لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ شہر کا کچرا اٹھانے سے زیادہ سیاسی گند صاف کرنا ضروری ہے۔ باہر نکلنے، مارنے، جلانے، توڑنے کی بار بار کالیں کی گئیں لیکن انہیں ہر بار منہ کی کھانی پڑی اور ان کی کال پر پنجاب میں ایک بھی شخص باہر نہیں نکلا۔ میں نے کسی شہادت میں دو درجن سے زیادہ لوگوں کو نکلتے نہیں دیکھا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں لاہور کی سڑکوں پر چل رہا ہوں، یہاں لوگوں کو جمع نہیں ہونے دیا جا رہا۔ جب لوگ اکٹھے ہوں گے تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا لیکن جب کوئی باہر نہیں آئے گا تو کیسے دیکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کی ہر کال ناکام ہوئی، لوگ پریشان ہوتے ہی باہر نکلتے ہیں، جب میں نے دھرنے اور جلوس نکالے تو لوگ باہر نکلے اور کوئی روک نہ سکا، آج سنا ہے کہ ہم نے انہیں جلسے کی اجازت دے دی لیکن ن لیگ ہمیں اجازت نہیں دے رہی، ہم نے برسوں جلسے کیے ہیں لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ہم نے کبھی گلدان توڑا ہے، مریم نواز نے شیشہ توڑا ہے، کہیں آگ لگائی ہے، کوئی بتائے گا، احتجاج نہیں ہوتا؟ احتجاج منع نہیں ہے وائلنس منع ہے،وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آپ نے 9 مئی سے پہلے جب بھی جلسے کیے کسی نے آپ کو روکا لیکن 9 مئی کو آپ نے جو کیا اس کے بعد کسی نے آپ پر اعتماد نہیں کیا، احتجاج کا حق ضرور ہے مگر کوئی احتجاج کے لیے ہتھیاروں سے لیس ہوکر نہیں آتا بیٹھ کر بات کرتا ہے،انہوں نے کہا کہ جب وہ سی ایم ایچ گئے تو درجنوں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو زخمی حالت میں دیکھا، ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، کیا آپ اسے عوامی احتجاج کہتے ہیں؟احتجاج کا جو ماسٹر مائنڈ جیل میں بیٹھا ہے اس سے قید نہیں کاٹی جارہی، ہم نے جیلیں کاٹیں مگر کبھی کسی نے سنا کہ احتجاج کی کال دی ہو کہ جلادو مارو شہر بند کردو نہ نواز شریف نے ایسی بات کی۔










