جمہوریت اور ہماری سیاسی جماعتیں

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین مجریہ ۳۷۹۱ میں ہمارے ملک کے لیے پارلیمانی جمہوریت کا نظام تجویز کیا گیا ہے۔جس کے مطابق ملک عزیز میں عوام کی حکومت ہو گی، عوام میں سے ہو گی اور عوام کے لیے ہو گی۔ لیکن ہمارے یہاں عملی طور پر جو بھی حکومت آتی ہے وہ ہمیشہ سے خواص کی حکومت ہوتی ہے، خواص ہی اسے منتخب کرتے ہیں اور وہ خواص کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔خواص سے مراد وہ چند خاندان ہیں جو پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے لے کر آج تک کسی نہ کسی صورت میں اقتدار پر قابض ہیں اورملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ ہمارے آئین کے آرٹیکل ۔(۱)۷۱ کے مطابق ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ سیاسی پارٹی بنائے یا اس کا رکن بنے ۔آرٹیکل (۴)۷۱ کے مطابق ہر سیاسی پارٹی کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے عہدے داروں کے لیے اپنی پارٹی کے اندرانتخابات کروائے۔پولٹیکل پارٹی آرڈر ۔۲۲۰۲ کی شق (۲)۲۱ کی رو سے ہر سیاسی پارٹی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مرکز، صوبائی اور لوکل سطح پر عہدیداران کا انتخاب کروائے۔اس کی شق نمبر(۱)۳۱ کی رو سے یہ انتخابات خفیہ رائے دہی کے تحت ہوں گے۔شق نمبر (۲) ۳۱ میں الیکشن کمیشن کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ تمام سیاسی پارٹیوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کی مانیٹرنگ کرے۔ اب ہم وطن عزیز کی بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں کے اندر کی جمہوریت کے احوال کو ملاحظہ کرتے ہیں ۔ جماعت اسلامی پاکستان ۶۲۔اگست ۱۴۹۱ کو قائم ہوئی ۔جناب سید ابو الا علیٰ مودودی ۱۴۹۱تا ۲۷۹۱ جماعت کے امیر ر ہے۔ ان کے بعد میاں طفیل محمدصاحب ۲۷۹۱تا۷۸۹۱، قاضی حسین احمدصاحب ۷۸۹۱تا۹۰۰۲، سید منور حسن شاہ صاحب۹۰۰۲تا۴۱۰۲، مولانا سراج الحق صاحب ۴۱۰۲تا۴۲۰۲ اس جماعت کے منتخب امیر رہے اوراب حافظ نعیم الرحمٰن صاحب اس کے امیر ہیں، جمعیت علمائے اسلام مورخہ ۶۲۔اکتوبر ۸۴۹۱ کو قائم ہوئی، مولانا مفتی محمود صاحب ۸۴۹۱ تا ۰۸۹۱ اس کے صدر رہے۔ ان کی رحلت کے بعد ان کے بیٹے مولانا فضل الرحمٰن صاحب ۰۸۹۱ تا دم تحریر اس جماعت کے صدر ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی مورخہ ۰۳۔ نومبر ۷۶۹۱ کو قائم ہوئی، جناب ذوالفقار علی بھٹو ۷۶۹ ا تا ۹۷۹۱ اس کے چیئرمین رہے،ان کی شہادت کے بعد ان کی بیگم محترمہ نصرت بھٹو صاحبہ ۹۷۹۱ تا ۳۹۹۱، ان کے بعد ان کی بیٹی محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ ۳۹۹۱ تا ۷۰۰۲ پارٹی کی چیئر پرسن رہیں ۔ محترمہ کی شہادت کے بعد جناب بلاول بھٹو زرداری جو محترمہ کے بیٹے ہیں۷۰۰۲ سے پارٹی کے چیئرمین کے عہدے پر قائم ہیں، ایم کیو ایم مورخہ ۸۲۔ مارچ ۴۸۹۱ کو قائم ہوئی۔ جناب الطاف حسین ، ۴۸۹۱ تا ۶۱۰۲ یعنی اپنی جلاوطنی تک اس عہدے پر براجمان رہے۔، جناب فاروق ستا ر ۶۱۰۲ تا ۸۱۰۲ اس عہدے پر قائم رہے اورجناب خالد مقبول صدیقی ۸۱۰۲ تا حا ل اس جماعت کے کنوینر ہیں، پا کستان مسلم لیگ (ن)مورخہ ۷۲۔جولائی ۸۸۹۱ کو قائم ہوئی ، میاں محمد نواز شریف ۸۸۹۱ تا ۳۹۹۱ اس کے صدر رہے۔پھر ان کے چھوٹے بھائی میاں محمد شہباز شریف ۳۹۹۱ تا ۶۹۹۱ جماعت کے صدر ، پھرجناب میاں محمد نواز شریف ۶۹۹۱ تا ۹۹۹۱ جماعت کے صدر رہے۔پھر بیگم محترمہ کلثوم نواز صاحبہ ۹۹۹۱ تا ۲۰۰۲ عہدہ صدارت پر براجمان رہیں، میاں محمد نواز شریف صاحب پھر سے ۲۰۰۲ تا۱۱۰۲ اورمیاں محمد شہباز شریف ۱۱۰۲ تا ۴۲۰۲ جماعت کے صدر رہے ۔ اب پھرمیاں محمد نواز شریف اس جماعت کے صدر ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف مورخہ ۵۲ ۔ اپریل ۶۹۹۱ کو قائم ہوئی، جناب عمران خان ۶۹۹۱ تا ۳۲۹ا اس کے چیئرمین رہے، ان کی نااہلی کے بعد بیرسٹر گوہر علی خان ۳۲۰۲ تا حال اس کے چیئرمین ہیں۔ اگر عمران خان صاحب کو عدالت نا اہل نہ کرتی تو یقینا وہی اب تک پارٹی کے چیئرمین ہوتے۔ تحریک لبیک پاکستان مورخہ ۲۲۔جولائی ۵۱۰۲ کو قائم ہوئی، جناب علامہ خادم حسین رضوی ۵۱۰۲ تا ۰۲۰۲ اس کے امیر رہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے سعد حسین رضوی ۰۲۰۲ تا حال جماعت کے امیر ہیں۔ مندرجہ بالاحقائق سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سوائے جماعت اسلامی پاکستان کے ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت کے اندر جمہوریت نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے لے کر تحریک لبیک پاکستان تک جماعتوں کی سر براہی ایک ہی خاندان کے افراد کے گرد گھوم رہی ہے۔ کیا ان جماعتوں میںقحط ا لرجال ہے کہ کوئی ایک بھی سیاستدان پارٹی کا سربراہ بننے کے قابل نہیں؟ اب توحالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہمارے بزرگ ، تجربہ کار اور سینئرسیاستدان اقتدار کی خاطراپنے بچوں سے بھی چھوٹے اور نا تجربہ کار پارٹی سربراہان کی ہر سچی جھوٹی بات پر واہ واہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر کوئی سیاستدان ایسے گھٹن شدہ ماحول میں آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ایک مثال بنا دیا جاتا ہے۔کیا اسی کا نام جمہوریت ہے؟ کیا ہمارے آئین میں ایسی ہی جمہوریت کا تذکرہ ہے؟ اگر اسے جمہوریت کہتے ہیں تو آمریت کس شے کا نام ہے؟ یہاں پر ہی بس نہیں جب ہماری یہ سیاسی پارٹیاں اقتدار میں آتی ہیں تو اندھوں کی طرح شیرینی صرف اپنوں ہی میں بانٹتی ہیں۔ ہماری ایک بڑی سیاسی جماعت کے نزدیک” کاشر“ ہونا ہی سب سے بڑی کوالیفیکیشن ہے۔ ایک اور بڑی سیاسی پارٹی کے چیئرمین کے سارے رشتہ دار اور دوست یار جب تک مستفید نہ ہو جائیں دوسروں کے لیے کوئی جگہ نہیں بچتی۔ایک اور قومی سطح کی سیاسی جماعت جو اتنی جمہوری ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آئی اور اب بھی جمہوری قوتوں سے نہیں نادیدہ اورطاقت ور قوتوں سے مذاکرات کرنے کی خواہاں ہے۔لیکن نام جمہوریت کا جپتی ہے۔ ان سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی الیکشن کس طرح ہوتے ہیں ابھی تک سمجھ نہیں آ سکی؟دراصل ان کے یونین کونسل ، تحصیل اور ڈسٹرکٹ لیول پر الیکشن ہوتے ہی نہیں ،صرف نامزدگیاں ہوتی ہیں۔توان کے مرکزی عہدیداران کا انتخاب کیسے ہو جاتا ہے؟ الیکشن کمیشن آف پاکستان کس بنیاد پر ان کے انٹرا پارٹی انتخابات کو قانون کے مطابق قرار دے کر سرٹیفیکیٹ جاری کرتا ہے ؟ کیا الیکشن کمیشن نے کبھی ان سیاسی پارٹیوں کے یونین کونسل ، تحصیل ، ضلعی اور مرکزی لیول کے انتخابات کی صحیح معنوں میں مانیٹرنگ کی۔ یقینا اس کا جواب نفی میں ہوگا۔ کیوں کہ الیکشن کمیشن کو سب معلوم ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کے انتخابات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ کیا کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس ممبران کی فہرست ہے؟ کیا ان تمام لیول کے انتخابات کا ریکارڈ ان کے پاس ہے؟ کیا واقعی ان کے انتخابات خفیہ حق دہی کے اصول کے تحت ہوتے ہیں؟ ان سوالات کا جواب نہ تو الیکشن کمیشن کے پاس ہے اور نہ ہی ان نام نہاد جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں کے پاس ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آئین اور قانون کے مطابق ان تمام سیاسی جماعتوں کے تمام سطحوں پرانٹرا پارٹی انتخابات الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہوتے ۔ صوبائی سطح پر صوبائی الیکشن کمشنر،ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اور تحصیل سطح پراسسٹنٹ الیکشن کمشنر ان کے انٹرا پارٹی انتخابات کی نگرانی کرتے۔ ممبران آزادی کے ساتھ اپناحق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی قائدین کا انتخاب کرتے۔ان کی جمہوری تربیت بھی ہوتی اور انھیں اپنے ووٹ کی قدرو قیمت کا احساس بھی ہوتا۔لیکن یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والی تما م سیاسی جماعتوں کے اندر سخت قسم کی آمریت ہے۔ کسی کو ان سیاسی آمروں کے خلاف اونچی آواز سے بو لنے کا بھی حق نہیں ہے۔جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین جمہوریت کی آڑ میں ثقہ قسم کے آمر ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک میں جمہوریت کو پنپتا ہوادیکھنے کے خواہش مند ہیں تو ہمیں سیاسی جماعتوں کو آمریت سے نکال کر جمہوریت کی راہ پر چلانا ہو گا۔ اس کے لیے آئین اور قوانین میں تبدیلیاں نا گزیر ہیں۔ لیکن بلی کے گلے میں یہ گھنٹی کون باندھے گا۔ یہ سب سے بڑا سوال ہے۔