کیا بیوروکریسی صرف مراعات کےلئے ہے؟

جمہوری طرز حکومت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ سماج کے سب سے نچلے طبقے کی بنیادی ترین ضرورتیں پوری کرنے کے لیے ایسے وسائل فراہم کیے جائیں جن سے اس طبقے کے لوگوں کے لیے پیٹ بھرنے کو روٹی، تن ڈھانپنے کو کپڑے اور سر چھپانے کے لیے مکان کی حصول یابی یقینی ہو جائے، اس تناظر میں اگر موجودہ حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ تلخ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ مروجہ پالیسیوں اور جاری منصوبوں میں یک طرفہ ترقی کے رجحان نے سب سے زیادہ اسی نچلے طبقے کو متاثر کیا ہے۔ فی زمانہ حالات یہ ہیں کہ غریب اور کسی حد تک متوسط طبقے کے لیے روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ایسا سخت مرحلہ بنتا جا رہا ہے جس نے ان طبقات کی زندگیوں میں محرومیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم کر دیا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے ماضی میں کیے گئے فیصلوں اور اقدامات نے غریب عوام کے شب و روز کو ایسے مسائل میں جکڑ دیا ہے کہ مایوسی اور محرومی ان کا مقدر بنتی جا رہی ہے، ان مسائل میں سب سے نمایاں مسئلہ ملک گیر سطح پر مہنگائی میں ہونے والا ہوش ربا اضافہ ہے جس نے عوام کو حواس باختہ کر دیا ہے، اشیائے خورونوش کی آسمان کو چھوتی قیمتوں نے عوام کو اس قدر پریشان کر دیا ہے کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کیسے کریں؟ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور محدود ہوتے ہوئے مواقع نے اس مسئلے کو سنگین تر بنا دیا ہے۔ لوگوں پر یہ حقیقت اب پوری طرح آشکار ہو چکی ہے کہ حکمران اور حکومتیں جمہور،جمہوریت اور جمہور دوستی کا دم بھرتے اور دعوے کرتے ہیں لیکن اصل میں ان کی سوچیں ان کے وضع کردہ منصوبے مرتب کی گئی پالیسیاں اور کیے گئے اقدامات عوام کُشی ، عوام مخالفت اور عوام دشمنی کا ثبوت پیش کرتے ہیں، اعلیٰ طبقات غیر محسوس طور پر ایسی پالیسیاں بناتے ،ایسے منصوبے مرتب کرتے ہیں جن کا شکار صرف اور صرف نچلے طبقات ہوتے ہیں۔ سیاسی امیدوار عوامی نمائندے بننے کے لیے تو بار بار عوام کے دروازے پر دستک دیتے ہیں ،ان سے التجائیں کرتے ہیں ان کے مسائل حل کرنے کے دعوے اور وعدے کرتے ہیں لیکن اصل میں ان کا مقصد اور مدعا محض اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنا ہوتا ہے تاکہ وہ ان مراعات اور تعیشات سے لطف اندوز ہو سکیں جو صرف اشرافیہ کے لیے مختص ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنا مقصد پورا ہونے کے بعد وہ ان لوگوں کو بھول جاتے ہیں جن کے ووٹوں سے منتخب ہو کر وہ طاقت اور اختیارات کے سنگھاسن تک پہنچتے ہیں۔ عوام چونکہ شعور اور ادراک کی اب کئی منزلیں طے کر چکے ہیں اس لیے وہ اگلی دفعہ آنے والے امیدواروں سے برملا جواب طلبی کرتے ہیں کہ جناب اتنا عرصہ کہاں رہے؟ پانچ سال بعد ہی کیوں شکل دکھا رہے ہیں؟ اور وہ جو پانچ برس آپ نے اپنے حلقے کے عوام کے حقوق کی نگہبانی کرنا تھی اس کا کیا ہوا؟ ظاہر ہے کہ ان کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہیں ہوتا لیکن و ہ کسی طرح پھر منتخب ہو جاتے ہیں اور ایسی صورت میں کھل کر عوام دشمن پالیسیاں بناتے ہیں کیونکہ اب انہیں کسی کو جواب دہ نہیں ہونا ہوتا۔ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے اور جب بھی کوئی بڑا فیصلہ کرنا ہوتا ہے اشرفیہ اور اعلیٰ طبقات بار بار یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ اس سے غریب طبقہ متاثر نہیں ہو گا، ذرا یاد کیجئے کہ گزشتہ فروری میں ہونے والے انتخابات سے پہلے کس کس سیاسی جماعت کے کس کس لیڈر نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ غریب طبقے کے لیے کتنے یونٹ بجلی مفت فراہم کی جائے گی، یہ بھی یاد کر لیجیے کہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کرتے وقت غریب اور متوسط طبقے کو یہ یقین دلانا ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اس سے آپ متاثر نہیں ہوں گے۔ آج جب وہ امیدوار عوامی نمائندے بن کر اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہیں تو ذرا سوچیے کیا ان میں سے کسی کو بھی عوام کے حقوق کا کبھی خیال آیا ہو گا؟ دور کیا جانا میں دو خبریں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں یہ واضح کرنے کے لیے کہ اعلیٰ طبقات کے ہاتھوں نچلے طبقات کے حقوق کس طرح پامال ہو رہے ہیں۔ پاکستان بزنس کونسل نے بتایا ہے کہ پاکستان میں تنخواہ دار طبقے کی آمدنی پر ٹیکس بھارت سے 9.4 گنا زیادہ ہے حالانکہ پاکستان اور بھارت میں اخراجاتِ زندگی تقریباً ایک جیسے ہیں۔ پاکستان کی لاکھ روپے تنخواہ بھارتی روپوں میں 30 ہزار 30 روپے بنتی ہے لیکن پاکستان میں 1 لاکھ کمانے والے پر سالانہ ٹیکس 30 ہزار اور بھارت میں 3 ہزار 18 پاکستانی روپے بنتا ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کے مطابق پاکستان میں ماہانہ ڈیڑھ لاکھ کمانے والے پر سالانہ ٹیکس 1 لاکھ 20 ہزار روپے جبکہ بھارت میں ماہانہ ڈیڑھ لاکھ کمانے والے پر سالانہ ٹیکس 12 ہزار 27 پاکستانی روپے بنتا ہے۔ کیا پاکستان بزنس کونسل کا یہ اعلامیہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ ہمارا ٹیکس نظام غیر مساوی ہے،غریب طبقے پر بوجھ زیادہ ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پہلے سے غیر مساوی ٹیکس نظام کو مزید غیر مساوی بنانے کی عملی کوششیں ہو رہی ہیں۔ دوسری خبر یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے سروس رولز میں ترامیم کرتے ہوئے دوران ملازمت وفات پر اہل خانہ کو نوکری دینے کی شق ختم کر دی ہے، یاد رہے کہ پنجاب سول سرونٹس اپوائنٹمنٹ اینڈ کنڈیشنز آف سروس رولز 1974ء کی شق 17 اے کے تحت سرکاری ملازم کی وفات کی صورت میں بیوی یا بچوں میں سے کسی ایک کو نوکری دی جاتی تھی، سروس رولز میں ترمیم کرتے ہوئے پنشن کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کر دی گئی ہے۔ حکومت ملازمت پیشہ افراد کے متعلق ضابطے سخت کرتی جا رہی ہے لیکن دوسری جانب لاہور میں اعلیٰ بیوروکریٹس کے لیے 20 بیش قیمت ولاز کی تعمیر کا پروگرام بن رہا ہے، نئی گاڑیوں کی خریداری ہو رہی ہے ، کوئی یہ سوال پوچھنے والا ہے کہ کیوں؟ کیا بچت کا تصور بیوروکریسی پر نافذ نہیں ہو سکتا؟ جس بجٹ میں حکومتی اخراجات جی ڈی پی کا 25 فیصد ہوں اور تیس ہزار ارب روپے میں سے صرف پانچ سو ارب روپے عوام کے لیے رکھے جائیں، سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیا جائے، دودھ، خیراتی ہسپتالوں اور ادویات پر بھی ٹیکس لگا دیا جائے وہ عوام دوست بجٹ تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔ سات ہفتے پہلے سنائے گئے اور اب نافذ بجٹ میں یہی تو کیا گیا ہے، حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ یہی بجٹ اعلیٰ طبقات کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوتا ہے، ان کے مفادات کا تحفظ کرنے والے جو بہت ہیں، اور اس پر بھی بس نہیں کی جا رہی، گزشتہ دو مہینوں میں حکومت بجلی کے نرخوں میں متعدد بار اضافہ کر چکی ہے اور لگتا ہے یہ سلسلہ ابھی جاری رہے گا، دوسری جانب آئی پی پیز کے بارے میں نئے نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ اس وقت اگر کوئی مطمئن ہے تو پہلے سے مراعات یافتہ طبقہ جبکہ غریب کو خود کشیوں اور ایک دوسرے کو مارنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔