عوام راج تحریک : فیصلہ کرنے والوں کی نئی ”غلطی“ !

پاکستانی سیاست میں جب بھی کوئی نئی سیاسی جماعت جنم لیتی ہے تو پہلا سوال اس کے منشور، نظریے یا قیادت سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ “اس کے پیچھے کون ہے؟”اقرار الحسن کی جانب سے قائم کی گئی عوام راج تحریک بھی اسی روایت کی نذر ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آیا یہ جماعت فیصلہ کرنے والوں کی طرف سے شروع کی گئی ہے یا نہیں۔ یہ سوال محض بدگمانی نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی تجربات کا منطقی نتیجہ ہے۔ ماضی میں کئی جماعتیں اور تحریکیں ”عوامی نعرے“ کے ساتھ سامنے آئیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کے ریاستی سرپرستی میں ہونے کے شواہد بھی سامنے آتے رہے۔ اسی پس منظر میں عوام راج تحریک کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔اس پر شک اس لیے بھی کیا جا رہا ہے کہ جب جب مقتدرہ کو ضرورت آن پڑی ،،، اُس نے بغیر ہچکچاہٹ کے یا تو سیاسی جماعتوں کو لانچ کیا یا ان کے قائدین کو توڑا اور نیا سیاسی دھڑا تشکیل دیا یا سب سے اہم ہر دور میں کسی کو ”لانچ“ کر دیا تاکہ وہ اپنا کام سرعت کے ساتھ نکلواتے رہیں،،، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں شریف خاندان کو 1985ءکے غیر جماعتی الیکشن کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا اور مسلم لیگ ن کی بنیاد رکھی گئی ،،، جس نے بے نظیر اور پیپلزپارٹی کو خاصا ٹف ٹائم دیا،،،اور بالآخر محترمہ بے نظیر بھٹو کو مقتدرہ کے ساتھ ہاتھ ملا کر ن لیگ کو بھی اقتدار سے الگ کرنا پڑا،،، اور پھر یہ سلسلہ یوں چل نکلا کہ انہی دونوں سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا جاتا رہا،،، لیکن جب مشرف کی ڈکٹیٹر شپ میں دونوں جماعتوں نے اتحاد کر لیا اور ”میثاق جمہوریت“ کر لیا تو یہ لوگ پریشان ہوگئے، کہ اب ہماری کیسے چلے گی،،، اس اثناءمیں اُس وقت کی مقبول ترین شخصیت عمران خان پر ”انویسٹمنٹ“ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا،،، اس لیے انہوں نے عمران خان کی مقبولیت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُسے کیش کیا ،،، اور ایک ایماندار شخصیت کو عوام کے سامنے پیش کیا،،، اور اُس کی مکمل مہم اس طرح چلائی کہ وہ ووٹر جو ووٹ نہیں ڈالتاتھا،،، اُسے اس پر راضی کیا گیا کہ اگر پاکستان کو بچانا ہے،،، اور ان دونوں پارٹیوں سے جان چھڑانی ہے تو عمران خان کو ووٹ ڈالو،،، اسی غرض سے انہوں نے آرمی افسران کی فیملیز کو قائل کیا کہ ہم آپ کے لیے ایک نجات دہندہ کے طور پر عمران خان کو لے کر آئے ہیں،،، لیکن چونکہ ان کا ہر انتخاب ہی غلط ہوتا ہے، اور ان کی کسی کے ساتھ نہیں بنتی ،،، اس لیے خان صاحب سے بھی بگڑ گئی،،، خیر اس پر تو بعد میں بات کریں گے،،، لیکن ماضی کے دریچوں میں جھانک کر دیکھیں تو حقیقت آشکار ہوتی خود نظر آتی ہے کہ یہ بھٹو کو اقتدار میں لے کر آئے،،تو اُس کے ساتھ بھی ان کی نہیں بنی،،، لہٰذانتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے اُسے پھانسی پر چڑھا دیا،،، پھر نواز شریف کو یہ لے کر آئے اور آخر کا نواز شریف نے جلسے جلوس نکالے اور کہا کہ ”ووٹ کو عزت دو“،، پھر بے نظیر کے لیے انہوں نے تحریک چلائیں ،،، لیکن اُن کے ساتھ بھی نہیں بنی،،، پھر چوہدری پرویز الٰہی کو یہ خود لے کرآئے لیکن آخر میں پرویز الٰہی نے ان کی منشاءکے برعکس خان صاحب سے قطع تعلقی کا رد کیا،،، جس کے بعد پرویز الٰہی کے ساتھ بھی ان کی نہیں بنی،،، پھر میر ظفر اللہ خان جمالی اور جونیجو تک کے ساتھ ان کی نہیں بنی،،، پھر جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ انہوں نے عمران خان کو قائل کیا کہ یہ دونوں پارٹیاں چونکہ کرپٹ ہیں،،، خان صاحب کو اس حوالے سے بہت سی اندر کی باتیں بتائیں گئیں،،، حقائق بتائے گئے،،، کہ کون کون کتنا کرپٹ ہے،،، اسی بنیاد پر تحریک انصاف نے مہم چلائی اور 2018ءمیں حکومت بنا ڈالی ،،، پھر ایک چھوٹی سی بات پر ان کی بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ بگڑی،،، اور ویسے بھی یہ بگڑنی ہی بگڑنی تھی،،، کیوں کہ عوام میں مقبول لیڈر کی یہ آخری حد تک کوشش ہوتی ہے کہ وہ عوامی فیصلے کرے،،، عوام کو ریلیف دے، عوام کے لیے پیکج دے، عوامی پراجیکٹ بنائے،،، مگر اُسے کیا علم کے اُس کے سامنے بڑی رکاوٹ کون ہیں،،، لہٰذااب یہ لے آئے ہیں اقرارالحسن کو ،،، جس کے بارے میں اُمید تو نہیں کی جاسکتی،،، کہ یہ ہٹ کر سکے،،، کیوں کہ اس کے پیچھے کوئی زیادہ فتوحات تو نہیں ہیں،،، اس کی وجہ شہرت کرائم رپورٹنگ، رمضان ٹراسمیشن وغیرہ ہے،،، اور یہ شخص پہلے ہی تنازعات سے بھرا ہوا ہے،،، لہٰذااب اسے اگلے پانچ سات سال اس کو ہٹ لگانے کی کوشش کی جائے گی،، اُس پر قوم کو پیسہ خرچ کریں گے،،، پھر ان کی کسی چھوٹی سی بات پر بگڑ جائے گی،،، لہٰذاپھر یہ اقرار الحسن بھی غدار قرار پائے گا،،، اس لیے ہم یہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ آنے والے چند سالوں میں ملکی بساط پر ایک اور غدار کا اضافہ ہونے والا ہے،،، لیکن افسوس اس بات کا بھی ہے کہ یہ تجربے سے سیکھتے کیوں نہیں ہیں؟ ناکام پر ناکام تجربہ کرکے نہ جانے یہ اس حد تک کیوں چلے جاتے ہیں کہ اپنی اربوں روپے کی ”انویسٹمنٹ“ بھی نہیں دیکھتے۔ اس لیے میرے خیال میں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ لوگ بجائے اس کے کہ نئے سیاستدان بنائیں،،، اُنہیں مارکیٹ میں لانچ کرنے کے پیسے خرچ کریں،،، انہیں چاہیے کہ سیاستدانوں کے ساتھ مل کر ایک نیا فارمولا مرتب کر لیں،،، اور سیاستدانوں کے ساتھ مل کر ایک ”حد“ کا تعین کر لیں،،، کہ فلاں فلاں چیز ہمارے لیے اس کا سیاستدانوں اور عوامی لیڈرز کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے،،، جیسے آپ دفاع اور خارجہ پالیسی کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا کام ہوگا،، باقی چیزوں میں سیاستدانوں کو فری ہینڈ ہے،،، لیکن اس کے برعکس اگر یہ ساری چیزوں میں مداخلت کریں گے تو پھر کسی جگہ پر تو سیاستدان بھی آخر کار اُکتا جائیں گے،،، بغاوت کریں گے کہ آخر وہ بھی عوامی لیڈرز ہیں،،، اُن کے ساتھ زیادتی نہیں کی جانی چاہیے،،، اور پھر جب اغلے کوشش میں ہوں گے،،، ہر محکمے کا سربراہ اُن کا ہو ،،، یا ہر کاروبار ہم کریں گے تو سوال یہ ہے کہ باقی 25کروڑ عوام کیا کرے گی؟ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ سیاستدانوں کے ساتھ مل کر تسلی سے یہ فارمولا طے کر لیں کہ آپ کی یہ لمٹ ہے ،،، اور ہماری یہ لمٹ ہے،،، اور اس کو اعلانیہ عوام میں پھیلانے کی ضرورت بھی نہیں ہے،،، بلکہ ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے،،، آپ یہ نہ سمجھیں کہ پینٹا گون کی کہیں مرضی نہیں چلتی،،، بلکہ اُس کا اثر و رسوخ بھی ویسا ہی ہے جیسا ہمارے اداروں کا ہے،،، لیکن اُنہوں نے اپنی حدود مقرر کی ہوئی ہیں،،، اس لیے وہاں پر مسائل پیدا نہیں ہوتے،،، بلکہ ہمسایہ ملک بھارت میں بھی ایسا ہی ہے ، وہاں فوج، عدلیہ، مقننہ اور سیاستدان ایک دوسرے کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کرتے ،،، وہاں فوج کا کردار سب سے زیادہ واضح اور محدود نظر آتا ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک بھارتی فوج نے خود کو سیاست سے دور رکھا ہے۔ نہ کبھی مارشل لا لگا، نہ ہی فوج نے براہِ راست اقتدار سنبھالنے کی کوشش کی۔ دفاعی اور سلامتی کے معاملات میں فوج کی رائے کو اہمیت ضرور دی جاتی ہے، مگر حتمی فیصلہ منتخب حکومت ہی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں فوج ایک طاقتور مگر تابع ادارہ سمجھی جاتی ہے، حاکم نہیں۔ پھر وہاں پر عدلیہ اور مقننہ میں بھی کشیدگی نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتی ہے،،، عدلیہ اور سیاستدانوں میں زیادہ بگاڑ نہیں دیکھا جاتا،،، ہاں کہیں کہیں عدلیہ کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،،، مگر اس کے باوجود عدالتی فیصلوں کو مانا جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اداروں کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔مقننہ اور ایگزیکٹو کا تعلق بھارت میں قدرے مختلف ہے۔ چونکہ حکومت پارلیمنٹ میں اکثریت کے بل بوتے پر قائم ہوتی ہے، اس لیے قانون سازی میں ایگزیکٹو کا اثر نمایاں رہتا ہے۔ مضبوط حکومت کے دور میں پارلیمنٹ اکثر مہرِ تصدیق بن جاتی ہے، جو جمہوری کمزوری تو ہے، مگر ادارہ جاتی مداخلت نہیں۔لہٰذامجموعی طور پر بھارت میں ادارے ایک دوسرے کے کام میںکم ہی دخل دیتے ہیں،،، لہٰذااس کے برعکس اگر کسی شہر میں ایس ایس پی لگانے کے لیے بھی آپ کی اجازت درکار ہوگی تو پھر کام نہیں چلے گا،،، اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے جب کسی افسر کو تعینا ت کرتے ہیں،،، تو جتنی بھی انوسٹی گیشن کرنی ہے ، آپ اُس وقت کر لیا کریں،،، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ جب افسر گریڈ 22پر پہنچ جائے تو اُس وقت آپ اُس کی ڈگریاں چیک کروائیں اور پکڑ پکڑ کر سزائیں سنائیں،،، اُس سے آپ کی جگ ہنسائی ہوتی ہے،،، الغرض یہ وہ چیزیں ہیں کہ جس سے فیصلہ کرنے والے بھی ایکسپوز ہو رہے ہیں،،، اور حالیہ فیصلہ بھی اسی قسم کا ہے،،، بہرکیف بات ہو رہی تھی اقرار الحسن کی پارٹی”عوام راج تحریک“ کی تو دلچسپ بات یہ ہے کہ عوام راج تحریک کا بیانیہ مکمل ادارہ مخالف نہیں۔ یہ تحریک ریاستی ڈھانچے کو گرانے کے بجائے اسے ”درست“ کرنے کی بات کرتی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہی وہ حد ہے جہاں پاکستان میں قابلِ قبول سیاست ختم اور ”خطرناک سیاست“ شروع ہوتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یا مخالفت کا تعین نعروں سے نہیں بلکہ عملی سیاست سے ہوتا ہے۔ اگر یہ جماعت طاقتور حلقوں کے سامنے کھڑی ہوتی ہے، عوامی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرتی اور سیاسی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہتی ہے تو وقت خود ثابت کر دے گا کہ یہ ایک حقیقی عوامی تحریک ہے۔فی الحال عوام راج تحریک کو اسٹیبلشمنٹ کا پراجیکٹ قرار دیاجا رہا ہے،،، جو پاکستان اور ہمارے عوام کے لیے ایک اچھا شگون نہیں ہے،،، اس لیے خدارا فیصلے کرنے والے ہوش کے ناخن لیں اور عوامی پیسہ کسی بہتر جگہ پر صرف کریں!