آخر کب تک پاکستان ”پولیس اسٹیٹ“ رہے گا؟

”ہمیں بھارت بھیج دیں، وہ ہمیں ماریں گے،،، لیکن کم از کم ہم سے ہماری چھت نہیں چھینیں گے! اگر NOCنہیں تھا تو سڑکیں کیوں بنائیں؟ بجلی ، پانی وغیرہ کے کنکشنز کیوں دیے گئے؟“ ہم یہاں 1960سے رہ رہے ہیں،اُس وقت اسلام آباد دارلحکومت بھی نہیں بنا تھا،لیکن بعد اگر بن گیا ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ “ ”دنیا میں ہم صرف دو بہنیں ہیں، ہمارے پاس نہ والدین ہیں اور نہ بھائی۔ ہم نے اپنی کم تنخواہوں سے محنت کر کے گھر بنایا تھا، لیکن سی ڈی اے نے وہ بھی گرا دیا۔میر ی تنخواہ 25ہزار اور میری بہن کی 20ہزار روپے ہے،،، اب ہم کہاں گھر بنائیں اور کیسے بنائیں؟ “ ” ہمیں تو اجاڑ کر رکھ دیا گیا، ہمارا کوئی سہارا نہیں“ یہ الفاظ صرف چند افراد کے نہیں بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے ہیں،،، جو پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے ساتھ ملحقہ ایک بستی نور پور شاہاں(بری امام) کے بے گھر باسی ہیں،،، جن کے گھر گزشتہ ہفتے سی ڈی اے ، پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے گرا دیے ہیں،،، بستی کے مکینوں کے بقول اُنہیں نہ ہی کوئی نوٹس ملا اور نہ ہی کوئی سرکاری ادارہ اُنہیں مطلع کرنے آیا،،، بلکہ علی الصبح ہی بستی میں ایک ہزار پولیس والے بھاری مشینری کے ساتھ داخل ہوئے اور تمام گھروں کو گرا دیا گیا،،، حتی ٰ کہ مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے ایک حاملہ خاتون کو بالوں سے گھسیٹ کر اسکے گھر سے نکالا اور اس حاملہ خاتون نے پولیس اہلکاروں کے سامنے سڑک پر بچے کو جنم دیا،،، الغرض یہ آپریشن اس وقت ایک انسانی المیے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جہاں ایک طرف ریاست اپنی زمین واگزار کرانے کا دعویٰ کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف دہائیوں سے آباد خاندان کھلے آسمان تلے آنے پر مجبور ہیں۔ ان مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں سنبھلنے کا موقع تک نہیں دیا گیا اور اچانک بھاری مشینری کے ذریعے گھر مسمار کر دیے گئے۔جبکہ متاثرہ خواتین کی آہ و پکار دل چیر دینے والی ہے۔ اس آپریشن کے دوران سی ڈی اے کی دو گاڑیاں بھی نذر آتش ہوئیں اور بدلے میں دارالحکومت کی پولیس نے 250افراد پر مقدمہ بھی درج کر لیا اور اب الحمد اللہ ان نامعلوم ڈھائی سو افراد کی گرفتاری کے لیے جگہ جگہ چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں،،، یہاں اب سوال یہ ہے کہ یہ آبادی 1960ءسے یہاں آباد ہے،،،اگر ان کے گھر اسلام آباد میں آگئے ہےں تو ان کی غلطی نہیں ہے ،،، اس لیے یہاں کے لوگوں کو زبردستی ان کے گھروں سے باہر نکال کر اور ان کے سامان کو باہر نکال کر پھینکنا اور ان کے گھروں کو گرانا بدترین ریاستی دہشت گردی نہیں ہے؟ اور پھر اگر ریاست نے یہاں آپریشن کرنا ہی تھا تو کیا ریاست کا یہ کام نہیں بنتا کہ ان شہریوں کو چھت فراہم کرے جن سے اُن کا گھر چھینا گیا ہے،،، چلیں مان لیا کہ یہاں کے رہائشی غیر قانونی طور پر ایک عرصے سے قابض تھے،،، تو کیا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متبادل رہائش فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں تھی؟ کیا قانون صرف غریب کی بستی تک محدود ہے؟میں یہ نہیں کہہ رہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن نہیں ہونا چاہیے،،، لیکن تجاوزات کے نام پر سی ڈی اے ، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے وغیرہ نے جو لوٹ مار مچائی ہوئی ہے،،، اسے کون دیکھے گا؟ اور پھر تجاوزات کا خاتمہ قانونی ضرورت ہو سکتا ہے، لیکن انسانیت کو ملبے تلے دبانا ، کیا یہ درست اقدام ہے؟ ۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ آپریشن سے پہلے ان خاندانوں کی آبادکاری کا کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے لاتی ،،، پھر یہ آپریشن بھی کر لیتی۔ بہرحال میرے ملک میں اسوقت ایسے ایسے شاہی کارنامے سامنے آرہے ہیں کہ خدا کی پناہ ۔اورویسے تو پاکستان کا دارالخلافہ بننے سے پہلے اسلام آباد بری امام کی درگاہ کی وجہ سے جانا جاتا تھا، ان کے ماننے والے ان کو بری سرکار بھی کہتے ہیں، جب اسلام آباد بنا تو شاعری بھی ہوئی کہ آپ خود تو صدیوں سے سرکار تھے ہی جو آپ کے ہمسائے میں آکے بسے وہ بھی ”سرکار“ بن گئے۔لیکن اس مذکورہ آپریشن کے بعد دراصل ،،، حقیقی سرکار ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ یہاں پر اصلی اور واحد سرکار کون سی ہے۔ اس لیے بری امام بھی سوچتے ہونگے میرے ہمسائے میں کیسی سرکار آکر بسی ہے جو دنیا کی بڑی جنگیں تو رکوا رہی ہے لیکن اپنے ہی شہریوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا رہی ہے۔ اور پھر یہ کسی ایک بستی کا واقعہ نہیں ہے، بلکہ وطن عزیز کو ہر طرح سے ہارڈ اسٹیٹ بنا کر رکھ دیا گیا ہے،،، حد تو یہ ہے کہ یہ خواتین کا بھی لحاظ نہیں کرتے،،، حالانکہ جنرل ضیاءالحق کے جبری دور میں جب پیپلزپارٹی پر ظلم کی تاریخ رقم ہوا کرتی تھی تو اُس وقت بھی خواتین کو کچھ نہیں کہا جاتا تھا، بلکہ چادر اور چار دیواری کا خیال رکھا جاتا تھا،،، اُس وقت اسپیشل آرڈرز تھے کہ آپ بغیر کسی لیڈی کانسٹیبل کے کسی کے گھر چھاپہ نہیں ماریں گے،،، مجھے یاد ہے جنرل ضیاءکے دور میں ہمارے گاﺅں میں بھی اکثر پولیس سیاسی کارکنوں کو تلاش کرتے ہوئے اُن کے گھروں میں چھاپے مارتی تھی،،، مگر مجال ہے کہ پولیس کانسٹیبل کے بغیر وہ کسی کے گھر داخل ہوجائیں،،، لیکن اب تو ان کا ظلم ہی خواتین سے شروع ہوتا ہے،،، کوئی ملزم پکڑا نہیں جا رہا تو اُس کے بوڑھے والدین کو اُٹھا لاتے ہیں،،، کوئی سیاسی کارکن نہیں پکڑا جا رہا تو اُس کی بیوی حتیٰ کہ بچوں کو تھانوں میں لا کر بند کر دیتے ہیں،،، یعنی جتنا اختیار پولیس کو دے دیا گیا ہے، آنے والے دنوں میں ریاست اُتنا ہی تنگ ہوگی،،، کیوں کہ پھر یہی پولیس والے اپنی من مرضیاں جب تھوپنا شروع کردیں گے تو پھر بات ہاتھ سے نکل جائے گی،،، بلکہ کافی حد تک نکل بھی چکی ہے،،، ہمارے سابقہ آئی جی پنجاب کے دور میں تو ظلم کے پہاڑ ٹوٹ گئے تھے،،، اور پھر جب وہ حال ہی میں تبدیل ہوئے تو کہا جا رہا تھا کہ اب شاید حالات بہتری کی طرف جائیں گے مگر ،،، پولیس کو جو عادتیں پڑ گئی ہیں،، کیا وہ جلدی جائیں گی؟ آپ یقین مانیں کہ لوگوں سے پولیس کے ظلم کی ایسی ایسی داستانیں سنتے ہیں کہ ایک دفعہ تو سر چکرا جاتا ہے،،، ہر ہر بندہ ان کے رویے سے پریشان ہے،،، 8بجے دکانیں بند کرنے کے احکامات ہوں یا جرمانے وغیرہ کرنے کے ،،، پولیس کے رویے سے تنگ آکر اب تک کاروباری حضرات بھی خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں،،، کہا جاتا ہے کہ بھئی کفایت شعاری مہم جاری ہے،،، لیکن حد تو یہ ہے کہ ان عقل کے اندھوں نے صرف عوام کو بے وقوف بنانا ہے،،، جب کہ اس کے بدلے ان کی اپنی عیاشیاں پورے عروج پر ہیں،،، بلکہ میرا ایک ملازم مجھے بتا رہا تھا کہ وہ گھر کی چھت پر تھا کہ نیچے پولیس آگئی ،،، مجھے بلایا گیا،، میں نیچے آیا تو پولیس نے میرا ہاتھ ایسے” تھاما“ جیسے میں دہشت گرد ہوں،،، میں نے پوچھا حضور! ہوا کیا ہے،،، انہوں نے مجھ پر الزام لگایا کہ آپ چھت پر پتنگ اُڑا رہے تھے،،، میں نے کہا ،،، خدا کا نام لیں ! مجھے تو پتنگ اُڑانی بھی نہیں آتی،،، میں نے اُن سے کہا آپ میرے گھر کی تلاشی لے لیں،،، اگر آپ کو کچھ مل جائے تو میں جرم دار ہوں،،، مگر انہوں نے میری ایک نہ سنی اور تھانے لے گئے،،، مطلب! آپ ان پبلک آفسز میں چلے جائیں ،،، تھانہ ہو،، کچہری ہو، یا کوئی بھی سرکاری آفس ہو،،، غریب اور بے بس عوام کی ایسی ایسی کہانیاں سنیں گے کہ آپ کا دل سرکار کو کروڑ کروڑ گالیاں دینے کو چاہے گا،،، ان کودیکھتے ہوئے تو مجھے تاریخ میں گزرے مغل بادشاہ یاد آتے ہیں،،، جو غریبوں کی محبت کا مذاق اُڑایا کرتے تھے،،، بلکہ شاہ جہاں شاہ جہاں کے پہلے شاہکار،تاج محل پر تو شعرا نے لفظی حملے بھی کیے مگر وہ کمال کے ڈھیٹ تھے،،، اور ڈھٹائی سے عیاشیاں کرتے رہے،،، اسی تاج محل پر ”تاج محل“ کے عنوان سے ترقی پسند ساحر لدھیانوی نے طبقاتی نظریات کا یہ ڈرون چلایا۔ یہ چمن زار، یہ جمنا کا کنارا، یہ محل یہ منقّش در و دیوار، یہ محراب، یہ طاق اِک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر ہم غریبوں کی محبت کا اُڑایا ہے مذاق خیر مغل بادشاہوں کے زمانے تو چلے گئے، جو اپنے دور کے غریبوں کی محبت کا مذاق اُڑایا کرتے تھے مگر اُن کی جگہ اب شغلیہ بادشاہوں نے لے لی ہے۔ جو محبت کے بجائے سیدھے سیدھے غریبوں کا مذاق اُ±ڑاتے ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے عوام کی زندگی اجیرن کررہے ہیں جس کا تازہ ثبوت آپ کے سامنے ہے،،، الغرض ہمارے ادارے قوم کو ایران کی جنگ میں اُلجھا کر عوام کا بھرکس نکال رہے ہیں،،، اور حدتو یہ ہے کہ کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے،،، کسی نے صحیح کہا تھا کہ پاکستان میں رہنا ”ہائی رسک“ ہے،،، کیوں کہ یہاں کی عدالتیں، پولیس، سرکاری ادارے، میڈیا سبھی ایک طاقت کے گرد گھومتے ہیں،،، اور وہ طاقت اتنی طاقتور ہے کہ وہ کچھ بھی کر سکتی ہے،،، اس لیے میری حکمرانوں سے دست بستہ گزارش ہے کہ اس ہائی رسک کو کم کریں اور کم از کم Lowرسک پر لے آئیں تاکہ ہم اور ہمارا پاکستان بچ جائے ،،، ورنہ کچھ نہیں بچے گا!