Post With Image

نیب کا 15 لاکھ یا زائد تنخواہ لینے والے سرکاری افسروں کیخلاف تحقیقات کا آغاز


نیب نے 15 لاکھ یا اس سے زائد تنخواہ لینے والے سرکاری افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ تحقیقات کی جائیں کہ ان افسران کی تعیناتی کیسے ہوئی۔ نیب ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے تمام ریجنل دفاتر کو لکھے گئے خطوط میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کی جائیں کہ ان افسران کی تعیناتی کیسے ہوئی ؟ نیب نے ڈائریکٹر جنرل سمیت دیگر پی ایس او افسران کی تنخواہوں اور تعیناتی کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا جبکہ اے جی پی آر اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے بھی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ دوسری جانب نیب نے کرپشن مقدمات میں عدم پیشی پر سابق صدر پرویز مشرف اور اہلخانہ کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، چیف کمشنر اور ڈی ایچ اے اسلام آباد کو خطوط لکھ دئیے ہیں۔ پرویز مشرف اور ان کے اہلخانہ کے نام گاڑ یاں اور جائیدادیں تحقیقات مکمل ہونے تک کسی اور کے نام ٹرانسفر یا فروخت نہیں کی جا سکتیں۔ ایف بی آر نے بھی ایمنسٹی اسکیم ختم ہونے پر برطانیہ میں جائیدادیں رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ چیئر پرسن رخسانہ یاسمین کے مطابق جائیداد ظاہر نہ کرنے والوں کے خلاف معلومات برطانوی ٹیکس اتھارٹی ایچ ایم آر سی سے حاصل کی گئی ہیں۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا