پاکستان کوایران امریکا جنگ میں فریق بنانے کی عالمی سازشیں!

ہم پاکستانیوں کواس وقت ایک بات سمجھ آ جانی چاہیے، کہ ایرانیوں کو کسی دباﺅ میں لا کر اپنی مرضی کے نکات پر دستخط نہیں کروائے جا سکتے،،، انہوں نے جو مذاکرات بھی کرنے ہیں وہ بھی اپنی مرضی سے کریں گے، وہ سب سے اپنی ”تاریخ“ کو دیکھیں گے، پھر اپنے شہداءکو،پھر عوام کو ،،، اسی لیے یہ ابھی تک کسی کے نہ تو ورغلانے میں آئے ہیں اور نہ ہی کسی کو لگا ہے کہ ایران نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔اور اب جو ایران کی طرف سے نئی تجویز وہ سامنے آرہی ہیں،،، اُس کے تحت جنگ بندی مستقل بنیادوں پر پہلے ہو، امن قائم رکھنے کی ضمانت ہو اور جوہری مسئلے پر مذاکرات بعد میں ہوں جب جنگ کا خطرہ ٹل جائے۔ اس سب کے عوض آبنائے ہرمز کھل جائے گا اور جہازوں کی آمدورفت شروع ہو جائے گی۔ اب جب یہ تجاویز پاکستان امریکا کو پہنچاتا ہے تو امریکا سب سے پہلے جوہری توانائی پر پابندی کی بات کرتا ہے،،، اور کہتا ہے کہ باقی باتیں بعدمیں ہوں گی،،، یعنی آپ اسے یوں سمجھ لیں کہ شاید ہی کوئی معجزہ ہو جائے کہ یہ مسئلہ چند روز میں یا چند مہینوں میں بھی حل ہو جائے،،، اور اس دوران رہی بات پاکستان کی تو دنیا جسے بہترین ثالث کے طور پر تسلیم کر رہی تھی،،، بلکہ ہم سب بھی ہمارے بڑوں کی شاندار پالیسیوں کے معترف ہو رہے تھے،،، لیکن اب پاکستان پر جانبداری کے الزامات لگنا شروع ہو گئے ہیں،،، بھارت و اسرائیل تو پہلے ہی یہ باتیں کر رہے تھے،،، مگر اب امریکا کے اداروں میں بھی یہ باتیں ہو رہی ہے،،، کہ پاکستان اب بہترین ثالث نہیں رہا اور اس کا متبادل تلاش کرنے کی ضرورت ہے،،، وہاں کانگریس جیسے بڑے پلیٹ فارم پر پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے،،، بلکہ پینٹاگون تک کو شکوک شبہات نے آن گھیرا ہے،،، اگر ان سب میں سے کوئی پاکستان یا یہاں کی قیادت کے خلاف بات نہیں کر رہا تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہے،،، وہ ہر بیان میں ہمیں اور ہماری قیادت کو ”عظیم“ قرار دیتا ہے۔۔۔ خیر بات ہو رہی تھی پاکستان کے ”ثالثی“ کے کردار کو لے تو آگے چلنے سے پہلے آپ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا امریکی ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو سُن لیں، جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ ”کئی ممالک بوٹ فارمز اور جعلی پتوں (ایڈریس) کے ذریعے منظم انداز میں سوشل میڈیا کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اِس حکمت عملی کا مقصد امریکی عوام میں اسرائیل کی حمایت کو کمزور کرنا اور امریکہ، اسرائیل اتحاد کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ’آپ اس نوعیت کا ٹیکسٹ میسج سنتے ہیں کہ میں ٹیکساس (امریکہ) سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ اسرائیل کو سپورٹ کیا، لیکن اب میں اُن (اسرائیل) کے اقدامات سے سخت ناخوش ہوں اور اسرائیل کے خلاف ہو رہا ہوں۔نیتن یاہو نے کہا کہ جب اس پیغام کی حقیقت جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اِس کا ایڈریس ’پاکستان کی کسی بیسمنٹ‘ (تہہ خانہ) کا نکلتا ہے۔“ دوسری طرف آپ امریکی خبر رساں ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کی 11 مئی کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرما لیں،، جس میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اپریل کے اوائل میں راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر متعدد ایرانی طیارے بھیجے گئے جن میں ایک آر سی 130 طیارہ بھی شامل ہے۔اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ”پاکستان نے خود کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک سفارتی رابطہ کار کے طور پر پیش کرتے ہوئے خاموشی سے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنے ہوائی اڈوں پر کھڑا ہونے کی اجازت دی، جس سے ممکنہ طور پر وہ امریکی فضائی حملوں سے محفوظ رہ پائے“ یعنی ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپریل کے اوائل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند دن بعد تہران نے متعدد طیارے پاکستان ایئر فورس کے نور خان ایئر بیس پر بھیجے۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس ایرانی فوجی ساز و سامان میں ایرانی فضائیہ کا ایک آر سی-130 طیارہ بھی شامل تھا، جو لاک ہیڈ سی-130 ہرکیولیس ٹیکٹیکل ٹرانسپورٹ طیارے کا ایک جاسوسی اور انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے والا خصوصی ماڈل ہے۔جبکہ اس حوالے سے پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی لیکن پاکستانی وزرات خارجہ نے اپنے بیان میں ایک طیارے کی پاکستان میں موجودگی کی تصدیق بھی کر ڈالی،،، تاہم پاکستان کا کہنا تھا کہ، رپورٹ میں کیے گئے دعوے کے برعکس، یہ طیارہ جنگ بندی کے دوران یہاں پہنچا تھا اوراس کا کسی بھی عسکری یا تحفظ کے لیے کیے جانے والے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ، ایران جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کا انعقاد ہوا تو ایران اور امریکہ سے متعدد طیارے پاکستان پہنچے تھے تاکہ سفارتی اور انتظامی عملے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ الغرض قصہ مختصر یہ کہ کیا ایران جنگ میں پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،،، پاکستان پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ اسرائیل و دیگر ممالک پر ایران کی طرف سے ہونے والے حملوں میں پاکستان کی معاونت شامل رہی ہے،،، جس کے بعد مجھے یہ لگتا ہے کہ اب امریکا کو پاکستان کی ضرورت نہیں رہی،،، یا عالمی پلیئرزپاکستان کا کام ختم ہونے کے بعد اُسے امریکا ایران جنگ کا فریق بنا کر سائیڈ لائن کرنا چاہتے ہیں،،، اور ویسے بھی یہ چیز کلیئر ہے کہ اب اگر امریکا دوبارہ ایران پر مکمل تیاری کے ساتھ اسرائیل و دیگر اتحادیوں کو ملا کر حملہ کرتا ہے تو پھر اگلی باری ہماری اور اُس کے بعد ترکی کی ہے ۔اس لیے میرے خیال میں اس وقت جتنا جلدی ہو سکے پاکستان کو اس مسئلے سے نکلنا چاہیے،،، ورنہ پاکستان ایک نئے محاذ کا متحمل نہیں ہوسکتا،،، اور ہو سکے تو پاکستان کو افغانستان ، بھارت کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنانے چاہیے،،، کیوں کہ یہی وہ ممالک ہیں جوبیرون ملک پاکستان کے لیے سب سے زیادہ مسائل کھڑے کر رہے ہیں،،، بھارت تو اربوں ڈالر صرف پاکستان کے خلاف لابنگ پر خرچ کر رہا ہے،،، ہمیں اس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے وفود کا تبادلہ کرنا ہوگا۔۔۔ویسے سننے میں یہ بھی آرہا ہے کہ ہمارے انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، اور اس کے لیے دونوں ممالک بیک چینل پر رابطے میں ہیں،،، اور اس کا واضح ثبوت بھی یہی ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس میں جب صحافی کی جانب سے کشمیر کو لے کر سوال کیا گیا تو اُنہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔لہٰذااگر پاکستان کے ساتھ اگر تعلقات بہتر ہو رہے ہیں تو یہ دونوں ملکوں کے لیے بہترین ہے۔ اور یہ بھی بہترین ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے بغیر شور ڈالے صلح کی طرف جا رہے ہیں،،، اور دعا یہی ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب بھی ہوں،،، کیوں کہ معاشی زبوں حالی کے ساتھ یہ صورتحال بھی سب کے سامنے ہے کہ ما سوائے چین کے پاکستان کے تمام بارڈر بند ہیں۔ مغربی بارڈر بند‘ مشرقی بارڈر بند اور جنگ کی وجہ سے ایران بارڈر پر بھی واجبی آمدورفت۔ حالات جتنے کشیدہ ہوں تجارت کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں۔ چین اور بھارت کے درمیان بارڈر پر جھڑپیں بھی ہوں تو تجارت جاری رہتی ہے‘ دیگر تعلقات بھی بحال رہتے ہیں۔ یہاں تناﺅ کے پہلے اثرات نمایاں ہوں تو تجارت کی بندش پہلا ردِعمل ہوتا ہے۔ یعنی دشمن کو جونقصان پہنچتا ہے اُس کا پتا نہیں لیکن اپنا نقصان ضرور کر لیتے ہیں۔ پچھلے سال معرکہ حق ہو ا۔ ہمارے ہوا بازوں کی کارکردگی بہت اچھی رہی۔ اتنا ہی کافی نہیں؟کیا ہر رابطے کو ختم کرنا ضروری ہے؟ اس سے کیا حاصل ہو گا؟ کون سا ہدف ہے جو ایسے اقدامات سے حاصل کرنا مقصود ہے؟ بھلے معرکہ حق ہوا ‘ بھلے نریندر مودی اور ا±ن کی جماعت کی جو بھی پالیسیاں ہوں‘ اسلام آباد اور دلی میں ایک دوسرے کے سفیر متعین ہونے چاہئیں اور تجارت کے راستے کھلنے چاہئیں۔ بیشک دشمنی دلوں میں رکھی جائے لیکن سمجھ رکھنے والے معمول کے تعلقات پر خواہ مخواہ کی کلہاڑی نہیں چلاتے۔آج ملک بھر میں معرکہ حق اور بنیان المرصوص کی کامیابی کے جشن منائے جا رہے ہیں،،، میں کہتا ہوں یہ جشن ہونے چاہیے،،، اور پھر ہماری دفاعی صلاحیت بھی مقدم ہے‘ اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ کہاں کی حکمتِ عملی ہے کہ خام تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت سے بے خبری روا رکھی جائے؟ ہندوستان بھی خام تیل امپورٹ کرتا ہے لیکن اُس کی ریفائننگ کپیسٹی تو دیکھی جائے۔ ہم اس بارے میں غافل کیوں؟ اب پتا چلا کہ اس صلاحیت سے محروم رہنے سے سالانہ ایک بلین ڈالر کی ڈَز مملکت کو لگ رہی ہے۔ جشنِ فتح کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن آگے سوچنے کی بھی ضرورت ہے۔ گزارش یہ کہ حالات مشکل ہو رہے ہیں اور مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ معاشی اور سکیورٹی مسائل تو ہیں ہی سیاسی ا±فق پر بھی تناﺅ کی ایک بے جا کیفیت ہے۔ہمارے ہاں میں ہر معاملے پرپ±لسیا ذہنیت کا چھا جانا سوچ کا ایک زاویہ ہے۔ مخالف آواز ا±ٹھے تو ا±ٹھانے والے کو دھر لیا جائے۔ ہر ناپسندیدہ روش کا ایک ہی علاج‘ زور زبردستی والا۔ہماری سفارتی کامیابیوں کے جواہر زیادہ اچھے لگیں اگر اندرونِ ملک بھی پیامِ رسانی اور سفارت کاری کی نوید ملے۔بہرحال یہ ساری چیزیں ایک طرف، مگر خدشہ یہ ہے کہ اگر پاکستان ایران امریکا جنگ میں فریق بن جاتا ہے تو پھر تو تیسری جنگ کے امکانات بڑھ جائیں گے۔۔۔ اور پاکستان کے عوام کے لیے سب سے زیادہ مسائل پیدا ہوں گے،،، جو پہلے ہی کسمپرسی والی زندگی گزار رہے ہیں!