امریکا ہمیشہ مذاکرات کی آڑ میں ”گیم“ کھیلتا ہے!

ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ پاکستان نے ایران امریکا مذاکرات کی کامیاب میزبانی کی۔ چہ جائے اس کے کہ مذاکرات بے نتیجہ رہے اور بغیر کسی ایک نکتے پر پہنچے دونوں فریقین بخیر و عافیت اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے،،، یعنی اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس صبح چھ بجے کے قریب مختصر سی پریس کانفرنس کے بعد اسلام آباد سے واپس امریکہ روانہ ہو گئے۔(حالانکہ اُن کا دورہ 48گھنٹے کا تھا،،، لیکن وہ ابھی 24گھنٹے بھی نہ پورے ہوئے تھے کہ امریکا واپسی کے لیے روانہ ہوگئے۔ ) اور چند گھنٹوں بعد سہ پہر میں ایرانی وفد کو بھی پاکستان نے بحفاظت ایران پہنچایا۔اب سوال یہ ہے کہ مذاکرات کتنے فیصد کامیاب رہے اور کتنے فیصد ناکام،،، تو اس سے پہلے امریکی نائب صدر کی مختصر پریس کانفرنس کا احوال جانیے کہ انہوں نے کہا ”وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کا شکریہ! ان کی طرف سے کوئی کمی نہیں تھی‘ وہ ہماری مدد کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے 21 گھنٹے مذاکرات کیے لیکن مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے‘ یہ امریکہ سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران واضح اور ٹھوس یقین دہانی کرائے کہ وہ کبھی بھی جوہری بم نہیں بنائے گا۔ ایک دو سال کی نہیں ‘ لمبی مدت کی یقین دہانی! ہم نے اپنی سیدھی سی حتمی بات ایرانیوں کو بتا دی ہے، اب ان پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں“۔ایرانی وفد کا بھی کچھ ایسا ہی کہنا تھا کہ” مذاکرات کو مکمل ناکام نہیں کہا جا سکتا ،،، لہٰذا،امریکا اپنا ”آقائی“ Behaviourتبدیل کرکے بات کرے گا تو مثبت نتائج نکلیں گے،انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اور جوہری توانائی جیسے معاملات حل ہونا باقی ہیں،،، مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں،،، یعنی اس فضا میں یہ توقع کسی کو نہیں تھی کہ محض ایک نشست میں مذاکرات نتیجہ خیز ہو جائیں گے“۔ ویسے اُمید یہی رکھنی چاہیے کہ یہ مسائل مذاکرات کے دوسرے دور میں حل ہو جائیںگے،،، کیوں کہ ویسے بھی 5دہائیوں بعد براہ راست دونوں فریقین ایک میز پر بیٹھے ہیں تو یقینا چٹکی میں کوئی معاہدہ نہیں ہونا تھا، اس کے لیے تھوڑا وقت بھی لگ سکتا ہے،،، اور پھر تاریخ کا مطالعہ کر لیں کہ ان ممالک کے درمیان پچھلا معاہدہ ہونے میں بھی دو سال کا عرصہ لگ گیا تھا،،، یعنی اوباما کے دور (2015)میں ایران اور امریکا سمیت بڑی عالمی طاقتوں (برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین) کے درمیان ایک اہم ایٹمی معاہدہ JCPOAطے پایا جسے ”جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن“ کہا جاتا ہے ،اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور بین الاقوامی نگرانی قبول کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ اس کے بدلے میں اس پر عائد معاشی پابندیوں میں نرمی کی گئی۔ لیکن یہ معاہدہ زیادہ دیر نہ چل سکا اور 3سال بعد ہی صدر ٹرمپ کے پہلے دور (2018) میں امریکا نے یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو اس معاہدے سے نکال لیا تھا،،،(تبھی تو آج برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، روس اور چین،،، ایران کے خلاف امریکا کے ساتھ کھڑے ہونے سے اجتناب کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ امریکا پر ایران کے حوالے سے کسی قسم کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا)۔ بہرحال اگر امریکا پر دیگر عالمی طاقتیں ایران کے حوالے سے اعتبار نہیں کرتیں تو میری ذاتی رائے یہ ہے کہ امریکا آج کے دور میں ’مذاکرات‘ کے لیے بنا ہی نہیں ہے، کیوں کہ وہ طاقت کے نشے میں اس قدر مست ہے کہ اُسے بات چیت کرنا اس قدر اہم لگتا ہی نہیں ہے۔ نہیں یقین تو حالیہ تاریخ میں آپ خود دیکھ لیں کہ اُس نے کب کب مذاکرات کا ڈھونگ رچا کرکئی کمزور ملکوں پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ آپ افغان جنگ 2001ءکو دیکھ لیں،،، امریکا نے افغانستان میں جنگ شروع کرنے سے پہلے کچھ حد تک مذاکرات اور سفارتی رابطے کیے تھے، لیکن وہ بہت مختصر اور ناکام رہے۔یعنی امریکا نے 9/11کے بعد افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اُسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کردے، اس حوالے سے مذاکرات جاری تھے، اور افغان حکومت کہہ رہی تھی کہ ہمیں اُسامہ بن لادن کے حوالے سے ثبوت فراہم کیے جائیں،،، لیکن امریکا نے طالبان کی شرائط کو مسترد کر دیا اور کہا کہ مزید وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا،،، اور ساتھ ہی اکتوبر 2001 میں امریکا نے افغان وار شروع کر دی۔پھر آپ 2003ءمیں عراق جنگ کو دیکھ لیں،،، اُس وقت بھی یعنی جنگ سے پہلے مذاکراتی عمل چل رہا تھا،،، اور عراق مبینہ طور پر رکھے ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کے حوالے سے انسپیکشن ٹیموں کو ملک میں آنے کی دعوت بھی دے رہا تھا،،، بلکہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی تلاشی لینے کے لیے ٹیمیں بھی عراق روانہ کیں،،،جنہوں نے مختلف مقامات کا معائنہ کیا۔الغرض اس حوالے سے صدام حسین نے مکمل تعاون کیا لیکن امریکا کو ”شبہ “ ہوا کہ عراق مکمل تعاون نہیں کر رہا اور کچھ چیزیں چھپا رہا ہے۔حالانکہ اُس وقت فرانس اور جرمنی عراق کے ساتھ تھے،،، لیکن مذاکرات کے دوران ہی ”امریکا بہادر“ نے حملہ کرکے سب کچھ تہس نہس کر دیا، صدام حسین کو مار دیا، رجیم چینج کر دیا،،، اور ساتھ ہی عراق کے تیل پر قبضہ کر لیا ، جو آج بھی برقرار ہے۔ پھر یہی نہیں بلکہ لیبیا میں بھی عرب بہار کے موقع پر کرنل قذافی کے ساتھ جو کچھ کیاگیا وہ بھی سب کے سامنے ہے،،، امریکا نے 2011ءمیں لیبیا کے ساتھ مذاکرات کیے، کہ وہ مظاہرین پر طاقت کا استعمال نہ کرے،،، اور سیاسی حل کی طرف آئے،،،لیبیا کے حکمرانوں نے اس پر لبیک کہا اور کچھ افریقی اور عرب ممالک کی ثالثی کے بعد مذاکرات شروع ہی ہوئے تھے کہ امریکا نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے قرار داد 1973ءکی منظوری لی ،،، جس کے بعد امریکا کی سربراہی میں NATOنے فضائی حملے شروع کر دیے ،،، اور پھر کہاں کے مذاکرات اور کہاں کی باتیں،،، الغرض آپ کے سامنے مصر کی بھی مثال ہے، جہاں رجیم چینج میں براہ راست امریکا ملوث رہا اور سب کے علم میں یہ بات ہے کہ یہ سب کچھ اسرائیلی ایما پر کیا گیا۔ پھر وینزویلا کی تازہ مثال آپ کے سامنے ہے جہاں مذاکرات کے دوران ہی وہاں کے صدر کو اُن کی اہلیہ سمیت اغواءکر لیا گیا۔ پھر ”شام“ کو دیکھ لیں جہاں امریکی ایما پر رجیم چینج کیا گیا ،،، اور آج وہاں امریکا نواز حکومت قائم و دائم ہے۔ مطلب! امریکا نے آج تک کونسے مذاکرات کامیاب ہونے دیے ہیں،،، جو یہ کامیاب ہونے تھے،،، بادی النظر میں اُس نے ایران کے آبنائے ہرمز پر قبضہ کرنا ہی کرنا ہے،،، اُس نے ایران سے اپنی 90فیصد شرائط منوانی ہی منوانی ہے،،، اُس نے ایران کے تیل کی ناکہ بندی کرنی ہی کرنی ہے، ،،اُس کے اپنے ملک کے حالات ٹھیک ہیں، یعنی اُس کے پاس تیل وگیس وافر مقدار میں موجود ہے، اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایران جنگ سے اُس کو فرق نہیں پڑنے والا۔ اگر فرق پڑے گا تو ہم جیسے غریب ملکوں کوپڑے گا، جن کے پاس پہلے ہی زرمبادلہ کے ذخائر گنے چنے رہ گئے ہیں،،، اور یہاں کے عوام بھی اچھا خاصا پس رہے ہیں اور رہی بات ایران کی تو نہ جانے حالات بگڑنے اور مذاکرات کی مکمل ناکامی اور جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران نے کیا حفاظتی اقدامات کیے ہوئے ہیں،،، مگر یہ بات درست ہے کہ اُس نے اگر لچک نہ دکھائی تو یقینا مشکل میں پھنس سکتا ہے،،، اور اسی امریکا کی وجہ سے راقم نے پچھلے کالم ”مذاکرات امریکا کے لیے ڈھونگ ہے“ میں کہا تھا کہ جیسے بھی ہو سکتا ہے ایران زیادہ سے زیادہ لچک دکھائے اور امریکا کو مذاکرات میں قطعی طور پر بھاگنے نہ دے۔ جبکہ مزید لکھا تھا کہ ”میرے خیال ایران کو چاہیے کہ مذاکرات کی طرف آئے کیوں کہ وہ کبھی بھی امریکا کا مقابلہ نہیں کر سکے گا،،، ہاں البتہ وہ اسرائیل کا مقابلہ ضرور کر سکتا ہے، مگر وہ امریکا کے سامنے کسی صورت بھی ٹک نہیں سکتا۔ اور نہ ہی ایران کے ہتھیار اتنے مضبوط ہیں کہ وہ براہ راست امریکا کو نشانہ بنا سکیں،،، اُس کے ہتھیار تو یورپین ممالک تک نہیں وار کر سکتے ،،، جبکہ امریکا تو اُس سے دس ہزار کلومیٹر دور ہے،،، اس لیے امریکا اور ایران کا کوئی مقابلہ نہیں ہے،،، “ لیکن اب چونکہ امریکا مذاکرات سے بھاگ گیا ہے تو علم نہیں اب کیا ہوتا ہے،،، مگر حالات یہ بتا رہے ہیں کہ تادم تحریر ،،، چین ، روس ، ترکی بھی اس جنگ میں حصہ ڈالنے کے لیے بیان داغ رہے ہیں جبکہ امریکا سمندروں پر اپنی حکمرانی قائم کرنے کے لیے ناکہ بندیاں کر رہا ہے،،، ناکہ بندیوں سے مراد یہ ہے کہ جہاں جہاں بھی ایران بحری جہاز نظر آئیں گے، اُنہیں روک کر قبضے میں لیا جائے گا،،، یا اُنہیں واپس بھیجا جائے گا،،، ایسا کرنے سے یقینا عالمی منڈی پر اس کے اثرات پڑیں گے اور پٹرولیم مصنوعات غریب کی پہنچ سے مزید دور ہو جائیں گی۔ اور یہ امریکا کے لیے نہیں بلکہ ہمارے جیسے ملکوں کے لیے بہت برا ہوگا،،، اس لیے مذاکرات کو کامیاب کروانے کے لیے سب کو مل کر کوششیں کرنی چاہیے،،، اور پاکستان کو ایران کو اس بات پر قائل کرنا چاہیے کہ اس جنگ بندی معاہدے میں جو مل رہا ہے وہ لے لے،،، یعنی اگر ایران کو اُس کے غیر ملکی منجمد اکاﺅنٹس کی مد میں اربوں ڈالر مل رہے ہیں تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے،،، اس لیے پاکستان اس مذاکراتی عمل کے تسلسل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے۔ دوسرا یہ کہ اسی طرح عربوں اور ایران کو بھی ایک میز پر بٹھائے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے یہ ناگزیر ہے۔ پاکستان اس کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر پاکستان یہ کر گزرتا ہے تو اس کی عزت میں مزید اضافہ ہو گا۔ اصل کردار مگر امریکہ اور ایران کا ہے۔ اس وقت ایران کے معاملات جن ہاتھوں میں ہیں‘ وہ حالات کا بہتر ادراک رکھتے ہیں۔ یہ 'اصلاح پسند‘ہیں اور اس قیادت کا جھکاﺅ جنگ سے زیادہ امن کی طرف دکھائی دیتا ہے۔ یہی ایران کی ضرورت بھی ہے۔