”پرویز الٰہی کا پنجاب“


جس طرح ماضی میں جاتی عمرہ، بلاول ہاﺅس، چوہدری ہاﺅس، گیلانی ہاﺅس اور زیرو پوائنٹ حکومت سازی کے لیے مرکز نگاہ رہے، اسی طرح آج کل بنی گالہ میں توڑ جوڑ کا عمل جاری ہے۔ اور رپورٹس کے مطابق مرکز کے بعد پنجاب میں تحریک انصاف نے حکومت سازی کے لیے ممبرز پورے کر لیے ہیں جس کے بعد ملک کے دو صوبوں اور مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت ہوگی۔ اس حوالے سے تادم تحریر پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے مرکزی رہنما و سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا نام سپیکر پنجاب اسمبلی یا وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے منتخب کیا جا رہا ہے۔ جو یقینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر دور میں مسلم لیگ ق کی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ ق خواہ جتنی بھی سیٹیں حاصل کرلے وہ ”ضرورت“ بن جاتی ہے۔ اس بار بھی تحریک انصاف نے پنجاب میں تجربہ کارشخصیت پرویز الٰہی کو پنجاب میں اہم ذمہ داریاں دینے کا اعلان کیا ہے۔اس بار چوہدری پرویز الٰہی نے گجرات کے حلقہ پی پی 30سے نویں دفعہ مسلسل ایم پی اے منتخب ہو کر ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس کے ساتھ وہ گجرات اور چکوال سے ایم این اے بھی منتخب ہوئے ہیں جسے جلد ہی وہ چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 

 

چوہدری پرویز الٰہی 2002ءسے 2007ءتک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ ان کے دور حکومت میں بہت سے اچھے اقدام ہوئے، جنہیں ہماری آنے والی حکومتوں نے جاری نہیں رکھا۔ کیوں کہ ہمارے ہاں یہ روایت رہی ہے کہ پچھلی حکومت کا جتنا بھی اچھا کام کیوں نہ ہو اسے محض اس لیے تکمیل نہیں بخشی جاتی کہ اُس پر پچھلی حکومت کی تختی لگی ہوتی ہے۔ اگرہمارے سیاستدانوں کے اندر یہ بغض، منافقت اور آمرانہ رویہ ختم ہو جائے تو یہ عوام بھی خوشحالی کے دن دیکھ سکتی ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب کے وزیر اعلی کے طور پر جو کام سرانجام دیئے وہ قابل تعریف ہیں۔یہ تمام باتیں لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جو بھی نیا وزیر اعلیٰ بنے اُسے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے پانچ سالہ دور حکومت کو ضرور دیکھنا چاہیے، اُس کے پراجیکٹس کو ضرور دیکھنا چاہیے اور تعلیم یافتہ پنجاب اور 2020ءکے وژن کو آگے بڑھانا چاہیے تاکہ شہبازشریف کے کاسمیٹکس پراجیکٹس کی بجائے عوام حقیقی پراجیکٹس سے استفادہ حاصل کرسکیں۔ 

 

پرویزا لٰہی نے جن شعبوں میں کارکردگی دکھائی وہ خالصتاََ غریب پرور اور عام لوگوں کی بھلائی کے کام تھے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ 2007ءمیں پرویز الٰہی دورکے آخری سال میں پنجاب کے ہر شہری کی زبان پر ”پرویز الٰہی کا پنجاب“ جیسے الفاظ ہوا کرتے تھے۔ کیوں کہ انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر خاطر خواہ کام کیا۔صرف لاہور شہر کے گنگا رام ہسپتال، سروسز ہسپتال، جنرل ہسپتال، میو ہسپتال اور جناح ہسپتال میں ایمر جنسی کے شعبے جدید خطوط پر تعمیر کروائے گئے ا ور میو ہسپتال میںتو ایم ایس لاﺅڈ سپیکرپر اعلان کیا کرتا تھا کہ کوئی شخص ایمر جنسی میں آئے تو دوائی باہر سے نہ لائے ، اسے ہر دوائی ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے فراہم کی جائے گی۔ سروسز ہسپتال میں تو ایک نیا بلاک بھی کھڑا کیا، اور وزیرآباد جیسے دور دراز کے قصبے میں دل کا ہسپتال شروع کیا جسے دوسروں نے روک دیا۔ 

 

ملتان میں پرویز الٰہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈ یالوجی کا 30کروڑ کا سالانہ بجٹ مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے 2008ءسے 2013ءکے درمیان بتدریج کم کرتے ہوئے 10کروڑ روپے سالانہ کر دیا۔ امراض قلب کا یہ ہسپتال جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنوں کے ساتھ خیبر پختونخوا کے ڈیرہ اسماعیل خان ، ٹانک اور بنوں ، جبکہ بلوچستان کے ڑوب لورالائی اور ملحقہ علاقوں کے ساتھ سند ھ کے ان علاقوں کے مریضوں کا بوجھ بھی اُٹھا ئے ہوئے ہے جو جنوبی پنجاب سے ملحقہ ہیں۔ لوگوں کے احتجاج کے باوجودہ اس ہسپتال کا پرویز الٰہی دور والا بجٹ بحال کر نے سے نکار کر دیا گیا۔ ملتان میں ہی نشتر ہسپتال و میڈیکل کالج ہے کبھی یہ ہسپتال اور میڈیکل کالج جنوبی ایشیاءکے بہترین اداروں میں شمار ہوتا تھا مگر اب بدترین حالات کا شکار ہے ایک ایک بیڈ پر تین تین مریض پڑے ہیں سی ٹی سکین ، ایکسرے وغیرہ کی مشینیں سال میں گیارہ ماہ خراب رہتی ہیں۔ 

 

قصور کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں بے مثال توسیع کی گئی۔صحت ہی کے شعبے میں 1122 کی سروس شروع کر کے چودھری پرویز الہی نے گویا ایک انقلاب ہی برپا کر دیا، اب کسی حادثے کی صورت میں 1122 کی گاڑی بلا تاخیر موقع پر پہنچتی ہے ا ور مریض کو نزدیک ترین ہسپتال لے جایا جاتا ہے۔ اس گاڑی کے اندر بھی ابتدائی طبی امداد کی سہولتیں میسر ہیں۔ 1122 کو گاڑیاں لاہور ہی نہیں بڑے شہروں کی سڑکوں پر دوڑتی ہیں تو لوگ پرویز الٰہی کو دعائیں دیتے ہیں۔ تعلیم کا شعبہ پاکستان میںہمیشہ نظر انداز رہا۔ چودھری پرویز الٰہی کا دورا ٓیا تو انہوںنے اپنے وزیر تعلیم عمران مسعود کے ساتھ مل کر تین سالہ منصوبہ پیش کیا جس کے دوران ہر سرکاری اسکول میں چار دیواری بھی کھڑی کرنا تھی، کمروں کی تعداد بھی مکمل کرنا تھی ، بچوں کے لئے ٹائلٹ بھی بنانے تھے ا ور انہیں ٹاٹ سے نجات دلا کر لکڑی کے بنچ مہیا کرنے تھے، جس بریفنگ میں اس منصوبے کا اعلان کیا گیا،چودھری پرویز الٰہی کے تعلیمی منصوبے بلاتفریق پنجاب کے ہر امیر غریب کے بچے کے لئے تھے۔ آج کروڑوں غریب بچوں کو نظر انداز کر کے چند سو بچوں کے لئے دانش سکولوں کے نام پر خزانے کے اربوں روپے لٹائے جا تے رہے، 62ہزار سرکاری سکولوں کو نظر انداز کر کے 4دانش سکول بنانا کون سی دانشمندی تھی؟

 

پرویز الٰہی کے دور میں سرکاری سکولوں میں کاپیاں کتابیں مفت دینے کا رواج پڑا ، جس کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں بچوںنے سرکاری اسکولوں کا رخ کیا ورنہ ان سکولوںکو بچے دور ہی سے دیکھ کر گھبراتے تھے۔کیونکہ اسکولوں میں خچر، گدھے، بیل ،بھینسیں اور بکریاں بندھی رہتیں یا مقامی وڈیرہ نے ان میں ڈیرے سجا لئے تھے۔ چودھری پرویز الٰہی نے سرکاری سکولوں کا تقدس بحال کیا اور ان کے معیار تعلیم کو اس قدر بلند کیا کہ تنور پر نان لگانے والے بچے بھی اعلیٰ پوزیشن لینے لگے۔ چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں قصور روڈ دو رویہ بنا دی گئی ۔ پھر پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس کا قیام بھی پرویز الٰہی کا شاندار منصوبہ تھا۔ جس سے مسافروں کو خاصا تحفظ حاصل ہوا۔

 

چوہدری پرویز الٰہی نے چونگی امر سدھو سے آگے انڈر گراﺅنڈ میٹرو ٹرین کا بھی منصوبہ بنایاگیا، جب 2014ءمیں شہباز شریف اورنج ٹرین منصوبے کا افتتاح کر رہے تھے میں نے اُس وقت بھی پرویز الٰہی کے انڈر گراﺅنڈ میٹرو منصوبے کے حوالے سے کالم لکھا تھا مگر نگار خانے میں توتی کی آواز کون سنتا ہے۔ کیوں کہ جب یہ منصوبہ پرویز الٰہی نے شروع کیا اور انکی حکومت ختم ہوئی تو شہباز شریف نے یہ منصوبہ یکسر ختم کردیا اور کہا کہ یہ بہت مہنگا منصوبہ ہے اس پر ایک ارب ڈیڑھ کروڑ ڈالر خرچ آرہا ہے اور اس میں بہت گھپلے ہیں۔حالانکہ مذکورہ بالا منصوبے میں لاہور میں صرف چھ مقامات پر کھدائی ہونا تھی۔ جبکہ حالیہ میٹرو اورنج ٹرین نے پورے لاہور کو تہس نہس کر دیا ہے۔ بہرحال شہبازشریف نے پاکستان آئی بیرونی سرمایہ کاری کو ہی ریجیکٹ کردیا جو اس منصوبے پر خرچ ہونا تھی اور میٹروبس منصوبہ شروع کرلیا جو آہستہ آہستہ اپنی موت آپ مرنا شروع ہوگیاہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر میٹرو بس منصوبہ اتنا ہی اچھا تھا تو پھر 160 ارب خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میٹروبس اور میٹروٹرین دونوں 27 کلومیٹر کے ٹریک ہیں۔اس 27 کلو میٹر کے ٹریک پر بھی 30 ارب روپے ہی خرچ کرلیتے اور منصوبہ مکمل کرتے اور باقی 120 ارب روپے بچالیتے۔

 

پاکستان مسلم لیگ کی حکومت کے دور میں لوگوں کو مہنگائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، پاکستانی روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدر مستحکم رہی۔ پاکستان مسلم لیگ کے دور حکومت میں ملکی خزانے لبا لب بھرے ہوئے تھے۔چودھری پرویز الٰہی دور میں اخبار نویسوں کو لاہور ، پنڈی اور ملتان میں رہائشی پلاٹ دیئے گئے۔ بلا شبہ یہ ان کا احسان عظیم تھا ورنہ پہلے چہیتوں کو پلاٹ ملتے رہے ۔ پرویز الٰہی کے دورحکومت میں پنجاب سب سے کامیاب صوبہ تھا،شہباز شریف نے دس سالوں میں پنجاب کو قرضوں کے بوج تلے دبا دیا ہے،چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب کے عوام کو ریسکیو ،انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹریفک وارڈنز کے تحفے دیے لیکن شہباز شریف نے ان منصوبے کو وسعت دینے کی بجائے ان کو پرائیویٹ کرنے کا منصوبہ بنایا اگر اپوزیشن مخالفت نہ کرتی تو آج یہ ادارے پرائیویٹ ہو چکے ہوتے،شہباز شریف نے ق لیگ کے شروع کیے منصوبے پر مزید کام کرنے کی بجائے ان کو زنگ لگادیا ہے قوم کا اربوں روپیہ ضائع ہوتا رہا ہے لیکن انہوں نے وہی منصوبے شروع کیے جن میں بڑی کمیشن حاصل ہو سکے۔چوہدری پرویز الٰہی کی حکومت نے 2007ءمیں فرانزک لیب قانون کے منصوبے پر کام شروع کیا تھا۔شہبازشریف نے فرانزک منصوبے پر 5 سال تک کام روکے رکھا۔شہبازشریف نے پرویز الٰہی کے منصوبے ڈی ایچ کیو منڈی بہاﺅ الدین اور گجرات سالم روڈ پر 10سال تک کام نہیں ہونے دیا۔ وزیرآباد کارڈیالوجی اسپتال10سال تک آپریشنل نہ ہو نے دیا۔لاہور کا رنگ روڈ منصوبہ آج بھی زیر تعمیر ہے ، جسے پرویز الٰہی دور ہی میں بنایا گیا تھا۔ سیالکوٹ کی ترقی کا 34 ارب کا منصوبہ شہباز شریف نے آکر ختم کردیا،اور لیپ ٹاپ بانٹنے سے تعلیم عام کرنے جیسے منصوبے شروع کردیے،آڈیٹر جنرل نے سستی روٹی میں25 ارب کرپشن اور دانش اسکول اسکیم میں 4 ارب 88 کروڑ کی غیرقانونی ادائیگیاں رپورٹ کی ہیں جبکہ لیپ ٹاپ اسکیم میں اکاو ¿نٹنٹ جنرل آف پاکستان نے 2 ارب کی کرپشن کا کہا ہے، میٹروبس سروس میں1 ارب خرچے کا ریکارڈ ہی نہیں کیونکہ یہ ریکارڈ جلادیاگیا جبکہ ناقص ایسکی لیٹرز سے 16 کروڑ 35 لاکھ کا گھپلا کیا گیا، شہبازشریف کی اچھل کود اور رجوعہ (چنیوٹ) میں سونا چاندی کے ذخائرکے دعوے سب کے سامنے ہیں۔