خواجہ عمران نذیر بچیو ں کو تحفظ فراہم کر یں


حکومت پنجاب نے محکمہ صحت کو دو خو اجگا ن میں تقسیم کر دیا تا کہ عوام کو صحت کی بہتر ین سہو لیا ت فر اہم کی جاسکیں۔خواجہ سلیمان رفیق اور خو ا جہ عمران نذیر دونوں ہی وزیر اعلیٰ کے چہتے اور لاڈلے وزیر ہے ۔ان کا شماروزیر اعلیٰ کے قریبی سا تھیو ں میں ہوتاہے یہ و ہ وزراء ہیں جن کی رسا ئی وزیر اعلیٰ تک ہے میں جس محکمے کی با ت کر رہی ہوں وہ خواجہ عمران نذیر کا ہے پر ائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ اکیڈمیک۔لاہور میں برووڈروڈپر ایک پرانی پوشیدہ عمارت میں پوسٹ گر ایجوایٹ کا لج آف نر سنگ واقع ہے جہاں پنجا ب بھر سے نر سزمختلف شعبوں میں سپلائزڈ کر تی ہیں یہا ں تعلیم حاصل کر تی ہیں یہ وہ نرسز ہیں جو یقیناہو نہا ر ہیں اوراپنے شعبے میں مزید ترقی کر کے آگے بڑ ھنا چاہتی ہیں اسی عما رت میں صوبہ بھر سے آنے والی نر سز کے ہا سٹل بھی ہیں جو دوران تعلیم یہا ں رہا ئش پذیر ہیں یہاں انھیں پانی تک دستیا ب نہیں پینے کے صاف پا نی کی تو با ت ہی نہ کر یں ۔واش رو م کی حا لت خراب ہے نر سنگ کا لج میں جگہ جگہ سے پا نی کے پا ئپ ٹوٹے ہو ئے ہیں جن سے پا نی ٹپک رہا ہے جبکہ ابلتے ہوئے گڑوں کا گندہ نقصان زدہ پا نی بکھر ا پڑا ہے ۔رات کو اس پوسیدہ عمارت میں روشنی کا بھی انتظام نہیں گھپ اندھیراہوتا 
ہے درختو ں کی بر وقت کٹائی نہ ہو نے کی وجہ سے وہ جھنڈکی صورت اختیا ر کر گئے ہیں وزیرموصوف نے اپنے محکمے کے لیے شاندار بلڈنگ تو بنوائی لیکن نر سنگ سکول کی مرمت تک نہیں کر وائی گئی۔طلبات کی تعدادزیادہ ہو نے کی وجہ سے انھیں کلاس روم کے بجائے ہا ل کمرے میں بٹھایا جا تا ہے ۔جب سے اس جگہ پر محکمہ پرائمری اینڈسکینڈری ہیلتھ کا آفس بنایاگیا ہے جس میں سیکرٹیری ہیلتھ اورخوجہ عمران نذیر بیٹھے ہیں۔ ا ن طالبا ت کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے اور وہ خودکو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں ہر وقت مردوں کا آناجا نا لگاانکے مسائل میں اضافہ کر رہا ہے پنجا ب بھر کے36 اضلاع کےBSU-DHQ-RHCسے متعلقہ افراداپنے سرکا ری کاموں ،انٹر ویوز، ٹراسفرانکوائیرز کے لیے آتے ہیں نیزمیڈیکل کمپنیوں کے ٹینڈربھی یہاں پر ہو تے ہیں اور جس دن میٹنگ ہو تی ہے اس قدررش ہوتا کہ نرسنگ سکول کی بچیوں کا گزرنامحا ل ہو جا تا ہے گا ڑیوں کی لمبی قطاریں اوران میں بیٹھے ڈرائیوزکو اس با ت کی قطعی پر واہ نہیں ہو تی کہ بچیوں کو 
یہا ں سے گزرنا ہے اس وقت یہ بچیاں شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب سے یہاں پرائمری اینڈسکینڈری ہیلتھ کاآفس بنا ہے نرسنگ کالج آنا جا نا مشکل ہو گیا ہے کالج کے وقت اوردوپہر کوچٹھی کے وقت متعلقہ آفس کے بھو نڈوں نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے ذومعنی گفتگو اور گندی نظروں سے گزرکہ نرسنگ کا لج تک آنامشکل ہو گیا ہے یہ آفس نر سنگ کا لج کے سا منے والے حصے میں بنا یا گیا ہے اس کے لئے یہاں سے گزر کر ہمیں کا لج تک جا نا پڑتا ہے لڑکیاں ڈر کر شکا یت بھی نہیں کر تیں اس شعبے کوپہلے ہی بدنا م کر دیا گیا ہے ا یک دوایسے واقعا ت ہوئے ہیں جن کہ وجہ سے لڑکیا ں خو فزدہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہمارے کا لج پر قبضہ تو کر لیا ہے اب کم از کم اتنا تو کر یں گے نر سنگ کا لج تک کا راستہ الگ بنا دیاجائے تا کہ لڑکیا ں آزاد ہوں اور جن لڑکیو ں کے پا س گاڑیاں ہیں یا انہیں گھر والے مو ٹرسائیکل پر چھوڑنے آتے ہیں وہ تو کا لج کی عمارت تک انھیں چھوڑدیتے ہیں لیکن جولڑکیاںآٹویا بسوں پر سفر کر کے آتی ہیں ان کیلئے نرسنگ کا لج تک جاناعذاب سے کم نہیں دفتر بند ہو نے کے اوربھی لوگوں کا آنا جا نا لگا رہتا ہے اورشا م کے بعدنرسنگ کا لج کی عمارت کوناپسندیدہ سر گرمیوں کے لیے استعما ل کیاجا تا ہے محکمے کے علاو ہ دوسر ے افراد بھی ان کے سا تھ شا مل ہوتے ہیں ہم میں سے کو ئی لڑکی بھی اس با رے میں ڈر کر شکایت نہیں کر تی کہ بڑی مشکل سے نوکر ی ملتی ہے اورداخلہ ملنا بھی جا ن جوکھرکا کا م ہے کسی نئی مصیبت کو مول نہیں لے سکتے ۔یہاں ہاسٹل میں رہنے والی بچیا ں بھی خود کو غیرمحفوظ تصورکر تی ہیں ہم بھی قوم کی بیٹیاں ہیں ہماری مشکلات کو سمجھ کراس کا ازالہ کہا جا ئے ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ شعبے کے وزیر خواجہ عمر ان نذیر اس مسلئے کا حل کریں نرسنگ سکول میں آنے جانے والے کے لیے علیحدہ راستہ بنا یا جا ئے اورابلتے گٹروں کے ٹوٹے ہو ئے پائپ ٹھیک کروائیں پینے کا صا ف پا نی مہیا کیا جا ئے ہم امیدکرتے ہیں کہ خواجہ عمران نذیر اس مسلئے پرتوجہ دیں گے اورقوم کی ان بچیوں کو تحفظ فراہم کر یں گے۔