”بری امام اور ون کانسٹیٹیوشن ایونیو “ ایک ملک میں دو طبقاتی قوانین!

ابھی گزشتہ دنوں میں نے بری امام کے گردو نواح میں موجود بستیوں کے خلاف آپریشن پر کالم ”آخر کب تک پاکستان پولیس اسٹیٹ رہے گا“ لکھا تو مجھے اسلام آباد سے ایک دوست کا فون آیاکہ اگر سی ڈی اے یا پولیس بہتر کام کر رہی ہے تو کرنے دو بھائی جان! یہ گھر نہیں بلکہ تجاوزات تھیں جو ختم کروائی گئی ہیں،،، اور سنا ہے یہاں نیویارک طرز پر اونچی اونچی عمارتیں بنیں گی،،، اور پھر اسلام آباد کے مکینوں کی زندگیاں بدل جائیں گی،،، لہٰذااگر ہماری پولیس، ادارے خاص طور سی ڈی اے بہتر اور میرٹ پر کام کر رہے ہےں تو پھر اُنہیں کرنے دیں، آپ بلاوجہ تنقید کیوں کرتے ہیں؟ میں نے موصوف کی یہ باتیں سنیں تو حیران ہوا کہ کیا واقعی ہماری پولیس اور خاص طور پر سی ڈی اے میرٹ پر کام کر رہا ہے؟ حالانکہ اسی سی ڈی اے کے بارے میں گزشتہ دنوں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ اگراُنہیں بھی سی ڈی اے میں صحیح طور پر کام کروانا ہو تو کم از کم 10لاکھ روپے جیب میں رکھنا پڑتے ہیں۔ ۔۔ خیر دوست سے کیا ہی بحث کرنی تھی،،، حال احوال کے بعد فون بند کردیا۔ اور پھر چند روز بعد خبر آئی کہ پولیس نے رات گئے اسلام آباد کے پوش علاقے ”ون کانسٹیٹیوشن ایونیو“ میں آپریشن کیا اور وہاں پر رہائشیوں کو چند گھنٹوں میں عمارت خالی کرنے کا کہا گیا،،، اس پر میں بھی حیران ہوا کہ نہیں بھائی! وہ دوست بالکل درست کہہ رہا تھا، ،، کہ اگر کوئی عمارت غیر قانونی ہے تو پھر قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے،،، اور ادارے واقعی اچھا کام کر رہے ہیں،،، یہ چیزیں سوچ کر ابھی خوش ہو ہی رہا تھا کہ راقم کی خوشی کو نظر لگ گئی،،، اور ساتھ ہی ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف نے پولیس اور سی ڈی اے کو کسی قسم کی کارروائی سے روک دیا اور ایک ”کمیٹی “ تشکیل دے دی۔ اب پاکستان میں کمیٹی بنانے کا مطلب صاف صاف یہی ہوتا ہے کہ کام التواءکا شکار ہو چکا ہے،،، لہٰذاجب کبھی کمیٹی کی رپورٹ آئے گی، تو اُس پر نئے سرے سے سفارشات مرتب ہوں گی ،،، اور پھر بات چند سالوں کے لیے رفع دفع ہو جائے گی۔لیکن اس مذکورہ عمارت کی بھی سن لیں، کہ جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہاں کروڑوں روپے مالیت کے رہائشی اپارٹمنٹس ہیں، جن کے مالکان میں پاکستان کے سیاستدان، بیوروکریٹس اور عدلیہ سے تعلق رکھنے والے بڑے نام شامل ہیں۔ اب مجھے یہاں بتایا جائے کہ کونسا میرٹ اور کون سا قانون؟ اگر رعایت دینی تھی تو پھر بری امام کی غریب بستی کو بھی دی جاتی، اگر رعایت دینی تھی تو پھر اُن کو بھی دی جاتی جن کے ساتھ سیاسی مخالفت کی وجہ سے شادی گھر اور پلازے گرائے گئے،،، جن کے مکینوں کے بقول اُنہیں نہ ہی کوئی نوٹس ملا اور نہ ہی کوئی سرکاری ادارہ اُنہیں مطلع کرنے آیا،،، بلکہ علی الصبح ہی بستی میں ایک ہزار پولیس والے بھاری مشینری کے ساتھ داخل ہوئے اور تمام گھروں کو گرا دیا گیا،،، حتی ٰ کہ مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے ایک حاملہ خاتون کو بالوں سے گھسیٹ کر اسکے گھر سے نکالا اور اس حاملہ خاتون نے پولیس اہلکاروں کے سامنے سڑک پر بچے کو جنم دیا،،،خیر یہ تو الگ بحث ہے ،،، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریاست دو طبقاتی نظام کے تحت ہی چلانی ہے؟ اور اگر ایسے ہی نظام چلانا ہے تو پہلے ہی بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں طبقاتی تقسیم گہری ہوتی چلی جارہی ہے، یہاں کی اشرافیہ نے کمزور طبقات کو اپنے شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے، اب ملک کے اندر واضح طور پر دو طرح کے نظام کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، حکومت کے فیصلے اور احکامات ہر طبقے کے لیے مختلف ہیں، امیر آدمی کے لیے قانون توڑنا اور فائلوں کو ”پہیے“ لگانا نہ پہلے مسئلہ تھا اور نہ اب مسئلہ ہے، حکمران اپنے محفوظ اور پرتعیش محلات میں عام لوگوں کے مسائل سے بالکل بیگانہ اور بے نیاز ہیں، حکمران ریاستی جبر کے ذریعے اپنی طبقاتی بالا دستی قائم رکھے ہوئے ہیں، عوام، غربت، بھوک اور افلاس کی گہرائیوں میں غرق ہورہے ہیں۔بلکہ جو رہائش پذیر ہیں، اُنہیں گھروں سے نکال کر سڑک پر بٹھایا جا رہا ہے،،، اور متبادل انتظامات ہی نہیں کیے جا رہے ،،، حتیٰ کہ آپ ون کانسٹیٹیون ایونیوکو دیکھ لیں،،، بھلے ہی وہ عمارتیں غیر قانونی ہیں،،، لیکن جب وہ تعمیر ہو رہی تھیں تو اُس وقت ادارے کہاں تھے؟ حالانکہ یہ کوئی چھوٹا پراجیکٹ نہیں ہے، بلکہ یہ ساڑھے 13 ایکڑ رقبے پر مشتمل ایک ورسٹائل ڈیولپمنٹ ہے جس میں اپارٹمنٹس، شاپنگ مال اور دفاتر کے علاوہ ایک فائیو سٹار گرینڈ حیات ہوٹل شامل ہے۔ تاہم سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اس مقام پر صرف ایک ہوٹل کی تعمیر کے لیے 2004-2005میں بی این پی گروپ کو 99 سال کی لیز پر جگہ دی گئی تھی تاہم اس گروپ نے وہاں سات برس کے عرصے میں جو ٹاور تعمیر کیے انھیں ہوٹل کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے رہائشی فلیٹس اور تجارتی سرگرمیوں کے علاقے میں تبدیل کر دیا گیا۔لیز کے بعد 11سال تک اداروں کو ہوش آئی کہ یہاں کیا کیا تعمیر ہو رہا ہے،،، لیکن پھر 2016ءمیں سی ڈی اے اے نے ضوابطِ کار کی خلاف ورزی پر یہ لیز منسوخ کر دی تھی اور یہ معاملہ ابتدائی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیا تھا تو عدالت نے اپنے فیصلے میں گرینڈ حیات ہوٹل کے بجائے لگڑری اپارٹمنٹس کی تعمیر غیر قانونی قرار دے کر لیز کی منسوخی کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔پھرجنوری 2019 میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس فیصلے کے خلاف بی این پی گروپ کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ جب عمارت بن رہی تھی تو اس وقت سی ڈی اے نے اعتراض نہیں کیا اور اب گرینڈ حیات کے دو ٹاور بن گئے ہیں اور لوگوں نے اپارٹمنٹس خرید لیے ہیںتو اب اس کو گرانا کیوں ضروری ہوگیا؟ بہرحال پاکستان کا نظام ہی ایسا ہے، کہ اپنی تھوڑی سی دیہاڑی سیدھی کرنے کے لیے یہ ایک وقت میں پورے نظام کو درہم برہم کرنے میں دیر نہیں لگاتے،،، اور پھر قصور صرف بیوروکریسی کا نہیں ہے، بلکہ یہاں آکر حکومت کرنے والوں کا بھی ہے، یہاں شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، نواز شریف، عمران خان اور شہباز شریف وزیر اعظم رہے ،،، اور مختلف ادوار میں اس قسم کے پراجیکٹ چلتے رہے،، جنہیں ہمیشہ سیاسی پشت پناہی حاصل رہی۔ ویسے تو راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کو یا تو وقت کم ملا یا ان کی توجہ سی ڈی اے پر نہیں گئی لہٰذا اسلام آباد اُن کے ادوار میں بڑی حد تک اکھاڑ پچھاڑ سے محفوظ رہا۔ اگرچہ نواز شریف دور میں میٹرو بس کے نام پر شہر میں سریا سیمنٹ ڈالا گیا اور اس کی شکل بہت تبدیل کی گئی لیکن اب بھی شہر اُس صورتحال سے بچا ہوا تھا جو اَب پچھلے دو سالوں میں نظر آنے لگی ہے۔ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سی ڈی اے، جو پہلے کابینہ ڈویژن کے ماتحت تھا، اسے وزارتِ داخلہ کے ماتحت کر دیا جائے۔ یوں وفاقی وزیر داخلہ جس کے ذمے ملک کی سکیورٹی‘ انٹیلی جنس اداروں اور دیگر سسٹم کی مانیٹرنگ اور کنٹرول تھا، وہ سی ڈی اے کے معاملات کو بھی دیکھنے لگا۔ 2019ء کے بعد ہر وزیر داخلہ ڈی ایم جی افسروں کو چیئرمین بنا کر اور باقی کو ڈیپوٹیشن پر لے آتا‘ اور اس کیلئے تگڑی سفارشیں چلتیں کیونکہ سی ڈی اے میں آ کر افسر چار پانچ کروڑ روپے کے پلاٹ کا مستحق ہو جاتا۔ اگر اس سے پیچھے جائیں تو مشرف دور میں فیصل صالح حیات جب وزیر داخلہ تھے تو سی ڈی اے اُن کے ماتحت تھا اور ڈیپوٹیشن پر افسران دھڑا دھڑ سی ڈی اے لائے جا رہے تھے۔ ایک دن اُن افسروں نے آئی ایٹ میں واقع پرانے جی ٹی ایس بس اڈے کو گرا کر اسے پلاٹوں میں تبدیل کیا اور افسران کو الاٹ کر دیے۔ اکثر نے کروڑوں کے وہ پلاٹ بیچے اور نئے شکار کی تلاش میں نکل پڑے۔ پھر سی ڈی اے کابینہ ڈویژن کے پاس چلا گیا۔مطلب کہنے کا یہ ہے کہ یہ اپنے مطلب کے لیے اداروں کو اپنے ماتحت کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے،،، اور غریب آدمی کا گھر برباد کرتے یہ گھنٹوں، منٹوں اور سیکنڈوں میں سب کچھ برباد کر دیتے ہیں،،، اور غریب آدمی صرف قسمت کا رونا روتا رہ جاتا ہے،،، اور کہتا ہے کہ ہائے ری قسمت وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے،،،بقول ساغرصدیقی کبھی تو آو¿ ! کبھی تو بیٹھو! کبھی تو دیکھو! کبھی تو پوچھو تمہاری بستی میں ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے بہرحال بات کانسٹیٹیوشن ایونیو کی ہور ہی تھی، لہٰذامعاملات ابھی بھی کھٹائی میں ہیں اور اب دیکھیں کمیٹی قائم ہونے کے بعد اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے،،، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب ریاست فیصلہ کرلے کہ غریب ہو یا امیر، ریاست کی رٹ قائم ہو گی۔ پھر کسی کا ناجائز قبضہ ہو یا اس قسم کے محل و وقوع والی عمارت (ون کانسٹیٹیوشن ایونیو) پر تو ریاست ہی جیتتی ہے۔لیکن یہاں مجھے ریاست ہارتی ہوئی نظر آرہی ہے،،، جبکہ اس کی روک تھام کے لیے پاکستان کے تمام طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا پڑے گا، ایک سوچ اور ایک فکر اپنانا ہوگی کیونکہ طبقاتی تفریق کو ختم کیے بغیر معاشرے میں حقیقی خوشیوں کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا، سب سے بھاری ذمے داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مختلف طبقوں میں گہری ہوتی خلیج کو کم سے کم کریں اور ملک میں یکساں نظام رائج کریں، مساوی بنیادی حقوق اور قانون سب کے لیے یکساںکا نظام نافذ کریں، ملک میں انصاف و قانون کی حکمرانی کی بالا دستی کے لیے ضروری ہے پاکستان میں بلڈنگ بائی لاز (تعمیراتی قوانین) پر عمل درآمد میں غریب اور امیر کے فرق کو ختم کیا جائے،،، کیوں کہ یہ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے،،، جہاں کمزور کے لیے سخت سزائیں اور طاقتور کے لیے نرمی یا نظرانداز کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں قانون کی بالادستی نہ ہونا قوموں کی تباہی کا سبب بنتا ہے، یعنی امیر غریب کے لیے الگ الگ قوانین سے قانون کی بالادستی ختم ہوتی ہے اور سماجی بے چینی بڑھتی ہے۔ملک میں حقیقی ترقی کے لیے قانون کی یکساں بالادستی ضروری ہے، ورنہ یہ تفریق قوموں کو برباد کر دیتی ہے!