ایران امریکا حتمی معاہدہ: پاکستان تجارتی ثمرات حاصل کرے!

بھلے ہی پاکستان کی حکومت کو یہاں کے عوام اچھا نہ جانیں،،،بھلے ہی حکومت یہاں کے عوام کا جنگ کے نام پر بھرکس نکال دیں،،، بھلے ہی یہاں سی سی ڈی کے ذریعے معصوم لوگوں کو مارتے رہیں یا پولیس کے ذریعے عوام پر بھاری جرمانے عائد کرتے رہیں،،، مگر دنیا بھر میں پاکستان کے ایران امریکا جنگ بندی میں معاونت ،،، پھر عارضی معاہدے کی تکمیل اور پھر مستقل معاہدے کے لیے راہ ہموار کرنے پر عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے،،، بقو ل شاعر گھر کی محفل میں ا±جالا نہ سہی، لیکن ہم شہر بھر کے لیے چراغوں کی طرح جلتے ہیں۔ پھر ایک اور جگہ شاعر نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا ہے۔ گھر میں رہا گمنام، زمانے میں ہوا نام کچھ لوگ مقدر سے یہ انعام بھی پاتے ہیں۔ جی ہاں! شکر الحمد اللہ کہ دنیا ایران امریکا جنگ کو لے کر ایک مستند معاہدے کی طرف جا رہی ہے، جس میں تمام فریقین بشمول اسرائیل(نہ چاہتے ہوئے بھی) ایک معاہدے کی طرف جا رہے ہیں،،، اور اس پر باضابطہ دستخط سوئٹزرلینڈ میں 19 جون کو ہوں گے۔ لوگ اس پر تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں کہ دستخط پاکستان میں کیوں نہیں ہورہے ،،، لیکن میں کہتا ہوں،،، سوئٹزر لینڈ کو بھی فی الحال اپنا ملک ہی سمجھیں،،،! کیوں کہ اگر عالمی لیڈران پاکستان میں آتے تو یہاں اس وقت کہرام مچا ہوتا،، ہر طرف پولیس گردی نظر آتی،،، دارلحکومت کو تو ویسے ہی کنٹینر سٹی بنا دیا جاتا،،، سرکاری دفاتر ایک دو ہفتے کے لیے بند کر دیے جاتے،،، فضائی حدود کو بند کر دیا جاتا،،، اور خدانخواستہ خدانخواستہ اس دوران دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوجاتا تو پوری دنیا میں ویسے ہی ہم منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے۔ اس لیے تمام فریقین سوئٹزر لینڈ میں اکٹھے ہورہے ہیں تو یہی سب سے بہترین ہے! اور ویسے بھی وزیرا عظم شہباز شریف کہہ چکے ہیں کہ سوئٹزر لینڈ میں حتمی معاہدہ ہو رہا ہے،،، اور اس کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے،،، اس لیے ہی میں نے کہا ہے کہ فی الوقت سوئٹزر لینڈ کو بھی اپنا ہی ملک سمجھیں! اور رہی بات معاہدے کے نکات کی تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ابھی تک مکمل اور حتمی متن عوامی طور پر جاری نہیں کیا گیا۔ جو معلومات سامنے آئی ہیں وہ فریم ورک، مسودوں اور دونوں فریقوں کے بیانات پر مبنی ہیں، اور بعض نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔اور اب تک سامنے آنے والے اہم نکات یہ ہیں کہ جنگ بندی (سیز فائر) اور امریکہ و ایران کے درمیان براہ راست فوجی محاذ آرائی کا خاتمہ ہوگا،،، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہوگا تاکہ عالمی تیل اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال ہو سکے۔ایران کے جوہری پروگرام پر مزید مذاکرات؛ حتمی جوہری معاہدہ بعد کے مذاکرات میں طے کیا جائے گا۔مزید یہ کہ امریکی پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور ایران کے بعض منجمد اثاثوں کی رہائی پر بات چیت جاری رہے گی۔ بعض رپورٹس میں تقریباً 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کا ذکر بھی آیا ہے، لیکن اس کی مکمل تصدیق اور حتمی شکل ابھی واضح نہیں۔جبکہ آئندہ 60 دن کے اندر جامع مذاکرات کے ذریعے جوہری، اقتصادی اور سلامتی کے معاملات کو حتمی شکل دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے ایک وسیع فریم ورک پر اتفاق وغیرہ وغیرہ۔ بہرحال یہ اس خطے اور خصوصاََ ایرانی بھائیوں کے لیے خوشی کی بات ہے کہ جنگ ختم ہو رہی ہے،،، کیوں کہ جنگ کرنا انسانوں کا نہیں حیوانوں کا وطیرہ سمجھا جاتا ہے،،، اور ویسے بھی چینی مفکر زو سون کے مطابق ”جنگ کا اعلیٰ ترین فن یہ ہے کہ دشمن کو لڑے بغیر شکست دے دی جائے۔“یہ قول ”دی آرٹ آف وار“ میں ملتا ہے اور دنیا بھر میں عسکری حکمتِ عملی کا بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔پھر ایک معروف جنگجو قائد آئیسن ہاور کے مطابق ”جنگ آخری راستہ ہونی چاہیے، پہلی ترجیح نہیں“ ۔ اس لیے میرے خیال میں اگر آپ جدید دور میں رہ رہے ہیں تو پھر جنگیں ہونی ہی نہیں چاہیئں۔ اور اس کے متبادل حل نکالنے چاہییں! خیر قصہ مختصر کہ جو جنگ تیسری جنگ عظیم میں تبدیل ہوتی جارہی تھی اور جس کو روکنے کے لیے اقوامِ متحدہ بے بس نظر آیا،،، نیٹو نے ہاتھ کھینچ لیے،،، چین اور روس کسی حد تک مصلحتاََخاموش رہے،،، لیکن پاکستان دنیا کی سب سے ذمہ دار جوہری طاقت کے طور پر اس سب سے خطرناک جنگ کے دوران امن کے ایک قابلِ عمل منصوبے کیساتھ آگے بڑھا۔اب پوری دنیا مذکورہ معاہدے کی جانب دیکھ رہی ہے۔اور میرے خیال میں پاکستان کے پاس اس سے بڑا چانس نہیں ہے، کہ وہ دنیا کے سامنے اپنے بھی مطالبات رکھے،،، اور اپنی عوام کے لیے آسانیاں پیدا کروائے،،، کم از کم اپنے قرضوں میں ریلیف مانگے،،، لیکن اگر پاکستان نے اس معاہدے کے عوض کچھ نہ لیا تو یقینا پاکستان ایک اور موقع ضائع کر بیٹھے گا۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی کم و بیش 55سال پاکستان کے ہاتھ ایک موقع آیا تھا، جس میں سب کچھ بدل سکتا تھا،،، یعنی یہ 70کی دہائی کی بات ہے کہ پاکستان نے ایک ایسے وقت میں تاریخ کا اہم باب لکھا جب ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سرد جنگ کی شدت عروج پر تھی۔ اس وقت کے پاکستانی صدر جنرل یحییٰ خان نے امریکہ اور چین کے درمیان ایک خفیہ سفارتی راستے کا کام کیا، جو تاریخ میں ”پاکستان چینل“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور اسی بابت 1971 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے چین کا ایک خفیہ لیکن تاریخ ساز دورہ کیا تھا۔ خیر اگر ہم تفصیل میں جائیں تو اُس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکس پہلے امریکی رہنما تھے جو چین امریکا تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے تھے،،، اور اس خواہش کا اظہار وہ اپنی الیکشن مہم میں بھی کئی بار کر چکے تھے،،، اس لیے صدر منتخب ہونے کے بعد 1969 میں انھوں نے پاکستان کے اس وقت کے صدر یحییٰ خان سے چین سے خفیہ رابطہ کاری کے لیے مدد مانگی تھی۔اور انہی کوششوں کے نتیجے میں بالآخر اُس وقت امریکہ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہنری کسنجر پاکستان کی وساطت سے نو جولائی کو بیجنگ خفیہ مشن پر گئے اور 11 جولائی کو واپس آئے۔کسنجر کے اسی خفیہ دورے کے اگلے برس فروری میں صدر رچرڈ نکسن نے چین کا دورہ کیا، اور اس طرح عالمی بساط پر امریکہ نے دو کمیونسٹ طاقتوں کے درمیان اختلافات کو اپنے لیے استعمال کرنے کے پروگرام کا آغاز کیا۔اس دورے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بحال ہوئے اور ایک دوسرے کے صدور و وزرائے خارجہ نے دورے کیے ،،، یہ یقینا پاکستان کی مدد سے ہی ممکن ہوا تھا جس نے چینی رہنماو¿ں کو اپنے اثر و نفوذ کے ذریعے بات چیت کے لیے قائل کیا، اگرچہ ان حالات میں چینی بھی امریکیوں سے تعلقات کے خواہاں تھے۔امریکہ اور چین کے تعلقات میں پاکستان کے اس کردار، خفیہ سفارت کاری اور اعتماد سازی کو بہت زیادہ سراہا جاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ پاکستان جس نے اس خفیہ مشن کے انتظامات میں کلیدی کردار ادا کیا اُسے اِس خدمت کے عوض کیا ملا؟ حالانکہ اُس وقت پاکستان نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیاتھا جس سے امریکا اور چین دونوں کو بے پناہ فائدہ ہوا،،،کہا جاتا ہے کہ کسنجر کو خدشہ تھا کہ پاکستان اس اہم خدمت کے بدلے میں بڑے مطالبات کرے گا، مگر پاکستان نے کچھ نہیں مانگا۔ وہ اس کا ذکراپنی کتاب ”On China“ میں بھی کرچکے ہیں،، آج 2026 میں، جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ہونے جا رہا ہے اور پاکستان نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا ہے تو پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے،،، لہٰذابدلے میں پاکستان اپنے قرضے اُتارنے کے لیے امریکا سے بات چیت کر سکتا ہے،،، امریکا و دیگر ممالک کے ساتھ معاشی معاہدے کر سکتا ہے، ملک کی برآمدات کو بڑھا سکتا ہے،،، ایسا کرنے سے ڈالر واپس آسکتا ہے، روپیہ مستحکم ہوسکتا ہے، ،، اس لیے حکمران کسی ذاتی فائدہ لینے کے بجائے ملک کے بارے میں سوچیں گے تو تاریخ میں امر ہو جائیں گے۔ کیوں کہ ابھی تک اگر ہم زمینی حقائق کا بغور جائزہ لیں تو اس وقت ملک کی 70فیصد آبادی کا جینا دوبھر ہو چکا ہے،،لوگ روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اب چھوٹے موٹے جرائم کا سہارا لینے پر مجبور ہو چکے ہیں،،، کیوں کہ انہوں نے اب زندہ بھی تو رہنا ہے،،، نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ آج عوام کی آمدن اُن کے اخراجات سے میل کھاتی ہے؟آپ اندازہ لگائیں کہ 80فیصد آبادی کی اس وقت تنخواہ ایک لاکھ روپے سے کم ہے،،، اور اس تنخواہ کا کوئی مجھے ماہانہ بجٹ بنا کر دکھا دے؟ اور اگر پاکستان کوئی بڑا مطالبہ نہیں کر سکتا تو کم از کم امریکا سے ایران گیس پائپ لائن کی اجازت طلب کرے تاکہ پاکستان میں توانائی بحران کا مستقل حل نکالا جاسکے،،، کیوں کہ ماضی کی طرح ایسا نہ ہو کہ اس سنہری موقع پر بھی پاکستان کے ہاتھ کچھ نہ آئے،،، مگر ابھی کے لیے ہمارے فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ ”آر سی ڈی “کی تجدید کریں ، نیا ریلوے ٹریک جو پاکستان ، ایران اور ترکی کو ملائے اس پر کام کرنا چاہیے،،، تاکہ تجارت بہتر بنائی جا سکے،،، پھر ایران پاکستان گیس پائپ لائین منصوبے پر فوری طور پر پاکستان کو اپنے حصے کی پائپ لائیں بچھانا ہوگی تاکہ پاکستان میں سستی گیس آ سکے ،،، مزید یہ چند ملک آپس میں دفاعی معاہدے کریں تاکہ دوبارہ کوئی حملہ کرنے کی جرا¿ت نہ کرسکے۔ بلکہ ایران کے ساتھ انڈسٹریل تعاون کریں ،،، اور تجارت کو فروغ دیں تاکہ ملکی معیشت میں بہتری لائی جاسکے۔ لہٰذااگر یہ فوائد ہم نہ لے سکیں تو پھر یہ سب کچھ کسی کام کا نہیں!