وائرل ویڈیو: سماج کے منہ پر طمانچہ!

اس وقت پورا ملک وائرل ہونے والی فحش ویڈیو میں سے ایک ہی نام پکا ر رہا ہے،،، اُس نام کا ذکر میں شاید اس کالم میں نہ کر سکوں، کیوں کہ کالم یا تحریر میں ہم نے اخلاقیات کا دامن بھی تھامے رکھنا ہوتا ہے،،، اور معاشرے کی اصلاح بھی کرنا ہوتی ہے،،، لیکن یہاں لوگ اصلاح کا پہلو برائے نام لیتے ہیں،،، جبکہ اس کے برعکس مذاق، دھونس، لذت یا کسی کی ذاتی زندگی میں گھسنے کے عمل کو تفریح سمجھتے ہیں،،، اگر میں اس ویڈیو کی بات کروں تو میرے خیال میں یہ ہمارے سماج کے منہ پر ایک طمانچہ ہے،،، طمانچہ اس پوائنٹ آف ویو سے بھی کہہ رہا ہوں کہ ہم بسا اوقات Natureسے جنگ کرتے ہیں،، اختلاف کرتے اور کوشش کرتے ہیں کہ اُس کے خلاف چلیں،،، لیکن Natureہمیشہ اپنا آپ ضرور دکھاتی ہے،،، یعنی وہ پلٹ کر آپ کو ضرور جواب دیتی ہے،،، اس کی مثال یوں لے لیں کہ جیسے آپ موسموں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں،،، صنعتیں لگاتے رہتے ہیں،،، نئی نئی گاڑیاں سڑکوں پر چھوڑ رہے ہوتے ہیں ،،، درخت کاٹ کر سوسائیٹیاں بنا رہے ہوتے ہیں،،، لیکن اس کے بدلے میں ہم درخت لگانے کی زحمت ہی نہیں کرتے،،، جس کی وجہ سے کلاﺅڈ برسٹ پیدا ہوتا ہے،، جو گاﺅں کے گاﺅں بہا کر لے جاتا ہے،،، اور ہم اسے قدرت کا کیا دھرا کہتے ہیں ،،، لیکن انسانی غلطیوں کی کبھی نشاندہی نہیں کرتے۔۔۔ اسی طرح ہم جنسی عمل کو مصنوعی انداز میں روک کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت بڑا کام کیا ہے،،، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا،،، بلکہ آپ Natureکے اُلٹ چلنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ خیر بات مذکورہ ویڈیو کی ہو رہی تھی تو یقین مانیں کہ یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر لوگ اس مقام پر کیوں پہنچ جاتے ہیں؟،،، جب ہمارے معاشرے میں ہر بھائی اپنے لیے خوبصورت لڑکی چاہتا ہے، ہر باپ اپنے بیٹے کے لیے خوبصورت بہو چاہتا ہے، ہر ماں ”چاند“ جیسی بہو چاہتی ہے،،، تو دوسری طرف اپنی ہی بیٹیوں کو بوجھ کیوںسمجھا جاتا ہے،،، اُن کی خواہشات کا،اُس کی ذاتی پسند نا پسندکا احترام کیوں نہیں کیا جاتا؟،،، اگر اس ویڈیو کے مطابق اُس خاتون کے جذبات کا، احساسات کاخیال کیا جاتا تو ہمارے کلچر کی اتنی جگ ہنسائی کبھی نہ ہوتی،،، میں سمجھتا ہوں کہ یہ شرمندگی اُس لڑکی کے لیے یا خاندان کے لیے نہیں ہے،،، بلکہ یہ باتیں ہمارے کلچر کے لیے باعث شرمندگی ہیں۔۔۔ کیوں کہ ہم عمومی طور پر آج بھی اپنی بیٹیوں سے شادی کے متعلق اُن کی پسند اور ناپسند کا نہیں پوچھتے،،، ہمارے معاشرے کے بہت سے والدین تو محض اسے ایک ”فرض“ سمجھ کر پورا کرتے ہیں،،، اور معذرت کے ساتھ جان چھڑاتے ہیں،،، وہ بیٹی کو پہلے دن سے ہی لاحاصل عضو سمجھتے ہیں،،، اور جتنی جلدی ہو سکے،،، پرائے گھر میں بھیج دیتے ہیں،،، وہاں وہ دوتین سال میں دو تین بچے پیدا کرتی ہے،،، اُس کی کمر میںزچگی کے دوران تکلیف دہ انجیکشن لگتے ہیں،،، جس سے وہ ”نیم اپاہج“ ہو جاتی ہے،،، اور ساری زندگی کی محتاجی کاٹتی ہے،،، اور چھوٹی عمر میں ہی گھر کی چار دیواری میں دھنس جاتی ہے،،، اُس کے سارے خواب چکنا چور ہوجاتے ہیں اور پھر اسی ویڈیو والی خاتون کی طرح اپنے خاندان والوں کو اپنے گھر والوں کو کوستی رہتی ہے،،، جبکہ اس کے برعکس والدین اپنے بیٹے کی شادی کے لیے اتنی جلدی نہیں کرتے،،، وہ سوچ سمجھ کر ، دیکھ سن کر، ہر لحاظ سے پرکھ کر رشتے کرتے ہیں،،،کبھی آپ ایسا نہیں دیکھیں گے،، کہ لڑکے نے اپنے لیے بدصورت ترین لڑکی کا انتخاب کیا ہو،،، یا شاید ایسا فلموں میں ہی دیکھا گیا ہے کہ اپنے لیے اپنے سے غریب لڑکی کا انتخاب کیا گیا ہو،،، بلکہ لڑکے کے لیے تو اُن کی مائیں بسا اوقات کھلا آپشن بھی رکھتی ہیں کہ اگر وہ اپنی بیوی کو پسند نہیں کر رہا تو اُسے طلاق دے اور اگلے ہی لمحے اُس کے لیے نیا رشتہ بھی طلاش کر لیتی ہے،،، لیکن جیسے ہی بیٹی کے گھر سے خبر آئے کہ وہ وہاں پر خوش نہیں ہے،،، تو باپ ، ماں، بھائی سبھی گھر والے لڑکی کے ارد گرد بیٹھ کر اُسے سمجھاتے ہیں کہ وہیں اُس کا مرنا جینا لکھ دیا گیا ہے،،، اور پھر کچھ دن بعد خبر آتی ہے،،، کہ لڑکی سسرالیوں کے ہاتھوں تشدد سے ہلاک،،، یا لڑکی نے خود کشی کر لی،،، یا کسی حادثے کا شکار ہوگئی،،، کیا یہ ہمارے معاشرے کا المیہ نہیں؟ بہرحال سوال یہ ہے کہ انسانی فطرت کیا ہے؟ کیا مرد اور عورت کی Feelingsمختلف ہیں؟ کیا دونوں کی ضروریات مختلف ہیں؟ اور پھر کیا جنسی عمل کائنات کی سچائی نہیں ہے؟ کیا اس دھرتی پر موجود ہر چرند پرند، پانی میں رہنے والا،،، خشکی پر رہنے والا،،، الغرض ہر جاندار جنسی عمل سے نہیں گزرتا؟ جو زمین کی گہرائیوں میں موجود ہے وہ بھی اس عمل سے گزرتا ہے،،، اور جو آسمان کی بلندیوں پر بسیرا کرتا ہے،،، وہ بھی اسی عمل سے گزرتا ہے،،، اگر یہ سب باتیں آپ مان رہے ہیں تو کیا ہم خواتین کی فیلنگز کو دبا سکتے ہیں؟ اگر ہم دبائیں گے تو پھر کیا وہ دوسرا راستہ اختیار نہیں کریں گی؟ راستے سے یاد آیا کہ ہمارے ہاں یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بھائی کو بہن کے حوالے سے غیرت تو بہت آتی ہے،،، وہ اُسے غیرت کے نام پر قتل بھی کردیتا ہے،،، لیکن بہن نے آج تک بھائی کو غیرت کے نام پر قتل نہیں کیا،،، یا تو آپ بہن کو بھی یہ حق دے دیں کہ وہ بھی غیرت کے نام پر بھائی کے لیے پنچایت بلا لے،،، اور بھائی کو بھی سنگسار کیا جائے،،، بالکل اُسی طرح جس طرح بہن کو قتل کیا جاتا ہے،،، ابھی حال ہی میں مانسہرہ کا واقعہ کس کو بھولا ہے،،، جس میں پسند کی شادی کرنے والی ایک خاتون کو جس کا شوہر سعودی عرب میں بہتر روز گار کے لیے گیا تھا ،،، لڑکی کی ماں اپنی بیٹی کو مانسہرہ بلاتی ہے،،، جبکہ اُس کی گود میں ایک ننھی پری بھی ہوتی ہے،،، تو اُسے گھر بلا کر ماں بیٹی کو صرف اس لیے قتل کردیا جاتا ہے کہ اس نے چند سال پہلے پسند کی شادی کی تھی،،، بہرحال بات کسی اور طرف نکل جائے گی،،، لیکن میں یہی کہوں گا کہ خدارا اپنے بچوں کی فیلنگز کو سمجھیں،،، اُنہیں اُن کے مطابق ٹریٹ کریں،،، اور ویسے بھی آجکل شادیوں کا موسم ہے، الحمدللہ، یہ ایک ایسی صنعت ہے جسے اندیشہ زوال نہیں اور نہ مستقبل میں زوال آنے کا امکان ہے، لیکن اتنی بڑی صنعت بغیر رہنما اصولوں کے چل رہی ہے، یعنی شادیاں تو دھڑادھڑ ہو رہی ہیں مگر جوڑے زیادہ تر اَٹکل پچّو سے ہی بنائے جا رہے ہیں۔ دو خاندان ملتے ہیں، ایک دوسرے کا حسب و نسب، ذات پات دیکھتے ہیں، دولت و منصب کا اندازہ لگاتے ہیں اور اگر لڑکی ڈکوٹا جانسن اور لڑکا بریڈلے کوپر ہو تو شادی ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ خال خال ہی ہوتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی آپس میں مل کر وہ باتیں طے کر لیں جو اُنکے مستقبل کے تعلقات کا تعین کرتی ہوں۔ لڑکے کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی میں گُن اصغری بیگم والے ہوں اور ادائیں وہ فلمی ہیروئن کی طرح دکھائے جبکہ لڑکی کہتی ہے کہ خاندان چھوٹا ہو، نند ایک سے زیادہ نہ ہو اور ساس قبر میں ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ یہ تمام خواہشات اپنی جگہ جائز ہی ہوں گی مگر کیا شادی کرتے ہوئے (یا کوئی بھی تعلق بناتے ہوئے) ایک دوسرے کے بارے میں کچھ ایسی باتیں جاننا زیادہ ضروری نہیں جو آگے چل کر تعلق کو مضبوط یا کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہوں؟ ایسے ممکنہ سوالات کی فہرست بنائی جا سکتی ہے جو لڑکے لڑکی کو ایک دوسرے سے پوچھنے چاہئیں ۔ گوروں نے اِس کام کیلئے ایک بڑا اچھا لفظ ایجاد کیا ہے ’Red Flag‘ یعنی آپ کچھ ایسی حدود و قیود بنا لیں جن کی خلاف ورزی کی صورت میں آپ کے دماغ میں سرخ بتّی جل اٹھے اور آپ چوکنّے ہو جائیں۔ مثلاً عورتوں کو کمتر سمجھنے والا لڑکا ریڈ فلیگ ہے، اُس سے شادی نہ کریں ورنہ وہ آپ کی زندگی اجیرن کر دے گا، ایک چھوٹی سی نشانی اِس کی یہ ہے کہ وہ گھر کے کام کاج کو صرف عورت کی ذمہ داری سمجھتا ہو اور خود کو مغل شہزادہ۔ دوسری طرف اگر ایک لڑکی یہ سمجھتی ہو کہ شادی کے بعد اُس کا شوہر محض ’اے ٹی ایم‘ ہوگا جس کا کام صرف فرمائشیں پوری کرنا ہوگا، تو یہ بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ باقی رہی بات اُس ویڈیو کی تو میرے خیال میں لڑکے کا تھانہ کچہری سے پتا کروانے کی بجائے کسی اچھے ڈاکٹر سے اُس کا بلڈ گروپ اور جینیاتی ٹیسٹ کروا لیں، کردار کا کیا ہے، وہ تو حالات کے ساتھ بدلتا رہتا ہے، مگر ڈی این اے (DNA) میں لکھی ہوئی تحریر کبھی نہیں بدلتی۔ بہرکیف اس قسم کی وائرل چیزوں کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہم اچھی خاصی ویلی قوم ہیں،،، کہ ہم نے مذکورہ وائرل ویڈیو پر ہی 50لاکھ سے زائد ویڈیوز بنا لی ہیں،،، مطلب! یہاں سے ثابت ہو رہا ہے کہ واقعی اس قوم کو بے روزگار کردیا گیا ہے،،، ورنہ مصروف اور کام کرنے والی قوموں کے پاس تو اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ ان چیزوں میں اپنے آپ کو اُلجھائیں،،، لہٰذامیرے خیال میں ہمیں اپنے ہونہار طلبا ءکو اسلامیات کے ساتھ ساتھ ”اخلاقیات“ بھی پڑھانی چاہیے،،، تاکہ وہ بڑا ہو کر ماں کو ماں ،،، بیٹی کو بیٹی اور بہن کو بہن سمجھے اور اُس کی ضروریات کا بھی اُتنا ہی خیال رکھے جتنا وہ اپنی بیوی کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے،،، تبھی ہم معاشرے کا ایک اہم حصہ بن سکتے ہیں ،،، ورنہ ہم یوں ہی معاشرے میں لڑکھڑاتے رہیں گے،،، اور اس قسم کی ویڈیوز پر لطف و اندوز ہوتے رہیں گے،،، جو دراصل لطف واندوز ہونے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں آئینہ دکھانے لیے کافی ہوتی ہیں!