ایران جنگ اور ہماری غیر مستقل خارجہ پالیسی !

ایران پر جاری حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک اہم آزمائش سے گزر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد نے اس بحران پر واضح، متوازن اور باوقار مو¿قف اختیار کیا ہے یا ہم ایک بار پھر ابہام، تاخیر اور وقتی بیانات کی سیاست میں الجھ گئے ہیں؟کیوں کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات صرف ہمسائیگی تک محدود نہیں۔ یہ سرحد، مذہب، ثقافت اور تجارت کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہر بڑے علاقائی بحران میں پاکستان کی پالیسی ردِعمل پر مبنی دکھائی دیتی ہے، پیش بندی پر نہیں۔ جب بھی ایران اور کسی دوسرے ملک کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے، اسلام آباد کا بیان عمومی نوعیت کا ہوتا ہے:”ہم خطے میں امن چاہتے ہیں“ سوال یہ ہے کہ کیا صرف امن کی خواہش کا اظہار کافی ہے؟ قارئین! کیا آپ کو ایسا نہیں لگ رہا کہ پاکستان قیادت اس وقت کنفیوژن کا شکا رہے ،،، ہمیں کیا، بلکہ کسی کو بھی سمجھ نہیں آرہی کہ اس وقت ہماری خارجہ پالیسی ہے کیا؟ ہم کس کو سپورٹ کر رہے ہیں، اور کس کے خلاف چل رہے ہیں،،، اگر ہم بقول شخصے ”آزاد“ ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ دنیا میں کوئی بھی خارجہ پالیسی آزاد نہیں ہوتی، ، میں تو کہتا ہوں کہ عمران خان بھی یہ بات غلط کرتے رہے کہ ہم کسی کے غلام ہیں؟ کوئی کسی کا غلام تو نہیں ہوتا، مگر اسٹیٹس کے آپس میں گروپس ضرور ہوتے ہیں،،،اورسب کے اپنے اپنے Interestہوتے ہیں،،، آپ کو کسی نہ کسی گروپ کو جوائن کرنا پڑتا ہے، دنیا کو یہ دکھانا پڑتا ہے کہ آپ کا جھکاﺅ کس بلاک کے ساتھ ہے، ہر وقت آپ مصلحت پسندی کا شوق نہیں پال سکتے۔۔۔ آپ کو کسی ایک گروپ کو جوائن کر کے، پھر اُس کا اعتماد حاصل کرنا پڑتا ہے، کہ وہ مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں، یا آپ مشکل وقت میں اُن کے ساتھ کھڑے ہوں۔ لیکن یہ کیا؟ کہ ایک ہی وقت میں آپ چین کا سی پیک ساتھ لے کر چل رہے ہیں،،، ڈونلڈ ٹرمپ کی گڈ بک میں بھی ہمہ وقت شامل رہنا چاہ رہے ہیں،،، پھر روس کا دورہ بھی آپ کے شیڈول میں ہے،،، اور ترکی کو بھی اپنا بھائی سمجھتے ہیں،، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر شپ بھی ہے، ، جبکہ عین اسی وقت ایران پر حملوں کی مذمت بھی کر رہے ہیں،،، اور پھر عین اُسی وقت ایران کی طرف سے کیے گئے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت بھی کر رہے ہیں،،، پھر یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایران جنگ میں اسرائیل و امریکا کو رام کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے،،، بندہ پوچھے کہ آپ کی اپنی اہمیت کیا ہے؟ ماسوائے اس کے کہ آپ ان سب ملکوں سے کسی نہ کسی طرح سے مالی فائدے لے رہے ہیں،،، اور جو بندہ مدد لے رہا ہو، وہ لاکھ باتیں بھی سیانی کر لے ،،، تو کیا اُن کی کوئی اہمیت ہوگی؟ ہاں اگر امریکا یا کوئی طاقتور ملک آپ سے کہہ دے کہ آپ آئیں اور ثالثی کا کردار ادا کریں،،، تو پھر بات اور ہوتی ہے،،، مگر اُس سے پہلے آپ کی ساری کاوشیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ خیر بات ہو رہی تھی دوسرے ملکوں کی خارجہ پالیسی کی تو اس وقت سب کو پتہ ہے کہ سعودی عرب امریکا کے ساتھ کھڑا ہے، یواے ای امریکا کے ساتھ کھڑا ہے،برطانیہ، فرانس جرمنی، بلکہ پورا یورپ امریکا کے ساتھ کھڑا ہے، اور پھر سب کو علم ہے کہ روس ، چین اور ترکی ایک گروپ میں ہیں،،،پھر سب کو یہ بھی علم ہے کہ شمالی کوریا چین کے ساتھ اور امریکا مخالف ہے۔۔۔ جبکہ اس کے برعکس نہ تو ہماری آج تک کسی کو سمجھ آئی ہے کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں اور نہ ہی ایران کی سمجھ آئی ہے کہ اُس نے کس گروپ کو جوائن کر رکھا تھا،،، اور اگر چین روس والے گروپ کو جوائن کیا ہوا تھا تو وہ اس وقت کہاں ہیں؟ اور پھر ہماری خارجہ پالیسی کا حال دیکھیں، ہم سب کے ساتھ کھڑے بھی ہیں اور نہیں بھی کھڑے،،،یعنی اگر ہم نے چین کے ساتھ کھڑے ہونا ہے تو پھر چین کو بھی یہ محسوس کروائیں کہ ہم بھی صرف اُس کے ساتھ کھڑے ہیں،،، مثلاََ سی پیک کو شروع ہوئے 10سال ہونے کو ہیں،،، مگر مجال ہے کہ ابھی تک وہ تکمیل کے مراحل میں داخل ہوا ہو، کبھی ہم اُسے امریکا کے کہنے پر بند کردیتے ہیں، کبھی Slowکر دیتے ہیں تو کبھی چین کو یقین دہانیاں کرواتے نہیں تھکتے کہ آپ ہمارے بھائی ہیں،،، ہماری مجبوریاں سمجھیں وغیرہ وغیرہ اب اگر ایران میں رجیم چینج ہو گیا تو ویسے ہی سی پیک کی ویلیو کم ہو جائے گی،،، اس لیے ہم نے اسکی بھی پیشگی تیاری نہیں کی رکھی۔ پھر ہم نے گوادر پورٹ منصوبہ شروع تو کر لیا، مگر اپنے دوست ملک یو اے ای کو اس حوالے سے اعتماد میں لینا ہی گوارہ نہیں کیا، تبھی وہ اندر کھاتے ہم سے ناراض رہتا ہے،،، اور یہ بات بالکل سیدھی سی ہے کہ جیسے ہی گوادر پورٹ مکمل آپریشنل ہوگیا تو یواے ای پورٹ کی ویلیو کم ہو جائے گی،،، اس لیے کیسے ممکن ہے کہ یوا ے ای آپ کے ساتھ مخلص رہے،،،ا ور آپ کو دیے ہوئے دو ارب ڈالر کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے؟ حالانکہ وہ ایک ”برادر اسلامی ملک “ ہے۔ اس لیے تو میں یہ بات کہتا ہوں کہ بھائی ! کہیں کوئی مذہبی گیم نہیں ہے، سب ایک دوسرے کے ساتھ مفادات کی وجہ سے جڑے ہوئے ہیں، اگر مفادات نہیں ہیں تو سب ایک دوسرے سے جدا ہیں،،، آپ آج گوادر پورٹ بند کر دیں،،، بلوچستان میں آدھی سے زائد دہشت گردی ختم ہو جائے گی، یہی یواے ای دل سے آپ کو پسند کرے گا،،، اور آپ کی ہر بات پر لبیک کہے گا،،، پھر ہمیں ہمسایہ ممالک کے ساتھ خارجہ پالیسی کی آج تک سمجھ نہیں آئی کبھی ہم امریکا کو ناراض کرنے کے لیے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ کر لیتے ہیں، اور ایران اپنے حصے کی گیس پائپ لائن بچھا بھی دیتا ہے، لیکن ہم اُس معاہدے سے بھاگ جاتے ہیں،، کہ امریکا نہیں مان رہا! بھئی امریکا نہیں مان رہا تھا تو معاہدہ شروع ہی کیوں کروایا گیا؟ لہٰذاجو ڈنگ ٹپاﺅ خارجہ پالیسی اختیار کرے گا، یا جو ملک ڈبل گیم خارجہ پالیسی چلائے گا ، دنیا میں وہ یقینا تنہا رہ جائے گا،،، اور جگہ جگہ سے آپ پر طنزکے نشتر چلائے جائیں گے،،، جیسے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پچھلے دور میں کہا تھا کہ امریکہ نے گزشتہ 15 برسوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر سے زیادہ امداد دی، لیکن اس کے بدلے میں ہمیں “جھوٹ اور دھوکا” ملا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے اُن دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں دیں جنہیں امریکہ افغانستان میں تلاش کر رہا تھا۔پھر ہم اچھے برے طالبان بنانے کا الزام لگا، پھر ہم پر طالبان حامی ہونے کا الزام لگا،،، اب وہی طالبان ہم پر ہر روز دہشت گرد مسلط کر رہے ہیں، پھر ہماری غلط خارجہ پالیسی ہی کی بدولت 9/11کے بعد ہمارے ایک لاکھ لوگ شہید ہو چکے ہیں، ابھی بھی روز ہمارے فوجی شہید ہورہے ہیں،،، لہٰذاہمیں چاہیے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کومستقل بنیادوں پر استوار کریں، ”فرد واحد“ کو بیچ میں سے نکال دیں، کیوں کہ اب تک ہماری خارجہ پالیسی فرد واحد کے گرد گھومتی رہی ہے، جس کی وجہ سے ہم مسائل کا شکار ہوتے رہیں،،، جبکہ ہماری اسمبلیاں محض مراعات لینے کے لیے ہیں،، ہماری سینیٹ وغیرہ کو بھی دیکھ لیں،،، کہ وہاں صرف تنخواہوں اور مراعات کی باتیں ہوتی ہیں،،، مجال ہے، کوئی قانون سازی عمل میں لائی جاتی ہو،،، صرف اوپر سے ایک فون آئے تو قانون سازی عمل لائی جاتی ہے،،، مجال ہے کہ پھر اُس پر کوئی اعتراض کرے۔ بہرکیف یہ خارجہ پالیسی ہے، اس کی اہمیت وزیراعظم کے عہدے جتنی ہوتی ہے،،، اس کو مکمل بحث و مباحثے کے بعد چلائیں، اگر کمپنی کی طرح چلائیں گے تو پھر یقینا رسوا ءہی ہوں گے،،، ملک چلانے اور کمپنیاں چلانے میں فرق ہوتا ہے،،، اس لیے اس پر غور کریں تاکہ دنیا بھر میں آپ کی عزت افزائی ہو، آپ کی رسوائی نہ ہو، اور یہ چیزیں بھی ترک کر دیں کہ ہر کسی کے ساتھ آپ کچھ نہ کچھ لینے کے چکر میں ہوتے ہیں تو پھر ایسی صورت میں آپ کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ بلکہ میرے خیال میں ہمیں انڈیا کے ساتھ بھی اب اپنی خارجہ پالیسی کو درست سمت میں چلانے کی کوشش کرنی چاہیے،،، کیوں کہ اس سے ہمیں اربوں ڈالر کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں،،، بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ پاکستان بننے کے فوراََ بعد ہمیں انڈیا کے ساتھ تمام معاملات سلجھاﺅ کی طرف لے جانے چاہیے تھے،،، تاکہ ہم ایک اچھے ہمسائے کی طرح رہتے،،، نہ کہہ دنیا کے بدترین ہمسایوں کی طرح! لہٰذمیں پھر یہی کہوں گا کہ ہمیں اس وقت اپنی خارجہ پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے،،، خارجہ پالیسی صرف چند افراد کے بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ایک جامع قومی بحث ضروری ہے تاکہ قوم کو معلوم ہو کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ایران پر جاری حملے وقتی واقعہ نہیں؛ یہ پورے خطے کی جغرافیائی سیاست کو بدل سکتے ہیں۔ اگر جنگ پھیلتی ہے تو اس کے اثرات براہِ راست پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں،توانائی کے بحران سے لے کر سرحدی سکیورٹی تک۔ ایسے میں خاموش تماشائی بنے رہنا دانشمندی نہیں۔پاکستان کو ایک واضح پیغام دینا ہوگا: ہم کسی بھی ملک کی خودمختاری کے خلاف کارروائی کی مخالفت کرتے ہیں، اور خطے میں طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمیں عملی اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم محض بیاناتی ریاست نہیں بلکہ ایک ذمہ دار علاقائی قوت ہیں۔یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اگر پاکستان نے اب بھی جرات مندانہ، متوازن اور فعال خارجہ پالیسی اختیار نہ کی تو ہم ایک بار پھر تاریخ کے حاشیے پر کھڑے رہ جائیں گے، جہاں فیصلے دوسروں کے ہوں گے اور اثرات ہمیں بھگتنا پڑیں گے!