کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا جائز مطالبہ !

ہم پنجابیوں کے لیے کراچی یا بلوچستان جانا اکثر اچنبھے کی بات لگتی ہے، کیوں کہ جب سے وفاق اور صوبے کے درمیان فاصلے بڑھے ہیں، تب سے ہی صوبوں کے لوگوں میں بھی کافی فاصلے بھی بڑھ گئے ہیں،،، میں گزشتہ دنوں کراچی گیا تو وہاں بھی خاصی اجنبیت محسوس کی، یہ شاید اس لیے بھی تھا کہ اب بین الصوبائی تعلقات اتنے اچھے نہیں ہیں جتنے ماضی میں ہوا کرتے تھے،،، یہ ایسے ہی کہ جب کبھی پاکستان انڈیا کے رابطے بحال ہوں گے،،، تو دونوں طرف کے عوام میں کافی خلاءپیدا ہو چکا ہوگا،،، اپنائیت کے بجائے اجنبیت نے جنم لے لیا ہوگا،،، لیکن یہ صوبائی اور سرحدی فاصلے جتنے جلد کم ہوں، اتنا ہی بہتر ہوتا ہے،،، ورنہ ترقی رُک جاتی ہے، ،، لوگ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں، اقوام میں احساس کمتری آجانا فطری عمل بن جاتا ہے،،، اور پھر اگر یہ فاصلے رکھنا ضروری ہوتا تو آج پورے یورپ میں سرحدیں ختم نہ ہوتیں،،، اور دیرینہ دشمن ہمسائے آپس میں تعلقات نہ بنا رہے ہوتے،،، خیرجیساکہ میں نے کہا کہ گزشتہ دنوں میں سی پی این ای کے اجلاس کے سلسلے میں کراچی گیا، جہاں کچھ دن قیام کیا تومعذرت کے ساتھ یوں محسوس ہوا جیسے میں واقعی تھرڈ ورلڈ کنٹری کے کسی پسماندہ علاقے میں موجود ہوں،،، حالانکہ یہ شہر پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور ”کماﺅ پوت“ ہے،،، لیکن اس کماﺅ پوت کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہو تی جا رہی ہے،،، ویسے کراچی میں جب بھی میرا جانا ہوتا ہے تو وہاں دوست احباب کے ساتھ بڑا اچھا وقت گزرتا ہے،، لیکن جب شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا ہے تو یقین مانیں ماسوائے اکا دکا علاقوں کے ہر طرف ٹوٹے روڈز اور بے ہنگم ٹریفک نظر آتی ہے،،، اسی پر اکثر وہاں موجود دوست صحافیوں سے بحث و مباحثہ ہوتا ہے،،، جس پر وہ کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کو کراچی سے کوئی سروکار نہیں ہے،،، کیوں کہ اُسے یہاں سے ووٹ نہیں ملتا۔ یعنی سندھ حکومت کراچی سے محض پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے موجود رہتی ہے،،، ورنہ یہاں اُس کا کوئی کام نہیں ہے،،، لیکن اس مرتبہ ایک دوست صحافی نے انکشاف کیا کہ اب مقتدرہ اور وفاق کی جانب سے کراچی کو سندھ سے الگ کرکے الگ صوبہ بنانے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے،،، اور اس حوالے سے پیپلزپارٹی کے ردعمل کا انتظار ہے،،، کہ وہ کس قدر شور مچاتی ہے،،، ظاہر ہے کہ پیپلزپارٹی یا سندھ کراچی کے بغیر ”یتیم“ ہو جائے گا،،، اس لیے وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایسا ہو،،، اور پھر بھی اگر زبردستی ایسا کیا گیا تو ہم ایک بار پھر ملک میں زبردست انتشار دیکھیں گے،،، مطلب اس اقدام کے بعد اب تو سندھ یعنی تیسرا صوبہ بھی وفاق سے ناراض ہو جائے گا،،، ماضی میں بھی 1977ءسے 1988ءتک سندھ کا سفر اسی لیے مشکل تھا کہ بھٹو کو پھانسی دے کر وفاق نے پورا ایک صوبہ اپنے خلاف کر لیا تھا،،، اُس وقت لاہور سے رات کو ٹرین چلتی تھی تو صبح سویرے صادق آباد پہنچتی تھی،وہاں سے ایک بوگی آگے اور ایک پیچھے فوجی دستوں کی لگائی جاتی تھیں، تاکہ دن کی روشنی میں بحفاظت کراچی کا سفر کیا جا سکے،،، پھر وہاں سے واپس ٹرین بھی دن کی روشنی میں ہی آتی تھی،،،یہ اس لیے ہوتا تھا کہ سندھ میں اُس وقت وہی سلوک پنجابیوں کے ساتھ کیا جاتا تھا جو آج بلوچستان میں ہو رہا ہے۔ اس لیے اگر اب بھی بغیر کسی سیاسی مشاورت کے سندھ کو کراچی سے الگ کرنے کی کوشش کی تو سندھیوں ، خاص طور پر پیپلزپارٹی کو یہ بات کبھی گوارا نہیں ہوگی۔ لیکن کراچی کو سندھ سے الگ کرنا اس لیے بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہاں اب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،،،بلکہ تمام سیاسی جماعتیں بھی اب یک زبان ہیں کہ کراچی کو سندھ سے الگ کیا جائے،،، اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ملک میں صوبے بڑھانے کی حمایت اور مطالبہ کیا ہے ،حالانکہ اس سے پہلے مرحوم پیر صاحب پگاڑا بھی کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کے حامی تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر پیپلزپارٹی کراچی کو سندھ سے الگ نہیں کرنا چاہتی تو وہاں پر عوام کی سہولت کے لیے کام کرے،،، لیکن اُس نے قسم کھائی ہے کہ ایسا بھی نہیں کرنا،،، اور پھر سندھ میں 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ،،، اس لیے مذکورہ جماعت والے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اُنہیں عوامی خدمت کا موقع نہیں مل سکا۔ بلکہ آپ یہ دیکھیں کہ پی پی حکومت نے 18 سالوں میں کراچی کو کوئی میگا پروجیکٹ تک نہیں دیا۔ بلکہ اس کے برعکس پیپلز پارٹی کراچی کو سونے کی چڑیا سمجھتی ہے جب کہ کراچی سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ملک اور سندھ چل رہا ہے۔ سندھ حکومت کراچی پر اپنے مالی وسائل خرچ کرنے کے بجائے چاہتی ہے کہ وفاق کراچی کے لیے مالی وسائل فراہم کرکے اور کراچی کے مسائل حل کرائے۔کراچی میں کے فور کا منصوبہ اور یونیورسٹی روڈ اور گرومندر سے ٹاور تک جو بسوں کے منصوبے زیر تعمیر ہیں ان کے لیے فنڈز وفاق اور سندھ حکومت نے فراہم کرنے ہیں مگر دونوں حکومتیں سنجیدہ نہیں، جس کی وجہ سے کئی سال سے یونیورسٹی روڈ پر سفر عذاب بنا ہوا ہے جہاں فنڈز ہو تو کام چلتا ہے کبھی رک جاتا ہے جب کہ یہ ایک اہم شاہراہ ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں افراد سفر کرتے ہیں اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے اور زیر تعمیر منصوبے سے لوگ سخت پریشان ہیں اور ٹریفک جام رہنا معمول بنا ہوا ہے۔ کراچی کے مسائل سے عدم دلچسپی سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کی سندھ حکومت کراچی سے خود بے زار ہے اور کراچی کو سندھ حکومت فنڈز دینا ہی نہیں چاہتی یعنی اب ہو یہ رہا ہے کہ جس جماعت کی سندھ میں حکومت ہے، اُس کا کراچی میں حصہ نہیں ،،، اور جس کا کراچی میں حصہ ہے، اُس کا سندھ حکومت میں کوئی حصہ نہیں۔ الغرض کراچی میں پیپلزپارٹی ہار جاتی ہے، اور اندرون سندھ جیت جاتی ہے،، اس لیے وہ کراچی میں پیسے لگاتے ہی نہیں ہیں،،، اور کہتے ہیں کہ جتنے پیسے کراچی میں لگانے ہیں، اُتنے اپنے جیتے ہوئے حلقوں میں لگائیں تاکہ وہاں کا ووٹ تو کنفرم رہے۔ بس اسی کشمکش کراچی کے عوام اور میرے ہم وطن ساتھی رُل رہے ہیں۔ لہٰذاانہیں بچانے کے لیے مقتدرہ کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے،،، اس کے لیے پیپلزپارٹی ٹف ٹائم دے گی،،، لیکن میرے خیال میں ان میں اب ٹف ٹائم دینے کا حوصلہ نہیں رہا،،، کیوں کہ صدر زرداری بوڑھے ہو چکے ہیں،،، اور اُنکی اولاد اتنی متحرک نہیں ہے اور اتنے قابل بھی نہیں ہیں کہ جتنی محترمہ بے نظیر بھٹو ہوا کرتی تھیں۔ اور پی پی پی کے بارے میں تو یہ بھی سننے کو مل رہا ہے کہ پیپلزپارٹی مرتضیٰ بھٹو کے خاندان میں چلی جائے گی۔ کیوں کہ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کو مقتدرہ کی طرف سے پروموٹ کیا جارہا ہے،،، اور زرداری نے غلطی یہ کی ہوئی ہے کہ اُس کے ساتھ سندھ کے عوام بھی نہیں ہیں،،، کیوں کہ اُنہوںنے اپنے گرد اُن وڈیروں کو اکٹھا کر لیا ہے، جن کا عوام سے کوئی تعلق نہیں،،، تبھی مقتدرہ بھی پہلے سے زیادہ متحرک ہو چکی ہے،،، اور ویسے بھی ذرائع کے مطابق ایران جنگ میں وہ آصف زرداری سے یو اے ای کو لے کر خوش نہیں ہیں،،، اس لیے آنے والے دنوں میں پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ سخت ٹاکرا ہوسکتا ہے۔ اور ویسے بھی یہ پہلے بھی اتنا آسان نہیں تھا،،، جتنا سمجھا جا رہا ہے،،، یعنی اگر ہم کراچی کی تاریخ کا جائزہ لیں تو 19ویں صدی کے پہلے نصف میں انگریزوں کے قبضے تک، کراچی ایک چھوٹا ساحلی شہر تھا جس کی آبادی 50 ہزار سے زیادہ تھی۔ ان میں سے زیادہ تر سندھی اور بلوچ تھے جبکہ یہ قصبہ سندھی حکمرانوں کے ہاتھ میں تھا جو سندھ کے اس وقت کے دارالحکومت حیدرآباد سے اس پر حکومت کرتے تھے۔1840 میں انگریزوں نے کراچی کو سندھ کا نیا دارالخلافہ بنایا۔ تاہم تین سال بعد انگریزوں نے سندھ اور اس کے نئے دارالحکومت کو ’بمبئی پریزیڈنسی‘ میں شامل کر لیا جوکہ برطانوی ہندوستان کا ایک بڑا انتظامی ذیلی حصہ تھا جس کا مرکز بمبئی شہر (موجودہ ممبئی) تھا۔ پاکستان بننے کے بعد 1948ءمیں وفاقی حکومت نے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی تجویز دی اور اسے پاکستان کا وفاقی دارالحکومت بنایا۔ سندھی سیاستدانوں اور دانشوروں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ وہ اس ’تکبرانہ انداز‘ پر بھی نالاں تھے۔ مرحوم تاریخ دان ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کے مطابق، جب وزیر اعظم لیاقت علی خان کا اس معاملے پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ ایم ایوب کھوڑو سے سامنا ہوا تو انہوں نے وزیر سے کہا، ’سندھ حکومت کو (کراچی سے) باہر جانا ہوگا۔۔۔ جاو¿ اپنا دارالحکومت حیدرآباد کو بنا لو،،، سندھیوں کے متعدد مظاہروں کے باوجود بلآخر حکومت سندھ کو ہی پیچھے ہٹنا پڑا لیکن ایسا بانی پاکستان محمد علی جناح کے اس وعدہ کے بعد ممکن ہوسکا کہ جس کے تحت کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت مال دار دارالحکومت کی علیحدگی کی وجہ سے حکومت سندھ کو ہونے والے مالی نقصانات کی تلافی کرے گی۔ تاہم یہ وعدہ کبھی پورا نہ ہوا۔پھر 1955ءمیں وزیر اعظم محمد علی بوگرا اور ریاست کے قائم مقام سربراہ اسکندر مرزا نے مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو ختم کرکے اسے ’ون یونٹ‘ بنا دیا۔ اسے ریاست کی جانب سے سندھی، بلوچ، پختون اور بنگالی برادریوں کے سیاسی اور ثقافتی مفادات کو پس پشت ڈالنے یا ختم کرنے کی ایک چال کے طور پر دیکھا گیا۔پھر 1959ءمیں کراچی وفاقی دارالحکومت بھی نہ رہا۔ اسلام آباد نیا دارالحکومت بنا اور جب اس کی تعمیر ہورہی تھی تب پنجاب میں راولپنڈی 1967ءتک عبوری دارالحکومت رہا۔ جنرل ایوب خان کی آمریت کے آخری سالوں میں ’ون یونٹ‘ کے خلاف مخالفت میں شدت آئی۔ اگرچہ اس دوران کراچی نے تیزی سے صنعتی ترقی کی لیکن اس کی مہاجر اکثریت نے سیاسی اور معاشی طاقت کھونا شروع کر دی تھی۔ پھر بھی مہاجروں کا اشرافیہ طبقہ ایوب خان کی معاشی پالیسیز سے مستفید ہوتا رہا۔1965ءکے اوائل میں شہر میں پہلا بڑا نسلی فساد (پختونوں اور مہاجروں کے درمیان) ہوا۔ مارچ 1969ءمیں ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد نئے آمر جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ کو ختم کر کے صوبے بحال کر دیے۔پھر یکم جولائی 1970ءکو ملک کے پہلے بڑے پارلیمانی انتخابات سے عین قبل کراچی کو ایک بار پھر سندھ کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔ اس دن ریڈیو پاکستان کے کراچی کے اسٹوڈیوز میں سندھی موسیقی چلائی گئی جس کی اس سے پہلے اکثر اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ موسیقی کے پروگرام کا آغاز مشہور سندھی شاعر شاہ عبداللطیف کے کلام سے ہوا۔ بہرکیف کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تین بار کراچی کو سندھ کا دارالحکومت بنایا گیا اور دو بار اس سے یہ درجہ چھین لیا گیا۔ یعنی ایسے حالات میں کراچی نہ تو مکمل صوبہ بن سکتا ہے اور نہ ہی وفاق کے انڈر ”ون یونٹ“۔ لیکن میرے خیال میں کراچی کو سندھ سے جان چھڑوانا اب ناگزیر ہو چکا ہے، اور عوام کے لیے بھی یہی بہتر ہے،،، کیوں کہ موجودہ سیٹ اپ میں کراچی کے باسیوں کو 78سال میں پینے کا پانی میسر نہ ہوسکا۔ یہاں بعض علاقوں میں تو ٹینکر آتا ہے،،، اور بعض علاقے ایسے ہیں جہاں ہفتے میں صرف ایک دن وہ بھی چند گھنٹوں کے لیے سرکاری پانی آتا ہے۔ لہٰذاجو سرکار کراچی جیسے شہر کو پانی نہیں دے سکی،،، جو بجلی سے بھی زیادہ ضروری ہے،،، آپ پھر اُس سے کیا ہی توقع کر سکتے ہیں؟