امریکہ نے 9/11 میں پوری دنیا کو تباہ کر دیا

سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کا واقعہ کیا تھا، د±نیا آج تک اِس کا کھوج نہ لگاسکی، لیکن امریکہ نے اپنی اندرونی کمزوریوں، ناکامیوں، انٹیلی جنس اداروں کی نااہلی کے پیچھے چ±ھپ کر پوری د±نیا کو برباد کردیا۔ افغانستان کو 22 سال تک د±نیا پر حاکمیت اور دہشت گردی پھیلانے کا مرکز بنائے رکھا لیکن افغان عوام کی جدوجہد نے امریکی استعمار کو ذلت و ر±سوائی سے دوچار کردیا۔ عالمِ اسلام خصوصاً پاکستان، ایران، افغانستان، ترکی کو باخبر، چوکس رہنا ہوگا کہ امریکہ نائن الیون کی ذلت، افغانستان میں بے ثمر جنگ اور ایران-عراق جنگ، روس-یوکرائن جنگ میں امریکی ناکامی اور ہزیمت کا بدلہ پھر سے اِسی خطہ میں براجمان ہوکر لینا چاہتا ہے۔ اسرائیلی امریکی گھٹہ جوڑ اور ہندوستان کی بھرپور فوجی، تکنیکی معاونت کیساتھ غزہ فلسطین پر گزشتہ 11 ماہ سے جاری بارود و آہن کی بارش نے پوری غزہ پٹی کو ملیامیٹ، خون آلود اور اِرد گرد کے ممالک کو آگ کی بھٹی میں جھونک دیا ہے، فلسطین جل رہا ہے, مقبوضہ کشمیر 10 لاکھ ہندوستانی فوجوں کے نرغے میں ہے۔ خطہ کے ممالک امریکہ، ہندوستان، اسرائیل کی اس ناپاک تثلیث کے خلاف متحدہ حکمتِ عملی اپنائیں۔ خطہ کے عوام امریکی غلامی اور بالادستی قبول نہیں کرسکتے۔ محترم لیاقت بلوچ،نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ برصغیر ہی نہیں عالمی سطح پر پ±رامن جمہوری عوامی جدوجہد، مزاحمت کا بلند قامت استعارہ تھے۔ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں، علم و تدبر، قانون اور آزادی کے اصولوں پر مکمل گرفت کے ساتھ تحریکِ آزادی کی قیادت کی اور علامہ اقبال کی فکر دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان کو د±نیا کے نقشہ پر ایک بڑی اسلامی نظریاتی آزاد مملکت کا وجود دیا۔ 77 سالوں میں قائد اعظم کے وژن، آئینی، جمہوری اور سیاسی و نظریاتی اقدار کو فراموش کرکے پاکستان کو مثالی اسلامی ماڈل ریاست بنانے کی بجائے تفرقوں، سیاسی نفرتوں، پاور پالیٹکس کی ہوس، کرپشن، بدعنوانی اور بیڈگورننس سے ا±جاڑ دیا ہے۔ اللہ نے پاکستان کو تمام وسائل، انسانی صلاحیتیں، حبِ دین، حبِ وطن عطا کیے ہیں۔ قرآن و سنت کے احکامات اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن اور طے کردہ لائحہ عمل پر عمل سے ہی پاکستان مستحکم اور ترقی یافتہ ہوگا۔ قائداعظم ؒنے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ اور فلسطین کی آزادی کے لیے اسرائیل کی ناجائز ریاست کے خاتمہ کے لیے جو دائمی اصول دیا آج بھی وہ زندہ مو¿قف خطہ اور عالمی امن کے لیے بہت اہم ہے۔قائد اعظم ؒ کی دوراندیش نگاہوں نے سیاسی،دفاعی ،اقتصادی اور جغرافیائی حقائق کوسا منے رکھتے ہوئے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔مسلم کانفرنس نے بھی کشمیری مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے19 جولائی 1947ءکو سردار ابراہیم خان کے گھر سرینگر میں باقاعدہ طور پر قرارداد الحاق پاکستان منظور کی۔ قائداعظم ؒ فرماتے ہیں” کشمیر سیاسی اور قومی اعتبار سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔کوئی خود دار ملک اور قوم یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اپنی شہ رگ کو دشمن کی تلوار کے حوالے کر دے“ 3 جون1947 کے تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت ریاستوں کی آزادی اور الحاق کے بارے میں جو اصول طے ہوئے تھے ان سے یہ بات واضح طور پر مترشح ہوئی ہے کہ کشمیرکو پاکستان کا حصہ بننا تھا لیکن جب کشمیریوں کو حق خود اردیت کا موقع نہیں دیا گیا تو کشمیریوں نے اولاً 19 جولائی 1947ءکو الحاق پاکستان کی قرار داد منظور کی۔ بعد میں 24 اکتوبر 1947ء کو سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا تو 27اکتوبر1947ءکو ہندوستان کی افواج نے کشمیر میں مداخلت کا آغاز کیا تو قائد اعظم نے فوری طور پر پاکستانی کمانڈر انچیف کو حکم دیا کہ وہ اپنی افواج کشمیر میں داخل کر دے لیکن ایسا نہ کیا گیا۔ قائداعظم کے اس حکم اور کمانڈر انچیف کی طرف سے حکم عدولی کے متعدد مستند حوالے موجود ہیں۔ قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناحؒ نے اپنی کتاب” مائی برادر“ میں بھی قائد اعظم کی کشمیر سے وابستگی اور تشویش کے بارے میں جو اشارہ دیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائد اعظمؒ کشمیر کے بارے میں کس حد تک فکر مند تھے۔ آپ لکھتی ہیں کہ قائد اعظم کے آخری ایام میں ان پر جب غنودگی اور نیم بے ہوشی کا دورہ پڑتا تھا تو آپ فرماتے تھے کہ کشمیر کو حق ملنا چاہیے آئین اور مہاجرین کے الفاظ استعمال کیے۔ عالم اسلام ایک قوم ہے اور غیر مسلم ایک الگ قوم کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، اس کے علاوہ کوئی تیسری قوم دین اسلام میں اور مسلمانوں کے نزدیک دنیا میں وجود نہیں رکھتی اور یہی نظریہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کا باعث بنا اور اس دو قومی نظریہ سے ہندوستان کے مسلمانوں کو روشناس کروانے والی شخصیت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ تھی اور یہی نظریہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کو پاکستان کے خواب کی تعبیر حاصل کرنے کے لئے مسلسل ثابت قدم رکھے ہوئے تھا۔