لاہور میں بائیومیڈیکل تھری ڈی پرنٹنگ پر عالمی سمپوزیم

لاہور: پاکستان، جرمنی اور سری لنکا کے ممتاز سائنس دانوں، طبی ماہرین، انجینئرز اور محققین نے بائیومیڈیکل تھری ڈی پرنٹنگ اور جدید طبی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے لاہور میں منعقدہ عالمی سمپوزیم میں شرکت کی۔ جرمنی کی الیگزینڈر فان ہمبولٹ فاؤنڈیشن کے تحقیقی گرانٹ پروگرام کے تحت منعقدہ اس سمپوزیم میں جدید طبی تحقیق کو عملی علاج معالجے میں تبدیل کرنے، انفرادی ضروریات کے مطابق طبی سہولیات کی فراہمی اور پاکستان و جرمنی کے درمیان سائنسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔انٹرنیشنل سمپوزیم آن ایڈیٹو مینوفیکچرنگ فار بائیومیڈیکل ایپلی کیشنز (ISAM 2026) کا انعقاد دی نشاط ہوٹل لاہور میں کیا گیا۔ سمپوزیم کی میزبانی اور تنظیم کے فرائض کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد، لاہور کیمپس کے انٹرڈسپلنری ریسرچ سینٹر اِن بائیومیڈیکل میٹریلز (IRCBM) کی ٹینیورڈ پروفیسر اور ہمبولٹ فیلو پروفیسر ڈاکٹر اسماء طفیل شاہ نے انجام دیے۔ یہ تحقیقی منصوبہ الیگزینڈر فان ہمبولٹ فاؤنڈیشن کے ریسرچ گروپ لنکیج پروگرام کے تحت ڈاکٹر انجینئر اولیور گوئرکے، ٹیکنیکل یونیورسٹی برلن، جرمنی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔تقریب کی افتتاحی نشست میں کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد لاہور کیمپس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس نے بطور سرپرستِ اعلیٰ شرکت کی، جبکہ جرمن سفارت خانے اسلام آباد کی نمائندگی مس پیٹرا شمٹ نے کی۔ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر جمشید اقبال (TI, SI) اور سربراہ آئی آر سی بی ایم پروفیسر ڈاکٹر انیلہ آصف بھی موجود تھے۔اس موقع پر ڈائریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی لاہور کیمپس پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس نے سمپوزیم کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی اور بین الاقوامی تعاون میں شریک تمام اداروں اور محققین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے علمی و تحقیقی اجتماعات جدید سائنسی علوم کے فروغ، تجربات کے تبادلے اور بین الاقوامی تحقیقی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے بائیومیڈیکل مواد اور تھری ڈی پرنٹنگ کے شعبے میں تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سمپوزیم پاکستان میں جدید طبی ٹیکنالوجی کی ترقی اور عالمی تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر اسماء طفیل شاہ نے جدید بائیومیڈیکل ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لیے بین الاقوامی تحقیقی شراکت داری اور مختلف شعبوں کے ماہرین کے باہمی تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔ ڈاکٹر انجینئر اولیور گوئرکے نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان طویل المدتی سائنسی روابط کے فروغ میں الیگزینڈر فان ہمبولٹ فاؤنڈیشن کے کردار پر روشنی ڈالی۔سمپوزیم میں جرمنی کی یونیورسٹی آف کولون کے پروفیسر ڈاکٹر ایکسل کلائن اور سری لنکا کی جنرل سر جان کوٹلاوالا ڈیفنس یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر آر وجیتھا سمیت بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔ پاکستان سے نیشنل ایکسی لینس انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ارم محمود سمیت مختلف جامعات اور طبی اداروں سے تعلق رکھنے والے محققین اور طبی ماہرین نے بھی اپنے تحقیقی تجربات پیش کیے۔سمپوزیم کا ایک اہم حصہ ’’ٹرانسلیشنل اور پرسنلائزڈ ہیلتھ کیئر میں ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کا کردار‘‘ کے موضوع پر اعلیٰ سطحی پینل مباحثہ تھا، جس کی نظامت پروفیسر ڈاکٹر اسماء طفیل شاہ نے کی۔ پینل میں یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عقیف انور چوہدری، فارمن کرسچن کالج یونیورسٹی کی ڈین اور ہمبولٹ فیلو پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ مہناز، آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی کے ایسوسی ایٹ ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم، سی ایم ایچ لاہور کے پروفیسر ڈاکٹر اسد اعجاز چٹھہ، ڈی مونٹ مورینسی کالج آف ڈینٹسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر محمد الیاس، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے پروفیسر ڈاکٹر زاہد شفیق اور ڈاکٹر انجینئر اولیور گوئرکے شامل تھے۔مباحثے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سائنسی تحقیق کو مؤثر طبی سہولیات اور عملی علاج معالجے میں تبدیل کرنے کے لیے محققین، انجینئرز، معالجین اور صنعتی شعبے کے درمیان اشتراک ناگزیر ہے۔سمپوزیم کے سائنسی سیشنز میں بائیومیڈیکل مواد کی تھری ڈی پرنٹنگ، ری جنریٹو میڈیسن، ٹشو انجینئرنگ، سیرامک اور پولیمر مرکبات، دندان سازی میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت کی مدد سے مواد کی تیاری اور مریضوں کی انفرادی ضروریات کے مطابق ادویات کی تیاری جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ ڈی مونٹ مورینسی کالج آف ڈینٹسٹری کی پروفیسر ڈاکٹر عصمیٰ شاہین اور رہبر کالج آف ڈینٹسٹری کی پروفیسر ڈاکٹر حنا ظفر راجہ سمیت طبی ماہرین نے مریضوں کی ضروریات کے مطابق جدید طبی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر اظہار خیال کیا۔آئی آر سی بی ایم کے فیکلٹی ممبران اور محققین نے بھی سائنسی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا اور بائیومیڈیکل مواد کی تحقیق اور تکنیکی جدت کے شعبے میں مرکز کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو اجاگر کیا۔سمپوزیم کو پروفیسر ڈاکٹر اسماء طفیل شاہ اور ڈاکٹر انجینئر اولیور گوئرکے کے زیر قیادت ہمبولٹ فاؤنڈیشن کے تحقیقی اشتراک میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ مقررین کے مطابق اس طرح کے بین الاقوامی روابط پاکستان کی تحقیقی صلاحیتوں میں اضافے، علمی تبادلے اور جدید طبی ٹیکنالوجیز کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شرکاء میں انعامات اور یادگاری تحائف تقسیم کیے گئے۔ سمپوزیم نے سائنسی تحقیق، جدید طبی سہولیات اور بین الاقوامی تعلیمی و تحقیقی تعاون کے فروغ کے لیے شریک اداروں کے عزم کی توثیق کی۔