!الیکشن کمیشن :کہیں ہم مزید نہ ڈوب جائیں


’’الیکشن کمیشن‘‘ دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں مختلف ناموں سے کام کرنے والا وہ ادارہ ہوتا ہے جو الیکشن کا ’’میلہ‘‘ سجاتا ہے۔ اور عوام کو شفاف قیادت مہیا کرکے چلتا بنتا ہے۔ کسی ملک میں یہ ادارہ پوری طرح صحت مند ہے، کسی ملک میں آدھا صحت مند، کسی ملک میں بیمار و کمزور اور کسی ملک میں لولاو لنگڑابھی ہے جسے ہر طاقت ور شخص روند کر خود اقتدار میں جا بیٹھتا ہے۔ ہمارے یہاں الیکشن عوام کو خوش کرنے کے لیے لگایا جانے والا ایک میلہ ہے۔ سردی، گرمی، خزاں اور بہار کے ساتھ ہمارے دیس میں ایک اور موسم بھی آتا ہے، انتخابات کا موسم، جوش وجذبات اور آس اور امید کی رُت، اس موسم کے وقت کا تعین نہیں کیا جاسکتا، کبھی یہ پانچ سال بعد آتا ہے اور کبھی اس عرصے سے بہت پہلے وارد ہوجاتا ہے، اسی طرح یہ رُت بعض علاقوں میں جنرل الیکشن اور ضمنی انتخابات کی صورت میں کئی بار آتی ہے۔ مختصر دورانیے کا یہ موسم ہماری سیاست اور سماج کے بہت سے منفی پہلو سامنے لے آتا ہے، انتخابی مہم کی صورت میں، لیکن ایک اور بہت اہم مدعا یہاں یہ ہے کہ اس موسم کے رسیلے پھل کا مزہ صرف وہی پارٹی اٹھا سکتی ہے جس کے پاس پیسہ ہو۔ یعنی پھل رسیلا ضرور ہے لیکن مہنگا بھی بہت ہے۔ اور اگر جیب میں مال ہے تو پھر مہنگے سستے کی فکر کسے! پاکستان میں حکومت اگرچہ اپنے وسائل کی کمی کا رونا روتی رہتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہاں کے سیاست دانوں کے پاس خدا کا دیا سب کچھ ہے۔ سو انتخابات کے موسم کا پھل کھانے سب ہی تیار بیٹھے ہیں۔
لیکن ایسے حالات میں الیکشن کمیشن اور نگران حکومت میں اختیارات کی عجیب کشمکش نظر آتی ہے،جس الیکشن کمیشن کو سیاست سے پاک صاف ہونا چاہیے، اُس میں اثر ورسوخ کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ آپ کسی سرکاری آفس میں چلے جائیں کوئی افسر اپنے فرائض سر انجام نہیں دے رہا، الیکشن کمیشن کی جانب سے نئے سیکرٹریز کی بات ماننے کے لیے کوئی تیار دکھائی نہیں دیتا۔ کیوں کہ تمام عملے کو علم ہے کہ الیکشن کمیشن یا نگران حکومت کی طرف سے یہ چند دن کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔ جیسے ہی نئی حکومت آئی یہ لوگ تبدیل کر دیے جائیں گے۔ الغرض کہیں دفاتر میں کوئی کام نہیں ہو رہا۔حتیٰ کہ لاہور کے تمام ایس ایچ اوز کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور جو لاہور کے باہر سے تعینات ہوئے ہیں انہیں علم ہی نہیں کہ لاہور میں اُن کا علاقہ کون کون سا ہے اور انہیں سمجھ ہی نہیں آرہی کہ کرنا کیا ہے۔ وارداتوں میں اضافہ ہوگیا۔ جو شخص سرگودھا، فیصل آباد یا کسی دوسرے شہر سے لاہور تعینات ہو رہا ہے اُسے تو ایک ڈیڑھ مہینہ لاہور کے علاقوں ، لوگوں کی نفسیات اور وہاں کے ماحول کو سمجھنے میں لگتا ہے ۔ اور تو اور نئے چیف سیکرٹری کا حال تو یہ ہے کہ اُس نے اگر کسی کی پوسٹنگ بھی کرنی ہے یا کہیں دوسری جگہ کسی کا تبادلہ کرنا ہے تو وہ پہلے الیکشن کمیشن سے اجازت طلب کرے گا، اس کے بعد دوبارہ واپس چیف سیکرٹری کے پاس کیس آئے گا اسی کام میں مہینہ بھی لگ سکتا ہے، اور مہینے بعد ویسے ہی نئی حکومت آ جاتی ہے جس کے بعد وہ محنت بے سود جاتی ہے۔ 
میں یہ ہر گزنہیں کہہ رہا کہ الیکشن کمیشن کو لامحدود اختیارات دے دیے جائیں بلکہ میں مذکورہ بالا اکا دکا مثالوں سے اپنے خراب سسٹم کی طرف نشاندہی کرنے کی حقیر سی کوشش کر رہا ہوں۔ کیوں کہ ان حالات میں 25جولائی کے الیکشن کی شفافیت پر ایسے ایسے سوالات اُٹھیں گے کہ اگلے ایک دو سال میں ہم دوبارہ الیکشن کی طرف بھی جاسکتے ہیں۔ اب قوم خود دیکھ لے کہ الیکشن کے قوانین اور قواعدوضوابط کے تحت صوبائی اسمبلی کا امیدوار انتخابی مہم پر دس لاکھ روپے اور قومی اسمبلی کا امیدوار پندرہ لاکھ روپے تک خرچ کرنے کا مجاز ہے، لیکن انتخابی مہم شروع ہوتے ہی ہر پاکستانی کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ صوبائی و قومی اسمبلیوں اور سینیٹ کے امیدوار اپنی انتخابی مہمات پر کروڑوں روپیہ بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔ کھلم کھلا الیکشن قوانین کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ پارٹی سے ٹکٹ کی خریداری سے لے کر اسمبلی میں پہنچنے تک کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ اسمبلیوں میں پہنچنے والے اراکین صاف صاف کہتے ہیں کہ وہ زرِکثیر خرچ کر کے پارٹی سے ٹکٹ خریدتے ہیں، ووٹروں کو ووٹ کی منہ مانگی قیمت دیتے ہیں، اور لوکل ایڈمنسٹریشن اور متعلقہ عملے کے ذریعے جعلی ووٹ ہتھیانے پر بے تحاشا دولت خرچ کرتے ہیں۔ لہٰذا اپنی لگائی ہوئی رقم پر منافع کمانا تو ان کا حق بنتا ہے۔ اس کاروباری ذہنیت کے ساتھ چل کر الیکشن جیتنے والا امیدوار جب قانون ساز اسمبلی کے اندر داخل ہوتا ہے تو روزِاول سے ہی اس کی نیت دولت کا حصول ہوتی ہے۔ یہ سب بے ضابطگی، بے قاعدگی اور بدعنوانی نظام انتخابات چلانے کے ذمہ دار ’’الیکشن کمیشن‘‘ کے سامنے ہوتی ہے، لیکن سیاسی دباؤ اور مقتدر شخصیات کے خوف کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والا یہ ذمہ دار ادارہ انتخابی دھاندلیوں پر خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔
ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ جس قومی آئینی ادارے الیکشن کمیشن کے جن قواعد و ضوابط کی مالاجپی جاتی ہے، انہیں کوئی قانونی حیثیت حاصل ہے ہی نہیں۔ یہ ایسے ہی بنے ہیں کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے مل بیٹھ کر قوانین مرتب کرلیے اور بس۔ ارے صاحب! ہمارے ہاں تو ان ضابطوں پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا جن کو قانونی حیثیت حاصل ہے تو ان قوانین کو کیسے کوئی پوچھے گا جن کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اور پھر وہی جملہ کہ اندھیر نگری چوپٹ راج۔
اس سے بڑا تماشا کیا ہو سکتا ہے کہ ایک عام ووٹر پر پابندی ہے کہ وہ صرف ایک حلقے سے ووٹ ڈال سکتا ہے لیکن بالادست طبقے کو آزادی ہے وہ چاہے تو پانچ حلقوں سے الیکشن میں حصہ لے لے۔ایک سے زیادہ حلقے سے جیتنے کے بعد وہ ایک حلقہ پاس رکھ کر باقی حلقے چھوڑ دے اور قرضے میں جکڑی غریب قوم اس انوکھے لاڈلے کے چھوڑے ہوئے حلقے میں پھر سے قومی وسائل جھونک دے اور ضمنی انتخاب کروائے۔ کیا الیکشن کمیشن کو احساس ہے کہ کسی حلقے کا ضمنی الیکشن قوم کو کتنے میں پڑتا ہے؟ انتخابی عملے کی ڈیوٹی لگتی ہے، پولیس اور رینجرز تعینات ہوتی ہیں، بیلٹ پیپرز چھپتے ہیں، مقامی تعطیل کرنا پڑتی ہے، لاکھوں لوگ ایک بار پھر پولنگ سٹیشن کا رخ کرتے ہیں۔رہنما کا مسئلہ تو سمجھ میں آتا ہے۔اسے خوف ہو سکتا ہے ہار نہ جائے اس لیے ایک سے زیادہ حلقوں سے حصہ لیتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ ثابت کرنا چاہتا ہو میں بڑا مقبول ہوں پانچ حلقوں سے کامیاب ہوا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کسی حلقے میں ٹکٹ کا فیصلہ نہ کر سکا ہو اور پارٹی کو تقسیم سے بچانے کے لیے خود امیدوار بن بیٹھا ہو۔لیکن اس سب کی سزا عوام کو کیوں دی جائے؟ بھارت میں بھی پہلے ایسا ہی تھا کہ جو جتنے حلقوں سے چاہے انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے۔ پھر وہاں عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 33 میں ترمیم کی گئی کہ ایک آدمی دو سے زیادہ حلقوں سے امیدوار نہیں بن سکتا۔ اور اب 2019ء کے انتخابات کے لیے بھارتی الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے کہ ایک آدمی کو صرف ایک حلقے سے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے۔بھارت کا الیکشن کمیشن یہ سب کر سکتا ہے تو ہمارا الیکشن کمیشن کیوں نہیں کر سکتا؟بہت سے دیگر راستے بھی موجود ہیں۔ کسی کے جیتنے کے بعد حلقہ چھوڑنے کی صورت میں دوسرے نمبر پر آنے والے کو بھی کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس صورت میں ضمنی انتخابات کے تمام اخراجات بشمول وہاں تعینات اہلکاروں کی کم از کم ایک دن کی تنخواہ اس امیدوار سے وصول کیا جائے جس کے حلقہ چھوڑنے کی وجہ سے ضمنی الیکشن کروانا پڑے۔انتخابی قوانین میں کوئی اصلاح تو کیجیے۔ یہ ملک چند سیاسی رہنماؤں کی چراگاہ تو نہیں کہ ہم اپنے وسائل اور قومی خزانہ ان انوکھے لاڈلوں کے ایڈونچر کے لیے برباد کرواتے رہیں۔ سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کہاں ہے؟ وہ ایک آزاد ادارہ ہے یا چند سیاسی شخصیات کا مزارع؟ قارئین کو یاد ہوگا کہ میں نے 2سال قبل بھی الیکشن کمیشن کے حوالے سے کالم لکھا تھا جس میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ جنرل الیکشن 2018ء ہو بہو جنرل الیکشن 2013ء کی طرح ہو گا جس میں دھاندلیاں نہیں بلکہ بڑے بڑے دھاندلے ہوں گے ، کیوں کہ ہم یہ الیکشن بھی پرانے سسٹم کے تحت لڑ رہے ہیں جس کو لے کر پہلے ہی بیشتر دھرنے اور فساد رونما ہو چکے ہیں۔ لہٰذاالیکشن کمیشن غور کرے اور اپنے اندر سے سیاسی اثرو رسوخ کو ختم کرے ۔ملک کو شفاف قیادت فراہم کرے تاکہ وطن عزیز مسائل کے سمندر میں ڈوبنے سے بچ سکے۔