”9مئی “پر جوڈیشل کمیشن مقرر کیوں نہیں کیا جاتا؟

9مئی کے واقعہ کی آج تیسری ”برسی“ ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک غیر معمولی دن تھا، جب 200سے زائد دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا گیا، کورکمانڈر ہاﺅس کے گھر جلا دیے گئے، قائداعظم کی میراث خاکستر کر دی گئی،،، لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ اُس دن سکیورٹی ادارے کہاں تھے؟ جنہوں نے حملہ آوروں کو روکا نہیں۔ حالانکہ یہ وہی سیکیورٹی ادارے ہیں جو ملک کی ہر خوشی غمی میں سیسہ پلائی کی دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ وہی ادارے ہیں جو انڈیا کو کئی بار اُن کی اوقات دکھا چکے ہیں، یہ وہی ادارے ہیں جنہوں نے فیض آباد دھرنا والوں کو ”تباہی“ سے روکا اور اُنہیں گھر بھیجنے میں مکمل معاونت کی۔ لیکن ان مضبوط اداروں نے 9مئی کے ذمہ داران کو نہ تو کینٹ میں داخل ہونے سے روکا اور نہ ہی تنصیبات پر چڑھائی کوروکا۔اس سانحہ پر ہم اکثر سرکاری موقف سنتے آئے ہیں،، مگر تحریک انصاف کے موقف پر غور نہیں کرتے،،، جس کے مطابق سانحہ 9مئی میں سکیورٹی اداروں سے بھی کہیں نہ کہیں غلطی ضرور ہوئی ہے، کہیں نہ کہیں سکیورٹی گیپ ضرور دیکھا گیا ہے، کہیں نہ کہیں پورا ادارہ نہیں مگر اداروں کے چند لوگ اس سانحے میں ملوث تھے کہ لوگوں کو اشتعال دلایا جائے، کہیں نہ کہیں نہ جان بوجھ کر عوام کو اُکسایا گیا تاکہ وہ اس قسم کے اقدام اُٹھائیں۔ورنہ تو جہاں جہاں حملے ہوئے، آپ ایسی جگہوں کے ارد گرد جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔ جیسے میں لاہور کا رہائشی ہوں، یہاں کے کورکمانڈرہاﺅس کو اچھی طرح جانتے ہیں،،، 9مئی سے پہلے بھی یہاں اکا دکا تقریبات میں جانا ہوا،یہاں سکیورٹی کے کئی حصار سے گزرنا پڑتا ہے، اس لیے یہاں عام آدمی کا جانا آسان نہیں ہے،،، اور پھر یہاں پی ٹی آئی کی بات میں بھی وزن ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنا دیا جائے،،، دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔۔۔ یہاں تو اگر کسی علاقے میں پتنگ اُڑتی ہے، اور اس سے کسی کا نقصان ہوتا ہے تو اُس علاقے کا ایس ایچ او معطل ہو جاتا ہے،،، لیکن اتنا بڑا سانحہ ہوا، ملک بھر میں آئی جی وغیرہ تو دور کی بات کسی علاقے کا ایس پی، ڈی ایس پی، ایس ایچ او ، یا اے ایس آئی تک معطل نہیں ہوا۔ یعنی اگر ایس ایچ او کینٹ، ڈی ایس پی کینٹ، ایس پی کینٹ ، آئی جی یا ڈی آئی جی معطل ہوئے ہوتے تو عوام کہتے واقعی یہ ملک و قوم کے لیے بہترین ہے۔ اور پھر کیا ہمیں تاریخ یاد نہیں کہ کس طرح منظم منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائیاں کروائی جاتی رہی ہیں،،، آپ زیادہ دور نہ جائیں،،، بلکہ 12مئی 2007ءکو سانحہ کراچی کو ہی دیکھ لیں،،، میڈیا رپورٹس اور ایک صحافی کی خبر کے مطابق 12 مئی 2007 سے ایک رات پہلے انسانی حقوق کی ایک بڑی آواز عاصمہ جہانگیر نے لندن فون کر کے متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے چالیس منٹ گفتگو میں انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ کل (یعنی 12مئی کو) کیا کھیل کھیلا جانے والا ہے۔ جس کا سارا الزام آپ لوگوں پر ہو گا اس چال میں نہ آئیں۔ ابھی یہ کال ختم ہوئی تھی کہ ایک اعلیٰ افسر کی کال آئی اور اس نے ایم کیو ایم کی قیادت سے کہا ”ابھی ابھی جو عاصمہ نے آپ سے کہا ہے اس پر توجہ نہ دیں وہ جسٹس افتخار چوہدری کی حامی ہیں“۔ یہ انکشاف ایم کیو ایم کے ایک ایسے لیڈر نے کیا ، جس کے بقول اس کے پاس اس کے ثبوت بھی موجود ہیں اور وقت آنے پر وہ منظر عام پر بھی آ جائیں گے۔ بہرحال یہ الگ بحث ہے، مگر ریاست تو وہ ہوتی ہے کہ جس کا انصاف سب کے لیے برابر ہو، لیکن یہ کیا کہ جس جس نے 9مئی پر پریس کانفرنس کرکے تحریک انصاف سے لاتعلقی کا اظہار کیا وہ بچ گیا، لیکن جنہوں نے پریس کانفرنس نہیں کی،اور اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے رہے، حالانکہ انہوں نے سیاسی حلقوں میں یکجہتی کا ثبوت دیا، انہوں نے سیاسی ڈیپارٹمنٹ مضبوط کیا، انہوں نے اپنا قبلہ نہیں بدلا،،، حالانکہ یہی اصل سیاسی لوگ ہیں، اور گزشتہ 3سال سے جیل کاٹ رہے ہیں،،، اور میرے خیال میں سیاسی لوگوں کے لیے اتنی جیل کافی ہوتی ہے،،، اس لیے اب اُنہیں معاف کر دیں،،، حالانکہ آپ نے پچھلے سال بھارت کو بھی شکست دے دی، اور رواں سال آپ ایران امریکا و اسرائیل جنگ کے بھی ”ثالثی ہیرو“ بنے ہوئے ہیں۔ ہر چیز، ہر ادارے کو آپ نے اپنے تابع کر لیا ہے، مرضی کی آئین میں تبدیلیاں کروا لی ہیں، اب اور کیا چاہیے؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ ملک میں استحکام آئے؟عوام کو بھی سکھ کا سانس آئے، جو پہلے ہی مہنگائی تلے دبے ہوئے ہیں، جن کا پٹرول ڈیزل اور روز مرہ کی اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں اور بجلی کے بلوں سے تنگ آچکے ہیں،،، اُن پر رحم کھائیں۔ اور ویسے بھی ان 3سالوں کے دوران سب کچھ بدل گیا ہے، ویسے میرے خیال میں اتنا بدلاﺅ 80سالوں میںنہیں آیا، جتنا اس ایک سال میں آیاہے۔ اس دوران پولیس کو اس قدر بے دریغ اختیار دے دیا گیا، کہ وہ کسی کے بھی گھر میں گھس کر مرضی کی کارروائیاں کرتی ہے، اس کے لیے اُنہیں نا تو ضلعی مجسٹریٹ سے اجازت لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی اُن کے ساتھ کسی دوسرے ادارے کا آفیسر ہوتا ہے۔ بلکہ پولیس کے ساتھ تو بسا اوقات لیڈیز پولیس بھی نہیں ہوتی۔ اتنا بڑا ظلم پاکستان کے ساتھ کبھی نہیں ہوا۔ لہٰذا”9مئی“ آج بھی جوڈیشل کمیشن مانگتا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ سانحہ 9مئی کے ذمہ داران کو سزا نہیں ملنی چاہیے،،، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ انصاف ہو،،، ہر اُس قصور وار کی پکڑ ہو جو اس میں ملوث پایا گیا ۔ میرے خیال میں اب یہاں پر ریاست بھی ماں کا کردار ادا کرے ، کیوں کہ اگر کسی سے انفرادی طور پریا اجتماعی طور پر غلطی ہوئی ہے تو اُسے معافی مانگنے پر معاف بھی کردینا چاہیے۔ لیکن اس کے علاوہ باقیوں کو بھی تو معافی مانگنی چاہیے، اُنہیں معافی مانگنی چاہیے جنہوں نے الیکشن میں بے ایمانی کی ہے، جنہوں نے رات 12بجے عدالتیں لگا کر حکومت کو برطرف کیا اور چوروں کو لا کر عوام پر مسلط کر دیا۔ جنہوں نے گھروں میں لوٹ مار کی ہے، جنہوں نے عوام کا الیکشن پر اعتماد ہی ختم کر دیا ہے، کیا اُنہیں معافی نہیں مانگنی چاہیے؟ کیا گندم یا چینی یا آئی پی پیز سکینڈل والوں کو معافی نہیں مانگنی چاہیے،،، جن کی وجہ سے ہمارے کسان بھائیوں نے سڑک پر گندم پھینک دی ہے۔ جبکہ جن کا یہ سکینڈل ہے، وہ ہنس رہے ہیں۔ اور پھر کیا اُن لوگوں کو معافی نہیں مانگنی چاہیے جنہوں نے آئین کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے، یا جنہوں نے آئین و قانون کو اپنے تابع کر لیا ہوا ہے، یا جنہوں نے عدالتوں سے اُن کے بنیادی اختیارات ہی چھین لیے ہیں، یا جنہوں نے میڈیا تک کو پیکا قانون کے ذریعے اپنے تابع کر لیا ہے، یا جنہوں نے معیشت کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے، یا اُنہیں معافی نہیں مانگنی چاہیے جنہوں نے اسٹیٹ بنک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے، یا جنہوں نے قرضے لے لے کر پاکستانیوں کو بھی گروی رکھوا دیا ہے۔ بہرحال اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ کتنے ہی پاکستانی اس سسٹم سے مایوس ہوگئے ہیں،،، اہم بات یہ ہے کہ جن نوجوانوں نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے، وہ بھی اس ملک سے مایوس ہو کر جا رہے ہیں،،، حتیٰ کہ ملک کے باسیوں کی ایک بڑی تعداد ملک کے سیکیورٹی اداروں سے بدظن ہو چکی ہے، انٹرنیٹ پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں،،، حتیٰ کہ دنیا کی اس دوڑ سے ہمارے نوجوان پیچھے رہ چکے ہیں،،، حالانکہ اگر تحریک انصاف کا آج بھی زور ہے تو حکومت کواپنی کارکردگی اور اعلیٰ ظرفی سے مقابلہ کرنا چاہیے، اگر آپ مقابلہ نہیں کر سکتے تو آپ کے پاس کیا اخلاقی جواز رہ جاتا ہے۔ لہٰذاہم تو یہی کہتے ہیں کہ افہام و تفہیم سے معاملات کو حل کیا جائے، اور تحریک انصاف بھی درمیانی راستہ نکالتے ہوئے جمہوریت کے تسلسل کا باعث بنے ورنہ ملک مزید مسائل کی دلدل میں چلا جائے گا! اور دوسری جانب ن لیگ و پیپلزپارٹی کے قائدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان سیاسی لوگوں نے ہمیشہ رہنا ہے،،، ان کے ساتھ اُتنا ظلم کریں جتنا کل کو یہ برداشت کر لیں۔۔۔ آج یہ لوگ بلکہ نام نہاد ترجمان ان سیاسی لوگوں کی قید پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں،،، انہیں شاید علم ہی نہیں کہ سیاسی سزاﺅں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی،،، جیسے ہی رجیم چینج ہوتا ہے،،، عام معافی کا اعلان کر دیا جاتا ہے،،، آپ اس کی مثال بنگلہ دیش کو دیکھ لیں کہ پھانسی کے مجرمان کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کر کے مخالفین کی پکڑ دھکڑ کی گئی اور اب وہاں حسینہ واجد کی حکومت ختم ہونے کے بعد سب کچھ اُلٹ چل رہا ہے۔۔۔ لہٰذامیں ایک بار پھر کہوں گا کہ ریاست ان تمام مجرمان و ملزمان کے لیے عام معافی کا اعلان کرے ،،، اور مسائل کو سمیٹے،،، تاکہ ملک آگے بڑھ سکے،،،، اب اگر کوئی اس ملک میں پرامن احتجاج نہیں کر سکتا تو بتائے وہ اپنا احتجاج کہاں ریکارڈ کروائے؟،،، اور پھر کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ پی ٹی آئی سے زیادہ جمہوریت کو ”قید“ میں رکھا گیا ہے،،، اور اس عمل کے ذریعے ٹوٹی پھوٹی جمہوریت ڈی ریل ہو جائے گی۔ جہاں اپوزیشن نہیں ہو گی تو وہاں کیا سیاست ہو گی اور کیا جمہوریت ہو گی۔کیا فیصلہ کرنے والوں کو نہیں لگ رہا کہ پارلیمنٹ کا توازن بگڑتا جا رہا ہے اور ملک اس وقت ایک پارٹی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا بظاہر مقصد مرضی کی قانون سازی کرنا اور عوامی امنگوں کی پرواہ کیے بغیر نئے ضوابط متعارف کرانا ہے۔ بہرکیف یہ دنیا مکافات عمل ہے،،، جہاں اللہ نے حساب و کتاب کے لیے روز آخر رکھا ہوا ہے ،،، وہیں دنیا پر بھی حساب کتاب کے لیے مکافات عمل رکھا ہوا ہے،،، اس لیے میرے خیال میں ریاست ان ملزمان کے لیے عام معافی کا اعلان کرے،،، وقت کے حکمرانوں کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ درگزر سے کام لیں،،، اور خاص طور پر عوامی نمائندوں پر ہاتھ ہولا رکھیں،،، کیوں کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث ہونے پر تحریک انصاف کے لیڈروں کو سزاﺅں کے ملکی سیاست پر دوررس اثرات مرتب ہورہے ہیں،،، لوگ اپنا کاروبار چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، 100سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیاں یہاں سے بھاگ چکی ہیں،،، اس لیے اگر اصل سرکار مخلص ہے تو مفاہمت کے خالی نعرے لگانے کے بجائے عملی اقدامات کرے،،،اور کم از کم جوڈیشل کمیشن مقرر کردے تاکہ سب کچھ عیاں ہو جائے!