹ سکتے ہیں لوٹ لو،،، شاید وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ اُن کے لیے آخری چانس وگا،،، اس لیے یہ حکمران کس حد تک گر سکتے ہیں، اس کی ان کو پرواہ ہی نہیں ہے،،، یہ تو وہ حکمران ہیں، جو بیرون ملک دوروں پر ہوں تو ایسے دکھنے کا ڈھونگ رچاتے ہیں جیسے یہ کسی ترقی یافتہ ملک سے آئے ہوں،،، جیسے یہ دنیا فتح کر کے آرہے ہوں، جیسے یہ دنیا کی امیرترین معیشت والے اور امیر ترین عوام کے امیر حکمران ہوں،،، حالانکہ دنیا سب جانتی ہے کہ یہاں کے عوام کس حال میں جی رہے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہاں پٹرول کے نرخ کیا ہیں؟ اور سرکار کتنے قسم کے ٹیکس لے رہی ہے؟ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہاں کے 70فیصد عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں،،، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہاں کے ایک ایک فرد پر چار چار لاکھ روپے کا قرض ہے،، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کا ملک یہ خود نہیں چلا رہے بلکہ آئی ایم ایف چلا رہا ہے،،، اور ان کے فیصلے امریکا میں ہو رہے ہیں،،، اس کی تازہ مثال عمران دور میں جاری ہونے والا ”سائفر“ ہی کافی ہے،،، اس حوالے سے تف ہے کہ جن جن سیاستدانوں ، صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے اسے غلط قرار دیا،،وہ اس پر شدید غمگسار ہونے کے بجائے یا معافی مانگنے کے بجائے وہ اس کا ابھی بھی دفاع کر رہے ہیں،،، اور شیخیاں بگار رہے ہیں،،، بلکہ یہ بیرون ملک جاتے ہوئے ذرا سا بھی شرمندہ نہیں ہوتے،، بلکہ یہ دھڑلے سے جاتے ہیں اور کسی کو محسوس بھی نہیں ہونے دیتے کہ یہ کس غریب ملک سے آئے ہیں،،، حالانکہ جب آپ کے گھر کے حالات ٹھیک نہ ہوں، یا آپ فوتگی والے گھر سے دوسرے گھر میں جا رہے ہوں تو آپ کے افسوس کی شدت خواہ کم ہی کیوں نہ ہوگئی ہو،، لیکن دوسری جگہ جاتے وقت آپ کا چہرہ افسردہ ضرور ہونا چاہیے،،، تاکہ دوسروں کو آپ کے چہرے کے تاثرات سے یہ نہ لگے کہ آپ یا تو بے پرواہ ہیں، یا آپ بے حس ہیں، یا آپ کو آپ کی عوام سے کوئی سروکار نہیں ہے،،، جیسے آپ اس کی چھوٹی سی مثال پنجاب حکومت کے عہدیداران کا دورہ آذربائیجان(باکو) کو دیکھ لیں،،، پورا ملک اس وقت مہنگائی کے طوفان سے پریشان و پرسان حال ہے، لیکن وہاں کا فوٹو شوٹ دیکھ کر یقین مانیں دل پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہ رہا ہے،،، کہ یہ وہی ہمارے حکمران ہیں جن کی وجہ سے یہاں کے عوام کا جینا دوبھر ہو چکا ہے،،، اور بدلے میں یہ عوام کے دُکھ میں برابر کے شریک ہونے کے بجائے ،،، یہ وہاں پر ”ٹرپ “ انجوائے کر رہے ہیں،،، جیسے انہیں کسی کی پرواہ ہی نہیں ہے،،، یہ کروڑوں روپے کے لباس زیب تن کر لیتے ہیں،،، یہ بالکل ایسے ہی جیسے بیرون ملک دوروں پر پیپلزپارٹی کی سابق وزیر خارجہ پاکستان کے لیے شرمندگی کا باعث بنا کر تی تھی۔ قصہ مختصر کہ بقول حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒکے فریدا کم ذاتاں دے ہتھ اقتدار آیا، تے اشرفاں دے منہ مکے جیڑے بونڈھے مار کے ونگدے سن، اج بنے بیٹھے نیں پکے یعنی جب حکومت اور طاقت ایسے لوگوں کے پاس چلی جائے جو اس کے اہل نہ ہوں یا جن کا ظرف چھوٹا ہو، تو وہ شریف اور معزز لوگوں کی تذلیل کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو کل تک معاشرے میں کسی گنتی میں نہیں تھے، اقتدار ملتے ہی اپنی اوقات بھول کر بڑائی کے دعویدار بن جاتے ہیں۔اس لیے اس وقت جو حکمران برسر اقتدار ہیں، اُن کی کوئی سیاسیreputeنہیں ہے،،، معذرت کے ساتھ نہ پیپلزپارٹی کے لیڈران کا کوئی سیاسی تشخص ہے اور نہ ہی ن لیگ کے سیاسی قائدین کا۔ بلکہ دونوں برسراقتدار خاندانوں کے سر پر اس وقت صرف دولت کے انبار لگانے کی دھن سوار ہے،،، تبھی یہ بیرون ملک دوروں پر جا کر اس قدر پرجوش ہوتے ہیں ،،، جیسے یہ ذاتی کاروبار کی تشہیر کے لیے آئے ہوں،،، ورنہ اگر میں غلط ہوں تو مجھے بتایا جائے کہ ان تین چار سالوں میں انہوں نے جتنے سرکاری دورے کیے ہیں،،، اُن میں سے کتنے کامیاب رہے ہیں؟ اور ابھی تک یہ لوگ ملک میں کتنی کمپنیاں لاسکے ہیں،،، بلکہ ان لوگوں کے ہوتے ہوئے تو جو غیر ملکی کمپنیاں یہاں کام کر رہی تھیں ، اُن میں آدھی ملک چھوڑ کر چلی گئی ہیں،،، لیکن ان کے شغل ختم ہی نہیں ہو رہے،،، یہ عوام میں آتے ہیں تو اُن کا تمسخر اُڑاتے ہیں،،، اور کہتے ہیں کہ مہنگائی عالمی سطح پر ہو رہی ہے،،، اگر ایسا ہے تو ساتھ ہمسایہ ملک بھارت میں چار سالبعد پانچ روپے پٹرول کا اضافہ ہوا ہے تو پورا ملک ہل کر رہ گیا ہے،،، جبکہ ہمارے حکمران عادتاََ ایسے بن گئے ہیں،،، بلکہ یہی نہیں ،،، یہاں ہر حکمران کے چہرے پر ایسے ہی تاثرات ہیں،،، اسی قسم کے شغل میں ہیں،،، اور پھر یہی نہیں بلکہ یہ غریب عوام کی غربت کا سراسر مذاق بنا رہے ہیں،، بقول شاعر اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق بہر حال یہ ہرگز یہ نہیں سوچتے کہ عوام کس حال میں ہیں،،،یہ جتنا مرضی اپنا اقتدار لمبا کر لیں،، اخیر سب کی آنی ہوتی ہے،،، 1997ءمیں بھی جب ن لیگ دو تہائی اکثریت حاصل کرکے اقتدار میں آئی تھی، تو اُس وقت بھی یہ اقتدار کو لمبا کرنے کے ”اقدامات“ ہی کر رہے تھے،،، اور زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کررہے تھے،،، لیکن وقت نے ایسا پلٹا کھایا کہ سب کچھ اُلٹ ہوگیا،،، پھر یہی نہیں بلکہ آپ خود دیکھ لیں کہ جنرل ضیاءبھی اقتدار کو طول دینے کے لیے کیا کچھ نہیں کر رہا تھا؟ پھر مشرف کو دیکھ لیں،،، بلکہ اُس سے پہلے جنرل ایوب کو دیکھ لیں،،، الغرض ان میں اگر کوئی بھی نہیں بچا تو مستقبل میں یہ کیسے بچ جائیں گے؟ یعنی قصہ مختصر کہ ان کو ایک ہی فکر ہے کہ اپنے اقتدار کو طول کیسے دینا ہے،،، کیسے انہوں نے قوانین میں ترامیم کرنی ہیں،،، بلکہ یہ تو 28ویں ترمیم ایسی لا رہے ہیں جس سے جمہوریت برائے نام رہ جائے گی،،، حکومت کی مدت بھی ختم ہو جائے گی،،، اور پھر جب تک یہ چاہیں حکومت کریں گے،،، اور ایک بار پھر یہ اپنی جگ ہنسائی کا باعث بنیں گے،،، جس سے انکو یقینا کوئی فرق نہیں پڑتا! اور رہی بات ووٹر کی عمر کی تو یہ لوگ ایسا بھی کر کے دیکھ لیں،،، یہ عوام میں پھر بھی مقبول نہیں ہوں گے،،، کیوں کہ دنیا کی جمہوریتیں اس بحث میں آگے جا رہی ہیں، پیچھے نہیں۔ یورپ اور لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں ووٹ کی عمر 16 سال تک کم کی جا چکی ہے۔ وہاں یہ سوچ غالب ہے کہ سیاسی شعور ووٹ چھیننے سے نہیں، بلکہ ووٹ دینے کے عمل سے پیدا ہوتا ہے۔ نوجوان کو جمہوریت سے دور کرنے کے بجائے اس میں شامل کیا جاتا ہے۔پاکستان میں مگر سوچ اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں ہر وہ عنصر جو کنٹرول سے باہر ہو، مشکوک بنا دیا جاتا ہے، چاہے وہ میڈیا ہو، عدلیہ ہو یا ووٹر۔حقیقت یہ ہے کہ ووٹ کی عمر 25 سال کرنے کا شوشہ کسی اصلاحی جذبے سے نہیں، بلکہ سیاسی بے چینی سے جنم لیتا ہے۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو انتخابی ناکامیوں کا ملبہ نوجوانوں پر ڈال کر اصل سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے، جیسے ناقص حکمرانی، کمزور سیاسی جماعتیں اور عوام سے کٹا ہوا نظام۔اگر واقعی مسئلہ سیاسی شعور ہے تو حل ووٹ چھیننا نہیں، بلکہ:معیاری تعلیم، شہری تربیت، شفاف سیاست ہے۔ووٹ کی عمر بڑھانے کی بات دراصل یہ اعتراف ہے کہ کچھ حلقے عوام کے فیصلے سے ابھی تک خوفزدہ ہیں!اور یہ خوف ہی ان کی تباہی لائے گا!