سمندروں پر قبضے کی جنگ!

اگر آپ کو کبھی بحری جہاز پر سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ یقینا سمندر کی وسعتوں سے ضرورواقف ہوں گے، ،، کہ کئی کئی دن آپ بغیر خشک جگہ دیکھے پانی پر سفر کر رہے ہوتے ہیں ،،، اور سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آخر اللہ کے بعدان سمندروں کا مالک کون ہے،،، ویسے تو ان سمندروں پر اُجارہ داری قائم کرنے کے لیے کئی ایک جنگیں ہوئی ہیں، جن کا بعد میں ذکر کروں گا،،، مگر اب بھی امریکا، چین اور روس سمندروں پر قبضے اور اپنی گرپ رکھنے کے لیے پر تولتے رہتے ہیں،،، جبکہ آپ ان سمندروں کی اہمیت کا اندازہ لگائیں کہ صرف آبنائے ہرمز بند ہونے سے دنیا کی سانسیں رُک گئی ہیں،،، اس حوالے سے امریکی ناکہ بندی اپنی جگہ مگر یورپی و نیٹو ممالک اپنی جگہ پر ایک بڑی بیٹھک کا انتظام کر رہے ہیں جس میں تمام ممالک آبنائے ہرمز کھلوانے کے حوالے سے فیصلہ کریں گے،،، آگے چلنے سے پہلے سمندروں کے حوالے سے سرسری جائزہ لینا چاہوں گا کہ جس طرح آپ کے علم میں ہے کہ زمین کی اوپری سطح اس وقت کم و بیش 30فیصد خشکی اور 70فیصد پانی پر مشتمل ہے،،، جسے مجموعی طور پر عالمی سمندر کہا جاتا ہے۔ یہی سمندر دنیا کے موسم، تجارت، خوراک اور ماحولیاتی نظام کا بنیادی ستون ہیں۔ جغرافیائی طور پر سمندروں کو عموماً پانچ بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے،،، بحرالکاہل(Pacific Ocean)، بحر اوقیانوس(Atlantic Ocean)، بحرہند(Indian Ocean)، بحر منجمد(Southern Sea)، بحر منجمد شمالی(Arctic Ocean) ۔ جہاں تک کنٹرول کا تعلق ہے تو کوئی ایک ملک کسی پورے سمندر کا مالک نہیں ہوتا، بلکہ اقوام متحدہ کے قوانین (خصوصاً سمندری قانون) کے تحت ہر ساحلی ملک کو اپنے ساحل سے تقریباً 200 ناٹیکل میل (تقریباََ1.8کلومیٹر) تک خصوصی معاشی زون (EEZ) حاصل ہوتا ہے، جبکہ اس سے آگے کا حصہ ”بین الاقوامی پانی“ کہلاتا ہے جہاں تمام ممالک کو جہاز رانی اور وسائل کے استعمال کی آزادی ہوتی ہے۔ تاہم بڑی بحری طاقتیں جیسےامریکا، ،چین، اورروس اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف سمندری علاقوں میں اثر و رسوخ رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے بعض خطوں میں کشیدگی بھی دیکھی جاتی ہے۔ تبھی ان پانیوں پر اپنی اُجارہ داری قائم کرنے کے لیے کئی بڑی جنگیں لڑی گئی ہیں،،، جن میں ہم بڑی اور فیصلہ کن جنگوں کی بات کریں تو تقریباً 8 سے 12 بڑی عالمی نوعیت کی جنگیں ایسی رہی ہیں جن کا براہِ راست تعلق بحری طاقت سے تھا۔مثلاً قدیم دور میں ”جنگ سلامی“ ایک اہم بحری جنگ تھی جس میں یونانیوں نے فارسیوں کو شکست دے کر سمندری برتری حاصل کی۔ اسی طرح 16ویں صدی میں”جنگ لپانتو“(Battle of Lepanto)نے بحیرہ روم میں طاقت کا توازن بدل دیا۔یہ اُس دور کی دو سپر پاورز کی بحری جنگ تھی،،، جو آج کے دور کی عکاسی کرتی ہے،،، اُس وقت یعنی 1571ءمیں یونان کی سمندری حدود میں سلطنت عثمانیہ اور ”ہولی لیگ“( یہ عیسائی طاقتوں کا مذہبی و فوجی اتحاد تھا، جس میں سپین مرکزی کردار ادا کر رہا تھا، جبکہ اٹلی اور وینس اہم رُکن تھے) کے بحری بیڑوں کے درمیان یہ جنگ لڑی گئی۔وینس شہر اس زمانے میں ایک طاقتور بحری طاقت تھا اس جنگ کی وجہ سلطنت عثمانیہ کا بحیرہ روم میں بڑھتی ہوئی سمندری طاقت کو روکنا تھا ،،، اُس وقت عیسائی بحری بیڑے کی قیادت اسپین کے بادشاہ کا بھائی کر رہا تھا ، جو آسٹریا کا حکمران تھا ،،، جبکہ دوسری جانب عثمانی بیڑے کی قیادت تجربہ کار جرنیل علی پاشا کر رہا تھا،،، عثمانی بحری بیڑے میں زیادہ بحری جہاز تھے جبکہہولی لیگ کے بحری بیڑے میں اگرچہ کم بحری جہاز تھے لیکن وہ بڑی اچھی طرح ہتھیاروں ،توپوں سے لیس تھے ،،،، کافی گھنٹوں کی سخت لڑائی کے بعدہولی لیگ کو فتح حاصل ہوئی ، جس کے بعد عثمانی بحری بیڑے کے زیادہ تر بحری جہاز غرق ہو گئے جبکہ ہولی لیگ کا نقصان کم ہوا۔ اس جنگ میں شکست کے باوجود سلطنت عثمانیہ کی یورپ کی طرف پیش قدمی مکمل طور پر رک نہ پائی لیکن اس کا یورپ کو یہ فائدہ ضرور ہوا کہ سلطنت عثمانیہ کے ناقابل شکست ہونے کا ڈر ختم ہو گیا، اور جنوبی یورپی ساحل عثمانی بحریہ کے حملوں سے محفوظ ہو گئے،،، لیکن اگر عثمانی جنگ جیت جاتے تو بحیرہ روم پر ان کا مکمل کنٹرول ہو جاتا۔پھر جدید تاریخ میں جنگ ٹریفالگر ایک فیصلہ کن معرکہ تھا، جس میں برطانیہ نے فرانس اور اسپین کو شکست دے کر دنیا کی سب سے بڑی بحری طاقت ہونے کا درجہ حاصل کیا۔ پھر اس کے بعد پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بھی سمندروں پر کنٹرول انتہائی اہم رہا، خاص طور پر بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل میں۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران ”جنگ مڈوے“ ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی، جس میں امریکا نے جاپان کی بحری طاقت کو بڑا نقصان پہنچایا اور بحرالکاہل میں برتری حاصل کی۔ پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد ایسا نہیں ہے کہ ان جنگوں کا سلسلہ رُک گیا بلکہ اسی آبنائے ہرمز میں جہاں کشیدگی اس وقت مرکز کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، وہاں پر امریکا اور ایران کے درمیان 38سال پہلے 1988ءمیں بھی مڈبھیڑ ہو چکی ہے،،، یعنی اپریل 1988 میں امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس سموئیل بی رابرٹس ایک ایرانی بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا تھا، جس سے جہاز کو شدید نقصان پہنچا اور وہ تقریباً تباہ ہو گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد امریکا نے آپریشن پریئنگ مینٹس کے نام سے ایک بڑی بحری کارروائی شروع کی، جس میں ایرانی بحری تنصیبات اور جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور اسے ایران کے خلاف سب سے بڑی بحری کارروائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس واقعے نے ایک اہم سبق دیا کہ بارودی سرنگیں صرف عسکری ہتھیار نہیں بلکہ ایک نفسیاتی ہتھیار بھی ہیں، جو عالمی تجارت کو بغیر مکمل جنگ کے بھی مفلوج کر سکتی ہیں۔ ایک سرنگ یا اس کی افواہ ہی جہازوں کے راستے بدلنے، انشورنس کے اخراجات بڑھانے اور عالمی منڈیوں کو ہلا دینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ آج کی صورتحال میں یہی پرانا سبق دوبارہ سامنے آ رہا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری خطرات، ممکنہ بارودی سرنگوں، ڈرونز اور میزائلوں کے خدشات نے عالمی شپنگ کو غیر یقینی میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت سب سے بڑا خطرہ صرف حملہ نہیں بلکہ ”خطرے کا امکان“ ہے، جو تجارتی جہازوں اور انشورنس کمپنیوں کو فیصلہ کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔اس وقت امریکہ کا مو¿قف ہے کہ وہ جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا چاہتا ہے اور ایران کو عالمی تجارت کو یرغمال بنانے سے روک رہا ہے۔ اسی لیے امریکی بحریہ نے اس خطے میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے اور ممکنہ طور پر بحری قافلوں کی حفاظت کے لیے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جغرافیائی حق اور خود مختاری کا دفاع کر رہا ہے اور امریکہ خطے میں اپنی طاقت مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے پاس آبنائے ہرمز ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر موجود ہے، جسے وہ دباو¿ کے آلے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔حالیہ عالمی ردعمل اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ یورپی ممالک محتاط ہیں اور کھلی فوجی حمایت سے گریز کر رہے ہیں، جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس بار 1988 جیسی واضح برتری حاصل نہیں، کیونکہ اب خطرات زیادہ پیچیدہ اور کثیر جہتی ہو چکے ہیں۔جبکہ بارودی سرنگوں کا خطرہ آج بھی ویسا ہی ہے جیسا 1988 میں تھا، بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے باعث یہ مزید خطرناک ہو گیا ہے۔ امریکی بحری جہاز، چاہے جدید کیوں نہ ہوں، اب بھی اس خطرے کے سامنے مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھے جاتے۔دراصل حقیقت یہ ہے کہ ان کشیدگیوں کے بعد دنیا بھر کے سمندروں کے آبی راستے عالمی طاقتوں کے درمیان ایک اسٹریٹجک امتحان بن چکے ہےں۔ 1988 نے دنیا کو سکھایا تھا کہ سمندر میں جنگ صرف توپوں سے نہیں بلکہ اعتماد سے جیتی جاتی ہے۔ آج سوال وہی ہے، مگر حالات کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ کیا اس بار بھی طاقت فیصلہ کرے گی، یا آخرکار سفارت کاری ہی اس سمندر کو دوبارہ کھولے گی؟ بہرحال ہم بچپن سے یہ باتیں سنتے آئے ہیں کہ اگلی عالمی جنگیں پانی پر ہوں گی،،، اور ہم انہیں آج دیکھ بھی رہے ہیں،،، اور پھر سمندروں میں صرف یہی راستہ نہیں کہ جس کے بند ہونے سے دنیا کی معیشت رُک گئی ہے،،، بلکہ ایسے بہت سے راستے ہیں جن کے بند ہونے سے دنیا کی سانسیں بند ہو جائیں گی،،، جیسے اگر باب المندب بند ہو جائے تو تجارت رک جائے گی، اور اگر دونوں خاموش ہو جائیں تو دنیا کا شور بھی خاموش ہو جائے گا، جیسے کسی نے اچانک وقت کی گھڑی روک دی ہو۔ مگر ایک اور راستہ بھی ہے۔جو نظر نہیں آتا۔سمندر کے نیچے بچھا ہوا، باریک تاروں کی صورت میں، فائبر آپٹک کیبلز۔جن میں دنیا کی آواز دوڑتی ہے، جیسے رگوں میں خون۔ ایک بزرگ کہا کرتے تھے”سب سے مضبوط چیز وہ ہوتی ہے جو نظر نہ آئے۔“یہ کیبلز بھی ویسی ہی ہیں۔خاموش مگر طاقتور۔اگر یہ کٹ جائیں تو صرف انٹرنیٹ بند نہیں ہوگا، انسان ایک دوسرے سے کٹ جائیں گے، بینک خاموش ہو جائیں گے، جہاز راستہ بھول جائیں گے، اور شاید انسان کو دوبارہ لفظوں کو کاغذ پر لکھ کر بھیجنا پڑے گا، جیسے وہ اپنی ہی رفتار سے شرمندہ ہو گیا ہو۔ ہم ایک عجیب دنیا میں رہتے ہیں۔ہمیں لگتا ہے ہم نے سب کچھ قابو میں کر لیا ہے، ہم مضبوط ہیں، ہم ترقی یافتہ ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ہماری پوری تہذیب چند باریک راستوں پر کھڑی ہے۔چند کلومیٹر چوڑی گزرگاہیں، چند نادیدہ تاریں، چند بے چین لہریں۔اور ہم ان سب کو نظرانداز کر کے خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ ایک کہاوت ہے”جب پہاڑ ہلتے ہیں تو آواز آتی ہے، مگر جب سمندر بدلتا ہے تو دنیا بدل جاتی ہے“ آج سمندر بدل رہے ہیں۔وہ خاموش نہیں ہیں، وہ بول رہے ہیں۔اور ان کی زبان میں ایک ہی پیغام ہے’جو انہیں سمجھ لے گا، وہی کل کو سمجھ پائے گا‘۔ شاید یہی ”سمندری راستوں کی جنگ“ کا اصل مطلب ہے۔یہ جنگ توپوں اور میزائلوں کی نہیں، یہ جنگ راستوں کی ہے، کنٹرول کی ہے، اس بات کی ہے کہ دنیا کی نبض کس کے ہاتھ میں ہوگی۔کیونکہ آخرکار، دنیا ہمیشہ ا±ن کے ہاتھ میں رہی ہے جو پانی کے بہاﺅ کو روکنا نہیں، بلکہ سمجھنا جانتے ہیں!