پٹرول !۔۔۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔۔۔


مہنگائی۔۔۔مہنگائی۔۔۔ہر طرف ہا ہا کار مچی ہے۔کچھ دن پہلے ڈالر کے بڑھنے اور روپے کی قدر کم ہونے سے مہنگائی ہوئی، پھر ’’مجھے کیوں نکالا‘‘والوں نے بضد ہو کر مہنگائی کروا دی، پھر پٹرول بڑھتا رہا اور مہنگائی ہوتی رہی ، اب لگاتار چوتھے مہینے پٹرولیم کی قیمتیں بڑھیں ہیں تومہنگائی آسمان کو چھو جائے گی ، ہر چیز میں غیر یقینی اضافہ ہوگا۔۔۔ ابھی کل کو جنرل الیکشن ہونے ہیں ،ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال میں روز مرہ کے استعمال کی چیزیں اپنے تئیں بڑھا لی جائیں گی، پھر رمضان بھی آنے والا ہے ذخیرہ اندوز اس قدر مہنگائی کر دیں گے کہ بحیثیت مسلمان ہمیں اپنے آپ پر شرم آنے لگے گی۔۔۔ ایسے لگتا ہے جیسے آسمان سے آگ کے گولے ہمارے سینے پر برسائے جا رہے ہوں۔۔۔کیوں کہ تازہ ترین ’’جھٹکوں‘‘ کے منفی اثرات دال دلیے تک بھی محسوس کیے جاسکیں گے۔ کیا کریں ان ڈاروں، مخدوموں، شریفوں، شاہوں، زرداریوں، ترینوں، اچکزئیوں، خٹکوں ، جوئیوں، تالپوریوں سمیت بیسیوں کرپٹ سیاستدانوں کی فصل ہم سب مل کر کاشت کرتے ہیں۔ اور ویسے بھی جس ملک کا وزیرخزانہ ہی چور ہو اس کے خزانے سے بھوک، ننگ، بیروزگاری، غربت، افلاس نہیں تو کیا ’’ویلفیئر اسٹیٹ‘‘ نکلے گی؟ اور پھر پوچھا جاتا ہے کہ اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے؟بقول شاعر 

اس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

اب جبکہ پٹرول کی قیمت ایک سال میں سات بار اضافے کے ساتھ 90روپے کے قریب پہنچ چکی ہے اور ڈیزل سو روپے کی حد عبور کرنے والا ہے تو یقیناًپاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک سال میں پٹرول کی قیمت میں 35روپے تک کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سمجھ سے باہر ہے یہ بات کہ حکومت رنگ برنگے ٹیکس لگانے کے باوجود پھر وہی ٹیکس پٹرولیم مصنوعات سے کیوں حاصل کرنا چاہتی ہے۔ سرکار کو فی لیٹر پٹرول /ڈیزل 40سے 42روپے میں پڑتا ہے۔ اور پھر اس پر وفاقی حکومت کی جانب سے کئی اقسام کے ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں،جن میں کسٹم ڈیوٹی،ان لینڈ فریٹ مارجن،او ایم سی ز مارجن ،ڈیلروں کا کمیشن،پیٹرولیم نیوی اور جی ایس ٹی ٹیکسز وصول نمایاں ہیں۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول پر 34.24روپے ،ڈیزل پر40.74روپے ،لائٹ ڈیزل پر 9.9 روپے اور مٹی کے تیل پر 13.86روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ پیٹرول پر 40روپے ،ڈیزل پر50روپے تک فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔یعنی پٹرول /ڈیزل کے ہرلیٹر پرعوام سے 70 سے75 فیصد ٹیکس وصول کیا جارہا ہے،جبکہ لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل پر ٹیکسز اس کے علاوہ ہیں۔ 
حکومت یہ بھی جانتی ہے کہ اگر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھتی ہے تو پوری معیشت پر اس کا اثر پڑتا ہے اور ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت میں حکومت اضافہ کیوں کر رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ تباہ حال معیشت اور روپے کی قدر میں کمی ہے۔ دوسری وجہ بجٹ ہے ، حکومت سات سو ارب کے لگ بھگ ٹیکس پٹرول اور ڈیزل کے ذریعے وصول کرتی ہے۔ چونکہ ایف بی آر براہ راست ٹیکس وصول نہیں کر سکتا اس لئے کئی ٹیکس پٹرولیم مصنوعات پر لگا رکھے ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں ہماری برآمدات 25 ارب ڈالر سے مسلسل گر کر 19ارب ڈالر پر آ گئی ہیں، ملک کی 70 سالہ معاشی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ برآمدات مسلسل پانچ سال گرتی رہیں۔ ایکسپورٹرز کہتے ہیں کہ گیس ، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں کی وجہ سے مصنوعات کی پیداواری لاگت اتنی بڑھ چکی ہے کہ عالمی منڈی میں وہ مقابلہ نہیں کر سکتے۔ بجلی کی پیداوار کیلئے ہم نے جتنے بھی معاہدے کر رکھے ہیں وہ تمام ڈالر سے منسلک ہیں، روپے کی قدر گرنے سے بجلی کی پیداواری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ حکومت نے درآمدات پر کئی ڈیوٹیاں لگائی ہیں مگر وہ کم ہونے کو نہیں آ رہی ہیں۔ دراصل حکومت کا فوکس ہی غلط ہے۔ہماری سالانہ درآمدات 55 ارب ڈالر، برآمدات 20 ارب ڈالر ہیں، سالانہ 75 ارب ڈالر کے لیٹرز آف کریڈٹ بینکنگ سسٹم کے ذریعے گزرتے ہیں، گرے لسٹ میں آنے پر انٹرنیشنل ٹرانزیکشن کی جانچ پڑتال شروع ہوجائیگی۔ بڑے غیرملکی بینک ایسے ملک کیساتھ ڈیل کرنا نہیں چاہتے جو کہ گرے لسٹ میں ہوں، اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ڈالروں میں مزید کمی ہو گی، روپیہ مزید گرے گا، یہاں تک کہ ڈالر کی ملک میں قلت ہو جائیگی۔ ان تمام مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ غیر ضروری تنازعات کے بجائے ملک کی فکر کی جائے ، مناسب منصوبہ بندی کی جائے۔
لیکن ہماری ترجیحات میں ہی یہ چیز شامل نہیں ہے کہ ہم نے کن چیزوں پر فوکس کرکے ملک کی معیشت کو بہتر کرنا ہے۔ ہمارا فوکس پانامہ، اداروں سے لڑائیاں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانا، مخالفین پر نظر رکھنا، اُن کی کمزوریوں پر پراپیگنڈہ کروانا، فلسطینی ، برما، شام، کشمیراور دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان ہیں ان کا خیال رکھنا، یہاں کے مسلمان چاہے فاقے کاٹ رہے ہوں، خودکشیاں کر رہے ہوں، بچوں سمیت دریا میں چھلانگیں لگا رہے ہوں انہیں مرنے دینا، اور ہماری سب سے پہلی ترجیح یہی ہے کہ اگر کسی حکومت نے اچھا کام کیا ہے تو اس میں سو نقص نکال کر اسے روک دینا اور اپنا کوئی نیا ڈیکوریٹڈ منصوبہ پیش کرکے واہ واہ سننا۔۔۔ 
خیر دوبارہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہی آتے ہیں کہ جب گزشتہ ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو ایک اندازے کے مطابق حکومت نے قیمتوں میں تبدیلی سے3سو ارب روپے کمالئے تھے اور اب جبکہ الیکشن قریب آنے والے ہیں تو حکومت کواپنے چہیتے ایم این ایز اور ایم پی ایز میں فنڈز تقسیم کرنے اور اگلے الیکشن کو جیتنے کے لیے مزید پیسے درکار ہیں تو حکومت مارچ ، اپریل میں بھی ’’سیزن‘‘ لگانا چاہتی ہے۔اس صورت حال میں عام آدمی کو مزیدمہنگائی کے جھٹکوں کیلئے تیار رہنا ہو گا۔ کیوں کہ یہاں کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں 5سالہ منصوبہ بندی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔معیشت کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اشیائے ضرور یہ اور پٹرولیم کی قیمتیں سارا سال بڑھتی رہتی ہیں ۔ عوام کا بھرکس نکال دیا جاتا ہے اور پھر پوچھا جاتا ہے کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ اور پھر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ جو کچھ کروا رہا ہے بابا رحمتے کر وا رہا ہے، اور پھر ملکی اداروں کے خلاف بھرپور میڈیا مہم چلائی جاتی ہے ، ایک لمحے کے لیے بھی نہیں لگتا کہ یہ پاکستان کے خیر خواہ سیاستدان ہیں۔عوام کے خون پسینے کی کمائی سے عیاشی کرتے یہ سیاستدان اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کے بجائے عوام کے پیسے پر نظر رکھے بیٹھے ہیں ، ان حکمران طبقات نے بے جا اصراف، نمود ونمائش، اللے تللوں کی روش اپنا کر ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک پر اصل حکمرانی ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے عالمی معاشی اداروں کی رہی۔ یہ ادارے حکومتی اور ریاستی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں آگئے۔ ایک کشکول گدائی مستقل طور پر قوم کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔ یہ دنیا کے چند ایسے ملکوں میں شمار ہونے لگا جہاں ہر بچہ مقروض پیدا ہوتا ہے۔ حکومت کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے آج امریکا اور پاکستان میں ٹھن گئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امریکا کے زیر اثر مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک بھی پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگے ہیں۔ قرضوں کی ری شیڈولنگ اور نئے قرضوں کی اجرائی کے لیے شرائط سخت سے سخت تر ہونے لگی ہیں۔ دفاعی خریداریوں اور تعلیمی نظام میں بھی ان اداروں کی مداخلت کا عمل تیز ہوتا جا رہا ہے۔ اب معاشی جادوگروں اور پالیسی سازوں کو خود انحصاری کا خیال آگیا ہے۔ کبھی ٹیکسوں میں اضافہ کرکے اور کبھی مہنگائی کے دیگر اسباب پیدا کرکے اس راہ پر چلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ٹیکسوں میں اضافہ بھی امریکا اور عالمی مالیاتی اداروں کا پرانا مطالبہ رہا ہے۔ان کے مطالبے پورے کرنے کے بعد ہی نیا قرضہ مل سکے گا۔ 
لہٰذاان حکمرانوں کو چاہیے کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو اعتدال پر لائیں اور ایکسپورٹ میں اضافے اور روپے کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات پر اس قدر ٹیکس نہیں لگائے جاتے جتنے ہمارے ہاں لگائے جار ہے ہیں۔ ان اقدامات کی وجہ سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام میں مزید نفرت پیدا ہورہی ہے اور پاکستان کے عوام اس وقت ٹیکسوں اور مہنگائی کی صورت میں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔اور اس وقت تک بھگتتے رہیں گے جب تک یہ ڈالر حکمرانوں سے عوام پیچھا نہ چھڑا لے، کیوں کہ انہیں خود تو شرم آنی نہیں اور نہ ہی عوام پر رحم آنا ہے اس لیے یہ جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔ بقول چچا غالب 

 

کعبہ کس منہ سے جاوگے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی